ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ۔۔۔ اکبر علی

 
پاکستان کے قیام  سے لے کر اب تک ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال ہمیشہ ابتری کا شکار رہی ہے۔
پنجاب کے علاوہ باقی تینوں صوبے کبھی بھی وفاق سے مطمئن نہیں رہے ہیں۔ بلوچستان کے حصے میں تو خیر شروع دن سے محرومیاں ہی ہیں جب کہ ہمسایہ ملک افغانستان میں ثور انقلاب کے بعد سے صوبہ سرحد ( موجودہ خیبر پختونخوا) بھی پُر آشوب دور سے گزرتا آرہا ہے۔
افغانستان کی سیاسی صورتحال کے فیصلوں کے بڑے مراکز میں کوئٹہ اور پشاور بہت اہم رہے ہیں۔ یہاں تھوڑی دیر کیلئے افغانستان کی حکومتوں کی تاریخ پر ایک سرسری نگاہ ڈالتے ہیں۔
افغانستان جب سے افغانستان بنا ہے یعنی احمد شاہ ابدالی کے دور میں، اس وقت سے اب تک اس خطے کے بلا شرکت غیرے حاکم، پشتون ہی رہے ہیں۔ جب تک خودساختہ بادشاہت تھی، سارے بادشاہ پشتون تھے۔ محلاتی اور فوجی بغاوت کے نتیجے میں آنے والے حکمران بھی پشتون ہی تھے۔ ثور انقلاب کے نتیجے میں بننے والی سوشلسٹ حکومت کے کرتا دھرتا بھی پشتون ہی تھے۔ سوشلزم  کے دعویدار حفیظ اللہ امین وغیرہ کی فاشسٹ حکومت بھی پشتون ہی تھی۔ آخری سوشلسٹ پشتون صدر ڈاکٹر نجیب نے بھی اپنی حکومت پشتون مجاہد (گلبدین حکمتیار) ہی کے حوالے کرنے کا اہتمام کیا تھا۔ بعد میں طالبان کی شرعی امارت اسلامی بھی پشتون حاکمیت ہی کی ایک شکل تھی۔
دوہزار ایک میں امریکی مداخلت کے نتیجے میں طالبانی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی پشتون صدر ہی کے توسط سے تین پارلیمانی ادوار طے کیے گئے۔ اب آخری دو ادوار بھی پشتون صدر ہی کو افغانستان پر مسلط کیا گیا ہے۔
ان تمام ادوار میں ( سوائے سوشلسٹ پارٹی کے “پرچم” گروپ) افغانستان میں اقلیتی اقوام تاجک، ازبک اور ہزارہ ہمیشہ زیر عتاب رہے ہیں۔ خاص طور پر ہزارہ قوم بدترین نسلی اور مذہبی تعصب کا شکار رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں صرف امیر عبدالرحمٰن ہی کی حکومت کے دوران، ہزارہ قوم کی باسٹھ فیصد آبادی نیست و نابود کر دی گئی۔ افغانستان کی بادشاہی، فوجی، جمہوری، سوشلسٹ، امارت اسلامی اور پارلیمانی حکومتوں نے ہزارہ قوم کے ساتھ روایتی ظلم و بربریت اور تعصب پر مبنی رویے کو ہمیشہ برقرار رکھا۔
لیکن ایسا نہیں کہ ان پشتون حکومتوں نے خود پشتون قوم اور افغانستان کی قابل رشک خدمت کی ہو۔ بلکہ ان تمام ناروا حکومتوں کے نتیجے میں خود پشتونوں نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری پشتون حکمرانوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔
اب آتے ہیں دوبارہ پاکستان کی جانب۔
ہم جانتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے درمیان تنازعے کی سب سے بڑی وجہ ڈیورنڈ لائن ہی رہی ہے جسے طالبان کی امارت اسلامی سمیت کسی بھی افغانی حکومت نے کبھی بھی تسلیم نہیں کیا۔ یوں پاکستان شروع دن سے اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کے سیاسی معاملات میں دلچسپی لینے پر مجبور رہا ہے۔ خصوصا ثور انقلاب کے بعد تو پاکستان بہت واضح طور ایک فریق کی صورت کردار ادا کرتا آرہا ہے۔
