پاگل ۔۔۔ اسد مہری

*
کئی سال پہلے ایک بار والد صاحب نے مجھے اپنے ساتھ کسی جنازے پرچلنے کو کہا۔ میں جانا تو نہیں چاہتاتھا مگر ابّوکو نا کہنا بھی گویا اپنے جنازے کو آواز دینے کے مترادف تھا۔ خیر جب میت والے گھر پہنچے تو والد صاحب اندر مرحوم  کی فیملی سے ملنےچلے گئے اور مُجھے گیٹ کے ساتھ واٹر ٹینک کے قریب بیٹھنے اور اپنی جگہ سے نہ ہلنے کی تاکید کی۔ کُچھ دیر بعد غسل خانے کا دروازہ کُھلا اور ایک بندہ اندر سے گیلے ہاتھوں کے ساتھ باہر نکلا ۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو جھلک رہے تھے۔ میرے سامنے پہنچے تو میرے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے
“بیٹا یہ زندگی بہت مختصر ہے اور پلک جھپکتے ہی گُزر جاتی ہے۔ اپنی زندگی خوب جیو اور ہر پل اپنوں میں رہو، کیونکہ کیا پتہ اُنھیں دیکھنے کی فرصت پھر نا ملے”
یہ کہہ کر وہ اندر چلے گئے جہاں سے گھر والوں کے رونے کی اوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ کُچھ دیر بعد جنازہ باہر لایا گیا۔ سب رو رہے تھے۔
 “قبرستان لے جانے سے پہلے علی کا چہرہ اس کے گھر والوں کو دیکھنے دیں” کسی نے آواز دی!
میں میت کے ساتھ ہی کھڑا تھا جب میت کے چہرے  سے کفن ہٹایا  گیا تو یہ دیکھ کر مجھے حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا کہ وہ شخص جو کُچھ دیرقبل میرے سر پر ہاتھ رکھ کر گیا تھا، تابوت میں مُردہ پڑا تھا۔ میرے تو پاؤں تلے سے زمیں نکل گئی۔ میرے بال ابھی تک اُن کے گیلے ہاتھوں کی وجہ سے نَم تھے۔ یہ جان کر مجھ پر اتنا خوف طاری ہوگیا کہ میں وہاں سے فوراً بھاگ نکلا اور سیدھا گھر چلا گیا۔
شام کو اس بات پر مجھے خوب مار پڑی کہ میں جاہلوں کی طرح وہاں سے بھاگ کے گھر کیوں آیا تھا۔
اس دن کے بعد وہ شخص روز میری آنکھوں کے سامنے آنے لگا۔ جاگتے سوتے وہ ہر جگہ میرے آس پاس ہوتا۔ راتوں کو مجھے ڈراونے خواب آنے لگے جن کی وجہ سے میں کمزور اور نفسیاتی مریض بننے لگا جسے دیکھ  کر میرے گھر والے مجھے ڈاکٹر اور مولویوں کے پاس لے جانے لگے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید مجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے یا کسی جن کا سایہ پڑا ہے۔  اس طرح پانچ  سال گزر گئے اور میں خاندان اور جاننے والوں میں پاگل کے نام سے مشہور ہوگیا۔ اب نہ تو کوئی میرے ساتھ کھیلتا اور نہ ہی کسی کو مجھ  پاگل کے ساتھ کھیلنے کی اجازت تھی۔
ایک بار گرمیوں کی چھٹیوں میں بھائی سب گھر والوں کو لورلائی لے گئے۔ میں گلی میں کھڑا دوسروں کو کھیلتے دیکھ رہا تھا کہ وہی شخص جس کا کچھ سال پہلے انتقال ہو چکا تھا، رکشے سےاُترا اور میری طرف بڑھنے  لگا۔ یہ دیکھ کر میں دوڑتا ہوا گھر کے اندر بھاگا۔ مجھے محسوس ہوا جیسے وہ بھی میرے پیچھے آرہا تھا۔ میں نے گھر کے اندر داخل ہوتے ہی دروازہ بند کردیا۔ اب وہ شخص دروازے پر دستک دینے لگا تھا جبکہ میں چیخ کرسب کو دروازہ کھولنے سے منع کرنے لگا۔ اسی دوران بھائی آگئے اور انہوں نے کھینچ کر ایک زوردار تمانچہ میرے مُنہ پر مارکر مجھے اندرجانے کو کہا۔
 میں رونے لگا تو امی نے وجہ پوچھی۔ میں نے اُنھیں بتایا کہ یہ وہی مردہ شخص ہے جس کے جنازے پر پانچ سال قبل میں اور ابو گئے تھے۔  اب وہ یہاں بھی میرے پیچھےآ گیا ہے۔  یہ وہی شخص ہے جس نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔
یہ سن کر ماں رونے لگی اور بولی کہ میں نے اُنہیں پہلے یہ بات کیوں نہیں بتائی اور اتنے سال اندر ہی اندر غم اور خوف سہتا رہا۔  پھر اچانک امی ہنسنے لگی اور بولی کہ یہ شخص در اصل اس مرنے والے کا جڑواں بھائی ہے اور یہ یہاں لورالائی میں رہتا ہے۔ 
یہ کہہ کر امی نے بھائی کو بلایا اور سارا قصہ بیان کر کے مُجھے اس شخص سے ملنےکو کہا۔
سوچتا ہوں کہ کاش میں نے یہ سب پہلے ہی دن امی کو بتا دیا ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید میں پاگل نہ بنتا اورایک  نارمل زندگی گزار رہا ہوتا۔
اسد مہری

اسد مہری

اسد مہری گزشتہ 21 سالوں سے بیرون ملک مُقیم ہیں۔ انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ اس دوران انہیں صرف تین بار ہی اپنے گھر والوں سے ملنے کا موقع ملا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *