
جیسا کہ میں نے اپنی چند دیگر تحریروں میں لکھا ہے کہ 1892ء میں امیرِ کابل عبدالرحمان کے ہاتھوں حتمی شکست کے بعد ہزارہ قوم کی ایک تعداد برصغیر کی طرف بھی ہجرت کرنے پر مجبور ہوئی۔ وہ دو سمتوں سے برصغیر، جو اس وقت برٹش انڈیا کہلاتا تھا، میں داخل ہوئی: ایک صوبہ بلوچستان کے علاقوں چمن، ژوب وغیرہ سے، اور دوسری خیبر پختونخوا کی طرف سے۔ خیبر پختونخوا میں ان کی ایک قابلِ ذکر تعداد نے پاڑہ چنار میں رہائش اختیار کی، جبکہ چند لوگ گلگت بلتستان کی طرف نکل گئے۔ البتہ مرحوم حاجی گل محمد ہزارہ، المعروف بہ گل محمد ہزارپتی، کے نواسے شہزاد علی چنگیزی کے مطابق:
“ان کا دادا پہلے کوئٹہ آئے تھے اور پھر کشمیر سے ہوتے ہوئے گلگت پہنچے تھے” (حاجی گلزاری ویڈیو)۔
جناب رضا وکیل، جنہوں نے مئی 2024ء کے دوران وہاں کا سفر کیا ہے اور مرحوم حاجی گل محمد کے خاندان سے تفصیلی ملاقات کر چکے ہیں، کے مطابق:
“مرحوم گل محمد ہزارہ ہزارپتی اپنے ایک بھتیجے کے ساتھ کشمیر کے راستے 1892ء کے بعد گلگت پہنچے تھے۔ وہ نہایت محنتی اور ایماندار شخص تھے۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے پہلے خشک میوہ جات (ڈرائی فروٹس) کا کاروبار شروع کیا۔ بعد میں انہوں نے پکی اینٹیں بنانے اور کنسٹرکشن تک کاروبار کو نہایت کامیابی کے ساتھ وسعت دی اور خوب شہرت پائی۔ وہ گلگت بلتستان کے پہلے چند گنے چنے اور ہزارہ قوم کے پہلے ہزارپتی (سیٹھ یعنی پولدار) تھے، اور وہاں کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، جس پر وہاں کے اس وقت کے ڈوگرہ راجہ نے انہیں، یعنی گل محمد ہزارہ ہزارپتی کو، گلگت کی نہ صرف شہریت دی بلکہ انہیں اعزازی پرچم سے بھی نوازا تھا۔”
جناب رضا وکیل، مرحوم گل محمد ہزارہ ہزارپتی کے موجودہ بزرگوں کے حوالے سے مزید بتاتے ہیں کہ ان کے خاندان والے اب اہم سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ میڈیکل کے شعبے میں بھی اہم خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں لیبارٹری کا قیام بطورِ خاص اس وجہ سے قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے پورے علاقے میں پہلی بلڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی بنیاد رکھی، جس کی اب کئی برانچز کھل چکی ہیں۔ بعد کے ادوار (نوّے کی دہائی) میں مرحوم حاجی گل محمد کے بچے افغانستان بھی گئے تاکہ اپنے آبائی تعلق کو تلاش کر سکیں، جس کے نتیجے کے طور پر انہیں پتا چلا کہ ان کا آبائی تعلق بہسود کے علاقے جرغئی کے آغیل “گرم آو” جبکہ طائفوی تعلق “شاہ گل بیگ” سے ہے۔ اب ماشاء اللہ خاندان کے تمام افراد، خواہ زن ہوں یا مرد، تعلیم یافتہ ہیں، جبکہ بالغ افراد اس قدر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں کہ جناب رضا وکیل انہیں دنیا بھر میں ہزارہ قوم کا سب سے تعلیم یافتہ گروہ کہتے ہیں، جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز سبھی شامل ہیں (رضا وکیل ویڈیو)۔
اس امر کی تائید حاجی گلزاری بھی کرتے ہیں اور مزید بتاتے ہیں کہ حاجی گل محمد ہزارپتی نے دیگر کاروبار کے ساتھ گارمنٹس کے کاروبار کو بھی کامیابی سے آگے بڑھایا تھا۔ وہ گلگت کے پہلے تاجر تھے جنہوں نے کشمیر، امرتسر اور لدھیانہ تک اپنے کاروبار کو وسعت دی تھی۔ حاجی گل محمد کے نواسے شہزاد علی چنگیزی کے مطابق اب ان کے خاندان کے 60 کے قریب گھرانے گلگت میں رہ رہے ہیں، جبکہ ایک چچا مرحوم محمد علی چنگیزی کا گھرانہ کراچی میں آباد ہے (حاجی گلزاری)۔ حاجی گل محمد ہزارہ ہزارپتی کے بعد محمد علی چنگیزی اس لیے زیادہ معروف ہوئے کہ انہوں نے شمالی علاقہ جات، یعنی گلگت بلتستان، کو ڈوگرہ راج سے آزاد کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
محمد علی چنگیزی
چنگیزی مرحوم کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں؛ تاہم ان کے بھتیجے شہزاد علی چنگیزی اور بھتیجے کے فرزند عامر علی چنگیزی کے مطابق ان کی پیدائش 1924ء کی ہے، جبکہ وفات 2005ء میں کراچی میں ہوئی، اور وہ کراچی ہی میں آسودۂ خاک ہیں۔ باقی کچھ تفصیل درج ذیل ہے:
محمد علی چنگیزی، مرحوم حاجی گل محمد ہزارہ ہزارپتی کی دوسری بیگم کے بڑے بیٹے تھے۔ ان کی پیدائش 1924ء کی ہے۔ تعلیم گلگت میں مکمل کرنے کے بعد آرمی میں شمولیت اختیار کی اور برما چلے گئے۔ 1947ء میں گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی مسلح جدوجہد کا سن کر فوراً گلگت واپس پہنچے اور “انجمنِ سرفروشان تحریکِ آزادیِ گلگت” کے بینر تلے لڑی گئی مسلح تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ ایک پیشہ ور سپاہی ہونے کے ناطے جلد ہی قیادت سنبھالی، اور نومبر 1947ء کو اس وسیع و عریض سرزمین کو ڈوگرہ راج سے آزاد کر کے پاکستان میں شامل کرانے میں کامیاب ہوئے۔ اسی نسبت سے محمد علی چنگیزی اور ان کے چنگیزی خاندان کو اب تک گلگت بلتستان میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ انگریز سامراج نے مارچ 1846ء میں کشمیر اور گلگت بلتستان کی ریاست کو صرف 75 لاکھ نانک شاہی کرنسی کے بدلے راجہ گلاب سنگھ کو فروخت کیا تھا، جس پر علامہ اقبال نے یہ مشہور شعر کہا تھا:
دہقان و کشت و جوئے و خیاباں فروختند
قومے فروختند ولے چہ ارزاں فروختند
عامر علی چنگیزی کے مطابق بعد میں چچا محمد علی چنگیزی اپنے گھرانے کے ساتھ کراچی شفٹ ہو گئے، جہاں 2005ء میں وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ روح اش شاد۔
نوٹ: اس تحریر کے ضمن میں جناب محمد رضا وکیل کا بے حد شکریہ کہ انہوں نے مرحوم حاجی گل محمد ہزارہ ہزارپتی کے نواسے جناب عامر علی چنگیزی سے چند بنیادی معلومات کے علاوہ خود حاجی مرحوم اور محمد علی چنگیزی مرحوم کی تصاویر بھی لے کر مجھے فراہم کیں۔
منابع:
https://youtu.be/SmxoyNfOoLg?si=7UAARwr5klySLntQ
https://www.facebook.com/reel/1923415488099926
- حسین علی یوسفی بطور ہزارہ گی ڈرامہ نگار ۔۔۔ اسحاق محمدی - 26/01/2026
- بابو خدا نذر قنبری ۔۔۔ اسحاق محمدی - 10/01/2026
- گلگت کے ہزارہ! ۔۔۔ اسحاق محمدی - 23/12/2025
