آئینہ میں عکس ۔۔۔ جاوید نادری

اچھا ہوا تم وقت پر آ گئے۔ آؤ، یہاں بیٹھتے ہیں اور گپ شپ لگاتے ہیں۔
تو بتاؤ! کیسا چل رہا ہے سب؟ کوئی ڈھنگ کا کام مل گیا تمہیں؟ یا ابھی تک یونہی بیکار پھرتے ہو؟
مجھے یاد ہے، آخری بار جب ہم مل بیٹھے تھے تو تم نے کہا تھا کہ تمہارے ذہن کے اندر کوئی گھس بیٹھیا ہے، جو تم سے تمہاری یادداشت چھیننے پر تلا ہے۔
کیا تم نے اس کا پتہ لگایا؟ کون ہے وہ، اور چاہتا کیا ہے؟

اچھی جگہ ہے نا! چاروں طرف آئینے لگے ہوئے ہیں۔
جہاں، جدھر نظر اٹھا کے دیکھیں، میں اور تم چاروں طرف نظر آ رہے ہیں۔
ایسا لگ رہا ہے جیسے میں ہر کونے میں بیٹھا تم سے بات کر رہا ہوں۔

کیا! اس میں عجیب لگنے والی کیا بات ہے؟

کیسا عجیب دیکھ رہے ہو؟ کیا مطلب؟
تمہیں ہر طرف، ہر کونے میں اپنے آپ کو دیکھنا اچھا نہیں لگ رہا؟
تمہیں کوفت ہو رہی ہے؟ مگر کیوں؟

بھئی دوسرے لوگ بیٹھے ہیں۔

تو کیا ہوا! وہ سب اپنی باتوں میں مگن ہیں، ان کا تو دھیان ہی نہیں ہماری طرف۔
چلو، بتاؤ بھی۔ کیا کیا اس شخص کے ساتھ جو تمہارے ذہن میں گھس بیٹھا تھا اور تمہاری یادداشت کو مٹانے…

(رک کر)
اچھا، ایک منٹ۔۔۔
اب تم کہہ رہے ہو کہ ایسا کچھ نہیں تھا؟ کیا مطلب؟
ایسا کچھ نہیں تھا یعنی وہ سب پریشانی کی وجہ سے تھا؟
پریشانی تو سبھی کو ہوتی ہے۔ میں نے آج تک نہیں سنا کہ پریشانی کی وجہ سے کسی کی یادداشت چلی جائے۔
ہو سکتا ہے… لیکن تم کہہ رہے تھے کہ وہ شخص تمہاری وہ یادیں مٹا رہا ہے جن سے تمہیں لگاؤ ہے، جن سے تمہیں محبت ہے، جنہیں یاد کر کے تمہیں اچھا محسوس ہوتا ہے۔
تمہیں لگ رہا تھا کہ تمہارا کوئی دشمن ایسا کر رہا ہے۔
تم نے باقاعدہ کسی کا نام بھی لیا تھا، یا کسی عفریت کا کہا تھا جو تمہارے دماغ کے ان حصوں کو چاٹ رہا تھا جہاں یادداشت کا بسیرا ہے۔

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، چلو۔۔۔ نام نہیں لیا تھا، لیکن کچھ ایسا بتایا تو تھا تم نے۔

کیا مطلب! رہنے دو بھئی!

مجھے تمہاری فکر ہو رہتی ہے۔ جس دن سے تم نے یہ بات کی تھی، میں تمہارے بارے میں ہی سوچتا رہتا ہوں۔
اور تمہیں پتہ ہے، جس دن سے تم نے مجھے یہ بات کہی ہے، اُس دن سے لے کر آج تک میں ہر رات عجیب عجیب خواب دیکھتا ہوں۔
میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ہاتھ میں ہتھوڑا لیے میرے دروازے کے ساتھ، میرے گھر کی باہر والی کھڑکی کو زور زور سے مار رہا ہے۔
اُس کی ضربت مجھے اپنے ذہن پہ محسوس ہوتی ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کوئی میرے دماغ پہ چوٹ کر رہا ہو۔

کیا مطلب۔۔۔ کیسے ہو سکتا ہے؟

میں کہہ رہا ہوں میرے ساتھ ایسا ہو رہا ہے۔
اب تو ہر صبح جب میں اٹھتا ہوں تو مجھے بھی ایسا لگتا ہے کہ میری یادداشت کا کچھ حصہ غائب ہو گیا ہے۔
مجھے کچھ باتیں یاد ہوتی ہیں اور کچھ۔۔۔

بھائی، ایسا ہوتا ہے! بالکل ہوتا ہے!
انسان کی صحیح اور اچھی یادداشتیں — وہ یادیں جن سے ہم پیار کرتے ہیں، جو ہمارے لیے خوشی کا باعث ہوتی ہیں — وہ غائب ہو جاتی ہیں، چھینی جاتی ہیں، مٹا دی جاتی ہیں، چرائی جاتی ہیں۔
وہ یادداشتیں جن کے بھروسے، جن کے سہارے انسان اپنی بقیہ زندگی کو سکون بھرے یقین سے گزارنے کا خواہاں رہتا ہے —
اگر وہ یادداشت بھی چھین لی جائے تو پھر کیا باقی رہ جاتا ہے؟

میں اپنی یادداشت کے بغیر کیا ہوں؟
میں اپنی یادداشت کے بنا کیا ہو سکتا ہوں؟
میری پہچان کیا ہوگی؟
میں کیا کہلاؤں گا، کون کہلاؤں گا، کیا پکارا جاؤں گا؟

یعنی۔۔۔ تم نے جب سے اپنی پریشانیوں پر قابو پا لیا ہے، تب سے تمہاری یادداشت بہتر ہو گئی ہے؟ کہ اب تمہارے۔۔۔

میرا۔۔۔ کیا مطلب؟ تم اپنے ماضی کو اپنے ساتھ رکھتے ہو؟ بھلا بیٹھے ہو؟ کیا؟
وہ اس یادداشت کے ساتھ چلی گئی جو تم سے چھینی جا چکی ہے؟

کیا مطلب؟ تمہارا ماضی اتنا شاندار بھی نہیں تھا کہ تم اسے اپنے پاس رکھتے؟ یاد رکھنے کے قابل بھی نہیں تھا؟

بھئی، جیسا بھی تھا، تمہاری پہچان تھی۔

اچھا تو انسان کو، ہر انسان کو حال میں جینا چاہیے۔

تو میں تو تمہارے ماضی کا حصہ ہوں۔ تمہاری پوری شخصیت تمہارے ماضی کا حصہ ہے۔
یعنی ان سب کو تم سمیٹ کر اپنے حال میں لے آئے ہو؟
وہ تو تم سے چھینی جا چکی ہے نا!

اچھا، وہ تمہاری غلط فہمی تھی۔

ارے یار، کوئی اس پاگل کو سمجھائے!
بار بار اپنی انگلیوں سے ٹیبل پر بجا رہا ہے، سمجھتا ہی نہیں۔
ہم یہاں بیٹھے ہیں، ڈسٹرب ہو رہے ہیں، اور اس کو دیکھو!
ہاں، دوسری طرف جو بیٹھا ہے تمہارے پیچھے، جس نے اپنے ہاتھ میں کپ اٹھایا ہے —
اتنی زور زور سے بات کر رہا ہے کہ اس کے تھوک کے چھینٹے سامنے والے کے منہ پہ گر رہے ہیں۔

بھئی، وہ بندہ تمہارے سامنے ہی بیٹھا ہے، جس سے تم مخاطب ہو۔
ذرا آہستہ بات کیوں نہیں کرتے یہ لوگ؟
اب اسے دیکھو، دیکھا تم نے؟ وہ کونے میں جو بیٹھا ہے، داڑھی والا؟
اُس نے چپکے سے ٹیبل کے نیچے تھوک دیا۔
کتنے غیر مہذب اور ناشائستہ لوگ ہیں!

بہرحال، جو بھی ہو —
اب تو مجھے بھی ایسا لگنے لگا ہے کہ کوئی ایک ایسا ہوتا ہے آپ کے اردگرد،
جو دانستہ طور پر آپ کی یادداشت آپ سے چھیننے کے درپے ہوتا ہے۔
ہمیں بس اس کی پہچان کرنی ہے اور اس سے دور رہنا ہے۔

اچھا تو ایسا کہو نا کہ اب تم ان سب باتوں کو نہیں مانتے ہو؟

ہاں، تو یوں کہو نا کہ میں بھی پہلے ان باتوں کو نہیں مانتا تھا،
مگر اب میں کہہ رہا ہوں کہ میں ماننے لگا ہوں۔
بلکہ مجھے برے برے خواب آتے ہیں۔
جب بھی میں گہری نیند میں چلا جاتا ہوں، تو کوئی آ کے چپکے سے میری یادداشت سمیٹ کر لے جاتا ہے۔
صبح اٹھتا ہوں تو بس اتنا ہی یاد رہتا ہے کہ کوئی آیا تھا۔

نہیں بھائی، چہرہ؟

اُس کا چہرہ دھندلا ہی دکھائی دیتا ہے۔

کوئی پریشانی بھی نہیں؟

نہیں، اچھا خاصا کام چل رہا ہے۔
پیسوں کی بھی کوئی تنگی نہیں، رشتے بھی دھیرے دھیرے سدھرنے لگے ہیں۔
لیکن یادداشت…؟

اُسے اب یہاں بیٹھنے میں جھنجھلاہٹ ہو رہی تھی، وہ کوفت محسوس کر رہا تھا۔
وہ ہوٹل کے چاروں طرف ہر کونے میں بیٹھا دکھائی دے رہا تھا۔
وہ اب مزید یہاں بیٹھنے کے موڈ میں نہیں تھا۔

وہ اٹھا تو چاروں طرف آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا:

تم سب میرے ماضی کا حصہ ہو، اور میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا۔
دیکھو،
جا سکتا۔
دیکھو، میرے ساتھ بیٹھا یہ… کل تک یہ بھی شکایت کر رہا تھا۔
اب یہ اپنے ماضی کو چھوڑ چکا ہے اور کتنا خوش محسوس کر رہا ہے۔
میں بھی یہی چاہتا ہوں۔
یار، ان سب سے کہہ دو میرا پیچھا نہ کریں، نکل جائیں میری زندگی سے۔

یہ کہتے ہوئے وہ اپنی کرسی سے اٹھا اور باہر جانے کے لیے دروازے کی طرف لپکا۔
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو آئینے میں دکھائی دینے والے اس کے عکس وہی بیٹھے، اجنبی نظروں سے اسے گھور رہے تھے۔

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

Leave a Comment