ان سارے معاملات کو نبھاتے وقت آپ اسے پاکستان کی بدقسمتی کہہ لیجئے کہ افغانستان کے گدلے پانی سے اپنے لئے مچھلی پکڑنے کے چکر میں پاکستان کا اپنا سارا پانی اس قدر گدلا ہوگیا ہے کہ اب فلٹر کی کوئی گنجائش دکھائی نہیں دیتی۔
افغانستان کے پشتون تو خیر تباہ ہو ہی ہوگئے لیکن پاکستان کے پشتونوں نے بھی کم نقصان نہیں اٹھایا۔ مجموعی طور پر کوئٹہ اور پشاور کے بم دھماکوں اور امن و امان کی تمام خراب صورتحال سے یکطرفہ، صرف سوات اور وزیرستان کی تباہی ہی رونگٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی ہے۔
اس تمام صورتحال میں تمام پشتون قومی اور مذہبی پارٹیوں کے مجموعی رویے بہت افسوسناک رہے ہیں۔ افغانستان کی خانہ جنگی کے دوران اکثر پشتون قوم پرست اور مذہبی جماعتوں نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق افغانستان اور پشتونوں کی تباہی میں اپنا اپنا حصہ ڈالا۔
تا آنکہ “پشتون تحفظ موومنٹ” اور منظور پشتین کے نام میڈیا پر جاری ہونے لگے۔
پی ٹی ایم، جن مطالبات کو لے کر منظر عام پر آئی، وہ بہت انسانی اور انصاف پر مبنی مطالبات تھے۔ اس گروہ کا طالبان مخالف ہونا بھی اس بیانیے میں وزن ڈالتا تھا کہ یہ ایک انسانی حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والی تنظیم ہے۔
محسود تحفظ موومنٹ سے پشتون تحفظ موومنٹ کے سفر میں، منظور پشتین وغیرہ نے یقیناً ایسی محرومیاں دیکھی ہوں گی جن کی بدولت یہ اس قدر نڈر ہوگئے کہ زندگی اور موت کے فیصلے کی حد تک محاز لینے پر مجبور ہوگئے۔
ان کے مطالبات سراسر انسانی تھے۔ ان کا کوئی ایک بھی مطالبہ ایسا نہیں تھا جس پر بحث کی گنجائش ہوتی۔ یہی وجہ تھی کہ پہلی بار پاکستان کی سطح پر ملک کے کونے کونے سے ان کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگیں۔
پی ٹی ایم کے حق میں سب سے توانا آواز پنجاب ہی سے اٹھی۔ پنجاب کی سول سوسائٹی اور انسان دوست حلقوں نے ہر ممکنہ پلیٹ فارم پر ان کی حمایت کی۔ سندھ اور بلوچستان بھی پی ٹی ایم کا ساتھ دینے میں پیچھے نہیں رہے۔ بلوچستان میں بلوچ اور ہزارہ اقوام سے زیادہ ایک بے گناہ جوان بیٹے کے قتل کا دکھ اور کون جان سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ کوئٹہ میں پی ٹی ایم کے جلسوں میں بلوچ اور ہزارہ سیاسی اور قبائلی رہنما ہمیشہ موجود رہے۔
میں ذاتی طور پر پی ٹی ایم کے حق پر مبنی مطالبات کا حامی رہا ہوں۔ طالبان کے ظلم و ستم کے خلاف ان کے آواز اٹھانے کا طرفدار رہا ہوں۔ مقتدرہ کا پشتون جوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی مخالفت پر میں بھی پی ٹی ایم کی حمایت کرتا رہا ہوں۔ کیونکہ میں دیکھ رہا تھا کہ جو جو ظلم ایک ہزارہ ہونے کی بنیاد پر مجھ پر اور میرے آبا و اجداد پر رَوا رکھے گئے ہیں، ایک اور شکل میں اسی طرح کے مظالم کا شکار پشتون بھی ہیں جس کے خلاف پی ٹی ایم کھڑی ہے۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ تنظیم ہے تو بے شک “پشتون تحفظ موومنٹ” لیکن یہی تنظیم ایک “ہزارہ”، ایک “بلوچ” یا حتٰی کہ ایک “پنجابی” پر ظلم کو بھی “ظلم” ہی کہے گی اور ظالم کے خلاف بولے گی چاہے وہ ظالم “پشتون” ہی کیوں نہ ہو۔
لیکن افسوس کہ یہ میری خام خیالی تھی!  پی ٹی ایم بھی ایک روایتی “پشتون پرست” پارٹی ہی نکلی۔
اشرف غنی کی صدارت کی تقریب حلف برداری میں پی ٹی ایم کے رہنما محسن داور، علی وزیر اور دیگر جس طرح دوڑے دوڑے شریک ہوئے اس نے ان کے ان تمام دعوؤں کا پول کھول دیا جو یہ “مظلوم” اور “محکوم” اقوام کے حقوق کے نام پر کرتے تھے۔
وہی متنازعہ اور مشکوک “نو منتخب” صدر اشرف غنی جس نے قومی مصالحت کے نام پر 5000 طالبان دہشت گردوں کی رہائی کا اعلان کیا جن میں سے 1500 رہا بھی کر دیے گئے۔ یہ وہی طالبان ہیں جنہوں نے سرزمین خراسان کو قبرستان بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جنہوں نے کابل سمیت افغانستان کے تمام شہروں کو کھنڈر میں تبدیل کر کےرکھ دیا۔ جنہوں نے ڈاکٹر نجیب اور اس کے بھائی کو بیچ چوراہے بجلی کے کھمبے پر لٹکایا۔ جنہوں نے مزار شریف میں ایک ہی دن میں آٹھ ہزار معصوم انسان قتل کردیے۔ جنہوں نے بامیان اور یکاولنگ میں قتل عام کے بعد لوگوں کی کھڑی فصلیں تباہ کردیں اور لوٹ مار کے بعد ان کے گھر جلادیے۔ جنہوں نے شیر خوار بچوں کو ان کے گہواروں سے نکال کر، ان کی ٹانگوں سے پکڑ کر اور انہیں دیوار پر پٹخ پٹخ کر ان کے بھیجے نکال دیئے۔ جنہوں نے عورتوں کو کوڑے مارے اور بے گناہوں کے گلے کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلی۔ جنہوں نے بامیان کے تاریخی مجسموں کو بارود سے اڑایا اور ان کے ٹکڑے پاکستان لا کر بیچ دیئے۔ جنہوں نے افغانستان کے طول و عرض میں لاکھوں انسان قتل کر ڈالے۔ جنہوں نے جسموں پر بم باندھ کر مساجد، کھیلوں کے میدان، سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور خوشی کی محافل کو قتل گاہوں میں تبدیل کردیا۔ جنہوں نے سکول دھماکے سے اڑا دیئے اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگادی۔
ذرا تصور کریں کہ یہ ہارڈ کور دہشت گرد جب آزاد ہوکر دوبارہ اپنے محفوظ ٹھکانوں میں منتقل ہوجائیں گے تو انہیں معصوم عوام کے قتل عام سے کون روک سکے گا۔
المیہ یہ ہے کہ جو پی ٹی ایم رہنما ایک احسان اللہ احسان کے فرار پر چیخ چیخ کر اپنا گلا پھاڑ رہے تھے، اس تاریخی بلنڈر پر گونگے بن گئے۔
پس ثابت ہوا کہ پی ٹی ایم کے برادری، برابری اور انسانیت کے سارے نعرے ڈھکوسلے اور فریب ہیں۔
عارف وزیر جو گزشتہ روز اسلام آباد کے ہسپتال میں جان کی بازی ہار گئے، جن پر مبینہ طور پر طالبان ہی نے جانی حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ یہ طالبان کون ہیں؟ ان طالبان میں اور ان پندرہ سو طالبان میں کیا فرق ہے جن کی رہائی کے وقت محسن داوڈ اور علی وزیر افغانستان میں اس شخص کے جشن میں شریک تھے جس نے ان طالبان کی رہائی کے پروانے پر دستخط کیے!؟
عارف وزیر ہی کی کابل میں کی گئی ایک ویڈیو تقریر انٹرنیٹ پر موجود ہے جس میں وہ مُلا عمر جیسے دہشتگرد اور ہزاروں انسانوں کے قاتل کی تعریف صرف اس بنیاد پر کررہا ہے کہ وہ ایک “پشتون” ہے۔ افغانستان کی غیر پشتون اقوام کو دھمکی آمیز پُرغرور لہجے میں للکار کر کہتا ہے  کہ اگر “غنی بابا” کی صدارت کو قبول نہیں کیا تو ہم سوات اور وزیرستان سے لشکر لے کر آئیں گے اور بزور طاقت تم سے قبول کروائیں گے۔
پھر اسی محفل میں بیٹھے ہوئے “اسماعیل یون” جیسے پشتونوں پر فخر کا اظہار کررہا ہے جس کی وجہ شہرت ایک فاشسٹ پشتون ہونا ہے۔ جی ہاں وہی اسماعیل یون جس کے پہلو میں محسن داوڈ پگڑی باندھے تصویر بھی ساتھ رکھتے ہیں۔
کوئی دوست شاید یہ جواز پیش کرے کہ عارف وزیر کی باتیں، اس کی اپنی باتیں ہیں جو پی ٹی ایم کی پالیسی نہیں۔ لیکن کاش منظور پشتین یا کوئی پی ٹی ایم کا رہنما عارف وزیر کی باتوں کی مذمت کرتا، جو کہ متاسفانہ کسی نے نہیں کی۔
 
افغانستانی سیاست سے آشنائی رکھنے والا کوئی بھی فرد بخوبی جانتا ہے کہ اسماعیل یون افغانستان کا ایک جانا پہچانا فاشسٹ سیاستدان ہے، شاعر بھی ہے۔ “دویمہ سقویہ” کتاب کا مصنف ہے۔ اس کتاب میں یہ نظریہ پردازی کی گئی ہے کہ افغانستان کے غیر پشتون علاقے کن کن طریقوں سے پشتون تصرف میں لائے جائیں۔ یوٹیوب پر اس شخص کی زہرافگن گفتگو، انٹرویوز اور تقاریر کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اس شخص کی گندگی کی تفصیل میرا موضوع نہیں۔
میں تو صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ محسن داور جیسی شخصیت جو ایک محروم قوم کے حقوق کی جنگ لڑرہا ہے، اسمعیٰل یون کے ساتھ کیسے ہم فکر و ہم نظر ہوسکتا ہے۔ یعنی پاکستان میں جس “پنجاب کی بالادستی” کے خلاف آپ نعرہ زن ہیں، وہیں پر افغانستان میں “پشتون بالادستی” کیلئے کوشاں ہیں۔ یا پھر دوسرے الفاظ میں آپ صرف اس “ظلم” کے خلاف ہیں جو پشتونوں پر کئے جائیں۔
 ان تمام باتوں کے باوجودعارف وزیر کا بہیمانہ قتل انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔
لیکن یہ قتل بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر صرف اس لیے آپ کسی ظالم کی حمایت کریں گے کہ وہ آپ کا ہم نسل ہے تو نتیجہ یہی نکلے گا جو عارف وزیر کے قتل کی صورت میں نکلا ہے۔
لہٰذا میں ایک محکوم اور مظلوم قوم کے فرد کی حیثیت سے تمام پشتون دانشور اور اہل قلم طبقے سے گزارش کرتا ہوں کہ آئیے انسانیت کے واسطے، قوم پرستی کے نام پر فاشزم پر مبنی سیاست ترک کیجیے۔ آپ کا یہ رویہ جتنا مجھے نقصان پہنچائے گا، اس سے کہیں زیادہ آپ یعنی پشتون ہی کی تباہی و بربادی کا باعث بنے گا۔
اکبر علی

اکبر علی

مضمون نگار اظہار کے معاون مدیر اعلیٰ ہیں۔ ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں مقیم ہیں اور سماجی امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *