عورت کی آواز ۔۔۔ فاطمہ عاطف

اگر تم سوچتے ہو کہ میرا جسم میری مرضی کا مطلب عورتوں کا بے لباس ہونا اور ہر مرد کے ساتھ سونا ہے تو اس میں میرا قصور نہیں۔ مسئلہ تمھاری سوچ میں ہے ۔ تم نے ہمیشہ مجھے صرف اور صرف جسم سمجھا اور اس پر اپنی اجارہ داری کو اپنا حق ۔بس اب اور نہیں ۔۔
تو سن لو
میرا جسم میری مرضی کیونکہ ۔۔
* میں بہت چھوٹی عمر میں شادی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میرا جسم اور ذہن اس قابل نہیں کہ میں ازدواجی معاملات کو سمجھ سکوں، وقت سے پہلےبچے پیدا کر سکوں اور ساری زندگی ناتوانی اور بیماریوں کا سامنا کرتے ہوئے گزاروں ۔
* اپنی زندگی کا ساتھی چننے میں میری مرضی شامل ہونی چاہیے کیونکہ زبردستی کی شادی میں ہمیشہ مسئلے ہی رہتے ہیں ۔
* میں ایک نارمل انسان کی طرح گھر میں اور باہر ( سکول کالج دفتر ) جانا چاہتی ہوں ۔ کئی چبھتی ہوئی نظریں اور آتے جاتے لگنے والے ہاتھوں اور جملوں سے انتہائی کراہیت آمیز احساس پیدا ہوتا ہے۔ اور اگر ایسا ہونے پر میں بات کروں تو الزام مجھی پر آتا ہے ۔ گھر سے باہر کام کی خاطر نکلنے والی عورتیں بد کردار نہیں ہوتیں وہ تو صرف اپنے خاندان کے گزر بسر کی خاطر نکلتی ہیں ۔
* اپنے شوہر کے ساتھ ہمبستری کا فیصلہ ہمیشہ اس کی مرضی اور حساب سے نہ ہو بلکہ میری مرضی سے بھی ہو۔ جنسی تسکین صرف اس کا نہیں میرا بھی حق ہے ۔

* بچوں کی تعداد کا تعین اور وقفے میں میری مرضی بھی شامل ہو تاکہ میں ایک صحت مند زندگی گزارتے ہوئے صحت مند نسلوں کی بہترین پرورش کر سکوں ۔
* مرد اپنی آپس کی لڑائیوں میں مجھے ” ونی، سوارا اور کاری ” نہ کریں میں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں۔ اپنی غلطیوں کا کفارہ میری صورت میں ادا نہ کریں بلکہ اپنی غلطی کی قانونی سزا خود بھگتیں۔
* جب مرد کے سر پر شیطان سوار ہو تو کچھ مہینوں کی بچیوں سے لے کر پانچ، چھ، سات سال کی بچیوں کا ریپ اور قتل کرکے کچرے میں نہ پھینکیں ۔ میں چاہتی ہوں کہ میں بغیر کسی خطرے کے تعلیم حاصل کرکے معاشرے کا ایک کارآمد حصہ بنوں ۔
* جب میں کسی بھی وجہ سے کسی لڑکے سے شادی کرنے سے انکار کروں تو وہ مجھ پر تیزاب پھینک کر اس بات کا بدلہ نہ لے اور میرے وجود اور روح کو زخمی نہ کرے، نہ ہی مجھے بد کردار ثابت کرنے کی کوشش کرے۔
* جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو قبر سے نکال کر میرے ساتھ جنسی زیادتی نہ ہو ۔ قبر میں تو مجھے سکون سے رہنے دیا جائے۔

* جب میں( چھوٹی بچی) کوئی چیز لینے دکان پر جاؤں تو ریش سفید بزرگ دکاندار بہانے بہانے سے میری چھاتیوں کو ٹٹولنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ میں سہم جاتی ہوں اور مجھے پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ان کا مقصد کیا ہے۔

*جب میں ڈاکٹر کے پاس جاؤں تو دوران آپریشن میری بے ہوشی کا فائدہ اٹھا کر میرے جسم کو نہ روندا جائے ۔
* مجھے علاج معالجے کی ساری سہولیات میسر ہوں۔ میرے ہسپتال جانے سے خاندان کی عزت پر حرف کیوں آتا ہے!؟
*جب میں عدالت میں اپنے قانونی حق کے لئے انصاف مانگنے جاؤں تو جج مجھے مجبور کرکے مجھ سے ہمبستری نہ کریں کیونکہ انصاف مانگنا میرا حق ہے۔

* مجھے مرد کی مرضی سے اپنے کپڑے اتارنے کی نہیں بلکہ اپنی پسند کے کپڑے پہننے کی آزادی ہو۔ حالات اور موسم کی شدت کے حساب سے میں برقع پہنوں، حجاب کروں، دوپٹہ یا دوپٹے کے بغیر مجھے مکمل اختیار ہو۔
* جب میں حاملہ ہوں یا میرے چھوٹے بچے ہوں تو نوکری کے لئے انٹرویو کے دوران ہی مسترد نہ کردی جاؤں ۔
* میری مرضی کے خلاف مزہب تبدیل کرکے میری زبردستی شادی نہ کروائی جائے۔
* میں بہت چھوٹی ہوں۔ مدرسہ قرآن پاک پڑھنے جاتی ہوں تو ملا میرے جسم سے اپنی شہوت کیوں مٹاتا ہے۔

* مجھے دفتر میں، سڑک پر ہسپتال میں، عدالت میں، تعلیمی ادارے میں، اسمبلی میں، مدرسے میں کوئی مرد ہراساں نہ کرے۔ مجھے اختیار ہو کہ میں ان کی پیش قدمی پر ردعمل دکھاؤں اور ملک کا قانون میری معاونت کریں ۔

* میری اجازت اور مرضی کے بغیر کوئی مجھے چھوئے نہ فائدہ اٹھائے کیونکہ مجھے کسی صورت یہ بات منظور نہیں۔

* میں ایک باشعور انسان ہوں اور اپنی زندگی کے متعلق فیصلے کرسکتی ہوں اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار بخوبی ادا کرسکتی ہوں۔

فاطمہ عاطف
Latest posts by فاطمہ عاطف (see all)

فاطمہ عاطف

فاطمہ عاطف پاکستان میں سول سوسائٹی کی ایک توانا آواز ہیں اور انسانی حقوق، امن اور ثقافت کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کام کرتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *