سلطانہ اپنے منہ پر ماسک پہنے کلینک میں بیٹھی اپنی باری کا انتظار کررہی تھی۔ پچھلے دو دنوں سے اس کو شدید نزلہ زکام ہوا تھا۔ گوگل پر علاج کے کافی طریقے بھی اس نے ڈھونڈھ لیے تھے لیکن ان دو دنوں میں کوئی ایک دو طریقے ہی وہ آزما سکی تھی۔ ٹھیک تو وہ ہوئی نہیں، اور باقی طریقے اس سے آزمائے ہی نہیں گئے کیونکہ طبیعت اور بگڑ رہی تھی۔ بہر حال اس نے ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا ۔
سلطانہ ابھی بیٹھی ہی تھی کہ عارفہ کلینک میں داخل ہوئی۔ عارفہ سلطانہ کی دور کی رشتہ دار تھی اور اس کلینک سے کچھ ہی فاصلے پر ان کا گھر تھا۔ ماسک کی وجہ سے اس نے سلطانہ کو پہلے تو پہچانا نہیں لیکن جب سلطانہ نے ہی اس کو آواز دی تو پہچان گئی۔ ایک دوسرے کا، ایک دوسرے کے بچوں اور شوہروں کے حال پوچھنے کے بعد سلطانہ نے عارفہ کو اپنے آنے کی وجہ بھی بتادی۔ پھر عارفہ نے سلطانہ سے پوچھا ،” یہ ڈاکٹر تو آپکے گھر سے کافی دور ہے، یہاں کیسے؟”
“بہن! کیا بتاؤں ، وہ گھر کے پاس والے ڈاکٹر اچھے ڈاکٹر نہیں، لگتا ہے ان کی ڈاکٹری کا علم پرانا ہوچکا ہے، سوچا ڈاکٹر بدل لیتی ہوں، شاید یہ اچھا ڈاکٹر نکلے”۔ سلطانہ نے جواب دیا۔
عارفہ پہلے کچھ لمحوں تک سوچتی رہی، پھر اس نے پوچھ ہی لیا، “ وہ اچھے ڈاکٹر نہیں؟”
“ ناں! بلکل بھی نہیں۔ میں جب بھی ان کے پاس جاتی تھی، تو اپنی بیماری کے حوالے سے تیاری کرکے جاتی تھی” اس بات پہ عارفہ نے سوالیہ نظروں سے سلطانہ کو جب دیکھا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا، “ ارے پگلی، گوگل دیکھ کے! گوگل سے تشخیص اور علاج کے طریقے ڈھونڈھنے کے بعد ہی میں ڈاکٹر کے پاس جاتی ہوں۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا تھا کہ ان ڈاکٹروں کی باتیں گوگل سے مختلف ہوتی تھیں۔ اسی لئے میں کبھی ٹھیک ہوتی تھی تو کبھی نہیں۔ بلکہ بہت کم ہی میں ان ڈاکٹروں کے علاج سے ٹھیک ہوئی ہوں”
عارفہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اٹینڈینٹ نے سلطانہ کو اندر ڈاکٹر کے پاس بلالیا۔
سر سری حال احوال کے بعد ڈاکٹر نے اس کی بیماری کے بارے میں پوچھا۔ سلطانہ کے جواب کے بعد اپنے لیپ ٹاپ پر بٹنوں اور ٹچ پیڈ کو دبانا شروع کیا۔کچھ ٹائپ اور کلک کرنے کے بعد انٹر کام کا ریسیور اٹھایا اور اس میں بولنا شروع کیا،” دیکھنا یہ انٹرنیٹ کو پھر سے کیا ہوا ہے، کل بھی رک رک کے چل رہاتھا، گوگل تک نہیں کھل رہا تھا” اسی دوران ڈاکٹر صاحب مسلسل کلک پہ کلک بھی کیے جارہا تھا، “ رکو! لگتا ہے انٹرنیٹ چل گیا۔” اور انٹرکام کا ریسیور رکھ دیا۔ پھر دو تین منٹ تک مکمل خاموشی چھائی رہی۔ اس دوران سلطانہ ڈاکٹر کے فکرمند چہرے کی طرف دیکھتی رہی، اسکو یقین ہورہا تھا کہ ڈاکٹر اس وقت اس کی بیماری کے علاوہ کچھ نہیں سوچ رہا۔ پھر ڈاکٹر نے لیپ ٹاپ سکرین سے نظریں ہٹا کر سلطانہ کی طرف دیکھا اور اس کی بیماری کی وجوہات اور علاج پر بات کی۔ سلطانہ کو اب تقریباً مکمل اطمینان ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر نے اس کو نسخہ لکھ کر دیا، اور جلد از جلد ٹھیک ہوجانے کی تسلی دی۔
نسخہ ہاتھ میں لیکر سلطانہ ڈاکٹر کے کمرے سے باہر نکلی تو بڑی خوش تھی۔ عارفہ جو ابھی تک اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی، کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا، “ اچھا ڈاکٹر ہے، بلکل وہیں باتیں بتائی جو میں نے گوگل میں پڑھی تھی”۔ پھر رک کر جیسے اس کو کچھ یاد آیا، عارفہ سے پوچھا، “ معذرت چاہتی ہوں، میں تو آپ سے یہ پوچھنا ہی بول گئی کہ آپ کس بیماری کو لیکر ڈاکٹر صاحب کے پاس آئی ہیں؟” عارفہ نے جواب دیا،” کچھ خاص نہیں ، سر میں تھوڑا درد تھا لیکن اب کچھ بہتر محسوس کر رہی ہوں، طبیعت خراب ہوئی تو پھر سے آوں گی، چلو نکلتے ہیں۔” سلطانہ پہلے تو کچھ حیران ہوئی، مگر کچھ نہ کہا اور دونوں ایک ساتھ کلینک سے نکل گئیں۔
- گوگل اور ڈاکٹر ۔۔۔ ہاشم کیمیاگر - 05/04/2025
- ہمنوا ۔۔۔ ہاشم کیمیا گر - 01/06/2019