ایک تکفیر نامہ اور ہزارہ قوم کی سیاسی تنہائی
تحقیق و تحریر: اسحاق محمدی
فروری 1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد، دیگر علاقوں کے شیعہ ملاّؤں کی طرح کوئٹہ کے ملا بھی پرپرزے نکالنے لگے۔ اس ضمن میں پہل شیخ یعقوب علی توسلی نے تنظیم نسلِ نو ہزارہ مغل کوئٹہ کے خلاف ایک تکفیری خط سے کی۔ یاد رہے کہ اس وقت تنظیم کے کچھ اراکین افغانستان میں ثور انقلاب کے خلاف “اتحادیہ مجاہدین اسلامی افغانستان” سے وابستہ ہو کر ہزارہ جات میں مصروفِ عمل ہوگئے تھے اور اُس وقت کا فوجی آمر جنرل ضیاء ابھی سعودی عرب کے نرغے میں نہیں آیا تھا اور اُن کی حکومت دیگر انقلاب مخالف سنی جہادی تنظیموں کے ساتھ چند ایک ہزارہ تنظیموں، جیسے اتحادیہ مجاہدین اور شورای اتفاق، کی بھی مدد کر رہی تھی۔ ایرانی ملاّؤں کو اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں تقریباً دو ڈھائی سال کا عرصہ لگا، لیکن اُس وقت تک پاکستان، افغانستان کے کئی علاقوں بشمول ہزارہ جات میں اپنا اثر و نفوذ قائم کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ ایسے میں ایران نواز ملاّؤں نے روایتی شارٹ کٹ راستہ اپناتے ہوئے “تکفیر” کا آزمودہ اور مؤثر ہتھیار استعمال کیا۔ تنظیم نسلِ نو ہزارہ کے لیے انہوں نے شیخ یعقوب علی توسلی کو چارہ بنایا، جبکہ حاجی نادر ترکمنی کے لیے انہوں نے کابل کے چند سادات ملاّؤں کو استعمال کیا۔ شیخ صاحب بھی اقتدار کے شدید خواہش مند تھے، سو انہوں نے آسانی سے یہ فتویٰ دے دیا تاکہ ایرانیوں کے منظورِ نظر بن سکیں۔
شیخ توسلی کے اسی فتوے کو لے کر ایران نواز ملاّؤں نے 1983ء میں اتحادیہ مجاہدین اسلامی کے خلاف عبدالرحمان کی پیروی میں ایک فتویٰ جاری کر دیا اور اتحادیہ کے مضبوط گڑھ جاغوری پر یلغار کے ذریعے آسانی سے قبضہ کر لیا۔ اس دوران علی مدد خان، قومندان ہاشم سمیت چند لوگ مارے گئے جب کہ شہید حسین علی یوسفی سمیت سینکڑوں لوگ قیدی بنادیے گئے۔ اس واقعہ کے اثرات تیزی سے دیگر ہزارہ نشین علاقوں تک پھیل گئے اور بہت جلد ہزارہ جات کے اکثر علاقے، پاکستان نواز اتحادیہ مجاہدین اور شورای اتفاق کے بجائے ایران نواز، ناتجربہ کار، جنونی ملاّؤں کے قبضے میں چلے گئے۔
اس سے ہزارہ قوم دو ناقابلِ تلافی نقصانات سے دوچار ہوئی:
- ایک یہ کہ افغانستان کے ہزارہ باقی پوری دنیا سے کٹ گئے۔
- دوسرا یہ کہ ان جوشیلے، جنونی، ایران نواز ملاّؤں نے پہلے روس نواز خلقی، پرچمی، چین نواز شعلہ ای، کے نام پر ہزارہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی، اور بعد ازاں امریکہ نوازی کے نام پر خوانین اور روایتی ملاّؤں پر مشتمل شورای اتفاق کی خوب خبر لی اور ان کا بے دردی سے قتلِ عام کیا۔ پھر آخر میں یہی پیروانِ خطِ خمینی آپس میں دست بہ گریباں ہو کر خوفناک خانہ جنگی اور برادرکشی میں الجھ گئے۔
پاکستان نواز شورای اتفاق نے اس لیے ان ایران نواز ملاّؤں کی حمایت کی کہ وہ بھی اتحادیہ مجاہدین کی بڑھتی طاقت سے خوفزدہ تھی۔ حیرت کا مقام ہے کہ خمینی صاحب یا اُن کے کسی نمائندے، یہاں تک کہ متعلقہ اداروں نے بھی اس خوفناک خانہ جنگی کو روکنے کی کبھی کوشش نہیں کی، حالانکہ ایران بیک وقت نصر، نہضت، جبہہ متحد اور سپاہ پاسدارانِ انقلاب سمیت کئی درجن ہزارہ شیعہ گروپوں کی مدد کر رہا تھا۔ شادروان محمد عیسیٰ غرجستانی کے مطابق کم از کم 23 ہزار ہزارہ جانیں اس خانمان سوز خانہ جنگی کی نذر ہوئیں، لاکھوں لوگ مہاجرت پر مجبور ہوئے، جو امیر عبدالرحمان جابر کے بعد ہزارہ قوم کی دوسری بڑی نسل کشی اور مہاجرت ہے (تاریخ ہزارہ و ہزارہ ستان، ص 229)۔ یاد رہے کہ استاد عبدالخالق آزاد حزب وحدت کے ذرائع کے حوالے سے مقتولین کی تعداد 45 ہزار بتاتے ہیں۔
شیخ صاحب کے ہاتھ کے لکھے فتویٰ کی کاپی کوئٹہ پہنچی تو تنظیم نے حاجی شیخ برات علی کے ذریعے علماء و معتبرین کا ایک جرگہ بلوایا، لیکن چونکہ اس وقت تنظیم کی حیثیت قوم کے اندر مستحکم اور شیخ کی پوزیشن کمزور تھی، اس لیے موصوف نے تمام شواہد سے انکار کرکے انہیں جعلی قرار دے دیا۔ لیکن آگے چل کر جب حالات شیخ صاحب کے حق میں بدل گئے تو موصوف، تنظیم کی ہزارہ جات میں اس شکست کو اپنا ایک بڑا اسلامی کارنامہ قرار دینے لگے۔ (اس خط کی کاپی اور اس جرگے کی تصویریں، آڈیو ریکارڈنگ 90ء کی دہائی تک تنظیم کے ریکارڈ میں موجود تھیں، شاید اب بھی ہوں۔ خدا کرے کہ تنظیم کی موجودہ قیادت ان دستاویزات کو ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کی ہمت کرے۔)
یاد رہے کہ اس سارے معاملات میں جامعہ امامیہ کے اُس وقت کے پرنسپل شیخ علی یاور افتخاری کا کردار بھی بے حد منفی تھا، جس نے “نہضت اسلامی افغانستان” نامی مسلح ایران نواز تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ شیخ بھی اتحادیہ کو گرانے میں پیش پیش تھا، لیکن اس کی سیاہ کرتوتوں اور خاص طور پر ہزارہ قوم سے اس کی خیانتوں کے بارے میں تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے، جو بہت کم لوگوں کے علم میں ہوں گی۔ یوں ان طالع آزما سیاسی ملاّؤں کی وجہ سے ہزارہ قوم کو ہر جگہ شدید نقصان پہنچا، جس کی ابتداء بدقسمتی سے کوئٹہ کے ان نووارد سیاسی ملاّؤں کے ہاتھوں ہوئی۔
اب اس تکفیری فتوے کی طرف آتے ہیں، جسے ہزارہ جات کے ایران نواز ملاّؤں نے شیخ توسلی کے فتوے کی بنیاد پر جاری کیا تھا، جس کا ایک ایک جملہ ان کی سیاسی اور مذہبی حماقت کا عکاس ہے۔
01/03/1983
واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا
جاغوری علماء کونسل کا اپنے غیور سنی بھائیوں کے نام پیغام، جو 27 اپریل 1978ء سے اسلام کی آبیاری اپنے خون سے کرتے آ رہے ہیں۔
غیور بھائیو! جیسا کہ آپ سب روس نواز افغانی کمیونسٹوں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، اسی طرح چینی کمیونسٹوں کے خلاف بھی نبرد آزما رہیں اور مارکس و لینن کے خلاف مورچوں میں ڈٹے رہیں۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ روس کے خلاف جہاد کی ابتداء ہی سے اتحادیہ مجاہدین اسلامی افغانستان، کوئٹہ میں مقیم مکار تنظیم نسلِ نو ہزارہ مغل کے اراکین ڈاکٹر جواد، اشفاق حسین، غلام علی حیدری، حسین علی یوسفی، کربلائی موسیٰ، حاجی برکت، عبدالحسین مقصودی، شعلہ جاوید (چین نواز افغانی پارٹی)، عباس زرگر، انجنیئر اکرم، معلم خادم، اور چین نواز منافقین و ملحدین پارٹیاں، صدائے ہزارہ، جبہہ متحد ملی، ساما، ستم ملی اور اخگر وغیرہ، حکومتِ پاکستان کے ذریعے امریکی و چینی امداد (اسلحہ) ہزارہ جات پہنچا رہے ہیں۔
اسی سیاسی و اسلامی خطرات کا احساس کرتے ہوئے ہم ایران نواز پیروِ خطِ خمینی اسلامی تنظیمیں، اس ملحد و کافر تنظیم نسلِ نو ہزارہ مغل کے خلاف اپنے اتحاد کا اعلان کر چکی ہیں۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مورخہ 14 دسمبر 1982ء کو جاغوری کے مرکز سمیت مالستان، ارزگان، قرہ باغ، اور دیگر علاقوں سے تمام چین و امریکی نواز عناصر کو نکال باہر کیا گیا ہے اور ان کے تمام اسلحہ جات مالِ غنیمت کے طور پر جاغوری علماء کونسل کے ہاتھ لگے ہیں، جبکہ ان سے وابستہ ناپاک لوگوں کے خون میں لت پت اجساد جنگلی جانوروں کی خوراک بن رہے ہیں اور باقی زندان میں پڑے اسلامی عدل کے منتظر ہیں، جبکہ ان کی چین و امریکہ سے وابستگی کے اسناد جاغوری میں رکھے گئے ہیں۔(1)
آخر میں ایک بار پھر اہلِ سنت بھائیوں کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ وہ ہوشیار رہیں، کیونکہ اس کمیونسٹ گروہ کا یہ ناپاک ارادہ ہے کہ آپ لوگوں سے وہ تمام زمینیں دوبارہ چھین لے جو امیر عبدالرحمان خان نے آپ کو دی تھیں۔ لہٰذا اس گروہ کے لوگ یا ان سے اسلحہ لینے والے لوگ جہاں بھی ملیں، اُن کو قتل کر کے ان کی تمام اشیاء بطورِ غنیمت لے لیں۔ یہ عناصر واجب القتل ہیں اور ان کا خون سب پر حلال ہے۔
ہم علماء کونسل نہ شرق، نہ غرب اور نہ ہی چین سے وابستہ ہیں۔ ہم اسلامی جمہوریت کے ماننے والے ہیں۔
لا شرقی و لا غربی، جمہوری اسلامی
(مہر و دستخط)
- فیاضی، گورنر جاغوری
- حرکت اسلامی (ایران نواز شیخ آصف)
- کمانڈر نہضت اسلامی
- نہضت اسلامی (ایران نواز شیخ افتخاری و شیخ جمعہ اسدی، جامعہ امامیہ)
(تاریخ ہزارہ و ہزارستان، صفحات 219 تا 221)
نوٹ 1:
جناب انجنیئر اکرم گیزابی کے مطابق، جو اس دور کے بارے میں اپنی یادداشتیں مرتب کر رہے ہیں، ان برآمد شدہ اسناد میں وہی عام چینی ساختہ ہتھیار تھے جو سب جہادی تنظیموں کو مل رہے تھے، جبکہ مزید پبلسٹی کے لیے ان میں شیغئی (بوجول) بھی رکھے گئے تھے تاکہ ہماری “کفریت” مزید پکی ہو جائے۔ جناب گیزابی کا مزید کہنا ہے کہ اس فتوے سے دیگر بہت سارے نقصانات کے علاوہ یہ بڑا قومی نقصان بھی ہوا کہ ارزگان کے کئی علاقوں کی ہزارہ آبادی سے اسی بہانے دشمنوں نے اسلحہ چھین لیا اور انہیں بالآخر اپنی وہ آبائی زمینیں ترک کرنا پڑیں، جو امیر عبدالرحمان جابر کی دسترس سے بھی محفوظ رہ گئی تھیں۔ گیزابی صاحب کے اس دعوے کی تائید درنگی بر جنبش تجدد خواهی در افغانستان، ص 129 میں بھی کی گئی ہے۔
استاد خالق آزاد کی کتاب چھپ چکی ہے اور انہوں نے کتاب کا ایک نسخہ مجھے عنایت بھی کیا ہے جو فی الحال کوئٹہ میں ہے۔
منبع:
تاریخ ہزارہ و ہزارستان از محمد عیسیٰ غرجستانی، کوئٹہ پاکستان، 1989ء۔
- ایک تکفیر نامہ اور ہزارہ قوم کی سیاسی تنہائی ۔۔۔ اسحاق محمدی - May 7, 2026
- میری پہلی جاب اور جاب مارکیٹ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 30, 2026
- ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 22, 2026
