ایک ادبی محفل کی روداد ۔۔۔ مہدی اسیر

ایک ادبی محفل کی روداد۔۔۔ رپورٹ: مہدی اسیر

مورخہ 15 نومبر 2020 کو مصطفی شاہد کے زیر نگرانی ایک ادبی نشست منعقد ہوئی جس کا سلسلہ پچھلے 10 برسوں سے جاری ہے۔ اس ادبی نشست میں سینئر شاعر جناب محسن شکیل نے بطور خاص شرکت کی۔ ان کے ہمراہ جناب جاوید نادری بھی تھے۔
مصطفی شاہد اور نشست کے دیگر شرکا نے محسن شکیل کا نہایت گرم جوشی سے استقبال کیا۔ اس نشست میں جناب محمد علی موسی، جناب خالق داد، جناب اکبر انجم، جناب علمدار حسین وفا، اسیر مھدی، محترمہ فروا بتول، مس نصرت، محترمہ ثانیہ خان اور دیگر شامل تھے۔
مصطفی شاہد اور محسن شکیل میں باتیں ہوتی رہیں جس سے گئے وقتوں کا ذکر چھڑ گیا۔ اس کے بعد ادبی نشست کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ سب سے پہلے اکبر انجم نے اپنی فارسی نظم سنائی جس کا عنوان “ہجرت” تھا۔ اس نظم کا پہلا مصرع جو ذہن پر اپنے نقش چھوڑتا ہے کچھ یوں ہے
“ہجرت انسان را میخورد!!”۔
اس نظم کی فضا پر مصطفی شاہد اور دیگر نے کھل کے بات کی۔ اس کے بعد اسیر مھدی نے اپنی اردو نظم “جستجو” سنائی جس کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ محسن شکیل نے نظم پر اپنی رائے کا بھرپور اظہار کیا اور تنقید کی۔ انہوں نے تنقید کرنے کا خوبصورت  جواز پیش کیا کہ “شاعر نے جو بیان کرنا تھا کر لیا۔ اب یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اس کے اظہار کے ساتھ چلیں کہ نہیں”۔ تنقید کے دوران انہوں نے اپنے تجربات اور واقعات کا سہارا لیا۔ انہوں نے کہا “اگر تنقیدی محفل میں دس یا بارہ افراد ہیں اور تنقید کرتے ہیں اور اس تنقید سے فنکار کی خامی دور ہوتی ہے تو کل کو جب ایک بڑے محفل یا بڑے مجمع میں فنکار اپنا فن پارہ پیش کرے گا تو اس کا ہی بھلا ہوگا”۔ انہوں نے مزید اضافہ کیا کہ “فنکار کو تنقید کرنے والے کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور اسے عزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے کہ اس نے اسے اپنی خامی کو پرکھنے میں مدد کی”۔ انہوں نے شاعری کی فضا پر بات کرتے ہوئے منیر نیازی، مجید امجد اور امجد اسلام امجد کی مثالیں دیں کہ کیسے وہ ایک الگ فضا قاری کے لئے بناتے ہیں اور قاری غیر محسوس طریقے سے اس فضا میں کھو جاتا ہے۔ اس کے بعد صائب تبریزی کے فارسی شعر پر گفتگو ہوئی۔ شعر یہ تھا:
فکر شنبہ تلخ دارد جمعئہ اطفال را
عشرت امروز بی اندیشئہ فردا خوش است
آخر میں محسن شکیل کو دعوت کلام دی گئی۔ انہوں نے دو غزلیں اور ایک نظم سنائی۔ اس کے بعد سب افراد دھوپ میں چلے گئے اور چائے کا دور چلا۔ محسن شکیل نے مصطفی شاہد کو کامیاب نشستیں منعقد کرنے پر داد دی اور نشستوں کو مزید بہتر بنانے کے لئے تجویزیں بھی دیں۔ محسن شکیل نے نشست میں موجود طلبہ اور طالبات سے اپنے تجربوں اور ڈراموں کا ذکر کیا اور انہیں کسی بھی قسم کے سوال کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بلآخر تین گھنٹہ طویل یہ نشست محسن شکیل کے رخصت کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔

اظہار

اپنی سوچ کا اظہار کیجئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *