دھندلاہٹ (افسانچہ) ۔۔۔ جاوید نادری

دھندلاہٹ (افسانچہ)

تحریر: جاوید نادری

انسان بھی کیا عجیب ہے۔۔۔۔ بدصورت سے بدصورت شخص بھی اپنے آپ کو خوبصورت مانتا ہے۔
لیکن- نہیں، میں تو ایسا نہیں ہوں۔ میں نے کب خود کو خوبصورت سمجھا ہے؟ مجھے تو اپنا چہرہ اور اپنی پوری جسامت، کبھی پسند ہی نہیں آئی۔ ہاں، یہ میرے ہاتھ تھوڑے سے گورے اور خوبصورت ہیں شاید ۔۔۔
ہرگز نہیں۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑا اکتاہٹ سے اپنے چہرے کو ٹٹول رہا تھا اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بوریت تیر رہی تھی، وہ اپنے پورے وجود سے بیزار نظر آرہا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ زندگی کی ساری مسافتوں کو خاموشی سے طے کر کے ابھی ابھی گھر پہنچا تھا۔ اس کے ماتھے کی شکنیں بتا رہی تھیں، کہ وہ زندگی کے ہر معنی سے مایوس ہو چکا تھا وہ اپنے پورے وجود میں نقاہت محسوس کر رہا تھا۔
اگرچہ
اسے دنیا کی کسی چیز سے کبھی کوئی مسرت نہیں ملی۔
مگر وہ ساری زندگی غم سے بھی انجان رہا،
نہ کبھی درد کو محسوس کیا اور نہ کبھی کوئی تکلیف جھیلی۔ تو پھر وہ ناشاد اور ناکام کیوں کر ہو سکتا تھا؟

آئینے کے سامنے کھڑا وہ شخص اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا اسے زندگی میں نہ تو مسرت ملی اور نہ ہی خوشی، درد یا کوئی تکلیف،
بس وہ یوں ہی جیے جا رہا تھا جیسا سبھی جیتے ہیں۔
بس ایک فرق ہے:
وہ اپنے آپ کو خوبصورت نہیں سمجھتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک طویل زندگی گزارنے کے بعد، آخر میں یہ احساس جاگتا ہے کہ ہم نے زندگی کو جیا ہی نہیں؟
اور جینا… آخر ہے کیا؟
اور۔۔۔ زندگی جیا کیسے جاتا ہے کیا یہ کوئی ہنر ہے جو سیکھا جاتا ہے یا یہ تجربے سے خودبخود اُترتا ہے؟
شاید جینا ایک آرٹ ہے۔

کیا ہم موت سے اس لیے خوفزدہ رہتے ہیں کہ ہم اپنی پوری زندگی بھرپور جینے کے قابل نہیں رہے یا ہمیں جبلت کے ہاتھوں ڈر محسوس ہوتا ہے۔
شاید ہم اپنی زندگی بچا بچا کر جیتے ہیں، کہ کہیں کچھ ضائع نہ ہو اور آخر میں یوں ہوتا ہے کہ سب کچھ ہمارے پاس ہی رہتا ہے۔
یعنی پوری کی پوری پوٹلی!
ہمارے پاس ہی رہتی ہے جسے ہم تقسیم بھی نہیں کر سکتے اور اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت بھی نہیں رکھتے۔

آئینے کے سامنے کھڑا وہ اپنے آپ سے سرگوشی کر رہا تھا وہ شاید اپنی زندگی کے حاصل کا حساب کتاب لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔
وہ شاید جاننا چاہتا تھا کہ اس کے حصے میں کیا آیا؟
اور اس کے وجود سے کیا کیا بکھرا؟

“یہ سچ ہے کہ میں نے زندگی نہ تو ضائع کی اور نہ ہی حاصل کیا۔۔۔۔۔۔
تو پھر میں نے کیا کیا”۔

میں نے زندگی کے کسی پرت کو اٹھا کر کبھی دیکھنے کی زحمت گوارا کی۔
یا پھر میں نے یہ کرنا مناسب نہیں سمجھا، دونوں باتیں ہو سکتی ہیں۔
میں شاید جینے کے بے شمار طریقے ڈھونڈنے میں اتنا مگن تھا کہ حاصل اور لاحاصل کی فکر سے لا پروا رہا۔
اسی لیے میرے چہرے پر کبھی نور نہیں اترا۔
اسی لیے میں اچھا نہیں دکھتا۔
شاید اسی لیے میں خود کو خوبصورت بھی نہیں پاتا۔

اس نے آئینے پر آہستہ آہستہ سانس چھوڑنا شروع کی۔ پھر تیز… پھر مسلسل…
یہاں تک کہ اس کا چہرہ بھاپ کے پیچھے دھندلانے لگا۔
جب عکس مکمل طور پر اوجھل ہو گیا تو اس نے انگلی اٹھائی اور اس دھندلاہٹ پر اپنا نام لکھ دیا۔
ایک لمحہ کو وہ رکا…
پھر پہلی بار، بےساختہ قہقہہ لگاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

Leave a Comment