
ایک دوست کی ناگہانی موت
تحریر:جاوید نادری
پتہ نہیں کیوں، مگر آج قاسم غیر معمولی جلدی میں تھا۔ میں نے کئی بار پوچھا، “خیریت ہے؟ کہاں جانا ہے؟”
وہ ہر بار بات ٹال دیتا۔ آخر صرف اتنا بولا، “بس کام سمیٹو اور چلو۔ راستے میں تمہیں گھر کے قریب اتار دوں گا۔”
جب میں نے دیکھا کہ وہ کچھ بتانے پر آمادہ نہیں تو خاموشی سے اپنا کام سمیٹا اور اس کی گاڑی میں جا بیٹھا۔
پورے راستے وہ خاموش رہا۔ نظریں سڑک پر جمائے ڈرائیو کرتا رہا۔ کبھی کوئی غلط اوور ٹیک کرتا تو زیرِ لب اسے دو چار گالیاں دے دیتا، پھر دوبارہ خاموشی سے گاڑی آگے بڑھا دیتا۔ نہ اس نے کوئی بات کی، نہ میں نے۔
اس نے مجھے گھر سے کچھ فاصلے پر اتارا اور خود تیزی سے آگے نکل گیا۔
گھر پہنچ کر میں روزمرہ کے کاموں میں ایسا الجھا کہ اس واقعے کو تقریباً بھول ہی گیا۔ البتہ رات سونے سے پہلے اچانک خیال آیا کہ آج قاسم مجھے راستے ہی میں چھوڑ کر اتنی جلدی کہاں چلا گیا تھا؟
دل میں کئی خیال آئے۔ پہلے سوچا، شاید اپنی گرل فرینڈ سے ملنے گیا ہو، مگر اگلے ہی لمحے خود ہی اس خیال کو رد کر دیا۔ پھر ذہن میں آیا کہ شاید رضا کے گھر گیا ہوگا۔ رضا کے حالات ان دنوں کچھ ٹھیک نہیں تھے۔ ہمسایوں، رشتہ داروں بلکہ سسرالیوں تک سے اس کے شدید اختلافات چل رہے تھے۔ شاید کسی صلح صفائی کے لیے گیا ہو۔
لیکن فوراً یاد آیا کہ قاسم کی تو رضا سے مدتوں سے بات بند تھی۔
پھر وہ کہاں گیا ہوگا؟
یہ سوال ذہن میں لیے کب نیند آگئی، مجھے خود بھی معلوم نہ ہوا۔
صبح پونے چھ بجے آنکھ کھلی تو میں نے شریف کو فون کیا۔
“یار، قبرستان کے نکڑ پر آ جاؤ۔ آج اتوار ہے، واک کے لیے چلتے ہیں۔”
کچھ ہی دیر بعد ہم دونوں ملے اور ڈیم کی طرف پیدل چل پڑے۔ راستے بھر پرانی یادیں تازہ کرتے رہے۔
باتوں ہی باتوں میں اچانک قاسم کا ذکر نکل آیا۔
شریف نے کہا، “یار، مجھے لگتا ہے قاسم کے مالی حالات کچھ ٹھیک نہیں۔ تم تو سارا دن اس کے ساتھ رہتے ہو، تمہیں کچھ اندازہ ہے؟”
میں نے فوراً کہا، “نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔ بلکہ آج کل تو وہ پہلے سے کہیں زیادہ خوشحال ہے۔ پیسوں کی اسے کوئی کمی نہیں۔”
“پھر وہ اتنا پریشان کیوں رہتا ہے؟”
میں نے کچھ سوچ کر جواب دیا، “شاید اس لیے کہ آج کل وہ جن کتابوں کا مطالعہ کر رہا ہے اور سماجیات پر جو کتاب لکھ رہا ہے، اسی میں پوری طرح ڈوبا ہوا ہے۔ ممکن ہے مسلسل غور و فکر نے اسے ذہنی طور پر تھکا دیا ہو۔”
پھر مجھے اچانک ایک بات یاد آئی۔
“ہاں، چند روز پہلے وہ کہہ رہا تھا کہ میں زندگی کی ادھوری کہانیوں پر ایسا افسانہ لکھوں گا کہ سب دوست حیران رہ جائیں گے۔ شاید اسی تخلیقی کشمکش میں کچھ الجھا ہوا لگتا ہو۔ ورنہ محفلوں میں تو وہ پہلے کی طرح ہنستا، مذاق کرتا اور دوسروں کو ہنساتا رہتا ہے۔”
باتیں کرتے کرتے ہم واکنگ ٹریک کے آخری سرے تک پہنچ گئے۔
میں نے کہا، “چلو، دو تین منٹ سستانے کے بعد واپس لوٹتے ہیں۔ ناشتے کا بھی وقت ہو رہا ہے۔”
ہم پہاڑ کے سائے تلے آہستہ آہستہ واپس لوٹنے لگے۔
ابھی کچھ ہی دور چلے تھے کہ دور کی مسجد سے لاوڈ اسپیکر پر ایک اعلان کی آواز سنائی دی۔
شریف رک گیا۔
“لگتا ہے کسی کی وفات یا گمشدگی کا اعلان ہے۔”
ہم نے پوری کوشش کی کہ اعلان سمجھ سکیں، مگر پہاڑ کی وجہ سے آواز صاف سنائی نہ دی۔ ہم نے زیادہ توجہ نہ دی اور چلتے رہے۔
جب قبرستان کی مرکزی سڑک پر پہنچے تو دیکھا کہ چند گورکن ایک نئی قبر کھود رہے ہیں۔
میں نے یونہی پوچھ لیا، “بھائی، آج کس کی تدفین ہے؟”
ان میں سے ایک شخص مجھے جانتا تھا۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور بولا،
“آپ کو معلوم نہیں؟”
میں نے نفی میں سر ہلایا۔
اس نے بیلچہ ایک طرف رکھا، گہرا سانس لیا اور دھیمی آواز میں کہا،
“آپ کا دوست قاسم… آج صبح اپنے بستر پر مردہ پایا گیا ہے۔”
میرے قدم وہیں رک گئے۔
کانوں میں جیسے ایک تیز سی سنسناہٹ بھر گئی۔
گورکن نے قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
“یہ قبر… اسی کے لیے تیار کی جا رہی ہے۔”
میرے کانوں میں جیسے ایک لمبی سی سیٹی بجنے لگی۔ گورکن کے ہونٹ ہل رہے تھے، مگر ان کی آواز مجھ تک نہیں پہنچ رہی تھی۔ میں نے بے اختیار قبر کی طرف دیکھا۔ نم مٹی کی مہک، بیلچوں کی آواز اور صبح کی ہلکی دھند اچانک ایک ایسے منظر میں بدل گئی جس پر یقین کرنا ممکن نہیں تھا۔
شریف نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“کیا ہوا؟”
میں نے بمشکل اتنا کہا، “یہ… یہ ناممکن ہے۔ کل شام تک تو وہ میرے ساتھ تھا۔”
گورکن نے سر جھکا کر کہا، “فجر سے پہلے اس کے گھر والوں نے دیکھا کہ وہ بستر پر بالکل خاموش پڑا ہے۔ پہلے سمجھا سو رہا ہے، مگر جب کافی دیر تک نہ اٹھا تو ڈاکٹر کو بلایا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ کئی گھنٹے پہلے انتقال ہو چکا تھا۔”
میں نے شریف کی طرف دیکھا۔ وہ بھی میری طرح سکتے میں تھا۔
واپسی کا پورا راستہ خاموشی میں گزرا۔
گھر پہنچتے ہی میں نے قاسم کے نمبر پر فون ملایا۔ موبائل بند تھا۔ پھر اس کے چھوٹے بھائی کو فون کیا۔
“بھئی… کیا یہ خبر سچ ہے؟”
دوسری طرف سے روتی ہوئی آواز آئی۔
“ہاں… بھائی جان چلے گئے۔”
“لیکن… کیسے؟ وہ تو بالکل ٹھیک تھے۔”
“ڈاکٹر کچھ واضح نہیں کہہ سکے۔ کہہ رہے ہیں شاید دل بند ہو گیا۔”
فون کٹ گیا، مگر میرے ذہن میں ایک ہی سوال گونجتا رہا۔
وہ اتنی جلدی میں آخر کہاں گیا تھا؟
تدفین کے بعد جب لوگ آہستہ آہستہ واپس جانے لگے تو قاسم کا چھوٹا بھائی میرے پاس آیا۔
“بھائی جان، آپ سے ایک بات کرنی ہے۔”
اس نے جیب سے ایک چھوٹی سی چابی نکالی۔
“یہ ان کی اسٹڈی روم کی چابی ہے۔ کل رات انہوں نے خاص طور پر کہا تھا، اگر کبھی مجھے کچھ ہو جائے تو یہ ڈپلیکیٹ چابی سب سے پہلے… انہیں دینا۔”
اس نے میرا نام لیا۔
میرے ہاتھ کانپ گئے۔
“اور کچھ کہا تھا؟”
“بس ایک جملہ۔”
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا،
“کہہ رہے تھے… ‘ میری نئی تحریر اسے پڑھنے کے لیے دینا’ وہ میری موت کو حادثہ نہیں سمجھے گا۔'”
میرے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔
شام ڈھلنے لگی تھی جب میں قاسم کے گھر پہنچا۔
گھر میں خاموشی تھی۔ کمرے کے دروازے پر وہی تالا لگا تھا جس کی چابی میرے ہاتھ میں تھی۔
میں نے تالا کھولا۔
دروازہ چرچراتا ہوا کھلا۔
اندر قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے قاسم ابھی چند لمحے پہلے یہاں سے اٹھا ہو۔
میز پر کھلی ہوئی کتابیں، دیواروں پر چسپاں نوٹس، آدھا بھرا ہوا پانی کا گلاس، اور کھڑکی کے پاس رکھی کرسی…
سب کچھ اپنی جگہ موجود تھا۔
صرف قاسم غائب تھا۔
میز کے درمیان ایک ڈائری رکھی تھی، جس کے اوپر سفید کاغذ پر نیلی روشنائی سے صرف ایک جملہ لکھا تھا۔
“یہ افسانہ نہیں… میری گواہی ہے۔”
میں نے کپکپاتے ہاتھوں سے پہلا صفحہ کھولا۔
اوپر تاریخ لکھی تھی۔
“یہ میری زندگی کا آخری دن ہو سکتا ہے۔ اگر تم یہ پڑھ رہے ہو تو اس کا مطلب ہے کہ میرا اندازہ درست تھا۔”
میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
اگلی سطر نے جیسے میری سانس روک دی۔
“میں مرنے سے نہیں ڈرتا… میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ میری موت تو طبعی ہوگی، مگر میرے قاتل کئی ہوگے۔ انہیں شاید خود بھی معلوم نہیں ہوگا کہ وہ میرے قاتل ہیں۔”
میں نے بے اختیار دروازے کی طرف دیکھا۔
کمرے میں میرے علاوہ کوئی نہیں تھا۔
مگر پھر بھی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے قاسم اپنی خالی کرسی پر بیٹھا مجھے خاموشی سے دیکھ رہا ہو…
اور اس کی نامکمل کہانی ابھی شروع ہوئی تھی۔
میں نے ڈائری بند نہیں کی۔ چند لمحے تک اس پہلے صفحے کو ہی گھورتا رہا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے قاسم نے یہ الفاظ لکھے نہیں، بلکہ میرے سامنے بیٹھ کر کہے ہوں۔
میں نے گہرا سانس لیا اور اگلا صفحہ پلٹا۔
اوپر عنوان درج تھا:
“میرے قاتل کون ہیں؟”
نیچے لکھا تھا:
“اگر تم یہ توقع کر رہے ہو کہ میں کسی شخص کا نام لکھوں گا تو یہ ڈائری اسی لمحے بند کر دو۔ میرے قاتلوں کا کوئی ایک چہرہ نہیں۔ ان کے ہاتھ میں نہ خنجر تھا، نہ زہر، نہ پستول۔ انہوں نے مجھے آہستہ آہستہ مارا، اور انہیں خود بھی کبھی احساس نہیں ہوا کہ وہ ایک زندہ انسان کو موت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔”
میں نے بے اختیار گردن اٹھا کر کمرے کا جائزہ لیا۔ باہر شام کی روشنی مدھم پڑ چکی تھی۔ کھڑکی کے شیشے میں میرا اپنا عکس عجیب سا لگ رہا تھا، جیسے کوئی اور شخص مجھے دیکھ رہا ہو۔
میں نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔
“پہلا قاتل وہ تھا جس نے ہر ملاقات میں کہا، ‘یار، تم بہت بدل گئے ہو۔’
دوسرا وہ تھا جس نے میری ہر تحریر کو پڑھے پہلے ردی کی ٹھوکری میں ڈال دیا۔
تیسرا وہ تھا جس نے میری خاموشی کو غرور سمجھا۔
چوتھا وہ تھا جس نے میری مسکراہٹ اور ہنسی مذاق کو خوشی سمجھ لیا۔
اور پانچواں…
پانچواں میں خود تھا۔
میں ہر روز دوسروں کو یہ یقین دلاتا رہا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں، یہاں تک کہ ایک دن میرا اپنا دل بھی اس جھوٹ پر یقین کر بیٹھا۔”
میری انگلیاں کانپنے لگیں۔
اچانک مجھے کل شام کا وہ منظر یاد آیا۔
گاڑی چلاتے ہوئے قاسم نے ایک مرتبہ میری طرف دیکھا تھا۔ صرف ایک لمحے کے لیے۔
میں نے اس وقت اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اب یاد آیا…
وہ آنکھیں کسی جلدی میں نہیں تھیں۔
وہ کسی فیصلے میں تھیں۔
میں نے بے اختیار ڈائری بند کر دی۔
اسی لمحے میری نظر میز کے کونے پر پڑی۔
وہاں ایک پرانا لفافہ رکھا تھا جس پر میری ہی لکھائی میں میرا نام درج تھا۔
میری سانس رک گئی۔
میں نے لفافہ اٹھایا۔
اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا۔
“یہ خط صرف اس وقت کھولنا جب میری ڈائری کا پہلا باب ختم کر لو، کیونکہ اس کے بعد تمہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ میری موت واقعی طبعی تھی… یا ہم سب نے مل کر ایک زندہ انسان کو خاموشی سے مرنے پر مجبور کر دیا۔”
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔
اتنی خاموشی کہ مجھے اپنی دھڑکنیں بھی اجنبی محسوس ہونے لگیں۔
میں لفافہ کھول کر خط نکال رہا تھا کہ…
اور اسی لمحے اچانک بجلی چلی گئی۔
کمرہ تاریکی میں ڈوب گیا۔
اندھیرے کے اس ایک لمحے میں مجھے بالکل اپنے پیچھے کسی کے سانس لینے کی آواز سنائی دی۔
میں پلٹا…میں پلٹا…
تو سامنے تاریکی میں چار، شاید پانچ ہیولے خاموش کھڑے تھے۔
کمرہ اس قدر تاریک تھا کہ ان کے چہرے صاف دکھائی نہیں دے رہے تھے، صرف آنکھوں کی مدھم سی چمک اور جسموں کے دھندلے خدوخال نظر آ رہے تھے۔
میرا حلق خشک ہو گیا۔
میں نے بے اختیار ایک قدم پیچھے ہٹایا۔
“ک… کون ہے؟”
میری آواز جیسے میرے ہی کانوں تک نہ پہنچی۔
ہیولے خاموش رہے۔
پھر ان میں سے ایک آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔
اس کی چال…
اس کے کندھوں کا جھکاؤ…
حتیٰ کہ ہاتھ جیب میں ڈالنے کا انداز بھی…
بالکل قاسم جیسا تھا۔
میرے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔
“قاسم…؟”
وہ چند قدم کے فاصلے پر رک گیا۔
میں اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اندھیرا جیسے اس کے گرد ایک پردہ بن چکا تھا۔
اچانک اس نے کہا،
“میں قاسم نہیں ہوں…”
اس کی آواز بھی قاسم ہی کی تھی۔
“…میں تمہارا وہم ہوں۔”
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
اس کے دائیں طرف کھڑا دوسرا ہیولا بولا،
“اور میں… وہ تمام فیصلے ہوں جنہیں تم نے ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ابھی وقت نہیں آیا۔”
تیسرا ہیولا آگے بڑھا۔
“میں وہ خاموشی ہوں جسے تم نے برداشت، صبر اور مضبوطی کا نام دیا، حالانکہ وہ اندر ہی اندر ایک چیخ تھی۔”
چوتھا بولا،
“میں وہ ہنسی ہوں جس کے پیچھے ہر روز ایک انسان تھوڑا تھوڑا مرتا رہا، اور تم سب تالیاں بجاتے رہے کہ دیکھو، کتنا خوش مزاج آدمی ہے۔”
کمرے کی فضا بوجھل ہونے لگی۔
مجھے محسوس ہوا جیسے سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا ہو۔
پانچواں ہیولا اب تک خاموش کھڑا تھا۔
اس نے آہستہ سے اپنا سر اٹھایا۔
چہرہ اب بھی نظر نہیں آ رہا تھا، مگر اس کی نظریں سیدھی میری آنکھوں میں اتر رہی تھیں۔
پھر اس نے دھیرے سے کہا،
“مجھے پہچانا؟”
میں نے نفی میں سر ہلایا۔
اس نے جواب دیا،
“میں تم ہوں۔”
میں شاید خوف کی شدت سے بے ہوش ہو گیا تھا۔
جب آنکھ کھلی تو کمرے کی بجلی واپس آ چکی تھی۔
میں نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا۔
کمرہ بالکل خالی تھا۔
نہ کوئی ہیولا…
نہ کسی کے قدموں کی چاپ…
نہ سانسوں کی وہ پراسرار آواز…
صرف میز، ڈائری، لفافہ اور کھڑکی سے اندر اترتی شام کی مدھم روشنی۔
میرے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے۔
میں نے نظریں میز پر رکھے لفافے پر جمائیں۔
وہ لفافہ بند پڑا تھا۔
میں نے اسے کھولا ہی نہیں تھا۔
- عشق پیچاں (افسانہ) ۔۔۔ جاوید نادری - Aug 31, 2026
- ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(ہزارہ و ہزارگی مبداء و منشا) ۔۔۔ جاوید نادری - Aug 16, 2026
- ایک دوست کی ناگہانی موت ۔۔۔ جاوید نادری - Aug 12, 2026