
اسکالروں نے تاریخ کو اقوام کے “دماغ اور اُن کی یادداشت” سے تعبیر کیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ماضی سے رشتہ استوار رکھ کر ماضی کی کوتاہیوں و خامیوں سے سبق سیکھ کر اور کامیابیوں کے اصول و ضوابط کو پیش نظر رکھ کر “حال” کو سنوارتی ہیں اور روشن مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ اب ظاہری بات ہے کہ اگر کسی قوم سے اس کی تاریخ چھین لی جائے یا جدید استعماریت کے تحت اس کی تاریخ مسخ کی جائے اور ماضی سے اس کا رشتہ منقطع کر دیا جائے تو اس کی حیثیت ایک پاگل آدمی کی سی ہو کر رہ جاتی ہے، جیسے دوست دشمن کی پہچان، خوب و بد کی تمیز نہیں ہوتی اور نہ ہی حال سے غرض و مستقبل کی فکر ہوتی ہے۔ یوں یہ قوم ایک ناخدا ندارد کشتی کی طرح زمانے کے سمندر کے بے رحم موجوں کے سہارے ہچکولے کھاتی رہتی ہے اور ان کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔
اس بنیادی نکتے کو مدنظر رکھ کر بالادست ظالم اقوام کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اپنے زیر دست اقوام کی ان جڑوں کو کاٹ دیں جو حال کو ماضی سے جوڑتی ہیں۔ بالادست اقوام کا یہ رویہ ان اقوام کی طرف اور زیادہ منفی ہو جاتا ہے جو شاندار ماضی کے مالک ہوتے ہیں کیونکہ ایسی قوموں کی جڑوں کا کاٹنا آسان نہیں ہوتا۔ ہزارہ قوم ایک شاندار ماضی کی حامل قوم اور انسانی تہذیب و تمدن کے تخلیقی عمل کی ایک اہم شریک رہی ہے۔ مشہور زمانہ بامیان تہذیب کے آثار کا صرف ایک سرسری جائزہ لینے سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اس کا موازنہ دنیا کے دیگر مشہور تہذیبوں سے کیا جا سکتا ہے، خاص کر گوتم بدھ کے دو عظیم مجسمے 35 میٹر بلند “شمامہ” اور 53 میٹر بلند “صال صال” (آخر الذکر مجسمہ کو حال ہی میں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا ہے) کو دنیا کے چند بڑے عجائبات اہرامِ مصر، تاج محل وغیرہ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ مگر دشمنوں نے کبھی یہ گوارا نہ کیا کہ دنیا کی رسائی ان آثار تک ہو، کیونکہ اس صورت میں ان تاریخی و قیمتی آثار کے خالق قوم بھی دنیا کے سامنے آتی۔
جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ شاندار ماضی کے حامل اقوام کی جڑیں کاٹنا آسان نہیں ہوتا، اس لیے بالادست ظالم اقوام کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ مسلسل ظلم و جبر کے تمام حدود کو توڑتے ہوئے “زر و تزویر” یعنی دولت اور مکر و فریب سے کام لیتی رہیں۔ ایک شاندار ماضی کی امین قوم ہونے کے ناطے ہزارہ قوم کے خلاف بھی یہ تمام حربے استعمال کیے گئے۔ چنانچہ گزشتہ ڈھائی سو سال کے ظالم و جابر حکمرانوں نے ایک طرف اپنے بیرونی آقاؤں کی مالی و تسلیحاتی معاونت کے بل بوتے پر ہزارہ قوم کی جسمانی (وجود اور طبیعی) حیثیت پر مسلسل کاری ضربات لگانے کی مذموم کوششیں کیں جبکہ دوسری جانب ماضی سے ان کا رشتہ منقطع کرنے کے لیے بھی مختلف حربے بروئے کار لائے گئے۔ جن میں سب سے زیادہ قابلِ مذمت حرکت بامیان تہذیب کے آثار کو ختم کرنے کی قصداً کوشش بھی شامل ہے۔ جبکہ تیسری طرف ظالم و جابر حکمرانوں نے علم و دانش کے دروازے ہزارہ فرزندوں پر عملاً بند رکھ کر انہیں جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے کی سعی کرتے رہے۔ اس دوران اگر ایک آدھ فرد ان تمام پابندیوں کے باوجود علم و دانش کے میدان میں نکلنے میں کامیاب ہوا بھی، تو انہیں یا تو بلیک لسٹ قرار دیا گیا، یا پھر پسِ دیوار بدنام زمانہ زندان دہمزنگ بھیج دیا گیا تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، یعنی یہ لوگ اپنے اور اپنی قوم کی آواز دنیا تک نہ پہنچا سکیں۔ جبکہ چوتھی جانب کابل کے حکمرانوں نے اپنے آقاؤں کی طرف سے بھیجے جانے والے نام نہاد مورخ نما جاسوسوں کو کابل کے مجلل محلات میں ٹھہرا کر، انہیں باج و خراج کے عوض ہزارہ قوم کی تاریخ و ثقافت کے متعلق گمراہ کن معلومات فراہم کیں۔ اب چونکہ ان جاسوسوں کا اصل تعلق آم کھانے یعنی کابل حکمرانوں کی انگریز سرکار سے تجدیدِ وفاداری برائے غلامی سے تھا، اس لیے آم کھانے کے بعد وہ پیڑ اور حقائق کو گنتے نہیں تھے اور وفاداری کی سند لے کر انگریز سرکار کی تسلی کراتے اور ولایت پہنچ کر انہی باج و خراج کے پیسوں سے اپنے نام پر صاحبِ کتاب ہونے کے لیبل لگانے کے لیے سفرنامے لکھتے۔
بہرحال مزید تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ماضی کے کئی بظاہر مقدس کرداروں کے اصل چہرے و کرتوت کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ علامہ اقبال کا ایک مصرعہ ہے: “ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی”۔ یہ مصرعہ اس طویل و تاریک پس منظر کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو مکمل طور پر ہزارہ قوم پر صادق آتا ہے، کیونکہ ان کے فرزندوں کو اس دوران جب بھی مواقع ملے، انہوں نے اپنی مسخ شدہ تاریخ کو تاریخی حوالوں کی مدد سے کرید کر حقائق تک پہنچنے اور اپنے شاندار ماضی تک رسائی حاصل کرنے کی کاوشیں کیں۔ ان جوانمرد شہسواروں میں شادروان “حسن پولادیؔ” بھی شامل ہیں۔
قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ حسن پولادیؔ کے والد محترم حوالدار کریم بخش، ہزارہ جنگِ آزادی 1893ء کے اختتام پر اپنا آبائی وطن چھوڑ کر کوئٹہ ہجرت کر آئے تھے اور ہزارہ پائنیر سے منسلک ہو کر حوالدار رینک سے ریٹائر ہو گئے تھے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ پارہ چنار چلے گئے اور وہیں دسمبر 1944ء میں جناب حسن پولادیؔ کی پیدائش ہوئی۔ ابھی حسن پولادی محض ڈیڑھ سال کے تھے کہ حوالدار کریم بخش وفات پا گئے۔ اگرچہ حوالدار کریم بخش کے چھ بیٹے تھے اور انہوں نے نہایت احسن طریقے سے اپنے والد کے کاروبار کو سنبھال رکھا تھا، مگر نامعلوم وجوہات کے بنا پر یہ خاندان 1884ء میں دوبارہ کوئٹہ منتقل ہو گیا۔ ننھے حسن پولادیؔ نے کوئٹہ کے مشہور درسگاہ اسلامیہ ہائی اسکول سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا اور اسی درسگاہ سے نہایت اچھے نمبروں سے میٹرک پاس کیا۔ جس کی بنیاد پر وہ بلوچستان کی طرف سے زرعی کالج ٹنڈو جام کے لیے منتخب ہوئے۔ اپنی محنت و ذہانت کے بل بوتے پر جناب پولادی نے اس ادارے سے 1969ء میں اپنی بی ایس سی کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی اور واپسی پر محکمہ زراعت میں ریسرچ آفیسر مقرر ہوئے۔ مگر جلد ہی انہیں منیلا یونیورسٹی فلپائن کی طرف سے اسکالرشپ کی پیشکش ہوئی جہاں سے ایک بار پھر انہوں نے ماسٹرز ڈگری کی سند گولڈ میڈل کے امتیازی اعزاز کے ساتھ حاصل کی۔ اپنے شاندار اکادمک ریکارڈ کی بدولت وہ 1972ء میں امریکہ اسکالرشپ پر چلے گئے، جہاں جناب پولادی نے اپنے شاندار تعلیمی ریکارڈ کو دہراتے ہوئے زرعی سائنس میں اپنی دوسری ڈگری حاصل کی اور گولڈ میڈلسٹ قرار پائے۔ بدقسمتی سے وطن واپسی پر اس ذہین زرعی سائنسدان کی اس طرح پذیرائی نہیں ہوئی جس کے وہ حقدار تھے اور اسے روایتی بیوروکریٹک طریقِ کار کے مطابق الجھانے اور پریشان کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ جس سے دلبرداشتہ ہو کر انہوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور مستقل طور پر امریکہ میں آباد ہو گئے۔ وہیں انہوں نے ایک فلپائنی خاتون (اسلامی نام سلمہ) سے شادی کی جس کے بطن سے ایک لڑکا عمران اور ایک لڑکی صوفیہ پیدا ہوئی۔ سلمہ کے انتقال کے بعد جناب پولادی نے ایک ہزارہ خاتون سے کوئٹہ میں 1985ء میں دوسری شادی کی جس کے بطن سے ایک بیٹی فرح ہے جو کہ آج کل کوئٹہ میں رہ رہی ہے۔
جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ جناب پولادی بنیادی طور پر میدانِ زرعی سائنس کے شہسوار تھے، لہٰذا قدرتی طور پر ہر ذہن میں کئی سوالات آتے ہیں کہ ان کا میلان تاریخ کی طرف کب اور کیسے ہوا؟ اُنہیں اپنی قوم ہزارہ پر کتاب لکھنے کا خیال کیسے آیا؟ اور پھر یہ کہ وہ ہزارہ قوم کی تاریخ، زبان، ثقافت پر اس قدر عظیم و بیش بہا علمی ذخیرہ کیسے جمع کر پایا؟ ان سوالوں کا جواب دینا فی الحال میرے لیے خاصا مشکل ہے، تاہم قرائن بتاتے ہیں کہ اگرچہ تاریخ سے اور بطور خاص اپنی قوم ہزارہ کی تاریخ سے انہیں دلچسپی شروع سے تھی…
مثلاً کبھی نیویارک سٹی اور کبھی افغان اسٹڈیز سینٹر یونیورسٹی آف Nebraska میں نظر آتے، تو کبھی انڈیا آفس لائبریری لندن میں کتابوں کی ورق گردانی و نوٹس لینے میں مگن رہتے، اور کبھی افغانستان، پاکستان، ایران و ہندوستان کی سرکاری و نجی کتب خانوں کی خاک چھانتے دیکھے جاتے۔ اسی سلسلے میں وہ خود اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
“میں نے ہزارہ شناسی سے متعلق علمی مواد (مطبوعہ و غیر مطبوعہ) نہ صرف امریکہ بھر سے بلکہ یورپ و ایشیائی ممالک سے بھی اکٹھا کیا۔ یہ علمی مواد انگلش، روسی، جرمن، فرانسیسی، اطالوی، جاپانی، فارسی، اردو اور پشتو زبانوں پر مشتمل ہے۔”
جناب پولادی جن زبانوں سے ناواقف تھے، ان زبانوں میں موجود بعض مواد کے تراجم اپنے دوستوں سے استفادہ کرتے تھے۔ مثلاً ہزارہ شناسی سے متعلق جرمن زبان میں مواد کے تراجم اپنے دوست و یونیورسٹی فیلو آسٹریا کے Albert Konig سے کروائے۔
بالآخر جناب پولادی کا شوق اور جنون رنگ لایا اور ہزارہ شناسی کے موضوع پر ان کے ذاتی ذخیرے میں سینکڑوں تحقیقی مقالے اور کتابیں جمع ہو گئیں۔ بلا شک اس موضوع پر اس قدر بیش بہا علمی ذخیرہ نہ دنیا کے کسی کتابخانے میں ہے اور نہ ہی کسی کی ذاتی کلیکشن میں۔ جناب پولادی نے اس علمی ذخیرے کے ۳۲۳ سے زائد مقالات و کتابوں کی مدد سے، اور جدید تحقیقی روش کے عین مطابق، ساتھ ہی واشنگٹن یونیورسٹی کے شعبہ انتھروپولوجی کے سربراہ و ممتاز امریکن اسکالر و ہزارہ شناس آقای پروفیسر رابرٹ ایل کانفیلڈ کے مفید علمی مشاورات کی روشنی میں چند سالہ کاوشوں اور عرق ریزی کے بعد انگریزی زبان میں موتیوں کی صورت پرونے اور 400 سے زائد صفحات پر مشتمل کتاب The Hazaras لکھنے میں کامیاب ہوئے۔ 1989ء میں اس کتاب کی اشاعت ہوئی اور دنیا بھر میں اسے خوب پذیرائی ملی۔
1989ء ہی میں The Hazaras امریکہ میں Books of the Year میں شامل تھی۔ بارہ ابواب اور تین ملحقات پر مشتمل اس علمی کتاب پر تبصرہ کرنا اور رائے زنی کرنا مجھ ہیچ مدان کے لیے مناسب نہیں، اس لیے صرف آقای پروفیسر رابرٹ ایل کانفیلڈ کے الفاظ پر اکتفا کرتا ہوں جو اس کتاب کی تقریظ میں یوں لکھتے ہیں:
“پولادی نے پہلی بار ہزارہ قوم پر اس قدر معلومات تحریر کی ہیں۔ موصوف نے ہزارہ قوم سے متعلق دنیا کے مختلف زبانوں سے بے شمار اسناد و مدارک کی جمع آوری و تدوین کی ہے اور ساتھ ہی ایک ہزارہ ہونے کے ناطے اپنے تجربات و ذاتی مشاہدات کے توسط سے قارئین کو جدید اور قابلِ قدر معلومات مہیا کی ہیں۔ یوں وہ ہمیں اپنے لوگوں اور اُن کے تہذیب و تمدن سے متعلق امتیازی خصوصیات مستند حوالوں سے فراہم کرتے ہیں۔ ہزارہ قوم پر اس قدر جامع اور قابلِ فہم کتاب لکھنے پر حسن پولادی بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔”
ہزارہ قوم کا یہ قابلِ فخر فرزند و درخشندہ ستارہ اپنی کتاب کی اشاعت کے چند مہینوں بعد، ستمبر 1989ء میں انتقال کر گیا۔ اگرچہ جسمانی طور پر شادروان حسن پولادی ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر اُن کی کتاب The Hazaras رہتی دنیا تک اُن کے نام کو زندہ و جاویداں رکھنے کے لیے کافی ہے اور یہی کتاب اپنی قوم ہزارہ سے ان کے خلوص و محبت، عشق اور سچے جذبوں کی دلیل بھی ہے۔
اس کتاب کا فارسی میں ترجمہ کرنے کا سلسلہ شادروان محمد عالم مصباح نے شروع کر دیا تھا مگر زندگی نے مہلت نہ دی۔ بعد ازاں اس کام کو جناب عالمی کرمانی نے انجام دیا جس کی پہلی اشاعت 2001ء میں ہوئی اور اب تک اس کے کئی ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ کرنے کا بیڑہ نوجوان قلم کار نوازش علی (NBP) نے اٹھایا اور مکمل بھی کیا، لیکن دو رجسٹرڈ ہزارہ اکیڈمیز ہونے کے باوجود یہ کتاب اب تک شائع نہ ہو سکی۔
- حسین علی یوسفی بطور ہزارہ گی ڈرامہ نگار ۔۔۔ اسحاق محمدی - 26/01/2026
- بابو خدا نذر قنبری ۔۔۔ اسحاق محمدی - 10/01/2026
- گلگت کے ہزارہ! ۔۔۔ اسحاق محمدی - 23/12/2025
