یک بام و دو ہوا ۔۔۔ زہرا علی

٭
صحن کے اس سایہ دار دیوار کے ساتھ ہی صاف ستھری سی دری بچھائے، چار پانچ بچوں کو تھوڑے فاصلوں پر بٹھا کر رقیہ انہیں پڑھانے میں مصروف تھی۔ شام کے غالباً پانج بج رہے تھے، اور ابھی مسلسل تین گھنٹوں تک ان بچوں کے ساتھ کام کرنا تھا۔ کچھ ہی فاصلے پر چارپا ئی پر اس کی امی بیٹھی سویٹر بُن رہی تھی، تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد وہ نظر اٹھا کر رقیہ کی طرف دیکھتی تو اُن کا جی کھٹکنے لگتا۔
چار سال پہلے رقیہ کی شادی انہوں نے بڑے دھوم دھام سے عمران سے کروائی تھی۔ عمران اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا، اس کے والد کی گاڑیوں کی خرید و فروخت کا بہت بڑا کاروبار تھا ۔ دولت اور پیسے کی ریل پیل تھی۔ رقیہ بڑے مان سے بیاہ کر اس گھر میں گئی، لیکن اس کا گھر بس نہ سکا، اور ابھی کچھ مہینے پہلے وہ خلع لے کر واپس آگئی تھی ۔ عمران سخت مزاج اور غصے کا تیز تھا اور رقیہ پر جسمانی اور ذہنی تشدد پر ہی اس کا غصہ دھواں ہو جاتا۔ اس کی بات بات پر مار پیٹ اور گالم گلوچ ، بے منطق اور بلا وجہ کے طعنوں نے رقیہ کا جینا دوبھر کردیا تھا ، وہ ایک پر تشدد شخص تھا ۔ پہلے پہل یہ سب کچھ ان کے درمیان ہی رہا، لیکن بات کمرے کی دیواروں سے باہر نکلی تو ایک عمومی رویہ اپناتے ہوئے رقیہ کی ساس نے نصیحتوں کی گٹھڑی رقیہ کے سر پر ہی رکھی اور ساتھ ہی کچھ روایتی جملے بھی دہرائے!
’’ شادی شدہ لڑکیوں کی عزت سسرال سے ہی ہوتی ہے۔ گھر تو عورت ہی بناتی ہے، مرد کا کام تو کما کر لانا ہوتا ہے۔ تم ہزار دفعہ شکر کرو کہ عمران تم سے بد سلوکی کے بعد پچھتاتا بھی ہے میں نے دیکھا ہے اسے اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہوتے ہوئے۔ وہ اگر غصے میں ایک آدھ تھپڑ مار بھی دیتا ہے تو کھانے میں کیا حرج ہے۔ عمران دل کا بہت صاف ہے، بس غصے میں اپنا ہوش کھو بیٹھتا ہے، اس کا مزاج بچپن سے ہی ایسا ہے۔ تم اس کی غلطیوں کو معاف کردو گی تو خود بخود سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں عمران کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ یہ رعب و دبدبہ اسے اپنے باپ دادا سے ملا ہے۔ یہ جاہ و جلال اس کے خاندانی ہونے کا پتہ دیتا ہے۔ میں نے عمران کے ابو کے ساتھ کیسے کیسے دن گزارے، تمہیں سنانے بیٹھ جاوں تو تم ششدر رہ جاو گی۔”
وہ آگے بھی کچھ کہنے لگی تھی لیکن نا جانے کیوں رُک گئی۔
’’ ایسی غلطی کی کیسی معافی اور اس کا کیا فائدہ جو بار بار دہرا ئی جائے، مار پیٹ عمران کی فطرت میں شامل ہے، آپ اسے اس کی غلطیوں میں شمار نہ کریں، غلطیاں سدھر جاتی ہیں لیکن فطرت نہیں بدل سکتی ۔”
