شرم کرو ۔۔۔ اسد مہری

شرم کرو

اسد مہری

گھر آتے ہی وہی روز کا طعنہ سننے کو ملتا ہےکہ میں کوئی کام کیوں نہیں کرتا؟  مُفت کی روٹیاں توڑتاہوں۔ فلاں ہمسائے کا بیٹا یہ کام کرتا ہے یاوہ کام کرتا ہے۔روز کی اس بدمزگی سے میں بھی تنگ آ چُکا ہوں اور اکثر دیر سے گھر آتا ہوں تا کہ بڑے بھائی کے ساتھ کوئی بد تمیزی یا بد مزگی نہ ہو۔  بڑے بھائ کی شادی سے پہلے گھر میں ایسا کوئ مسلۂ نہیں تھا اور نہ ہی کبھی اُنھوں نے میری تعلیم اور بیروزگاری کے بارے میں کچھ کہا۔ انہیں بھی معلوم ہے کہ کوئٹہ کے حالات کتنے سنگین ہیں، خاص طور پر ہم لوگوں کےلئے!  علاقے سے باہر ہم نکل نہیں سکتے اور اپنے گلی کُوچوں میں کام نہیں ملتا کیونکہ سب اسی مسئلے کا شکار ہیں ۔ایسا نہیں کہ میں کوشش نہیں کرتا۔  میں روز اس اُمید سے گھر سے نکلتا ہوں کہ آج کوئی کام ملےگا اور گھر آ کر سب کو خوش خبری سُناؤں گا۔ مگر روز وہی نا اُمیدی ۔ ایک کام کیلئے سو سو بندے اور ہر شخص کی یہی خواہش اور ضرورت کے اُسے کوئ کام ملے جس سے وہ اپنا گھر چلا سکے ہماری اتنی حیثیت نہیں کہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں کیونکہ کاروبار کےلئے پیسے چاہئے اور وہ ہمارے پاس نہیں۔  گزشتہ چند دِنوں سے تو بھابی نے بھی بولنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ اُس کے اپنے دو بھائی بھی میری طرح بیروزگار ہیں۔  مُجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ کیا گھر والوں کے روز کے طعنے سے میرا یا ہمارامسلۂ حل ہوجائےگا ؟ کیا مجھے اور مجھ جیسے دوسرے بے روزگاروں کو اِیسے طعنوں سے ہمت اور حوصلہ ملے گا؟ کیا گھر کا ماحول اِن تلخیوں سے بہتر ہوگا ؟

 مجھے تو صرف ایک ہی روشن راستہ نظر آ رہا ہے۔ مذہب اور معاشرتی نگاہ سے گرچہ یہ حرام اور جُرم ہے مگر یہی صرف ایک حل باقی بچا ہے جس سے گھر اور دوست و احباب مجھے میری پرانی خوبیوں کی وجہ سے یاد رکھیں گےاور افسوس کریں گے کہ میں نے یہ قدم کیوں اُٹھایا!۔ بھائی بھابی رشتہ دار اور میری معصوم ماں بھی شاید تبھی ہمیشہ کیلئے مجھ سے پیار اور محبت کرے گی۔

 شاید آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں کیا کرنے جارہا ہوں!!!؟