
کار و مشاغل
ایک جنگجو قوم ہونے کے ناطے، نیز انگریز اور زارِ روس کے مابین “گریٹ گیم” کے باعث، کوئٹہ میں ہزارہ قوم کے لیے سپاہ گیری کے وسیع مواقع میسر آئے۔ چنانچہ ان کی قابلِ ذکر اکثریت کو ابتدا میں 124 اور 125 بلوچ انفینٹری میں، اور بعد ازاں 1904ء میں ہزارہ پائینئر میں بھرتی کر لیا گیا۔
اسی گریٹ گیم کے ایک مرحلے میں کوئٹہ اور پشاور کو کراچی پورٹ سے سڑک اور ریلوے لائنوں کے ذریعے ایمرجنسی بنیادوں پر جوڑنے کے منصوبے زور و شور سے جاری تھے، جس میں ہزارہ افراد کی ایک بڑی تعداد کو مزدوری کے لیے بھرتی کیا گیا۔ کوئٹہ شہر اور چھاؤنی کی تعمیر میں بھی کام کے وسیع مواقع موجود تھے۔
اسی دور میں چند معروف ہزارہ ٹھیکیدار، جیسے شیر علی، زبان زدِ عام ہوئے، جن کے نام سے ڈیلائٹ سینما کے سامنے ایک گلی آج بھی منسوب ہے۔
1933ء میں ہزارہ پائینئر کو سیاسی بنیادوں پر تحلیل کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں ہزارہ آبادی میں بے روزگاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تاہم، مئی 1935ء کے خوفناک زلزلے کے بعد بحالی اور تعمیرات کے کاموں میں ان کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا۔
یوں وقت کے ساتھ ہزارہ قوم، جو پہلے زیادہ تر سپاہ گیری پر انحصار کرتی تھی، شہری مشاغل جیسے دکانداری، ٹھیکیداری، ترکاری فروشی، خیاطی، مکینیکی وغیرہ کی طرف مائل ہوئی، اور نئی نسل تعلیم کی طرف متوجہ ہونے لگی【پولادی، ص 262-263】۔
1960ء کی دہائی میں “انجمن فلاح و بہبودِ ہزارہ” قائم ہوئی، جس نے نادار مگر ہونہار ہزارہ طلبہ کو کراچی کے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں داخلے اور دیگر اخراجات کے لیے مالی مدد فراہم کی۔
1970ء کی دہائی میں ہزارہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سرکاری اداروں میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی【سلیمان خان، ص 19】۔
اسی طرح 1980ء اور 1990ء کی دہائیاں بھی ہزارہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے سازگار رہیں، کیونکہ اس دور میں سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں میرٹ کا خیال رکھا جاتا تھا، اور ہزارہ نوجوانوں کو آسانی سے ملازمتیں مل جاتی تھیں۔
تاہم 2000ء کے بعد، ایک طرف تعصب، اقربا پروری اور رشوت ستانی، اور دوسری طرف وہابی مسلح دہشتگرد تنظیموں جیسے سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے نسل کش حملوں کے باعث، سرکاری اداروں میں ہزارہ تعلیم یافتہ افراد کی بھرتی تقریباً بند ہو گئی۔
کوئٹہ کے گرد و نواح میں تعینات ہزارہ اہلکار اپنی ملازمتیں ترک کرنے پر مجبور ہوتے گئے۔
علی زادہ اور میثم اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک پاکستانی منبع کے حوالے سے لکھتے ہیں:
آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کسی ہزارہ فرد کو سرکاری ادارے میں نوکری ملنا گویا ایک معجزہ سمجھا جاتا ہے۔
ایسے حالات میں قومی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ہزارہ نوجوانوں کے لیے ٹیکنیکل تعلیم کے میدان میں ٹھوس منصوبہ بندی کریں، بصورتِ دیگر یہ غفلت ایک بڑی قومی خیانت تصور ہوگی۔
یاد رہے کہ 1970ء، 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں کے دوران افغانستان سے بھی ہزارہ محنت کش بڑی تعداد میں موسمی مزدوری کے لیے پاکستان آتے تھے۔
ان کی اولین ترجیح کول مائنز میں کان کنی ہوتی تھی، جہاں اچھی اجرت کے ساتھ نقد ادائیگی بھی کی جاتی تھی۔
یہ کان کن زیادہ تر زردآلو، شاہرگ، مچھ، ڈیگاری اور سنجدی میں ہزارہ مائنز اونرز جیسے سردار اسحاق خان، سردار عیسیٰ خان، حاجی غلام علی، حافظیان کول کمپنی، اتحاد کول کمپنی وغیرہ کی کانوں میں کام کرتے تھے۔
یہ محنت کش ستمبر میں آتے اور نوروز (مارچ کے آخر) میں واپس چلے جاتے۔
تاہم حالیہ برسوں میں، خصوصاً مارچ 2021ء میں دہشتگردوں کے ہاتھوں 11 ہزارہ کان کنوں کے بے رحمانہ قتل کے بعد، ان کی آمد مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔
منابع:
- Hazara Hā (انگریزی)، حسن پولادی، کیلیفورنیا، امریکہ 1989ء
- تاریخچۂ قومِ ہزارہ در پاکستان، حاجی سلیمان علی خان، کوئٹہ، پاکستان 1975ء
- تحقیقی رپورٹ: We Will Make Pakistan Their Graveyard
- شاہرگ کی زندگی اور 1971ء کی جنگ کی چند یادیں ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 12, 2026
- آغیلی سسٹم ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 1, 2026
- ہزارہ قومی جائیدادوں کی بندربانٹ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Mar 26, 2026
محمدی صاحب بهت اچھا اور معلوماتی سلسلہ شروع کیا ہے اسے جاری رکھیے، نسل جوان اس سے مستفید ھونگے