اپنی صفائی میں کہے گئے الفاظ اس کی ساس کو ہضم نہ ہو سکے تو ناراض ہوتے ہوئے بولی۔ ’’ بیوی کو مارنا شوہر کا حق ہے، اللہ نے یہ حق دیا ہے شوہر کو۔ جاؤ جا کر قرآن پڑھو اور سیکھو کہ اچھی بیویاں کیسی ہوتی ہیں اور ان کے کیا فرا ئض ہیں؟”
’’ مجھے یقین ہے کہ قرآن میں یہ کہیں نہیں لکھا ہو گا کہ ایک اچھی بیوی کے بہت سارے فرا ئض میں شوہر کی گالیاں اور بلاوجہ جوتے بھی کھانا ہوتا ہے، اور غصے کی حالت میں پُرتشدد رویہ برداشت کرنا بھی۔”
اب کے رقیہ بولی تو عمران کی امی کا لہجہ دھیما پڑ گیا، وہ رقیہ کو سمجھاتے ہوئے بولی
’’ دیکھو رقیہ ! خدا نے مرد کو عورت کا نگران بنایا ہے، وہ عورت پر اپنا مال خرچ کرتا ہے، خود ہزار جتن اٹھاتا ہے تاکہ اپنی بیوی کو راحت پہنچائے۔ اُس کو سختی برتنے کا پورا پورا حق ہے اور ضرورت پڑنے پر و ہ عورت پر ہاتھ بھی اٹھا سکتا ہے، یہ میں نہیں کہہ رہی یہ اللہ کا حکم ہے۔’’
’’ اللہ مرد کو بحیثیت شوہر کون سی عورت پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت دیتا ہے؟ نافرمان اور سرکش عورت پر۔ آپ خود اس بات کی گواہ ہے کہ نہ تو میں سرکشی کرتی ہوں نا ہی میں نافرمان ہوں ۔ مار میں صرف اس لیے کھاؤں تاکہ اس کے بعد میرے شوہر کا غصہ ٹھنڈا پڑ جائے ۔ خدا نے عورت کے تحفظ کے لیے مرد کو نگران بنایا ہے نہ کہ اس کومار پیٹ کے لیے۔ “
ہار ما نتے ہوئے عمران کی امی اتنا ہی بول پائی ، ’’ صبر کرو رقیہ، وقت کے ساتھ سب بدل جاتا ہے۔ تم دیکھنا تمہاری گود میں ایک بچہ آئے گا تو عمران کیسے بدل جائے گا۔”
قسمت کی کرنی کہ چار سال تک بچہ ہوا اور نہ ہی عمران کے رویے میں کوئی تبدیلی آئی ۔ دونوں کے مسائل کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے تو بالآخر رقیہ خلع لے کر اپنے ماں باپ کے گھر آ گئی اور اپنے ساتھ نئی مصیبتوں کا ایک انبار بھی لے آ ئی ۔ خاندان، رشتے دار اور محلے والوں کی باتوں سے اسے چُپ سی لگ گئی۔ وہ بجھی بجھی سی رہنے لگی ، امی کے مشورے پر صبح کسی پرائیویٹ سکول میں اور شام کو ٹیوشن پڑھانے لگی ۔ خود اس کے ماں باپ رقیہ کے خلع کے فیصلے سے کافی نا خوش تھے سب کچھ جاننے اور رقیہ کی حالت پر کڑھنے کے باوجود وہ ایک غیر محسوس طریقے سے رقیہ سے اپنی نا راضی کا اظہار کرتے تھے۔ضرورت کے علاوہ اس سے کوئی بات نہیں کی جاتی تھی۔
بیرونی دروازے پر دستک ہوئی تو رقیہ دروازہ کھولنے کے لئے اٹھی۔ ابھی دروازے پر پہنچی بھی نہیں تھی کہ حسب توقع پڑوس کی خالہ رحیمہ ہانپتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ دروازہ اندر سے بند نہیں ہوگا شاید، اور دروازے پر دستک انہوں نے رسماً ہی دی ہوگی۔
چلو اچھا ہے، کھبی تو دستک دے کر آتی ہے۔ رقیہ نے دل میں سوچا اور خالہ رحیمہ کو سلام کیا۔
خالہ رحیمہ سلام کا جواب دیئے بغیر روایتی انداز میں آہ و نالہ کرتی اندر داخل ہوئی، ’’ ہائے کمبخت گھٹنوں کے درد سے نہ کھڑی ہو پاتی ہوں اور نہ ہی ایک قدم چلا جاتا ہے ۔ ماں ہے تمہاری گھر پر؟’’
’’جی خالہ امی ہے گھر پر، آئیے میں مدد کر دیتی ہوں ۔’’
رقیہ بھاری بھرکم حلیمہ خالہ کو سہارا دے کر چاپائی تک لے آئی، خا لہ بیٹھی تو یوں زور زور سے سانس لینے لگی کہ خود ان کے پھیپھڑوں تک سے آوازیں آنے لگی۔
خالہ رقیہ ان کے پڑوس میں رہتی تھی۔ اکیلی بیوہ عورت تھی اور بے اولاد بھی۔ سالوں اپنی ایک یتیم بھانجی کی پرورش کرتی رہی جس کی اب شادی ہو چکی تھی۔
خالہ رحیمہ ،رقیہ کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ یہ خاتون محلے کی انہی عورتوں میں سے تھی، جنہیں اپنے گھر سے زیادہ دوسروں کے گھروں اور ان کے معاملات میں دلچسپی ہوتی ہے۔ رقیہ کی اپنی امی سے کئی بار اس بات پر باقاعدہ لڑائی ہوچکی تھی کہ وہ ان کے گھر میں خالہ رحیمہ کا آنا جانا بند کر ادے۔ خالہ کا آنا جانا تو نہیں رکا ، البتہ رقیہ اب امی سے اس بارے میں بات  کرنے سے بھی کترانے لگی تھی۔
امی کے بقول اب خالہ رحیمہ سمیت ہر کسی کو رقیہ کے بارے میں بات کرنے کی کھلی چھٹی تھی۔ جس معاشرےمیں ہم رہتے ہیں ، یہاں عام طور پر لوگ جن چیزوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، ان میں سب سےزیادہ دلچسپ طلاق شدہ خواتین اور ان کی زندگی ہوتی ہے۔ جہاں کہیں کسی عورت کو طلاق ہوئی ، سارا معاشرہ جا کر اس کے دروازے پر کھڑا ہوجاتا ہے، اور ہر فرد اپنے بغل میں دبائے اخلاقیات کی وہی کتاب نکال کر زور زور سے پڑھنا شروع کر دیتا ہے، جو شاید خود انہوں نے بھی کھبی نہ پڑھی ہو۔
رقیہ تھرموس سے خالہ کے لیے چائے انڈلینے لگی۔ سبز چائے کو دیکھ کر ہی خالہ کا موڈ بگڑ گیا، لیکن رقیہ یا اس کی امی پر بھڑکنے کے بجائے وہ چائے میں کیڑے نکالنے لگی، ’’ ارے میں تو کہتی ہوں اس چائے میں رکھا ہی کیا ہے، نا کوئی رنگ، نا ذائقہ اور نہ ہی پینے سے کوئی طاقت ملے۔ اب اس عمر میں پہنچ کر بھی بندے کو یہی کھانے پینے کو ملتا رہے تو خاک جسم میں طاقت آئے گی۔ ویسے بھی یہ چائے اب مجھے نہیں جچتی، خدا جانے کیوں پیتی ہوں تو تین دن تک سر چکرانا رہتا ہے۔”
رقیہ کے ہاتھ رکے تو اپنی ماں کی طرف دیکھا، آنکھوں کے اشارے سے ہی اٹھ کر باورچی خانے میں دودھ پتی بنانے چلی گئی۔ پیچھے سے رحیمہ خالہ حسب معمول محلے کی شہ سرخیاں سُنانے لگی۔ بدستور پھولتی ہوئی سانس اور ہانپنے کے باوجود وہ مسلسل محلے کے ایک ایک گھرکے ایک ایک فرد کی چغلیاں کھانے لگی۔ چائے تیار ہو کر آئی تو رقیہ چائے ڈال کر دوبارہ بچوں کو پڑھانے چلی گئی۔
’’آج پھر میری شامت آئے گی، خالہ رحیمہ آج پھر کسی کی سنی سنائی بات ہی پہنچانے آئی ہوگی” اور ایسا ہوا بھی۔ 
’’ رقیہ کی امی ! تم نے رقیہ کا کیا سوچا ہے آگے۔ شادی تو کرواؤ گی نہ لڑکی کی، اب عمر بھر تو بٹھا کر کھلانے سے رہی۔ ’’ خالہ رحیمہ نے پوچھا۔
’’ کوئی اچھا رشتہ ملے گا تو شادی بھی کرا دیں گے۔ اپنے پچھلے تجربے سے سہم سی گئی ہے اب تو رقیہ۔ “
’’ میں تو کہتی ہوں ، بہت نادان ہےتیری بیٹی۔ جدھر لوگ طلاق کا دھبہ لگوا کر جینے سے ڈرتے ہیں، یہ پگلی چہرے پر خود ہی کالک مل کر آگئی۔ چھوٹی سی بات پر خلع لے کر آگئی۔ اب کہاں سے ملے گا اس کے معیار کا رشتہ، لوگ تو ہزار ہزار باتیں بنائیں گے۔ دوسری بار کی شادی بھی کیا شادی ہوگی، سنا تو ہو گا تم نے، اول خانہ خانہ، دوم خانہ ترانہ۔ ’’ خالہ رحیمہ کہنے لگی۔
’’ خالہ رحیمہ ! آپ کو سب پتہ تو ہے۔ “
’’ ارے چھوڑو بہن ! نا شکری اچھی بات نہیں ہوتی۔ ہم نے بھی تو دیکھا تھا رقیہ کو، وہ تو راج کر رہی تھی عمران کے ساتھ۔ کسی چیز کی کمی تو نہیں تھی، دولت اور پیسے کی ریل پیل تھی۔ اپنی بڑی سی گاڑی میں آتی تو ہماری گلی چھوٹی پڑ جاتی تھی۔ بڑے عیش تھے تیری رقیہ کے بھئی۔ سنبھال نہ پائی سب کچھ، کسوٹی پر پورا نا اتر سکی تیری بیٹی۔ اب دیکھ دیکھ کر دل بہت دکھتا ہے، بسوں کے دھکے کھاتی رہتی ہے، اور چند ہزار کی تنخواہ کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھاتی ہے۔”
’’عمران غصہ کر کے مار پیٹ کرتا تھا، بات بات پر بے عزتی کرتا تھا رقیہ کی اور۔۔۔’’
حلیمہ خالہ نے بات کاٹتے ہوئے کہا،’’ عزت ، عزت کی رٹ لگائی ہوئی ہے تم لوگوں نے ۔ اب کاہے کی عزت بھئی۔ اس عزت سے تو بہتر تھا کہ وہ وہیں رہتی اپنے شوہر کے پاس۔ اب بیٹھ کے اس عزت کا اچار ڈالےگی کیا؟ کیا ہوا جو غصے میں تھوڑی سی مارپیٹ کرتا تھا، مردوں کو غصہ آ ہی جاتا ہے ، غصہ کرنا تو مردوں کی شان ہے ۔ میں تو کہتی ہوں عمران جیسے شوہر کے دس جوتے کھانے کے بعد گیا رواں بھی حلال ہے۔’’
” مر تیکہ دل شی شود خاتو رہ چپلی کدہ پایہ مونہ ، دل شی شود کولہ کدہ سر مونہ ، دورے مرتیکہ کی مونہ۔” خالہ رحیمہ روایتی انداز میں بولی۔
رقیہ کی امی خاموشی سے اپنے نہ بہنے والے آنسوؤں کا گھونٹ پی کر خالہ رحیمہ کی باتیں سننے لگی۔
خالہ رحیمہ شڑ شڑ چائے کی چسکیاں لینے لگی۔
’’ سیدہ کا کیا حال ہے؟’’ اب کی بار رقیہ کی امی نے پوچھا۔
سیدہ خالہ رحیمہ کی بھانجی تھی۔ بچپن میں ہی یتیمی سر پر آن پڑی تو خالہ رحیمہ نے ہی پال پوس کر بڑا کیا۔ خالہ رحیمہ کی بہن نے ایک سید گھرانے کے لڑکے سے اپنی پسند کی شادی کی تھی۔ ایک غیر سید لڑکی سے شادی کے جرم میں وہ دونوں خا ندان سے بے دخل کرا دیئے گئے۔ سیدہ کی پیدائش کے کچھ ہی سال بعد خالہ رحیمہ کی بہن اور بہنوئی چل بسے تو خالہ رحیمہ کے علاوہ سیدہ کے ددھیال میں کسی نے اس کے سر پر ہاتھ نہ رکھا۔
سیدہ کے نام پر خالہ رحیمہ ایک دم چاق و چو بند ہو کر ایسے سیدھی ہو کر بیٹھی کہ گویا پورا سراپا گویا ئی بن گئی ہو۔
’’ کیا بتاو بہن ، کیا حال سناؤں میں اپنی سیدہ کا؟’’
رقیہ کی امی کا ہاتھ پکڑ کر اس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔ ’’ ہائے میری سیدہ کن ظالموں کے ہاتھوں چڑھ گئی۔ رُل گئی ہے میری معصوم بھانجی اس گھر میں ۔ اس کا نکما شوہر تو اب پختہ نشئی بن گیا ہے۔ نشے کے علاوہ اس کو اب کسی چیز کا ہوش نہیں ۔ نشہ پورا نہ ہو تو سارا گھر سر پر اٹھا لیتا ہے اور سیدہ کو مارتا پیٹتا ہے وہ ظالم ۔’’ وہ باقاعدہ رونے لگی تو رقیہ کی امی اسے دلاسے دینے لگی۔
’’ارے رقیہ کی امی! میں تمہیں کیا کیا قصے سناؤں اپنی معصوم بھانجی کی ۔ ابھی میں پرسوں اس کی طرف ہو آئی تھی، میرے سامنے ہی مار مار کر لہو لہان کر دیا میری گڑیا کو، حیا نہ آئی نا مراد کو۔ ’’
’’کیوں ماراتھا؟’’
’’نشے کے لیے پیسے مانگ رہا تھا۔ پیسے ہوتے تو دیتا کوئی۔ تجھے یاد ہے وہ سونے کی اکلوتی بالیاں جو میں نے رخصتی پر سیدہ کو دئیے تھے وہی چرا کر لے جا رہا تھا، سیدہ نے مزاحمت کی تو غصہ چڑھ گیا اور میری مظلوم بھانجی کو یوں مارا کہ پوچھو مت۔’’ وہ روتے ہوئے بتانے لگی۔
’’چچ چچ چچ ، بہت افسوس ہوا سن کر۔”
’’ تم نے دیکھا تو تھا کیسے پالتی تھی میں اسے، پلکوں پر بٹھا کر رکھا تھا میں نے اس معصوم کو۔ دیکھ لینا رقیہ کی امی ! خدا کا ایسا عذاب نازل ہو گا اس ظالم پر۔ ارے ایسی ویسی پیغمبروں کی اولاد ہے میری سیدہ۔ ایسے تھوڑی نا رکھتے ہیں سیدوں کی اولادوں کو، مقدس ہوتے ہیں وہ لوگ، وہ دعا کریں تو دعا لگتی ہے اور بد عا کریں تو بددعا لگتی ہے۔ بس ہاتھ اٹھا نے کی دیر ہے رب کی بارگاہ میں، تم دیکھنا خدا ایسا قہر نازل کرے گا ظالم پر کہ عبرت کا نشان بن جائے گا وہ۔ نشہ کر کے بیوی کو مارتا پیٹتا ہے ہاتھ ٹوٹیں اس کے۔۔۔۔’’
وہ رو رو کر بد دعائیں دے رہی تھی اور کچھ ہی فاصلے پر بیٹھی رقیہ سوچ رہی تھی، ’’ تشدد تو کسی حالت میں قابل قبول نہیں ۔ اگر کسی شخص کا نشے کی حالت میں تشدد ایک قابل مذمت عمل ہے تو بغیر نشے کے غصہ کر کے تشدد کرنا کیونکر قابل برداشت ہے۔ ظلم سید کی اولاد پر ہو یا غیر سید پر، ظلم تو ظلم ہوتا ہے۔ ایک پر تشدد شخص سے خلع غلط کیوں ہے اور صرف معاشرے کے ڈر سے اسی شوہر کا ظلم برداشت کرنا صحیح کیوں ہے؟’’
زہرا علی

زہرا علی

زہرا علی ناروے کے شہر تروند ہایم میں مقیم ہیں۔ کتب بینی کے علاوہ افسانے اور کہانیاں لکھنے کا شوق رکھتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *