ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(آٹھویں قسط)
“ارزگان کی مزاحمت”
تحریر: جاوید نادری
یہ تحریر ان گمنام ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ہے جنہوں نے جبر کے سامنے سر جھکانے کے بجائے زنجیروں میں جکڑے ہوئے وقار کو منتخب کیا۔
تاریخی طور پر ارزگان ہزارہ جات کا “قلب” مانا جاتا تھا۔ یہ علاقہ اپنی دشوار گزار پہاڑیوں، قدرتی دفاعی مورچوں اور جنگجو قبائل کی وجہ سے مشہور تھا۔ مغل دور سے لے کر درانی دور تک، ارزگان کے سرداروں نے ہمیشہ ایک نیم خود مختار حیثیت برقرار رکھی تھی۔ 17ویں صدی کے قلمی نسخے “بحر الاسرار” میں محمود بن امیر ولی ہزارہ سواروں کی تعریف میں لکھتا ہے:
“ہزارہ جات کے گھوڑے جو ‘بومی’ (مقامی) کے نام سے مشہور ہیں، اپنی مضبوطی اور تیز رفتاری میں بے مثال ہیں۔”
امیر عبدالرحمن خان نے جب افغانستان کو ایک مرکزی ریاست بنانے کی کوشش کی، تو اس نے ہزارہ جات کی خود مختاری کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہاں مروجہ روایات (خودمختاری ) کے برعکس نئے اور کمر توڑ ٹیکس نافذ کیے گئے۔ مقامی سرداروں کے اختیارات چھین کر کابل سے بھیجے گئے حکام مقرر کیے گئے۔ ہزارہ قوم کے عقائد اور سماجی ڈھانچے کو ایک منظم اور سسٹمک طریقے سے سلسلہ وار نشانہ بنایا گیا۔
ارزگان کی مزاحمت (1891ء-1893ء) ہزارہ قوم کی تاریخ کا سب سے عظیم، خونریز اور پروقار باب ہے۔ یہ محض ایک علاقائی جنگ نہیں تھی، بلکہ اپنی شناخت، زمین اور صدیوں پرانی داخلی خود مختاری کو برقرار رکھنے کی ایک بھرپور جدوجہد تھی۔ ارزگان کی جنگ محض ایک “بغاوت” نہیں تھی، بلکہ ایک باقاعدہ قومی جنگ تھی جس کی قیادت ایسے لوگ کر رہے تھے جو بین الاقوامی سیاست اور عسکری چالوں سے بخوبی واقف تھے۔
ارزگان کی جنگ میں کئی سرداروں نے مل کر ایک دفاعی اتحاد بنایا تھا جن میں سردار محمد عظیم خان، سردار گل محمد خان، تاجئی خان، سردار چنار خان، سردار کربلائی اسد اللہ شامل تھے۔ ان سب نے مل کر کجران اور مغل خیل کے معرکوں کو ہمیشہ کے لیے ایک یادگار واقعہ بنا دیا۔ ہزارہ لشکر نے اپنی روایتی شجاعت اور پہاڑی جغرافیے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہی افواج کو کئی مقامات پر پسپا کیا۔ دشمن کے جدید اسلحے کا مقابلہ روایتی ہتھیاروں سے کیا اور شاندار کامیابی حاصل کی۔
جب ارزگان کی مزاحمت اپنے عروج پر تھی، تو برطانوی وائسرائے کو بھیجی جانے والی ہفتہ وار رپورٹس میں اس جنگ کی ہولناکی کا ذکر ملتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق، “ہزارہ سرداروں کی مزاحمت اتنی سخت ہے کہ امیر (عبدالرحمن) نے اپنی سلطنت کا نصف سے زیادہ حصہ اور تمام بڑے جرنیل اس محاذ میں جھونک دیے ہیں۔ یہ لوگ اس وقت تک نہیں ہارتے جب تک ان کا آخری سنگر تباہ نہ ہو جائے۔”
برطانوی ریکارڈز کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ان سرداروں کو “باغی” نہیں بلکہ “قومی مزاحمت کار” کے طور پر دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک ہزارہ سرداروں کا وقار ان کی اس خود مختاری میں تھا جو انہوں نے صدیوں سے برقرار رکھی ہوئی تھی۔
برطانوی افسران نے مغل خیل اور کجران کے معرکوں کا یوں تجزیہ کیا ہے۔
کجران کے معرکے میں شاہی فوج کو بدترین جانی اور مالی نقصان کے متعلق برطانوی خفیہ ڈائریوں میں درج ہے کہ:
“امیر کے سپاہی کجران کی وادیوں میں ہزارہ مزاحمت کاروں کی جرات دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئے تھے۔ مفرور سپاہیوں نے کابل واپس جا کر بتایا کہ ہزارہ پہاڑوں سے نہیں بلکہ آسمان سے نازل ہوتے ہیں۔”
1892ء کی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق، کجران کے معرکے کے بعد امیر عبدالرحمن اتنا مشتعل ہوا کہ اس نے اپنے جرنیلوں کو برطرف کر دیا اور نئے سرے سے پوری سلطنت سے لشکر جمع کرنے کا حکم دیا۔ برطانوی ایجنٹ لکھتا ہے کہ:
“کجران کی شکست نے ثابت کر دیا کہ صرف جدید اسلحہ سے ایک ایسی قوم کو نہیں جیتا جا سکتا جو اپنی زمین کے چپے چپے سے واقف ہو اور موت سے بے خوف ہو۔”
برطانوی انٹیلیجنس کی خفیہ رپورٹس میں درج ہے کہ
“امیر کی باقاعدہ فوج کو ان سرداروں کے سامنے ذلت آمیز پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہزارہ سردار (خصوصاً تاجئی خان) نے ‘ہٹ اینڈ رن’ (مارو اور بھاگ جاؤ) کی ایسی پالیسی اپنائی ہے کہ شاہی توپ خانہ بے سود ہو کر رہ گیا ہے۔”
اس رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ امیر کے کئی سپاہی ہزارہ سرداروں کے رعب اور ان کی مذہبی استقامت کو دیکھ کر جنگ سے فرار ہو رہے تھے۔
برطانوی ریکارڈز میں ایک بہت ہی غیر معمولی ذکر ملتا ہے کہ ارزگان کی مزاحمت میں خواتین نے نہ صرف رسد کا کام کیا بلکہ مورچوں میں بیٹھ کر لڑائی بھی لڑی۔
“ہزارہ عورتیں اپنے مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لڑ رہی ہیں۔ وہ پہاڑوں سے بھاری پتھر دشمن کے لشکر پر گراتی ہیں اور ان کی شجاعت مغل خیل کے معرکے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔” (یہ وہی پس منظر ہے جس نے ‘چہل دختران’ جیسی داستانوں کو جنم دیا)۔
جب امیر عبدالرحمن نے دیکھا کہ وہ میدانِ جنگ میں آسانی سے نہیں جیت سکتا، تو اس نے پورے ہزارہ جات کا معاشی گھیراؤ شروع کردیا اور رسد کے تمام راستے بند کر دیے۔ اس نے اس جنگ کو ایک نیا اور خطرناک رخ دیا۔ امیر نے ریاست کے درباری علماء سے ایک ایسا ‘فتویٰ’ حاصل کیا جس کے تحت اس مزاحمت کو بغاوت کے بجائے ‘کفر’ قرار دے دیا گیا۔ پشتون قبائل کو ‘مالِ غنیمت’ اور ‘ثواب’ کا لالچ دے کر ہزارہ قوم کے خلاف اکسایا گیا اور “غزوہ” کے نام پر ایک ایسا کثیر القومی لشکر ( ایک لاکھ سے زائد) تیار کیا جس کا سامنا کرنا ہزارہ سرداروں کے محدود وسائل کے لیے ناممکن تھا۔ یاد رہے کہ ہزارہ سردار صرف گولیوں اور بھوک کا مقابلہ نہیں کر رہے تھے، بلکہ ایک ایسے “نفسیاتی اور مذہبی ہتھیار” کا بھی مقابلہ کر رہے تھے جس نے ان کے پڑوسیوں کو ان کے خلاف کر دیا تھا،
اس وقت کے برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ کی ایک رپورٹ (اکتوبر 1892ء) میں صورتحال کو یوں بیان کیا گیا ہے:
“فتویٰ کے اجرا کے بعد صورتحال محض ایک جنگ نہیں رہی بلکہ ایک مذہبی جنون میں بدل چکی ہے۔ ہزارہ سردار اب صرف ایک فوج سے نہیں بلکہ ایک ایسے بے قابو ہجوم سے لڑ رہے ہیں جو ‘ثواب’ کی خاطر ان کی نسل کشی پر تلا ہوا ہے۔ اس کے باوجود ان سرداروں کا نظم و ضبط حیران کن ہے۔”
برطانوی انٹیلیجنس کی ایک خفیہ فائل کے مطابق، یہ فتویٰ امیر کا وہ آخری حربہ تھا جس نے اس جنگ کو ایک منظم ‘نسل کشی’ کی طرف دھکیل دیا، کیونکہ اس کے بعد حملہ آور لشکر نے اسے محض ایک زمین کی جنگ نہیں بلکہ ایک ‘مقدس مشن’ سمجھ کر لڑا، جس کے نتیجے میں ارزگان کے قلعوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے۔”
1893ء تک آتے آتے، جب بیرونی امداد ختم ہو گئی اور اندرونی طور پر قحط اور بیماریوں نے سر اٹھایا، تو مزاحمت کمزور پڑنے لگی۔ امیر کی فوج نے ارزگان پر قبضہ کر لیا۔
بیشتر سردارانِ ارزگان یا تو میدانِ جنگ میں شہید ہوئے یا انہیں کابل لے جا کر قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔ ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں اور ہزارہ قوم کی ایک بڑی آبادی کو ہجرت (ہندوستان اور ایران کی طرف) پر مجبور کیا گیا۔
برطانوی خفیہ فائل میں درج ہے کہ سردار محمد عظیم خان اور ان کے خاندان کو انتہائی سخت پہرے میں کابل لایا گیا۔ برطانوی ایجنٹ نے کابل سے رپورٹ بھیجی کہ “ان سرداروں کے چہروں پر شکست کا کوئی نشان نہیں، بلکہ وہ مٹی میں لت پت ہونے کے باوجود ایک فاتحانہ وقار کے ساتھ زنجیروں میں چل رہے ہیں۔”
وائسرائے ہند کے عسکری مشیر میجر جنرل ولسن نے ایک خفیہ نوٹ میں لکھا۔
“اگر ان ہزارہ سرداروں کے پاس جدید توپ خانہ اور برطانوی تربیت ہوتی، تو وہ وسطی ایشیا کا نقشہ بدل سکتے تھے۔ ان کی جرات ان کے وسائل سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔”
ارزگان کی مزاحمت نے یہ ثابت کر دیا کہ ہزارہ قوم اپنے وقار اور آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتی۔ آج بھی ارزگان کی مٹی میں ان سرداروں کی داستانیں دفن ہیں جنہوں نے ایک طاقتور بادشاہ کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مٹ جانے کو ترجیح دی۔
کوئٹہ (شال) میں مقیم ایک برطانوی افسر کی یادداشت سے:
“ارزگان کے سقوط کے بعد یہاں پہنچنے والے قافلے اپنی کہانی خود سناتے ہیں۔ ان کے سرداروں نے اپنی زمین کی حفاظت میں وہ قیمت ادا کی ہے جو تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ لوگ ٹوٹے ہوئے ضرور ہیں لیکن ان کی آنکھوں میں اب بھی وہی چمک ہے جو ایک آزاد انسان کا خاصہ ہوتی ہے۔”
1. بنیادی فارسی مآخذ (Primary Persian Sources)
سراج التواریخ (جلد سوم): فیض محمد کاتب ہزارہ۔ (یہ ارزگان کی جنگوں اور امیر عبدالرحمن کے دور کا سب سے اہم سرکاری و دستاویزی مآخذ ہے)۔
بحر الاسرار فی مناقب الاختیار: محمود بن امیر ولی (17ویں صدی کا قلمی نسخہ، جس میں ہزارہ جات کے جغرافیے اور قبائل کا ذکر ہے)۔
2. برطانوی سرکاری ریکارڈز (British Official Records)
India Office Records (IOR): L/P&S/7 (Political and Secret Department Records) – 1891-1894 کی خفیہ فائلیں اور وائسرائے ہند کو بھیجی گئی ہفتہ وار رپورٹس۔
Kabul Intelligence Reports (1891-1893): برطانوی ایجنٹوں کی خفیہ ڈائریوں کا مجموعہ جو کابل اور قندھار سے پشاور بھیجی جاتی تھیں۔
Diary of the Afghan Boundary Commission (1884-1886): میجر پی جے میٹ لینڈ (Major P.J. Maitland) کی رپورٹ، جس میں ارزگان کے سرداروں اور ان کی دفاعی قوت کا تجزیہ موجود ہے۔
3. سیاحوں اور سیاسی افسران کی کتب (Books by Explorers & Officers)
Travels into Bukhara: سر الیگزینڈر برنس (Sir Alexander Burnes) – میر یزدان بخش اور ہزارہ سرداروں کے سیاسی وقار کے مشاہدات۔
The Life of Abdur Rahman, Amir of Afghanistan: امیر عبدالرحمن خان کی آپ بیتی (جس میں اس نے اپنی نظر سے ان جنگوں اور فتووں کا ذکر کیا ہے)۔
At the Court of the Amir: ڈاکٹر جان گرے (John Gray) – امیر کے دربار میں موجود برطانوی ڈاکٹر کے مشاہدات جو اس دور کے سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہیں۔
4. جدید تحقیقی مقالہ جات (Modern Research)
The Hazaras of Afghanistan: ڈاکٹر سید عسکر موسوی (ہزارہ تاریخ، نسلی ساخت اور 19ویں صدی کی مزاحمت پر ایک مستند جدید کتاب)۔
The Intervention of the Safavids and Mughals in Hazarajat: مختلف علمی جرائد میں شائع ہونے والے تحقیقی مضامین۔