طالبانی مینی فیسٹو … اسحاق محمدی

امریکہ، پاکستان، ایران ،خلیجی ممالک اور افغانستان کی فاشیسٹ ایلیٹ کلاس کے عملی تعاون سے تحریک طالبان کو افغانستان پر قابض ہوئے گیارہ مہینے گزر چکے ہیں۔  لیکن حسب معمول تمام تر زبانی دعوؤں کے باوجود نہ تو وہ داخلی طور پر عوام کو کوئی ریلیف دے سکے ہیں، نہ کسی شعبہ میں کوئی بہتری لاسکے ہیں  اور نہ ہی علاقائی و بین الاقوامی سطح پر کوئی سیاسی یا سفارتی کامیابی حاصل کرسکے ہیں۔  اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں کیونکہ اس تنگ نظر،  جاہل اور فاشسٹ  گروہ کے پاس مار دھاڑ، قتل و غارتگری اور وحشیانہ سزاوں کے تخصص کے علاوہ جدید دور کی حکومت داری کے کسی بھی شعبہ میں مہارت  تو بہت دور کی بات ، اس کی سمجھ بھی نہیں۔
بہرحال اب گیارہ مہینوں کی ناکام دنیاوی کارکردگی کے بعد امارت اسلامی طالبان کے چیف جسٹس یعنی قاضی القضاۃ مولوی عبدالحکیم حقانی نے افغانستان کے دونوں سرکاری زبانوں، دری اور پشتو کو چھوڑ کر خالص عربی زبان میں 312 صفحات پر مشتمل ایک کتاب بنام “الامارتہ الاسلامیہ و نظامھا” یعنی “نظام حکومت اسلامی” لکھی ہے ۔ اس کتاب کا مقدمہ چونکہ تحریک طالبان کے امیرالمومنین، آخوندزادہ ہیبت اللہ نے بنفس نفیس تحریر کیا ہے اس لئے باخبر حلقے اسے طالبانی مینی فِیسٹو کے طور پر دیکھتے ہیں۔ خود مجھے عربی سے زیادہ شُد بود نہیں لہذا گوگل میں سرچ کرنے کے بعد کئی اقساط پر مشتمل استاد امیری کی ایک اچھی تحریر مل گئی جس کے مطابق اس طالبانی مینی فیسٹو کا لب لباب  کچھ یوں ہے:
الف۔ دنیا میں دو طرح کی حکومتیں ہیں یعنی ہدایتی اور غیر ہدایتی اور اس وقت دنیا بھر میں صرف طالبان کی حکومت ،ہدایتی اور جائز حکومت ہے باقی سب غیر ہدایتی اور ناجائز ہیں۔
ب۔ اس طالبانی ہدایت والی حکومت میں صرف فقہ حنفی کے احکامات نافذ العمل ہوں گے اور اس شریعت کے نفاذ میں طالبان کو ہر قسم کے جبر و اکراہ یہاں تک کے قتل کا بھی بھرپورحق حاصل ہے۔
پ۔ امیرالمومنین کی اطاعت واجب ہے اور اس کی مخالفت کی سزا موت ہے۔
ج۔ جمہوریت ایک جاہلانہ مغربی طرز حکومت ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ مولوی عبدالحکیم حقانی اس سے قبل “پاخانہ کے آداب” اور “بال تراشنے کے آداب” سمیت ان سے ملتے جلتے کئی اہم شرعی مسائل پر علمی کتابیں بھی تحریر کرچکے ہیں۔ مولوی صاحب کے خیالات سے یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ تحریک طالبان کہ یہ نئی ہدایت والی حکومت افغانستان اور اس کے مظلوم عوام کو کس پاتال کی طرف گھسیٹنے کے مقدس مشن پر گامزن ہے اور یہ کہ اس کا بھیانک انجام، اس ملک، خطہ اور دنیا پر کیا کیا مصائب ڈھانے والا ہے۔ بھیانک اس لئے کہ ایک نہایت ظریف نکتہ کی طرف استاد امیری کی نظر نہیں گئی ہے جس پر معروف فرانسیسی روزنامہ “لیموند” کی عقابی نظر گئی ہے اور وہ یہ کہ حقانی صاحب نے اپنے اس مینی فیسٹو میں واضح طورپر لکھا ہے کہ ” طالبان کی تمام تر توجہ عوام کی ترقی و فلاح و بہبود وغیرہ پر نہیں بلکہ انہیں  دوسری زندگی یعنی موت کے بعد کی زندگی  کیلئے تیار کرنے پر مرکوز ہے”۔
اصل میں سیاسی ملاؤں کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ ہر موقع و محل میں اپنی جوش خطابت کے زور پر سادہ لوح عوام الناس کو یہ باور کراتے رہتے ہیں کہ ان کے پاس دنیا کا بہترین، عادل ترین اور خوشحال ترین نظام حکومت داری بالکل تیار پڑا ہے بس نافذ ہونے کی دیر ہے۔ مروجہ استحصالی نظاموں کے ستائے ہوئے لوگ ان کے  اس بہکاوے میں آکر ان کی حمایت کی غلطی کر بیٹھتے ہیں اور پھر  اس کا خمیازہ نسل در نسل بھگتتے رہتے ہیں۔ یہ تو بھلا ہو امارت اسلامی طالبان کا کہ اس نے بہت جلد اس حقیقت کا اعتراف کرلیا کہ ان کے پاس اس دنیا کیلئے کوئی قابل عمل نظام نہیں لہُذا گیارہ مہینے کے اندر اندر انہوں نے افغانستان کے عوام کو صاف صاف بتادیا کہ اس دنیا کو گولی مارو اور   اگلے جہان کیلئے ٹریننگ حاصل  کرو۔ جبکہ دوسری طرف ایران میں 44 سال سے قائم اسی طرح کی جابرانہ شیعی مذہبی حکومت ،ولایت فقیہ، ڈنڈے کے زور پر ابتک ایرانی عوام کو مجبور کررہی ہے کہ وہ اس استحصالی نظام کو بہترین اور عادل ترین  مان کر اس دنیا  اور اگلی دنیا میں سرخرو ہوتے رہیں۔ فرقے کے فرق کو ایک طرف رکھتے ہوئے دونوں حکومتوں کے بنیادی اصول حکمرانی کو سامنے رکھیں تو دونوں میں کافی مطابقت نظر آتی ہے، مثلاً

۔ دونوں صرف اپنے نظام حکومت کو برحق اور باقی سب کو باطل قرار دیتے ہیں۔
۔ دونوں کے رہنما ہر قسم کے قوانین سے بالاتر،مطلق  العنان اور تا حیات ، ،مسند اقتدار پر براجمان رہتے ہیں۔
۔ دونوں کے مخالفین فساد فی الارض کی سزا کے تحت واجب القتل قرار پاتے ہیں۔
۔ دونوں کے ہاں امر بہ معروف و نہی عن المنکر کی لاٹھیاں زیادہ تر خواتین اور اقلیتوں پر برستی ہیں۔
۔ دونوں اسلامی برانڈز سے وہاں کے عوام اسقدر متنفر ہیں کہ ان کی اولین ترجیح ملک سے فرار ہے۔
۔ اور دلچسپ پات یہ کہ دونوں دنیا کے کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں بھی  شامل ہیں۔
 لیکن اب بھی ان استحصالی نظام  اورحکومتوں سے وابسطہ ملا ،مولوی، آخوند، آخوند زادےیا آخوند ملیدہ لوگ دنیا کے کسی  بھی خطے میں ہوں، انہی کی تعریفوں کے پل باندھنے اور بہترین بہترین کی رٹ لگانے سے باز آنے والے نہیں۔

اگر یقین نہیں!……تو اپنے گرد و پیش نظریں دوڑائیں ان جیسے آپ کو بہت سارے مل جائیں گے۔“

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *