حامد میر کی مجرمانہ افترا پردازی ۔۔۔ اسحاق محمدی

حسب عادت اور حسب روایت حامد میر نے ایک بار پھر ایک ٹی وی چینل پر ایک صدی قبل کا واقعہ جھوٹے انداز میں پیش کرکے ہزارہ قوم کے خلاف رائے عامہ کے جذبات کو بھڑکانے کی قصداً مجرمانہ کوشش کی ہے۔ حامدمیر نے انگریزآفیسرجنرل ڈائر کی ایک کتاب کا جھوٹ پر مبنی حوالہ دے کر دعوی کیا ہے کہ:
 
”ایک صدی قبل ’ہزارہ پائنیرز‘ نے ایک جنگ(خاش یا خواش) کے دوران بلوچ مقتولین کے سروں سے فٹ بال کھیل کر اس خطہ میں گویا مذہبی شدت پسندی کی داغ بیل ڈالی تھی۔“
 
جنرل ڈائر کی اس کتاب کا نام THE RAIDERS OF THE SARHAD ہے۔ جس کا اردو ترجمہ ”بلوچستان کے سرحدی چھاپہ مار“ کے نام سے معنون ہے۔ یہ کتاب 1921ء میں لندن سے شائع ہوئی تھی، جو کل بارہ(12) ابواب اورانڈکس کے ساتھ دو سو تیئس(223) صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں جنرل ڈائر نے 1916ء کے دوران افغانستان، ایران سرحد سے متصل برٹش بلوچستان کے بلوچ قبائل کے خلاف اپنے زیر قیادت فوجی مہمات کا تفصیل سے ذکر کیا ہے، جسکا اجمال کچھ اس طرح ہے:
 
”برٹش راج کو خوف لاحق تھا کہ جرمن پروپیگنڈے کے زیراثربلوچستان کے یہ سرحدی بلوچ قبائل سرکشی پر اتر آئے ہیں جو آگے جاکر انڈیا میں سلطنت برطانیہ کے لئے درد سر بن سکتی ہے۔ اس لئے ہائی کمان کی طرف سے جنرل ڈائر کو فروری 1916ء میں ان قبائل کے خلاف فوجی کاروائیوں کی کمان سنبھالنے کے لئے فوراً روانگی کا حکم ملا۔ جنرل ڈائر پہلے راولپنڈی پہنچا اور پھر بذریعہ ریل کوئٹہ اور بعد ازآں سڑک کے راستے نوشکی پہنچا۔“ جنرل ڈائر کے مطابق افغانستان اور ایران سے ملحق اس سرحدی پٹی میں اس وقت درج ذیل بڑے بلوچ قبائل تھے:
 
1۔ سردارحلیل خان کے زیر قیادت، گمشادزئی قبیلہ
2۔ سردارجیاندخان کے زیر قیادت، یارمحمدزئی قبیلہ اور
3۔ سردارجمعہ خان کے زیر قیادت، اسماعیل زئی قبیلہ
 
ابتداء میں جنرل ڈائرنے ”روایتی دربار“ کے ذریعے ان قبائل کو حسب سابق برٹش راج کے اندر پرامن زندگی کی طرف آنے کی دعوت دی۔ جسے تینوں قبائل کے معتبرین نے قرآن پر حلف اٹھا کر قبول بھی کر لیا۔ مگر بعد میں سردارجمعہ خان کے علاوہ دو دیگر سردار اپنے وعدوں سے پھر گئے۔ ان کے خلاف جنرل ڈائر نے چاغی لیویز، 28 لائٹ کیولری اور دیگر لوکل قبائلی فورسز کے ذریعے کاروائیاں کیں۔ جس کے دوران یارمحمد زئی قبیلے کے سردار جیاند خان اپنے بیٹے اورسینکڑوں ساتھیوں سمیت گرفتار ہوئے۔ جنرل ڈائر نے ان قیدیوں کے بارے میں کوئٹہ ہیڈکوارٹر سے بات کی، تو اسے ان قیدیوں کو کوئٹہ منتقل کرنے کا حکم ملا۔ چونکہ وہاں اتنی نفری موجود نہیں تھی کہ ان خطرناک حالات میں ان کو بحفاظت کوئٹہ منتقل کرتے۔ چنانچہ ان قیدیوں کو لانے کے لئے کوئٹہ میں مقیم ہزارہ ہزارہ پائنیرز کے چند دستے سیندک بھیجے گئے۔ ابھی یہ دستے سیندک پہنچے ہی تھے کہ ان قیدیوں نے بغاوت کردی اور خاردار تاریں توڑ کر فرار ہوگئے۔ سردار جیاند خان بھی بعد میں ایک چھاپہ مار کاروائی میں آزاد ہوئے اور حلیل خان سے مل کر جنرل ڈائر کے ہیڈکوارٹر ”خواش“ پر حملہ کرنے کی تیاری کرنے لگے۔ یوں ان ایمرجنسی حالات میں جنرل ڈائرنے دیگر قریبی مراکز میں موجود سلطنت برطانیہ کے فورسز کے علاوہ سیندک میں موجود ہزارہ ہزارہ پائنیرز کے دستے کو بھی فوراً خواش پہنچنے کا حکم دے دیا۔ اس جنگ میں مرکزی کردار خود لوکل بلوچ فورسز کا تھا، جبکہ ہزارہ ہزارہ پائنیرز نے صرف سپورٹنگ کردار ادا کیا تھا۔ ان دنوں ہزارہ ہزارہ پائنیرز بنیادی طورپر انجینئرنگ کور کا حصہ تھا۔ جس نے کوئٹہ چمن، کوئٹہ ژوب، ژوب دانہ سر اور کوئٹہ سبی سڑکوں اور ریلوے سے منسوب مختلف تعمیرات میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ ہزارہہزارہ پائنیرز میں پاکستان آرمی کے سابق سربراہ ”جنرل محمد موسیٰ خان ہزارہ“ بھی شامل تھے۔
 
جنرل ڈائرنے اپنی پوری کتاب میں کہیں بھی کسی بلوچ مقتول کے سر سے فٹ بال کھیلنے کی بات نہیں کی ہے۔ بلکہ بعض معاملات حامد میر کے لگائے گئے بہتانوں کے بالکل برعکس ہیں، جن کو یہاں دہرانا مناسب نہیں۔ جنرل ڈائر کی وہ کتاب جس کا اردو ترجمہ ”بلوچستان کے سرحدی چھاپہ مار“ کے نام سے معنون ہے، آج بھی مارکیٹ میں بآسانی دستیاب ہے اور حامد میر کے لگائے گئے بہتانوں کے پردے چاک کرنے کے لئے ہر فردِ کی دسترس میں ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ کو احساس ہوگا، کہ سروں سے فٹ بال کھیلنے کا واقعہ سراسر من گھڑت ہے، جو محض حامد میر کے سازشی ذہن کی پیداوار ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ موصوف اس طرح کی غلط بیانی کرکے نہ جانے کس ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہے!؟ انسانی، اسلامی اور قانونی اعتبارسے حامدمیر کی یہ افترا پردازی ہر لحاظ   سے قابل مذمت اور قابل سزا جرم ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ پاکستان میں اب قانون کی بالادستی ہے کہاں؟
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *