
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار
پانچویں قسط
انیسویں صدی کے وسطی عشرے ہزارہ جات کی تاریخ میں محض ایک غیر متحرک وقفہ نہیں تھے، بلکہ یہ ایک ایسے عہد کی تشکیل کا زمانہ تھا جسے عباس دلجو نے بجا طور پر “سیاسی بیداری” کا مرحلہ قرار دیا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب ہزارہ معاشرہ نہ صرف اپنے جغرافیائی وجود کے تحفظ کے لیے متحرک ہوا بلکہ اس نے ایک واضح سیاسی شعور کے ساتھ اپنی شناخت کو بھی ازسرِ نو مرتب کیا۔ اس عہد کی سب سے نمایاں خصوصیت ایک ہمہ گیر “عدمِ انقیاد” تھی، ایسی کیفیت جس میں مکمل خودمختاری کے دعوے سے زیادہ اہم اپنی داخلی خود مختاری، سماجی نظم اور سیاسی وقار کا تحفظ تھا۔
یہ عدمِ انقیاد محض عسکری بغاوت کا نام نہیں تھا، بلکہ ایک منظم طرزِ فکر تھا جس کے تحت ہزارہ قیادت نے مرکزی اقتدار کے ساتھ اپنے تعلق کو ازسرِ نو متعین کیا۔ کابل میں محمد زئی سرداروں کی باہمی کشمکش نے اگرچہ وقتی طور پر ایک سیاسی خلا پیدا کیا، مگر ہزارہ جات کے مقامی رہنماؤں نے اس خلا کو محض موقع پرستی کے طور پر نہیں بلکہ ایک تاریخی امکان کے طور پر برتا، ایسا امکان جس کے ذریعے وہ اپنی اجتماعی قوت کو منظم کر سکیں۔
اسی تناظر میں میر صادق بیگ ارزگانی کا نام ایک ایسے آہنی ستون کے طور پر ابھرتا ہے جس نے اپنی قلمرو کو ایک ناقابلِ تسخیر عسکری اور انتظامی قلعے میں بدل دیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب کابل میں محمد زئی سرداروں کی باہمی خانہ جنگی عروج پر تھی، میر صادق بیگ نے اس خلا کو اپنی قوم کی
داخلی قوت کو مجتمع کرنے کے لیے استعمال کیا۔
ارزگان کی سنگلاخ وادیوں میں میر صادق بیگ کا نام ایک ایسی صاحب بصیرت شخصیت کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے جغرافیے کو نظریے میں بدل دیا تھا۔ ان کی قیادت روایتی قبائلی سرداری سے کہیں بلند تھی، انہوں نے ارزگان کو ایک “ناقابلِ تسخیر عسکری قلعے” میں تبدیل کر دیا تھا۔
برطانوی گزٹئیر (Gazetteer of Afghanistan, Part IV) میں ان کے عسکری اثر و رسوخ کا ذکر ان الفاظ میں ملتا ہے:
“ارزگان کا علاقہ میر صادق بیگ کی قیادت میں ایک ایسی خود مختار ریاست بن چکا ہے جہاں کابل کے امیر کا حکم نہیں چلتا۔ یہاں کے جنگجو اپنے پہاڑی دروں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں… میر صادق نے ارزگان کے بکھرے ہوئے قبیلوں کو ایک ایسی ‘قبائلی کنفیڈریشن’ میں بدل دیا ہے جو کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف متحد ہے۔”
میر صادق بیگ نے 1850 کی دہائی میں قندھار کے لشکر کو جس طرح پسپا کیا، اس نے ارزگان کو “ناقابلِ تسخیر” ہونے کا وہ تمغہ دیا جو دہائیوں تک برقرار رہا۔ فیض محمد کاتب نے “نژاد نامہ ہزارہ” میں ان کا تذکرہ ان “حکامِ موروثی” کے طور پر کیا ہے جنہوں نے صدیوں سے اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا تھا۔
برطانوی انٹیلیجنس ڈائریوں میں ذکر ہے کہ جب قندھار کے محمد زئی سرداروں نے ارزگان کو باج گزار بنانے کے لیے ایک بڑا لشکر روانہ کیا تو لشکریوں کا خیال تھا کہ ارزگان کے پہاڑی درے آسانی سے عبور کر لیے جائیں گے۔ میر صادق بیگ نے روایتی آمنے سامنے کی جنگ کے بجائے “درہ بندی” کی حکمتِ عملی اپنائی۔ انہوں نے لشکر کو ارزگان کے تنگ دروں کے وسط تک آنے دیا اور پھر بلندیوں سے اچانک حملہ کر دیا۔ اس مہم میں قندھار کے لشکر کو اتنی عبرتناک شکست ہوئی کہ انہوں نے کئی دہائیوں تک دوبارہ ارزگان کا رخ نہیں کیا۔ میر صادق بیگ نے اس فتح کے بعد ارزگان کے داخلی دفاع کو مستقل “سنگروں” سے لیس کر دیا جو آج بھی وہاں کی پہاڑیوں پر تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔
یہ فتح محض ایک عسکری واقعہ نہیں تھی، بلکہ اس نے ارزگان کو “ناقابلِ تسخیر” ہونے کا وہ تمغہ دیا جو میر ناصر بیگ کے دور تک برقرار رہا۔
ارزگان کے متوازی، جاغوری کے اہم تزویراتی راستوں پر بنیاد علی خان، ہزارہ قوم کی تاریخ میں ایک منفرد سیاسی مدبر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کا امتیاز یہ تھا کہ انہوں نے عسکری مزاحمت کے ساتھ ساتھ “تزویراتی توازن” اور سفارتی مہارت کو اپنی قوم کے تحفظ کا ذریعہ بنایا۔
میجر جی ایچ راورٹی (Major H.G. Raverty) ان کے انتظامی نظم و ضبط کے بارے میں لکھتے ہیں:
“جاغوری کے سردار بنیاد علی خان نے قندھار کے گورنروں کے ساتھ ایک نہایت پیچیدہ مگر کامیاب ‘سیاسی توازن’ برقرار رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنی داخلی انتظامیہ میں مکمل آزاد ہیں اور ان کا عدالتی و مالیاتی نظام کابل سے بالکل جدا ہے۔”
بنیاد علی خان کی قیادت “مشاورتی نظم” کی بہترین مثال تھی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ مزاحمت صرف میدانِ جنگ میں لہو بہانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے سماجی وجود اور سیاسی تشخص کو ایک مربوط نظام کے تحت برقرار رکھنا بھی وقار کی ایک اعلیٰ ترین شکل ہے۔ 1860 کی دہائی میں غزنی کے گورنر کے خلاف ان کا “معاشی بائیکاٹ” ان کی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
ایک مرتبہ جب غزنی کے گورنر نے بھاری ٹیکس (باج) کی وصولی کے لیے جاغوری کی سرحد پر فوجیں جمع کیں، تو بنیاد علی خان نے جنگ کے بجائے “معاشی بائیکاٹ” اور “سفارتی دباؤ” کا راستہ اپنایا۔ انہوں نے قندھار اور غزنی کے درمیان تجارتی راستوں کی ناکہ بندی کر دی اور گورنر کو پیغام بھیجا کہ “جاغوری کا اناج اور مال صرف اس صورت میں باہر جائے گا جب ہماری آزادی کا احترام کیا جائے گا۔”
مقامی روایات اور برطانوی گزٹئیرز میں اس “خاموش فتح” کا ذکر ملتا ہے جہاں گورنر کو بغیر لڑے پیچھے ہٹنا پڑا اور بنیاد علی خان کی شرائط پر ایک نیا انتظامی معاہدہ طے پایا۔ یہ واقعہ بنیاد علی خان کی اس “سیاسی دور اندیشی” کو ثابت کرتا ہے جس کے ذریعے انہوں نے اپنی قوم کو بڑی تباہی سے بچاتے ہوئے ان کا وقار بلند رکھا۔
بنیاد علی خان جاغوری کی تاریخِ مزاحمت میں ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے “سفارتی خود مختاری” کا ماڈل متعارف کرایا۔ بنیاد علی خان نے محسوس کر لیا تھا کہ جاغوری کا علاقہ قندھار اور غزنی کے سنگم پر ہونے کی وجہ سے کابل کی براہِ راست زد میں ہے۔ انہوں نے عسکری مزاحمت کے ساتھ ساتھ ایسی سیاسی چالیں چلیں کہ مرکز ان پر براہِ راست حملہ کرنے کے بجائے ان کی “اندرونی خود مختاری” کو تسلیم کرنے پر مجبور رہا۔ انہوں نے جاغوری میں زرعی ٹیکسوں کا اپنا نظام رائج کیا اور کابل کو خراج دینے سے صاف انکار کر دیا۔ ان کے دور میں جاغوری کے قلعے (جیسے سنگ ماشہ کے اطراف کے قلعے) تعمیر و مرمت کیے گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
یہ پورا عہد ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ تاریخ صرف فتوحات کا مجموعہ نہیں بلکہ ان اقدار کا ریکارڈ ہے جن کے لیے انسان نامساعد حالات میں بھی ڈٹ جاتا ہے۔ میر صادق بیگ اور بنیاد علی خان نے 1880 سے پہلے ہی وہ تمام لوازمات — اتحاد، اسلحہ، قلعہ بندی اور معاشی استحکام — فراہم کر دیے تھے جن کے بغیر بعد کی “عظیم مزاحمتی تحریکیں” ممکن نہ ہوتی تھیں۔
جی پی ٹاٹے (G.P. Tate) کے مطابق، ان سرداروں نے کابل کے امراء کو کئی بار ہزارہ جات پر براہِ راست حملے کرنے سے باز رکھا۔ ان کی وفات اگرچہ امیر عبدالرحمن کے تخت نشین ہونے سے پہلے ہوئی، مگر ان کی چھوڑی ہوئی “اجتماعی یادداشت” نے بعد کی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ کا کام کیا۔
میر صادق بیگ اور بنیاد علی خان انیسویں صدی کے وہ ہیروز ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ وقار اور زمین لازم و ملزوم ہیں۔ میر صادق بیگ نے “جغرافیائی دوری” کو اپنی طاقت بنایا، تو بنیاد علی خان نے “سیاسی دور اندیشی” سے اپنی قوم کا سر بلند رکھا۔ آج کی تاریخ میں یہ دونوں کردار اس سچائی کی علامت ہیں کہ جب جڑوں کی حفاظت خاموشی اور تدبر سے کی جائے، تو وہ درخت کبھی نہیں گرتا جس کی آبیاری غیرت اور خودداری کے لہو سے کی گئی ہو۔
کتابی و دستاویزی مآخذ (Bibliography)
۱. سراج التواریخ (جلد اول)
مؤلف: فیض محمد کاتب ہزارہ
حوالہ: اس جلد میں انیسویں صدی کے وسطی دہائیوں (امیر دوست محمد خان اور امیر شیر علی خان کے ادوار) میں ہزارہ جات کے داخلی حالات اور میروں کی خود مختاری کا تذکرہ ملتا ہے۔ میر صادق بیگ کے خاندان اور ارزگان کے موروثی حکام کا ذکر صفحات ۱۸۰ تا ۲۱۰ کے درمیان مختلف مقامات پر موجود ہے۔
۲. نژاد نامہ ہزارہ
مؤلف: فیض محمد کاتب ہزارہ
حوالہ: ہزارہ قبائل کے شجروں اور ان کے موروثی سرداروں کی تفصیل کے لیے یہ بنیادی ماخذ ہے۔ میر صادق بیگ ارزگانی اور بنیاد علی خان جاغوری کے خاندانی پس منظر اور ان کی “حکامِ موروثی” کی حیثیت کا تذکرہ صفحات ۷۵ تا ۹۰ (مختلف ایڈیشنز کے مطابق) میں درج ہے۔
۳. Historical and Political Gazetteer of Afghanistan (Vol. 5: Kandahar and South-Central Afghanistan)
مرتب: برطانوی انڈیا آفس (L.W. Adamec ایڈیشن)
حوالہ: ارزگان کے دفاعی نظام اور میر صادق بیگ کی عسکری قوت کا تذکرہ “Uruzgan” کے عنوان کے تحت ملتا ہے۔ جاغوری کے انتظامی ڈھانچے اور بنیاد علی خان کی سیاسی بصیرت کا ذکر “Jaghori” کے ذیلی عنوان میں صفحات ۲۴۰ تا ۲۶۵ پر موجود ہے۔
۴. Notes on Afghanistan and Baluchistan
مؤلف: میجر ایچ جی راورٹی (Major H.G. Raverty)
حوالہ: انیسویں صدی کے وسط میں ہزارہ جات کے قبائلی ڈھانچے اور سرداروں کے اثر و رسوخ پر راورٹی کے مشاہدات صفحات ۳۸۰ تا ۴۰۰ کے درمیان تفصیلاً درج ہیں، جہاں وہ جاغوری اور ارزگان کی خود مختاری کا موازنہ کرتے ہیں۔
۵. The Kingdom of Afghanistan: A Historical Sketch
مؤلف: جی پی ٹاٹے (G.P. Tate)
حوالہ: اس کتاب میں 1834 سے 1880 کے درمیانی عرصہ میں کابل کے امراء اور ہزارہ سرداروں کے مابین کھینچا تانی کا ذکر ہے۔ ٹاٹے نے ان سرداروں کی “عدمِ انقیاد” کی پالیسی پر صفحات ۱۸۸ اور ۱۹۲ پر روشنی ڈالی ہے۔
۶. تاریخِ تشیع در افغانستان
مؤلف: عباس دلجو
حوالہ: جدید تحقیقی تناظر میں انیسویں صدی کی سیاسی بیداری پر بحث کے لیے یہ اہم ماخذ ہے۔ میر صادق بیگ اور بنیاد علی خان کو “مزاحمت کے معمار” قرار دینے کا تذکرہ جلد اول، صفحات ۳۲۰ تا ۳۴۵ پر موجود ہے۔
- میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان ۔۔۔ جاوید نادری - Apr 8, 2026
- طالب حسین طالب کی کتاب “ان کہی کی لہر” پر ایک تبصرہ ۔۔۔ جاوید نادری - Apr 5, 2026
- میر صادق بیگ ارزگانی و سردار بنیاد علی خان ۔۔۔ جاوید نادری - Mar 29, 2026