پاکستانی ہزارہ اجتماعی و سیاسی حالات کی مختصر تاریخ۔ دوسری قسط ۔۔۔ اسحاق محمدی

سیاست

چونکہ 1893ء کے عظیم سانحے کے بعد ہزارہ قوم کے افراد نے کوئٹہ کا رخ کیا، تو اس وقت سلطنتِ برطانیہ سونے کی چڑیا ہندوستان کو زارِ روس کی یلغار سے بچانے کے لیے جنگی اقدامات کرنے میں مصروف تھی۔ ایک جنگجو قوم کے ناطے انگریزوں کو ان کی ضرورت تھی، لہٰذا انہوں نے ان کی قابلِ ذکر اکثریت کو پہلے 124 اور 125 بلوچ انفینٹری میں، اور بعد ازاں 1904ء کو ہزارہ پائینئر میں بھرتی کر لیا۔ اس لحاظ سے ان کا رجحان مجموعی طور پر سیاست کی طرف نہ تھا۔

تاہم آگے چل کر جب قائداعظم محمد علی جناح کی زیرِ قیادت آل انڈیا مسلم لیگ نے آزادی کی تحریک شروع کی، تو بلوچستان میں مسلم لیگ کی قیادت ایک سنی ہزارہ، قاضی محمد عیسیٰ خان کے حصے میں آئی، جن کا تعلق شیخ علی ہزارہ کی ایک ذیلی شاخ “گَوی” سے ہے۔ دیگر ہزارہ میں سردار محمد عیسیٰ خان بحیثیت جوائنٹ سیکریٹری، حاجی ناصر علی، حاجی بابو قاسم علی، حاجی صفدر علی سمیت کئی دیگر کے نام آتے ہیں (علی زادہ اینڈ میثم رپورٹ، صفحہ 35)۔ اسی طرح چند ہزارہ نوجوان مسلم لیگ نیشنل گارڈ کا بھی حصہ بنے، جبکہ دوسری طرف گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی مسلح جدوجہد میں محمد علی چنگیزی پیش پیش تھے، جو “انجمن سرفروشان تحریکِ آزادی گلگت” کے بینر تلے لڑی گئی۔ یاد رہے کہ چنگیزی خود فوجی تھے، جو اس وقت چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے (محمد گلزاری، صفحات 106-107)۔ محمد علی چنگیزی اور ان کے چنگیزی خاندان کو اب تک گلگت بلتستان میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

آگے چل کر جب مسلم لیگ کی نئی شاخ “کنونشن مسلم لیگ” بنی، تو سردار محمد اسحاق خان اپنے حامیوں سمیت اس میں شامل ہو گئے، جبکہ اس کا بھائی سردار محمد عیسیٰ خان اپنے حامیوں کے ساتھ مسلم لیگ میں ہی رہے (اصغری ہزارہ، صفحات 85 تا 87)۔ سردار محمد اسحاق خان آگے چل کر اسی پلیٹ فارم سے کوئٹہ سے پہلے ہزارہ ایم این اے اور وفاقی وزیر ریلوے بھی بنے۔

1970ء کے عام انتخابات کے دوران ہزارہ قوم تین حصوں میں منقسم ہوئی۔ ایک دھڑا سردار محمد اسحاق خان کی زیرِ قیادت آزاد حیثیت سے میدان میں اترا، جبکہ دوسرا قابلِ ذکر دھڑا کیپٹن سلطان علی کی سربراہی میں نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے واردِ میدان ہوا، جن کے ہمراہ حاجی سلیمان خان، سید حسین شاہ، ارباب آصف ہزارہ و دیگر شامل تھے۔ جبکہ ایک چھوٹا گروہ محمد عیسیٰ اخلاقی وغیرہ کی سربراہی میں ذوالفقار علی بھٹو کی نو تشکیل شدہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کرنے لگا۔ ہزارہ ووٹ منقسم ہوئے، لہٰذا ہزارہ قوم کو پہلی سیاسی شکست ہوئی۔ سچی بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چند ورکرز اور نیشنل عوامی پارٹی کے ارباب آصف ہزارہ کے علاوہ باقی تمام فصلی بٹیرے ثابت ہوئے۔

ارباب آصف ہزارہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے منحل ہونے کے بعد مرحوم غوث بخش بزنجو کی پاکستان نیشنل پارٹی سے وابستہ ہو کر کئی سالوں تک سیاسی جدوجہد جاری رکھی، لیکن بوجہ اسے عوامی مقبولیت نہیں ملی۔ نتیجتاً دلبرداشتہ ہو کر کراچی شفٹ ہو گئے۔ ارباب آصف ہزارہ کے بعد سید موسیٰ ہزارہ نے بھی اس پلیٹ فارم کو آزمایا، اسے بھی کامیابی نہیں ملی، وہ بھی کینیڈا شفٹ ہو گئے۔

ہزارہ قوم نے 1970ء کی سیاسی شکست کو ایک تلخ تجربے کے طور پر شدت سے محسوس کیا، جس کا ازالہ انہوں نے 1977ء کے انتخابات کے دوران “بینظیر اتحاد” کی صورت میں کرتے ہوئے ایک آزاد امیدوار حاجی طالب حسین کو تمام تر دباؤ کے باوجود کامیاب کر دیا، لیکن ملک میں جنرل ضیاء کی مارشل لاء لگنے سے اس کے ثمرات سے فیضیاب نہ ہو سکے۔

1985، 1988، 1997، 2002 اور 2008ء کے انتخابات زیادہ تر طائفوی بنیاد پر قائم ہونے والی عارضی جوڑ توڑ کی بنیاد پر جیتے گئے، جن میں سرچندوں کا کردار نمایاں تھا۔ تاہم وقت اور تجربات کے ساتھ نئی نسل اس نتیجے تک پہنچی کہ نااہل منتخب ممبران سے بڑی امیدیں رکھنا حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ چنانچہ 2013ء کے انتخابات کے دوران ایک حد تک نظریاتی اور انتخاباتی منشور کی بنیاد پر رائے دہی کے سلسلے کا آغاز ہوا، جو 2018ء اور 2024ء کے انتخابات تک یہی ٹرینڈ نمایاں رہا۔

2013ء کے انتخابات میں مذہبی پارٹی ایم ڈبلیو ایم جیتی، 2018ء میں نئی تشکیل شدہ ہزارہ نیشنلسٹ پارٹی “ہزارہ ڈیموکریٹک” نے دونوں حلقوں یعنی علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن میں کامیابی حاصل کی، جبکہ 2024ء کے انتخابات کے دوران ایک بار پھر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواران کی جیتی ہوئی سیٹوں کو پیسوں کے بدلے ایسے امیدواران کے حوالے کیا گیا جن کی رہائش ان حلقوں میں کبھی نہیں رہی۔

منابع:

اسحاق محمدی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment