طالب حسین طالب کی کتاب “ان کہی کی لہر” پر ایک تبصرہ ۔۔۔ جاوید نادری

ان کہی کا تخیلاتی جمال
کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر موسیقی روح کی غذا ہے، تو شاعری روح کا کلام یا اس کی زبان ہے۔ موسیقی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں لفظ اپنی معنوی حدوں کو چھو کر خاموش ہو جاتے ہیں، جبکہ شاعری انہی خاموشیوں کو ایک شعوری صورت اور بیانیہ عطا کرتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ موسیقی احساس کی غیر متعین روانی ہے اور شاعری اسی احساس کا تعین شدہ ادراک۔ ایک دل پر وارد ہوتی ہے اور دوسری دل و ذہن کے درمیان ایک ایسا پُل قائم کرتی ہے جہاں تخیل اپنی کامل صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
اردو شاعری کی روایت میں لفظ ہمیشہ محض صوتی اکائی نہیں رہا بلکہ ایک بصری اور حسی تجربے کا حامل بھی رہا ہے۔ شاعر ایک مصور کی طرح لفظوں کے ذریعے داخلی اور خارجی مناظر کی تشکیل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعری کو پڑھنا دراصل ایک منظر کو دیکھنے، ایک کیفیت کو محسوس کرنے اور ایک باطنی تجربے سے گزرنے کے مترادف ہے۔ اسی تناظر میں جب طالب حسین طالب کے شعری سفر کا مطالعہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی شاعری محض اظہارِ جذبات سے آگے بڑھ کر ایک فکری اور جمالیاتی مکالمے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
“ثبوتِ صبح” سے “ان کہی کی لہر” تک کا سفر ایک ایسے شاعر کی کہانی سناتا ہے جو بتدریج اپنی داخلی واردات کو ایک وسیع تر کائناتی اور وجودی تناظر میں دیکھنے لگتا ہے۔ “ان کہی کی لہر” میں ان کا لہجہ محض جذباتی نہیں رہتا بلکہ اس میں ایک ٹھہرا ہوا شعور، ایک گہری مشاہداتی بصیرت اور ایک پیچیدہ علامتی نظام تشکیل پاتا ہے۔ اب وہ صرف محسوس نہیں کرتے بلکہ محسوسات کی تعبیر بھی کرتے ہیں۔

اسلام آباد کا ماحول، وہاں کی علمی مصروفیات اور ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر تحقیق و تنقید سے مسلسل وابستگی نے یقیناً ان کے مشاہدے کو ایک نئی وسعت اور گہرائی عطا کی ہے۔ کوئٹہ کی مٹی سے جڑے ہونے اور اب اسلام آباد جیسے نسبتاً منظم لیکن “اجنبی” شہر میں رہنے کا یہ تضاد اکثر تخلیق کار کے اندر ایک خلا پیدا کرتا ہے، اور یہی خلا “ان کہی کی لہر” جیسی شاعری کو جنم دیتا ہے۔
ان کے اشعار میں جو “لرزتا سایہ” یا “دریا کے پاس اپنی موج میں چلنا” ہے، یہ اس ذہنی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسان اپنے گرد و پیش سے کٹ کر اپنی داخلی دنیا میں پناہ لیتا ہے۔ کوئٹہ وال کی روایتی گرم جوشی کے مقابلے میں اسلام آباد کی زندگی میں ایک خاص طرح کا تیکھا پن اور فاصلہ پایا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے ان کے ہاں “ضعیف شجر کا سڑک پار نہ کر پانا” یا “ہوا کا بڑے درختوں سے لڑنا” جیسے استعارے ابھرے ہیں، جو شہری زندگی کے جبر اور بے حسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک پروفیسر ہونے کے ناطے الفاظ کے انتخاب میں جو احتیاط اور استعاروں میں جو پیچیدگی نظر آ رہی ہے، وہ ان کے علمی مطالعے کا ثمر معلوم ہوتی ہے۔ اب وہ صرف “دل کی بات” نہیں کہہ رہے، بلکہ اسے ایک فلسفیانہ ڈھانچے میں ڈھال کر پیش کر رہے ہیں۔
طالب حسین طالب کے کلام کا بنظرِ غائر مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ وہ محض لفظوں کے جادوگر نہیں رہے بلکہ کیفیات کے ایک ایسے مصور بن چکے ہیں جو اپنے گرد و پیش کے بکھرے ہوئے مناظر کو داخلی کرب کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔
بڑا ہے شہر میں وہ رش کہ اک ضعیف شجر
بڑے دنوں سے سڑک پار بھی نہیں کرتا

فکری سطح پر طالب حسین طالب کے ہاں وجودی کشمکش اور کائناتی سچائیوں کا ایک گہرا ادراک ملتا ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتا ہے۔ وہ جب محبت کو “مٹی کا نمو آثار ہو جانا” قرار دیتے ہیں تو وہ دراصل انسانی جبلت کو فطرت کے نامیاتی عمل سے جوڑ دیتے ہیں۔ ان کے ہاں “خواب”، “نمو”، “لہر” اور “سایہ” محض لغوی الفاظ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ فکر کے عکاس ہیں۔ ان اشعار میں ایک طرف اگر دیومالائی رنگ نظر آتا ہے جہاں وہ دیوتاؤں سے خواب چرا لانے کی جسارت کرتے ہیں، تو دوسری طرف تالاب میں اکیلے رہ جانے والے پاگل کا استعارہ تخلیقی تنہائی کی اس انتہا کو چھوتا ہے جہاں فنکار اپنے مرکز پر قائم رہ کر کائنات کے جادو کا مشاہدہ کرتا ہے۔
پرانی شاعری میں ہجر عام طور پر آہ و بکا اور گریہ و زاری کا نام تھا، لیکن یہاں ایک نفسیاتی کشمکش ہے۔ یہ بیزاری اور وابستگی کے بیچ کی وہ کیفیت ہے جو انسان کو معلق کر دیتی ہے۔ یہ “عجیب” ہونا ہی اس شاعری کو روایتی شاعری سے الگ کرتا ہے۔
عذابِ ہجر سے انکار بھی نہیں کرتا
عجیب عشق ہے، بیزار بھی نہیں کرتا
طالب کے اشعار میں ایک عجیب سی بے چینی اور وقت کے جبر کا احساس ہے:
کتنے چہرے ابھی سارے نمو رکھتے تھے
صاحبو! یہ بھی کوئی وقت تھا مرجھانے کا
یہاں “نمو” اور “مرجھانے” کا تضاد انسانی زندگی کی بے ثباتی پر ایک گہرا طنز بھی ہے اور دکھ بھی۔ “صاحب” کہہ کر مخاطب کرنا کلام میں ایک ایسی ہمدردی اور درویشانہ رنگ پیدا کر رہا ہے جو طالب صاحب کے پچھلے کلام میں شاید اس شدت کے ساتھ موجود نہیں تھا۔
“ان کہی کی لہر” کے ان اشعار میں جو چیز سب سے زیادہ متاثر کن ہے، وہ ان کا منفرد استعاراتی نظام ہے۔
ہم ایسے گھاس کی مانند سبز بخت رہے
ہوا لڑی ہے ہمیشہ بڑے درختوں سے
یہ شعر سماجی اور سیاسی جبر کے حوالے سے ایک بہت بڑی حقیقت بیان کرتا ہے۔ یہاں “گھاس” عجز اور بقا کی علامت ہے، جبکہ “بڑے درخت” انا اور طاقت کی علامت ہیں۔ شاعر نے کمال مہارت سے بتایا ہے کہ جب وقت کی آندھی چلتی ہے تو بڑے بڑے قد آور وجود (طاقتور لوگ) اس کی زد میں آتے ہیں، جبکہ جھک جانے والے اور سادہ لوگ محفوظ رہتے ہیں۔
غبارِ ہستی میں کون کاوش کرے نمو کی
لہو کو سو بار آزمایا ہرا نہ پایا
یہاں ایک شدید قسم کی یاسیت (Pessimism) اور وجودی تھکن کا احساس ہے۔ “لہو کا ہرا نہ ہونا” زندگی کی اس تگ و دو کی علامت ہے جس کا کوئی حاصل برآمد نہیں ہو رہا۔ یہ شعر آج کے انسان کی اس بے بسی کو ظاہر کرتا ہے جہاں وہ اپنی تمام تر توانائی صرف کرنے کے باوجود زندگی میں وہ شادابی (نمو) محسوس نہیں کر پاتا جس کا وہ خواہش مند ہے۔
کھڑکیاں بجنے سے پہلے وہ لرزتا سایہ
آگ اوڑھے ہوئے بیٹھا تھا مگر لو میں نہ تھا
اس شعر میں طالب صاحب نے جو منظر تخلیق کیا ہے وہ کسی “سرئیلسٹ” (Surrealist) پینٹنگ جیسا ہے۔ “آگ اوڑھنا” اور پھر بھی “لو” (شعلے) میں نہ ہونا، ایک ایسی داخلی تپش اور کرب کی تصویر ہے جو باہر سے دکھائی نہیں دیتی۔ یہ کیفیت فنکار کی اس باطنی آگ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اسے اندر ہی اندر جلاتی تو ہے مگر دنیا اسے دیکھ نہیں پاتی۔

ہوا رکی رہی لہروں نے کوئی بات نہ کی
ہم اپنی موج میں دریا کے پاس چلتے رہے
یہ شعر درویشانہ استغنا کی بہترین مثال ہے۔ شاعر کو اس بات سے غرض نہیں کہ ماحول سازگار ہے یا نہیں (ہوا کا رکنا، لہروں کی خاموشی)، وہ اپنی ہی “موج” اور دھن میں مگن سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ خود کلامی اور اپنے مرکز پر قائم رہنے کا فن ہی ایک پختہ شاعر کی پہچان ہے۔

ہم اپنے خواب چرا لائے دیوتاؤں سے
اور احتیاط سے آئینہ وار گاڑ چلے
یہ شعر غیر معمولی ہے۔ “دیوتاؤں سے خواب چرانا” پرو میتھیئس (Prometheus) کے اساطیری قصے کی یاد دلاتا ہے جس نے دیوتاؤں سے آگ چرائی تھی۔ یہاں شاعر نے “آگ” کی جگہ “خواب” کو رکھا ہے، جو اس کی تخلیقی جرات کی علامت ہے۔ پھر اسے “آئینہ وار گاڑنا” یعنی اس قدر احتیاط اور شفافیت سے محفوظ کرنا کہ وہ عکس بھی دیں اور محفوظ بھی رہیں۔ یہ عمل ایک فنکار کی اپنی تخلیق کے ساتھ گہری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔

پھر وہی جادو کیا کل رات پورے چاند نے
پھر وہی پاگل اکیلا رہ گیا تالاب پر
یہاں “پاگل” اور “تالاب” کی علامتیں نفسیاتی گہرائی رکھتی ہیں۔ تالاب کا ساکن پانی انسانی لاشعور کی علامت ہو سکتا ہے، اور چاند کا عکس اس میں ایک ایسی بے چینی پیدا کرتا ہے جو “پاگل پن” (جنونِ عشق یا جنونِ فن) کی حدوں کو چھوتی ہے۔ اکیلا رہ جانا اس تخلیقی تنہائی کی طرف اشارہ ہے جو ایک سچے فنکار کا مقدر ہوتی ہے۔

اچانک شاخ پر ایک پھول کا بیدار ہو جانا
محبت کیا ہے! مٹی کا نمو اثار ہو جانا
محبت کو “مٹی کے نمو آثار ہونے” سے تعبیر کرنا طالب صاحب کے اس خاص ارتقائی اور نامیاتی (Organic) نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہے جس کا ذکر پہلے بھی ہوا۔ ان کے نزدیک محبت کوئی ماورائی چیز نہیں، بلکہ اسی خاکِ داں سے پھوٹنے والا ایک فطری معجزہ ہے، جیسے خشک لکڑی پر اچانک پھول کھل اٹھتا ہے۔

بگولے زرد شگوفوں کے گرد جھاڑ چلے
دعا کرو کہ برابر یہ چھیڑ چھاڑ چلے
اس شعر میں جو “چھیڑ چھاڑ” کا تصور ہے، وہ زرد شگوفوں (خزاں یا پیلاہٹ) اور بگولوں (وحشت یا اضطراب) کے درمیان ایک رقص کی صورت پیش کرتا ہے۔ شاعر اس کشمکش کو ختم نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہی تصادم تخلیق کی بنیاد ہے۔

ان آنکھوں بھیگتے موسم کے کتنے خواب ہیں طالب
سو اس کے ساتھ رہنا اور خاطردار ہو جانا
یہ شعر ان کے لہجے کی اس نرمی اور “خاطرداری” کو ظاہر کرتا ہے جو ایک ہمدرد انسان کا خاصہ ہے۔ یہاں وہ “طالب” کو (یعنی خود کو یا قاری کو) نصیحت کر رہے ہیں کہ جذبوں اور خوابوں کی حرمت کا خیال رکھا جائے، کیونکہ یہ بہت نازک ہوتے ہیں ۔

طالب حسین طالب صاحب کا لہجہ بہت تیکھا اور گداز ہے۔ ان کے ہاں “درخت”، “ہوا”، “پرندے” اور “سائے” محض لفظ نہیں ہیں بلکہ وہ ان کے ذریعے زندگی کے پیچیدہ فلسفوں کو بیان کر رہے ہیں۔ ان کا یہ نیا رنگ بتاتا ہے کہ وہ اب روایتی غزل کے حصار سے نکل کر ایک وسیع تر فکری کینوس پر تخلیق کاری کر رہے ہیں۔
طالب کی شاعری، بالخصوص ان کا مجموعہ “ان کہی کی لہر”، جہاں فنی پختگی اور فکری گہرائی کی حامل ہے، وہاں اس پر کچھ ناقدانہ سوالات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔ تنقید کا مقصد کسی فن پارے کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہوتا ہے جو شاید عام قاری کی نظر سے اوجھل رہ جائیں۔

