پاکستان میں ہزارہ آبادی ۔۔۔ اسحاق محمدی

1892ء کے اواخر میں امیر کابل عبدالرحمان کے ہاتھوں شکست اور اپنی زرخیز زمینوں سے محروم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں ہزارہ مہاجرین ہمسایہ ممالک کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد نے اس وقت کے برٹش بلوچستان کے شہر کوئٹہ کا رخ کیا، جبکہ ایک چھوٹے گروپ نے پاڑہ چنار کا۔ بلوچستان میں انگریز سرکار نے سب سے پہلے انہیں سنجاوی میں بسانے کا پروگرام بنایا جس کے متعلق بلوچستان گزیٹیئر میں کافی مواد موجود ہے۔ لیکن 1904ء میں 106 ہزارہ پائینئر کی تشکیل ہوئی جس کا ہیڈکوارٹر ہزارہ لین کوئٹہ کینٹ بنا۔ اس کے بعد ہزارہ قوم نے کوئٹہ میں رہنے کو ترجیح دی اور سنجاوی کی طرف بہت کم تعداد میں ہزارہ گھرانے گئے۔
کوئٹہ شہر میں ہزارہ قوم کی پہلی آبادی “بابو محلہ” موجودہ پرنس روڈ نزد راحت سینما اور آس پاس کی گلیوں میں قائم ہوئی، جہاں نومبر 1922ء کو “امام بارگاہ ہزارہ کلان” کے نام سے پہلی مسجد کی سنگِ بنیاد رکھی گئی۔ یاد رہے کہ اسی دہائی کے دوران سید اشرف زیدی نے  اس امام بارگاہ سے لفظ “ہزارہ” حذف کرایا۔ ہزارہ پائینئر کی تشکیل کے بعد ایک قابل ذکر آبادی کوئٹہ کینٹ میں قائم ہوئی جس کے متعلق پاکستان فوج کے سابق سپہ سالار جنرل محمد موسیٰ خان ہزارہ لکھتے ہیں:
“فیملی لائن میں 87 گھرانے رہائش پذیر تھے جو نان کمیشنڈ آفیسرز اور دیگر رتبوں پر مشتمل تھے” (جوان ٹو جنرل، صفحہ 4)۔
جنرل علی دوست خان کے مطابق ہزارہ پائینئر کی کل اسٹرینتھ 914 نفری پر مشتمل تھی (یک نفر فراری، صفحہ 105)۔ اس لحاظ سے ان کی آبادی شہر کے اندر قابل ذکر تعداد میں تھی۔
مردم شماری کے اعداد و شمار
• مردم شماری 1921ء: کل ہزارہ آبادی 4004 افراد (بحوالہ دیوان بہادر جمیت رائے)
• مردم شماری 1951ء: کل ہزارہ آبادی 7420 افراد (بحوالہ مردم شماری پاکستان)
• 1995ء: کل تخمینی ہزارہ آبادی 100000 تا 120000 افراد (بحوالہ پی ایچ ڈی تھیسس، فاطمہ ہاشمی، آکسفورڈ یونیورسٹی)
• 2022ء: بلوچستان میں کل تخمینی ہزارہ آبادی 600000 افراد (ریسرچ از بسم اللہ علی زادہ و الطاف میثم، صفحہ 24)
نئی آبادیاں
مئی 1935ء کے ہولناک زلزلے کے بعد جب پورا شہر تباہ ہوا تو مضافاتی علاقوں میں نئی بستیاں بسائی گئیں۔ ان میں ہزارہ قوم کے لیے شہر کے مشرق کی طرف نچاری کے مقام پر کیمپ قائم کیا گیا جو آج بھی “نچاری کیمپ” کے نام سے معروف ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب آبادی بڑھنے لگی تو سید آباد، حاجی آباد، نوآباد، مہرآباد، ہزارہ سوسائٹی اور گلستان ٹاؤن کے نام سے محلات بنتے گئے۔ 1980ء کے اوائل (1981-1982) کے دوران جب مزید وسعت کی گنجائش نہیں رہی تو شہر کے مغرب کی طرف بروری میں ایک نئی آبادی بنائی گئی جو “ہزارہ ٹاؤن” کے نام سے معروف ہے۔
دیگر شہروں میں ہزارہ آبادی
دارالحکومت کوئٹہ کے ان دو بڑے ہزارہ نشین محلات یعنی علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن کے علاوہ صوبہ بلوچستان کے دیگر شہروں اور قصبوں دکی، سنجاوی، لورلائی، ژوب، مسلم باغ اور مچ میں بھی چھوٹی بڑی ہزارہ آبادیاں ہیں۔ اسی طرح صوبہ سندھ میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، سانگھڑ؛ صوبہ خیبرپختونخوا میں پشاور اور پاڑہ چنار؛ گلگت بلتستان میں گلگت شہر؛ اور صوبہ پنجاب میں اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور میں بھی ہزارہ آبادیاں موجود ہیں۔ ان سب کو اکٹھا کیا جائے تو پورے پاکستان میں ہزارہ شیعہ آبادی تقریباً 7 لاکھ کے قریب بنتی ہے، جبکہ سریاب روڈ اور غوث آباد میں آباد چند ہزار سنی ہزارہ افغان مہاجرین اس کے علاوہ ہیں۔ اسی طرح ہزارہ ڈویژن خیبرپختونخوا میں آباد سنی قارلوق ہزارہ کی چھ لاکھ کی آبادی بھی الگ ہے۔

قارلوق (قرلُق) ہزارہ (چچ ہزارہ)
یہ ترک ہزارہ قبیلہ ہے جو امیر تیمور کے وقت سے موجودہ ضلع ہزارہ میں مقیم رہا ہے۔ اس بارے میں جناب راجہ استاد خان لکھتے ہیں:
“وجہ تسمیہ اس میدان کی بہ روایت مرجع و معتبر یہ ہے کہ امیر تیمور کی آمد تک، جو آخر 1398ء میں ہوئی، قوم ترک معروف ہزارہ قارلوق ہری پور اور اس کے گرد و نواح کے میدان پر قابض تھی۔ ان کے نام سے یہ میدان بنام ہزارہ قارلوق مشہور ہوا” (تاریخ ہزارہ، صفحہ 21)۔
ڈاکٹر شیر بہادر خان پنی اس نقطہ نظر کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“امیر تیمور نے قوم قارلوق کے ایک دستے کو اس علاقہ میں متوطن کر دیا، جس کے نام پر یہ علاقہ ہزارہ قارلوق مشہور ہوا اور مرورِ زمانہ سے صرف ہزارہ رہ گیا۔ امیر تیمور کی آمد آخر 1398ء میں ہوئی تھی اور یہ علاقہ اس کے بعد ہزارہ قارلوق مشہور ہوا” (تاریخ ہزارہ، صفحہ 17)۔
اب چچ ہزارہ کی زبان ترکی سے ہندکو میں تبدیل ہو چکی ہے۔ چھ لاکھ کی آبادی والا ہزارہ ڈویژن اب آٹھ اضلاع پر مشتمل ہے جن میں ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، بٹگرام، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، کولائی پلاس کوہستان اور تورغر شامل ہیں۔ حالیہ دور میں مرحوم بابا حیدر “تحریک ہزارہ” کے نام سے ایک نئے صوبے بنانے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ اہم ترین شخصیات میں سابق صدر و آرمی چیف فیلڈ مارشل ایوب خان، سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب خان، ایئر مارشل اصغر خان، بابا حیدر زمان خان (صدر تحریک ضلع ہزارہ)، سردار رضا خان (سابق چیف الیکشن کمشنر)، مفتی کفایت اللہ اور دیگر شامل ہیں۔

منابع
• جوان ٹو جنرل، جنرل محمد موسیٰ خان، کراچی پاکستان، 1987ء
• یک نفر فراری، علی دوست خان (غیر مطبوعہ خطی نسخہ)
• We Will Make Pakistan Their Graveyard
• تاریخ ہزارہ، راجہ استاد خان، ہری پور ہزارہ، 1998ء
• تاریخ ہزارہ، ڈاکٹر شیر بہادر خان پنی، لاہور پاکستان، 1969ء

اسحاق محمدی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment