بے پناہ شادمانی کی مملکت

”بے پناہ شادمانی کی مملکت“ ارندھتی رائے کا دوسرا ناول ہے۔ ارندھتی رائے بھارت سے تعلق رکھنے والی مصنفہ ہے جنہوں نے اس سے پہلے بھی ایک ناول(دی گاڈ آف سمال تھنگز) لکھا ہے۔ ان دو ناولوں کے علاوہ انہوں نے سیاست اور انسانی حقوق کے حوالے سے اور بہت سی کتابیں اور مضامین لکھی ہیں۔ ارندھتی رائے سے واقفیت رکھنے والے دوست جانتے ہیں کہ وہ اپنے سیاسی نظریات کا کھلم کھلا اور بے باکانہ انداز سے اظہار کرتی ہیں اور اسی کی جھلک ان کے اس ناول میں نظر آتی ہے۔ ارندھتی رائے کا یہ ناول خود ارندھتی رائے کی طرح باہر سے پرسکون؛ جبکہ اندر سے ہنگامہ خیز نظر آتا ہے اور ناول پڑھتے ہوئے قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ارندھتی رائے خود آپ کے سامنے بیٹھی ہوئی آپ کو سنارہی ہیں۔ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ناول کے زیادہ تر کردار حقیقی طور پر وجود رکھتے ہیں اور مصنفہ ان کی زندگیوں کو بہت قریب سے دیکھ چکی ہیں۔ کئی بار تو ایسا لگتا ہے جیسے تلوتما کے کردار میں کوئی اور نہیں بلکہ خود ارندھتی رائے ہی ہے۔ اگر آپ ہندوستان کی سیاست میں ذرا سی بھی دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کریں گے، کہ یہ ناول اگر پورے ہندوستان کی سیاسی حالات کی نہیں تو کم از کم دہلی اور کشمیر کی سیاسی کشمکش کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ ویسے تو اس ناول کے بہت سارے کردار ہیں۔ لیکن ان تمام کرداروں کی کہانیاں ناول کے دو مرکزی کردار انجم اور تلوتما کے گرد بکھری پڑی ہیں۔

شروع میں یہ ناول اس گھڑی کی مانند لگتا ہے جس کے تمام ہندسے بکھرے ہوئے پڑے ہیں۔ اگر ان دو مرکزی کرداروں کے علاوہ ناول کے باقی کرداروں کو جزوی طور پر دیکھا جائے تو ان کی حیثیت ہندسوں سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ لیکن انجم اور تلوتما گھڑی کی دو ایسی سوئیاں ہیں جو ان ہندسوں کو معنی بخشتی ہیں۔ جس طرح گھڑی میں ایک ایسی ساعت بھی آتی ہے جو نئے دن کی خوشخبری لاتی ہے۔ بالکل اسی طرح جنتر منتر (دہلی کا وہ علاقہ جہاں لوگ احتجاج کرنے جمع ہوجاتے ہیں اور جہاں ہندوستان بھر سے لوگ اپنے اپنے مسائل کے لئے آواز اٹھانے آتے ہیں) میں مس جبین دوئم(Miss Jabeen II) کا ظہور ہوتا ہے۔ جس میں کہانی کے کرداروں کو امید کی ایک نئی کرن نظر آتی ہے۔ ناول کا پہلا مرکزی کردار انجم ہے جس کا نام پیدائش کے وقت آفتاب رکھ دیا جاتا ہے۔ انجم پرانی دہلی کا ایک ہیجڑا ہے جس کے والدین اسے مرد بنانے پر مُصر ہے، لیکن وہ خود عورت بننا چاہتی ہے۔ وہ اپنے گھر کو چھوڑ کر ”خواب گاہ“ چلی جاتی ہے، جہاں اسی کی طرح کے لوگ (ہیجڑے) رہتے ہیں۔ جنہیں دنیا والے(خواب گاہ کے باہر لوگ) قبول نہیں کرتے۔ انجم 2002ء میں کچھ دنوں کے لئے احمد آباد (گجرات) چلی جاتی ہے، لیکن گجرات کے فسادات میں اس کے ساتھ کچھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ دہلی واپس آنے کے بعد اس کا خواب گاہ میں رہنا مشکل ہوجاتا ہے، اس لئے وہ خواب گاہ چھوڑ کر ایک نزدیکی قبرستان میں ڈھیرا ڈال لیتی ہے۔ آہستہ آہستہ اس قبرستان کو پہلے گیسٹ ہاؤس اور پھر کفن دفن کا مرکز بنا دیتی ہے جہاں ان لوگوں کو رہنے اور دفنانے دیا جاتا ہے، جن کے لئے دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔ اس جگہ کو انجم ”جنت“ کا نام دے دیتی ہے۔(مصنفہ نے جنت کو کشمیر کے لئے بطور استعارہ استعمال کیا ہے۔ یعنی: ایک ایسی جنت جہاں قبروں کی بہتات ہو) دوسرا مرکزی کردار تلوتما کا ہے، جو دہلی میں رہنے والی ایک پڑھی لکھی خاتون ہے۔ تلوتما اپنے معشوق(موسیٰ) کی دعوت پر کشمیر چلی جاتی ہے اور کشمیر کی آزادی کی تحریک کو بہت قریب سے دیکھتی ہے۔ انجم اور تلوتما کا آمنا سامنا حادثاتی طور پر جنتر منتر پر ہونے والے ایک احتجاج کے دوران ہوتا ہے۔

ناول میں مختلف ہندوستانی مسائل کو بالعموم؛ جبکہ کشمیر کے مسائل کو بالخصوص زیر بحث لایا گیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام سے پیدا ہونے والے نئے مسائل؛ سیاستدانوں کا انتہاپسندی کی بھڑکی ہوئی آگ کو اپنے مفادات کے لئے استعمال میں لانے کی روش؛ اور ساتھ میں عوامی مسائل سے صرف نظری؛ ہندوستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی؛ ذات پات کی بنیاد پر تعصب؛ شناخت کی بنیاد پر لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس؛ گئو رکھشک کے نام پر بے گناہوں کا قتل؛ 1984ء میں اندرا گاندھی کا قتل اور اس کے بعد سکھ مخالف فسادات؛ اور بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں پر ظلم و ستم؛ کچھ ایسے مسائل ہیں جنہیں مصنفہ نے بڑی جرات کے ساتھ قارئین کے حضور پیش کی ہے۔ اس ناول کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ہندوستانی سیاست سے تعلق رکھنے والے چند حقیقی کرداروں اور ان سے جڑے دلچسپ واقعات کو بھی اس میں جگہ دی گئی ہے۔ جیسے کہ گجرات فسادات میں نریندر مودی کا پہلے بطور وزیر اعلیٰ کردار اور پھر وزیر اعظم بننے تک کا سفر؛ انا ہزارے اور 2011ء میں ان کی طرف سے کی جانے والی بھوک ہڑتال؛ اروند کیجریوال کا نوکری چھوڑ کر سیاست میں آنا اور انا ہزارے کے بھوک ہڑتالی کیمپ سے فائدہ اٹھانا؛ اور میجر جنرل جے ڈی بخشی کا روز ٹی وی پر چیخ چیخ کر انسانی حقوق کی تنظیموں کے خلاف باتیں کرنا۔ حالانکہ مصنفہ نے ان کرداروں کے اصل نام یا تو استعمال نہیں کیے ہیں یا پھر ان کے نام تبدیل کرکے پیش کیے ہیں۔ لیکن انہوں نے ان کرداروں کو اتنی دانائی سے بیان کیا ہے کہ ہندوستانی سیاست سے تھوڑی بہت جانکاری رکھنے والے دوست بھی بآسانی انہیں جان پائیں گے۔

ناول میں سوچنے پر مجبور کردینے والے مناظر کے ساتھ ساتھ ہنسانے والے اور دل دہلا دینے والے مناظر بھی موجود ہیں۔ انہی میں سے ایک دلچسپ منظریہ بھی ہے جس میں جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں ایک چھوٹی لاوارث بچی لوگوں کو مل جاتی ہے۔ جس پر احتجاج میں موجود مظاہرین میں اختلاف پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ اسے پولیس کے حوالے کرنا چاہتے ہیں، جبکہ کچھ پولیس بلانے کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ اسی دوران انجم اور اروند کیجریوال کے درمیان تُو تُو میں میں ہوتی ہے اور انجم کے ساتھی(باقی ہیجڑے) اپنے روایتی انداز میں تالیاں بجا بجا کر اروند کیجریوال کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بات زبانی گالم گلوچ سے بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے پولیس سب کو گرفتار کرلیتی ہے۔ اس کے علاوہ ناول کا سب سے متاثر کن منظر یہ ہے جب صدام ”جنت گیسٹ ہاؤس“ کے تمام رہائشیوں کو پہلی بار ایک بہت بڑے شاپنگ مال میں لے جاتا ہے۔ قدیم طرز کے جنت گیسٹ ہاؤس کے رہائشی جب پہلی بار جدید دور کے شاپنگ مال میں جاتے ہیں تو قاری بھی ان کی حیرت اور مسرت کو دیکھ کر محظوظ ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔ لیکن اگلے ہی لمحے قاری کو ایک بہت بڑا دھچکا لگتا ہے، جب صدام انہیں یہ بتاتا ہے کہ یہ(شاپنگ مال) وہی جگہ ہے جہاں پہلے ایک پولیس اسٹیشن ہوا کرتا تھا اور اسی پولیس اسٹیشن پر اس کے باپ کو گائے ذبح کرنے کے الزام میں قتل کیا گیا تھا۔ یوں تو یہ ناول انگریزی زبان میں ہے لیکن ناول پڑھنے والے ایک قاری کو ایسا محسوس ہو گا، جیسے یہ اردو میں سوچا اور لکھا گیا ہو اور ساتھ میں اس کے کردار بھی آپس میں اردو زبان ہی میں بات چیت کررہے ہوں۔ اس بات کے لئے مصنفہ کے ساتھ ساتھ ارجمند آرا بھی داد کی مستحق ہیں جنہوں نے اس ناول کاخوبصورتی سے ترجمہ کیا ہے۔ اس ناول میں ”اردو زبان“ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ ناول میں جابجا ولی دکنی، میر تقی میر، مرزا غالب، احمد فراز، علامہ اقبال اور حتیٰ کہ حبیب جالب جیسے شعراء اور ان کے اشعار کا ذکر ہوا ہے۔ خامیوں کی اگر بات کی جائے تو میری نظر میں اس ناول کی واحد خامی یہ ہے کہ اس کا پلاٹ اتنا پیچیدہ ہے کہ قاری کو پہلے پہل کہانی سمجھنے میں دشواری پیش آئے گی۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگ میری اس رائے سے اختلاف کریں اور اس کے پلاٹ کی پیچیدگی کو ہی اس کی سب سے بڑی خوبی قرار دیں۔ لیکن ادب کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے مجھے اس ناول میں محض یہی خامی نظر آئی ہے۔

پس نوشت: جب سے میں نے یہ ناول پڑھا ہے، تب سے میرے ذہن میں بار بار یہ سوال اٹھ رہا ہے۔ کہ کیا کبھی پاکستان میں بھی اس معیار کا ناول لکھا جاسکے گا؟

محمد امان

محمد امان

محمد امان درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *