
ذرا خود پر بھی ہنسیں
تحریر: ابن امیر
ہماری زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے بغیر گزارا مشکل ہے: کھانا، پانی، بجلی، موبائل اور مشورہ۔ آخری چیز ہمارے ہاں اتنی وافر ہے کہ اگر کبھی ملک میں باقی سب چیزیں ختم بھی ہو جائیں تو مشورے کا ذخیرہ پھر بھی ختم نہیں ہوگا۔ آپ نے کسی سے کچھ پوچھا نہ ہو، وہ پھر بھی آپ کو مشورہ دے گا۔ اور اگر آپ نے خاص طور پر منع کر دیا ہو کہ “بھائی مجھے مشورہ نہیں چاہیے”، تو سمجھ لیجیے اب اصل مشورہ شروع ہوگا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی میں مزاح کے مواقع کی کمی نہیں۔ ہم ایک ایسا معاشرہ ہیں جہاں آدمی صبح گھر سے نکلتا ہے تو گھر والے اسے احتیاط کی پانچ ہدایات دے کر رخصت کرتے ہیں، راستے میں ٹریفک والا اسے قانون سمجھاتا ہے، دفتر میں ساتھی اسے زندگی گزارنے کا طریقہ بتاتا ہے، چائے کے ہوٹل پر بیٹھا شخص ملکی معیشت کا مکمل علاج پیش کر دیتا ہے، اور رات کو واٹس ایپ پر ایک پیغام آ جاتا ہے جس کے مطابق اگر آپ نے یہ پیغام دس لوگوں کو نہ بھیجا تو اگلے چوبیس گھنٹے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ زندگی گزار رہا ہے یا مسلسل ہدایات وصول کر رہا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حسِ مزاح ہماری مدد کرتی ہے۔ حسِ مزاح صرف لطیفہ سنانے یا کسی کی بات پر ہنس دینے کا نام نہیں۔ یہ زندگی کے تضادات کو دیکھنے کی صلاحیت ہے۔ بعض لوگ ایک ہی واقعے میں صرف پریشانی دیکھتے ہیں، بعض اس میں پریشانی کے ساتھ ایک ایسا پہلو بھی تلاش کر لیتے ہیں جس پر مسکرایا جا سکے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک شخص مسئلے کے اندر کھڑا رہتا ہے، دوسرا کبھی کبھی دو قدم پیچھے ہٹ کر اسے دیکھ لیتا ہے۔
ہماری ایک عجیب عادت ہے کہ ہم ہر معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، سوائے وقت کی پابندی کے۔ “بس پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں” شاید ہماری قومی لغت کا وہ جملہ ہے جس کا وقت سے کوئی تعلق نہیں۔ پانچ منٹ بعض اوقات پینتالیس منٹ ہوتے ہیں، کبھی ایک گھنٹہ، اور بعض تجربہ کار افراد کے لیے تو یہ ایک مکمل فلسفہ ہے۔ آپ فون کر کے پوچھیں گے، “کہاں پہنچے؟” جواب آئے گا، “بس نکل رہا ہوں۔” آپ کہیں گے، “گھر سے؟” جواب آئے گا، “نہیں، ذہنی طور پر۔”
یہی مزاح ہے۔ زندگی کی چھوٹی چھوٹی بے قاعدگیاں، عادتیں اور تضادات جب ہماری نظر میں آتے ہیں تو ان سے ایک مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر مسکرانے کے لیے بھی بڑی وجہ تلاش کرتے ہیں، حالانکہ زندگی روزانہ چھوٹی چھوٹی وجوہات فراہم کرتی رہتی ہے۔ کبھی بچے کی معصوم بات، کبھی دوست کی بے تکلفی، کبھی کسی بزرگ کا بے ساختہ جملہ اور کبھی ہماری اپنی ایسی حرکت جس پر بعد میں خود ہی ہنسی آ جائے۔
حسِ مزاح دراصل انسان کو اپنے آپ کو ضرورت سے زیادہ اہم سمجھنے سے بھی بچاتی ہے۔ جو شخص اپنے اوپر ہنس سکتا ہے، وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہونا کوئی ایسا عہدہ نہیں جس میں غلطی کی گنجائش ختم ہو جائے۔ ہم سب کبھی نہ کبھی غلط راستہ اختیار کرتے ہیں، غلط شخص کو درست سمجھتے ہیں، غلط وقت پر درست بات کہتے ہیں اور درست وقت پر بالکل غلط بات کہہ دیتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ اس پر ہنس لیتے ہیں اور کچھ لوگ اس غلطی پر بھی ایک کمیٹی بنا دیتے ہیں۔
مزاح کا سب سے خوبصورت پہلو شاید یہی ہے کہ وہ انسان کو آئینہ دکھاتا ہے، مگر آئینہ اتنا سخت نہیں ہوتا کہ آدمی اسے توڑ دے۔ ایک اچھا مزاح نگار معاشرے کی خامی دکھاتا ہے اور قاری ہنستے ہنستے اچانک محسوس کرتا ہے کہ جس عادت پر وہ ہنس رہا تھا، اس کا کچھ حصہ تو خود اس کے اندر بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے مزاح نگاروں کا کام صرف قہقہے پیدا کرنا نہیں تھا۔ پطرس بخاری، ابنِ انشا اور مشتاق احمد یوسفی جیسے لکھنے والوں کے ہاں مزاح مشاہدے، زبان اور انسانی نفسیات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ وہ ہمیں دوسروں پر نہیں، کئی مرتبہ خود پر ہنسنے کی تربیت دیتے ہیں۔
طنز اور مزاح میں بھی یہی فرق ہے کہ اچھا طنز کسی رویے کو نشانہ بناتا ہے، کسی بے بس انسان کو نہیں۔ کسی غریب کے لباس کا مذاق اڑانا مزاح نہیں، کسی طاقتور کی عادت پر سوال اٹھانا مزاح ہو سکتا ہے۔ کسی کی جسمانی کمزوری کو ہنسی کا موضوع بنانا ذہانت نہیں، بلکہ آسان راستہ ہے۔ اصل فن وہاں شروع ہوتا ہے جہاں لکھنے والا کسی ایسی بات کو مزاح میں بیان کرے جسے سنجیدہ انداز میں کہنا شاید زیادہ مشکل ہو۔
سوشل میڈیا نے ہمارے مزاح کو بہت تیز کر دیا ہے۔ پہلے ایک لطیفہ سنانے کے لیے محفل چاہیے تھی، اب ایک موبائل کافی ہے۔ پہلے ایک شخص مزاحیہ بات کرتا تھا، اب پوری دنیا چند سیکنڈ میں اس پر تبصرہ کر دیتی ہے۔ میمز نے تو حالات کو بھی ایک نئی ذمہ داری دے دی ہے؛ کوئی واقعہ پیش آیا نہیں کہ لوگ پوچھتے ہیں، “اس کا میم کہاں ہے؟” کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم مسئلے کے حل سے پہلے اس کا مزاحیہ ورژن تیار کر لیتے ہیں۔
یہ صلاحیت بری بھی نہیں۔ مشکل حالات میں ہنس لینا انسان کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے۔ مگر یہاں ایک حد بھی ہے۔ کسی کی تکلیف کو صرف اس لیے مزاح بنا دینا کہ لوگ ہنس رہے ہیں، حسِ مزاح نہیں۔ آج کل سوشل میڈیا پر کسی کی نجی زندگی، حادثے، شکل، لباس یا کمزوری کو نشانہ بنا کر حاصل کی جانے والی ہنسی بہت عام ہے۔ یہ ہنسی شاید چند سیکنڈ کی تفریح دے، مگر اس میں نہ ذہانت ہے نہ شائستگی۔ مزاح وہاں خوبصورت رہتا ہے جہاں ہنسی کے بعد کسی کی عزت کم نہ ہو۔
حسِ مزاح انسان کو زندگی کے بوجھ سے انکار نہیں سکھاتی، بلکہ اس بوجھ کے ساتھ چلنے کا ایک نرم طریقہ دیتی ہے۔ دفتر کی تھکن، ٹریفک کی اذیت، مہنگائی کا دباؤ، بجلی کا بل اور روزمرہ کی بے شمار الجھنیں اپنی جگہ موجود رہتی ہیں، لیکن اگر انسان ان سب کے درمیان ایک لمحے کے لیے مسکرا لے تو مسئلہ ختم نہیں ہوتا، البتہ آدمی کچھ دیر کے لیے مسئلے سے بڑا ضرور ہو جاتا ہے۔
ہمیں شاید یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر سنجیدہ چہرہ دانشمند نہیں ہوتا اور ہر مسکراتا ہوا شخص غیر سنجیدہ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات جو شخص ہنس رہا ہوتا ہے، وہ زندگی کو ہم سے زیادہ سمجھ رہا ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بات پر غصہ کرنا وقت کا ضیاع ہے، ہر اختلاف کو دشمنی بنانا حماقت ہے اور ہر غلطی کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لینا انسان کو اپنے ہی ہاتھوں مشکل میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
ہنسنے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ یہ فاصلے کم کرتی ہے۔ دو اجنبی لوگ ایک ہی بات پر ہنس دیں تو چند لمحوں کے لیے اجنبیت ختم ہو جاتی ہے۔ دوستوں کی محفل میں ایک بے ساختہ جملہ کئی دن کی تھکن اتار دیتا ہے۔ گھر میں کسی مناسب موقع پر کی گئی ہنسی مذاق کی بات ماحول کو بدل دیتی ہے۔ بعض اوقات ایک مسکراہٹ وہ کام کر دیتی ہے جس کے لیے ہمیں کئی صفحات کی وضاحت درکار ہوتی ہے۔
مگر شاید ہم نے ہنسنے میں بھی مقابلہ شروع کر دیا ہے۔ کون زیادہ وائرل ہوگا، کس کا لطیفہ زیادہ لوگوں کو ملے گا، کس کی ویڈیو پر زیادہ ردِعمل آئے گا۔ یوں مزاح بھی کبھی کبھی نمائش بن جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقی خوشی کا مزاح وہ ہے جس کے لیے تالیاں ضروری نہ ہوں، جس کے لیے کیمرہ ضروری نہ ہو اور جس کے بعد انسان یہ نہ سوچے کہ “اسے پوسٹ کروں تو کتنے لائکس آئیں گے؟”
ایک صحت مند معاشرے کو صرف سنجیدہ دانشوروں کی ضرورت نہیں ہوتی، اسے ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو مشکل وقت میں مسکرانے کا ہنر جانتے ہوں۔ کیونکہ جو شخص ہنس سکتا ہے، وہ اکثر دوسروں کو بھی سانس لینے کی جگہ دیتا ہے۔ وہ ماحول کو نرم کرتا ہے، گفتگو کو قابلِ برداشت بناتا ہے اور کبھی کبھی ایک سخت حقیقت کو اس انداز میں کہہ دیتا ہے کہ سامنے والا ناراض ہونے کے بجائے سوچنے لگتا ہے۔
زندگی میں کچھ باتیں حل کی جاتی ہیں، کچھ برداشت کی جاتی ہیں اور کچھ پر صرف مسکرا کر آگے بڑھ جانا بہتر ہوتا ہے۔ حسِ مزاح ہمیں یہی فرق سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کو ہر وقت ماتھے پر بل ڈال کر دیکھنا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی مسئلے کو ذرا دور سے دیکھیں، شاید اس کے پیچھے کوئی ایسی بات نظر آ جائے جس پر آپ مسکرا سکیں۔
اور شاید یہی حسِ مزاح کی اصل خوبی ہے: یہ زندگی کو آسان نہیں بناتی، مگر زندگی کے مشکل لمحوں میں انسان کو تھوڑا آسان ضرور بنادیتی ہے۔
- ذرا خود پر بھی ہنسیں ۔۔۔ ابن امیر - Aug 14, 2026
- اختلاف کی تہذیب ۔۔۔ ابنِ میر - Jul 31, 2026