
کوئٹہ میں آباد ہزارہ قوم کے اجتماعی سیٹ اپ میں دو سسٹم کافی عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ ایک طائفگی، جس کی بنیاد طائفوی تعلق پر قائم ہے، جبکہ دوسرا آغیلی، جس کی بنیاد ہمسایہ داری ہے۔ آغیلی سسٹم کے تحت ایک ہی محلے میں رہنے والے 20، 30 یا اس سے زائد آس پاس کے ہمسائے اکٹھے ہو کر ایک آغیل کی تشکیل کرتے ہیں، جس میں فوتگی کی صورت میں چندہ اکٹھا کرنا بھی شامل ہے۔ آغیلی ایک رضاکارانہ سسٹم ہے، جس میں آس پاس کے قریبی ہمسائے خوشی اور غمی کے دوران یا کسی اجتماعی نذر و نیاز کے موقع پر اکٹھے ہو جاتے ہیں اور باہم مل کر ان مواقع کو مناتے ہیں۔
عام طور پر غمی یا خوشی کے دوران آغیل میں شامل ہر گھر سے ایک مرد اور ایک خاتون کو شرکت کی دعوتِ دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، میرے اپنے محلہ المعروف بہ محلہ محب ارباب میں، اسی آغیلی سسٹم کے تحت کسی فوتگی کی صورت میں فی گھرانہ (شادی شدہ) سے ایک مقررہ رقم جمع کر کے مذکورہ گھر کے سربراہ کے حوالے کی جاتی ہے۔ اسی دوران محلے کے بزرگ مرد و خواتین تمام رسومات کے دوران غم زدہ خاندان کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کے لیے موجود رہتے ہیں، جبکہ نوجوان خدمات سر انجام دینے کے لیے پیش پیش رہتے ہیں۔
پہلے کئی سالوں تک مرحوم یعقوب علی (اسحاق چنگیزی کے والد) اور بعد ازاں مرحوم حاجی رضا رضاکارانہ طور پر یہ خدمات انجام دیتے رہے۔ اس فوتگی چندہ کے علاوہ “شاؤ مُردا” کے نام سے نیاز بھی آغیل والے اکٹھی کرتے ہیں۔ جب تک میں کوئٹہ میں تھا، عموماً ماہِ رمضان کی آخری چند راتوں (سوائے چاند رات کے) میں سے ایک رات آغیل کے سبھی گھرانوں سے ایک مخصوص رقم جمع کر کے کسی بڑی حویلی (زیادہ تر مرحوم محب ارباب یا میری حویلی، جو قدرے بڑی ہیں) میں کھانا پکایا جاتا تھا۔
چونکہ ہمارا آغیل زیادہ تر غریب گھرانوں پر مشتمل تھا، اس لیے اگر شوربہ پکانا ہوتا تو مرغی لاتے، اور ترکاری کی صورت میں بڑا گوشت لیا جاتا۔ پکانے اور کھلانے کی ذمہ داری حضرات کی ہوتی تھی۔ شام افطار کے بعد پہلے محلے کے تمام چھوٹے بڑے حضرات کھانا کھانے آتے، پھر خواتین اور بچیوں کی باری ہوتی۔ آخر میں دعائے خیر کی جاتی اور مرحومین کے لیے فاتحہ پڑھی جاتی۔
نیاز کے اختتام پر خواتین دیگیں اور برتن دھونے آتیں، جبکہ حضرات کسی کمرے میں بیٹھ کر حساب کتاب کرتے اور چائے سے لطف اندوز ہوتے۔ شاید اب بھی اسی طرح ہوتا ہو، لیکن میں اب اس سے محروم ہوں۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ ہم نے بزرگوں کی رضامندی سے یہ رعایت رکھی تھی کہ غریب گھرانے اپنی مرضی کی رقم دے سکتے تھے، خواہ وہ 10 روپے ہی کیوں نہ ہو، تاکہ وہ بھی نذر کے خیر و فیوضات میں شریک رہیں۔
عمومی لحاظ سے غریب گھرانوں کے لیے یہ ایک مفید سسٹم ہے۔ خاص طور پر غم کے دوران یہی آغیل والے سب سے پہلے مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔ آغیلی چندہ کی رقم سے ابتدائی اخراجات کی ادائیگی میں کسی دقت کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ آغیلی سسٹم، طائفگی سسٹم سے اس طرح بدرجہا بہتر ہے کہ اس میں سیاسی، مذہبی یا طائفگی تعلق کو ایک طرح سے ایک طرف رکھا جاتا ہے اور اسے ذاتی فیصلہ سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔
جبکہ طائفگی سسٹم میں، حالیہ ایک دو انتخابات کے علاوہ، 70، 80، 90 کی دہائیوں اور 21ویں صدی کی ابتدائی دہائیوں کے دوران ہر لحاظ سے سیاست زدہ رجحانات غالب رہے ہیں۔ چند حضرات نے اس طائفوی چندہ سسٹم کو اپنے ذاتی مفاد، ذاتی پسند و ناپسند اور مذہبی رجحانات کے تناظر میں، انتخابات (بلدیاتی و عام) کے دوران بڑی بے دردی سے استعمال کیا، جس کی وجہ سے “میرٹ” کی شدید پامالی ہوتی رہی۔
بار بار نااہل افراد ہزارہ قوم کے سر پر مسلط ہوتے رہے، جس سے ہزارہ قوم کو ناقابلِ تلافی نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ یاد رہے کہ اس وقت “سرچندہ” ہونے کا صرف ایک ہی معیار تھا کہ وہ حاجی یا کربلائی، یعنی صاحبِ حیثیت ہو۔ مضحکہ خیز طور پر اکثر طائفوں کے سرپرستِ اعلیٰ بڑے مشہور مولوی حضرات، جیسے شیخ یعقوب توسلی، شیخ حسین رفیعی، شیخ اکبری، شیخ سید ہاشم موسوی، شیخ حلیمی اور شیخ سید مبلغ سمیت دیگر علما و حجۃ الاسلام ہوا کرتے تھے، اور شاید جو حیات ہیں، وہ اب بھی ہوں۔
حالانکہ ان میں سے بعض سیاسی ملا “پین اسلام ازم” کے سرسخت داعی اور حامی رہے ہیں اور طائفہ پرستی اور قوم پرستی کو گناہِ کبیرہ گردانتے ہیں۔ سرچندے اور سرپرستِ اعلیٰ اب بھی موجود ہیں، تاہم 2008ء کے عام انتخابات کے بعد سے، کم از کم انتخابات کی حد تک، اس منفی طائفگی رجحان میں کمی آتی رہی ہے۔ اب عام ہزارہ زیادہ تر پارٹی پروگرام، امیدواروں کی سابقہ کارکردگی اور پارٹی منشور کو دیکھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں، جو کہ ایک مثبت اجتماعی پیش رفت ہے۔
- آغیلی سسٹم ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 1, 2026
- ہزارہ قومی جائیدادوں کی بندربانٹ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Mar 26, 2026
- رسالہ، طلوعِ فکر ۔۔۔ اسحاق محمدی - Mar 17, 2026