جدید شاعری میں علامت نگاری ایک حسن ہے، لیکن بعض اوقات طالب صاحب کے ہاں علامتیں اتنی نجی یا پیچیدہ ہو جاتی ہیں کہ عام قاری کے لیے ان تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔ مثلاً:
کھڑکیاں بجنے سے پہلے وہ لرزتا سایہ
آگ اوڑھے ہوئے بیٹھا تھا مگر لو میں نہ تھا
اس طرح کے اشعار میں “لرزتا سایہ” اور “آگ اوڑھنا” کی کیفیات شاعر کے باطن میں تو واضح ہو سکتی ہیں، مگر ایک عام قاری کے لیے یہ محض ایک طلسماتی منظر بن کر رہ جاتے ہیں جس کا مفہوم گرفت میں نہیں آتا۔ اسے “داخلی ابہام” کہا جا سکتا ہے۔

ان کے کلام میں زندگی کی بے ثباتی، تھکن اور لاحاصلی کا احساس بہت گہرا ہے۔
غبارِ ہستی میں کون کاوش کرے نمو کی
لہو کو سو بار آزمایا ہرا نہ پایا
تنقیدی نکتہ نگاہ سے یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا شاعر کے ہاں “امید” کا کوئی دریچہ موجود ہے؟ مسلسل یاسیت پسندی شاعری میں ایک خاص قسم کا جمود پیدا کر دیتی ہے، جہاں قاری کو زندگی کی توانائی کے بجائے صرف “غبار” اور “تھکن” ہی ملتی ہے۔

چونکہ وہ خود ایک پروفیسر ہیں، اس لیے ان کی شاعری پر ان کے منصب کا اثر نمایاں ہے۔ بعض اشعار میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ جذبے کو بیان کرنے کے بجائے اس کی “تشریح” کر رہے ہیں۔ شاعری جب ضرورت سے زیادہ “ذہین” ہو جائے تو اس میں وہ فطری بہاؤ اور سادگی کم ہو جاتی ہے جو براہِ راست دل پر اثر کرتی ہے۔ ناقدین اسے “خام جذبے پر علمیت کا غلبہ” قرار دے سکتے ہیں۔

ان کے اشعار میں “درخت”، “ہوا” اور “لہر” جیسے استعارے تو کثرت سے ہیں، لیکن ان میں وہ مخصوص مقامی رنگ (مثلاً کوئٹہ یا بلوچستان کی مخصوص ثقافتی خوشبو) کم نظر آتی ہے جو ان کے ابتدائی کلام میں شاید زیادہ واضح تھی۔ اب ان کا کلام ایک “عالمگیر انسانی دکھ” کی عکاسی تو کرتا ہے، لیکن وہ اپنی جڑوں سے تھوڑا کٹا ہوا اور “شہری پس منظر” کا حامل محسوس ہوتا ہے
ان کے ہاں بعض الفاظ اور علامات (جیسے لہر، سایہ، نمو، ہجر) بار بار مختلف پیرائے میں سامنے آتی ہیں۔ اگرچہ یہ ان کا خاص اسلوب بن چکا ہے، لیکن ناقدین اسے “تخلیقی دائرہ کاری” کہہ سکتے ہیں، جہاں شاعر ایک ہی طرح کی کیفیات کے گرد گھوم رہا ہو۔

اس کے باوجود “ان کہی کی لہر” ایک ایسی شعری کاوش ہے جو اردو ادب میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کرتی ہے۔ یہ شاعری محض اظہار نہیں بلکہ ادراک ہے، محض بیان نہیں بلکہ دریافت ہے۔ اس میں وہ قوت موجود ہے جو قاری کو اپنے باطن میں اترنے پر مجبور کرتی ہے اور اسے یہ احساس دلاتی ہے کہ جب تک انسان کے اندر خواب، احساس اور ان کہی کیفیات کو لفظ دینے کی صلاحیت موجود ہے، تب تک شاعری زندہ رہے گی اور روح اپنی زبان تلاش کرتی رہے گی۔
“ان کہی کی لہر” دراصل ان تمام کیفیات کا خلاصہ ہے جو ایک حساس دل نے مشاہدے کی بھٹی میں جل کر کندن بنائی ہیں۔ یہ شاعری ہمیں بتاتی ہے کہ جب تک شاخ پر پھول کے بیدار ہونے کا معجزہ قائم ہے، انسانی روح کی بالیدگی اور لفظ کا وقار سلامت رہے گا۔ اس طرح طالب حسین طالب کی یہ شعری کاوش اردو ادب کے اسالیب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے جو فکر اور احساس کے نئے در وا کرتی ہے اور قاری کو ایک ایسی لہر سے متعارف کراتی ہے جو اس کے باطن کو بھی بھیگو دیتی ہے۔ جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں:
ان آنکھوں بھیگتے موسم کے کتنے خواب ہیں طالب
سو اس کے ساتھ رہنا اور خاطر دار ہو جانا

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

Leave a Comment