پروفیسر فاطمہ چنگیزی نے 1942ء کو کوئٹہ کے ایک ہزارہ گھرانہ حاجی احمد علی کے آنگن میں آنکھ کھولی۔ انکی خوش قسمتی تھی کہ ان کے والد عام روایت پسند ڈگر سے ہٹ کر روشن سوچ رکھنے والے انسان تھے اور بچوں کے ساتھ، بچیوں کی تعلیم کو بھی ضروری سمجھتے تھے۔
حاجی احمدعلی کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ دوسری بیٹی سے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔ ایک بیٹا شوکت علی چنگیزی پڑھ لکھ کر جیالوجیکل سروے آف پاکستان میں سروس کرنے لگے اور ڈائریکٹر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ دوسرا بیٹا شربت علی چنگیزی، گورنمنٹ سائنس کالج کوئٹہ سے انٹر کرنے کے بعد پاکستان ائرفورس میں فائٹر پائلٹ بنے جو ترقی کرتے ائرمارشل کے عہدہ تک جا پہنچے۔
فاطمہ چنگیزی نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم اپنے گھر کے قریب واقع سینٹ ٹریسا سکول سے حاصل کی جہاں ان کی دیگر کلاس فیلوز میں ڈاکٹر زیب النساء بھی شامل تھی ۔
1958ءمیں میٹرک پاس کرنے کے بعد اس سال تین ہزارہ طالبات، فاطمہ چنگیزی، زیب النساء (بعد میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر بنی) اور ایک اور بچی نے گرلز کالج کوئٹہ میں داخلہ لیا جس نے روایت پسند ہزارہ سماج میں ایک بھونچال پیدا کیا۔ ایک لوکل ہزارہ شیخ ، ان کے اس عمل پر اس قدر سیخ پا ہوگیا کہ بانہیں کالج نہ چھوڑنے کی صورت میں سوشل بائیکاٹ کی دھمکی تک دی(1)۔ شیخ صاحب کی اسی دھمکی کی وجہ سے تیسری بچی ن،جس کا تعلق عام ہزارہ گھرانہ سے تھا، پہلے سیمسٹر کے بعد کالج ترک کرنے پر مجبور ہوئی جبکہ باقی دو طالبات، با اثر اور روشن خیال گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں اس لئے انہوں نے تمام تر روز مرہ مشکلات کے باوجود اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔ بغیر کسی شک و شبہ کے اگر یہ دونوں بہادر طالبات اور انکے گھر والے، فرسودہ تفکرات یا فتووں سے گھبرا کر پیچھے ہٹ جاتے تو مزید پانچ دس سال تک کوئی ہزارہ طالبہ کالج جانے کی جرات نہ کرتی۔ بقول فاطمہ چنگیزی، ان کے نقش قدم پر اگلے سالوں میں گرلز کالج میں ہزارہ طالبات کی تعداد بڑھتی گئی۔ انہوں نے پہلے انٹرمیڈیٹ کیا اور پھربی اے پاس کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
1967ء میں ڈاکٹر زیب النساء کے ساتھ لاہور سے بی ایڈ کرنے کے بعد چنگیزی صاحبہ نے ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کی اور پھر گورنمنٹ گرلز کالج کوئٹہ میں فارسی لیکچرر تعینات ہوئی۔ کالج کا نام اس وقت گورنمنٹ کالج فار ویمن تھا۔
میچید ٹٰی وی میں قادرعلی نائل کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں وہ بتاتی ہے کہ “ابتدائی دور میں چونکہ فارسی کے سٹوڈنٹس نہیں تھے تاس لیے وہ انگلش اور اردو کی کلاسز لیتی تھی”۔
کافی عرصہ گرلز کالج کوئٹہ میں پڑھانے کے بعد ان کا ٹرانسفر پہلے مستونگ کالج اور بعد ازآں گریڈ-19 میں ترقی پانے کے بعد سیٹلائٹ ٹاون گرلزکالج کردیا گیا۔
1998ء میں سردار نثار علی خان (حالیہ سردار حسن موسی گرلز کالج) کے بننے کے بعد ان کی پہلی پرنسپل مقرر ہوئی جہاں انہوں نے نہایت نامساعد حالات میں کچھ نہ ہونے کے باوجود اپنے کام کا آغاز کیا اور 2002ء میں اپنی ریٹائرمنٹ تک اسے ایک معیاری کالج بنانے میں کامیاب ہوئی۔
پروفیسرفاطمہ چنگیزی سادہ مزاج اور کم گو ہونے کے باوجود کافی دلیر اور سوشل خاتون تھی۔ کالج میں روز مرہ جھگڑوں خواہ وہ اسٹاف کے درمیان ہوتیں یا طالبات کے درمیان، انہیں حل کرانے میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہتی۔ 1980ء کے دوران جب پاکستان میں جنرل ضیاء کی آمرانہ حکومت تھی، تحریر و تقریر پر کڑا پہرا تھا۔ اس دوران ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن گرلز سیکشن کے زیرنگرانی سہ ماہہ رسالہ “طلوع فکر” کا اجرا کیا گیا تو سرکاری ملازم ہونے اور دیگر تمام خطرات کے باوجود جس میں انکی سروس بھی جاسکتی تھی، انھوں نے پھر بھی اس رسالے کی ادارت کی ذمہ داری سنبھال لی اور سالوں ادارت کرتی رہی۔
ہزارہ ایس ایف میں میرے دور صدارت (1988-1991) کے دوران بارہا رہنمائی کیلئے یا پھر ہزارہ طالبات کی گرلز کالج میں داخلے کیلئے مرحومہ سے ہماری ملاقاتیں ہوتی رہی۔ مجھے چونکہ تاریخ سے ہمیشہ دلچسپی رہی ہے میں بعض اوقات ان سے ان کے کالج دور کے بارے میں پوچھتا تو ہنس کے کہتی کہ “بڑا سخت دور تھا، ہم چار بچیاں (میں، زیب النساء، ایک قندھاری اور ایک پشتون) سخت پردے میں روزانہ پیدل براستہ مِشن روڑ کالج اس طرح آتی جاتی تھیں یہاں تک کہ آپس میں بھی بات چیت سے گریز کرتی تھیں۔ ابتدائی مہینوں کے دوران کالج میں ہم تین ہزارہ اور ایک قندھاری طالبہ ایک گروپ کی صورت میں رہتی تھیں، دیگر طالبات سے دعا سلام کم تھی، تا آنکہ آگے چل کر حالات کچھ بہتر ہوئے”۔ ڈاکٹر زیب النساء نے اپنے ایک اور انٹرویو میں کہا کہ “اس زمانے میں عورتوں کیلئے پردوں کا سسٹم بہت سخت تھا۔ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کو بہت برا سمجھا جاتا تھا اور لوگ یہاں تک سوچتے تھے کہ اگر لڑکیاں اعلیٰ تعلیم (اس دور میں کالج تعلیم کو ہی اعلیٰ تعلیم گردانا جاتا تھا) حاصل کریں تو وہ عیسائی بن جاتی ہیں 2″۔
چونکہ پروفیسر فاطمہ چنگیزی ہزارہ قوم کی اولین دو بہادر کالجیٹ طالبات میں شامل تھی اور پھر برسوں درس و تدریس سے وابستہ تھی، یوں وہ سالوں ہزارہ خواتین خاص طورپر ہزارہ طالبات میں ایک الگو اور انسپریشن کے طور پر رہی۔ سبھی انکی عزت و تکریم کرتے تھے۔ یہ جری، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ منتظم خاتون یکم مارچ 2025ء کو میلبورن آسٹریلیا میں وفات پاگئی۔ پسماندگان میں ایک بیٹی ہے جو آسٹریلیا میں مقیم ہے۔ روح اش شاد
نوٹ:
اس آرٹیکل کی تکمیل میں میچید ٹی وی کے میزبان قادرعلی نائل کے ساتھ مرحومہ پروفیسر فاطمہ چنگیزی کے طویل انٹرویو کے علاوہ محترمہ ڈاکٹرزیب النساء علی خان کے انٹرویو اور ان سے حالیہ فون بات چیت کے علاوہ انکی طرف سے لکھے گئے نوٹ کی بھی مدد لی گئی ہے، جس پر انکا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
1- اس بابت محترمہ ڈاکٹر زیب النساء کی رسالہ طلوع فکر کے ساتھ انٹرویو اور 2008ء میں محترم ائرمارشل شربت علی چنگیزی کا سردار حسن موسی کالج میں ہزارہ عمائدین سے تقریرملاحظہ ہو
2- ماہنامہ چھل دختران تاریخ نومبر 2007ء شمارہ39