شہید بابا مزاری، ایک تاریخ ساز شخصیت ۔۔۔ اسحاق محمدی

 

مختصر سوانحی خاکہ:-

سال تولد: جوزا 1326 ہجری شمسی مطابق 27 مئی 1947ء    

مقام تولد: گاوں نانوائی، ضلع چہارکِنت، شمالی صوبہ بلخ

والد محترم: حاجی خداداد (جوافغان حکمرانوں کے مظالم کیوجہ سے اپنی آ با ئی سرزمین سُرخ جوی ورس، صوبہ بامیان، ہزارستان کو ترک کرکے وہاں ہجرت پر مجبورہوے تھے)۔

تعلیم: ابتدائی تعلیم چہار کِنت، بعد از آں ایران، عراق اور شام سے حاصل کی

جبری فوجی خدمت: 1969ء تا 1970ء کے دوران دو سالہ جبری فوجی خدمت بھی کی

سیاست: شہید مزاری شروع ہی سے سیاست کی طرف روجحان رکھتے تھے۔ جوانی کے دور میں سید اسماعیل بلخی کے افکار سے متاثر تھے اور ان سے کئی بار ملے بھی تاہم باقاعدہ جدوجہد کا آغاز1979ء میں حزب نصر کی تشکیل سے کیا۔ 1990ء میں ہزارستان سے طویل خانہ جنگی کو ختم کرکے حزب وحدت کی بنیاد ڈالی اور اکی قیادت سنبھالی۔ ڈاکٹرنجیب کی حکومت کے خاتمے پر کابل آئے۔ ان کی ولولہ انگیز قیادت میں ہزارہ جانبازوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی اور ہزارہ قوم کو ایک نئی شناخت دی۔

شہادت: 12 مارچ 1995 کو کابل کے نزدیک چہار آسیاب میں ہزارہ قوم کی بقا کی جنگ لڑتےہوے دہشتگرد طالبان کے ہاتھوں شہید ہوئے اور مزارشریف میں آسودہ خاک ہوئے۔

                              
جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہزارہ قوم سولہویں صدی کے اوائل تک کابل تا ہرات اور مزارشریف تا  قندھارکے درمیان کی تمام زرخیززمینوں، سرسبز وشاداب دروں اور سربفلک پہاڑوں کی بلاشرکتِ غیر مالک تھی۔ جبکہ شمالی بوچستان اور بالائی سندھ  پر ہزارہ قبیلہ ارغون کی حکمرانی  تھی۔ 1504ء میں کابل اور1522ء میں قندہار پر بابر بادشاہ کے قبضے کے بعد اگرچہ موجودہ افغانستان سے ہزارہ کی حکمرانی ختم ہوئی تاہم من حیث القوم وہ اپنی اس وسیع و عریض سرزمین کی مالک رہی جبکہ ارغونوں نے زیریں سندھ اور ملتان کو فتح کرکے ایک نئی سلطنت کی داغ بیل ڈالدی جس کا مرکز ٹھٹھہ تھا۔ شاندار طرز تعمیرکے حامل “مکھلی قبرستان” انہی ارغون ہزارہ  کی یادگار ہے جیسےاب یونیسکونے “عالمی ثقافتی ورثہ” قراردے دیا ہے۔   

1625ء میں قندھارپر قبضہ کرنے کے بعد بظاہر دو آتشہ شیعہ ایرانی صفویوں نے اپنے مفادات کی خاطر قندھار اور اردگرد کے میدانی علاقوں سے ہزارہ قوم کو بے دخل کرنے اور ان کی جگہ کوہِ سلیمان کے دامن سے افغان کوچی قبائل کو بسانے کی پالیسی اپنائی جس کی تفصیل حوالہ 1 اور 2 میں ملاحظہ ہو۔ بدقسمتی سے پورے خطے اور خاص طورپر افغانستان کی تاریخ سے ان دو صدیوں کی ہزارہ تاریخ کودانستہ طورپر سرے سے حذ ف کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہزارہ قوم کواپنی تاریخ اورتاریخی   شخصیات کوڈھونڈنے میں دقت ہو رہی ہے۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ہزارہ قوم کی حالیہ تاریخ میں شہید بابہ مزاری وہ پہلی شخصیت ہے جس نےنہ صرف اس پراگندہ اور منتشِر قوم کونہایت قلیل مدت میں متحد کرنے میں کامیابی حاصل کرلی بلکہ انہیں ایک واضح اور ہمہ جہت مقصد دینے میں بھی کامیاب رہے جس کی وجہ سے ان کی ناگہانی اور بے وقت شہادت کے بعد بھی ہزارہ من حیث القوم اس عظیم مقصد کے حصول سےدستبردار نہیں ہوئی اوربیک وقت اجتماعی، سیاسی،مذہبی اوراقتصادی میدانوں میں آگے بڑھ رہی ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جد وجہد میں تیزی آرہی ہے۔ یہاں یہ ذکرکرنا بیجا نہ ہوگا کہ شہید بابہ مزاری سے قبل کئی شخصیات جیسے  میر یزدان بخش، میرعظیم بیگ وغیرہ نے ہزارہ قوم کویکجا کرنے کی کامیاب کوششیں کیں، تاہم وہ انہیں ایک وسیع، ہمہ جہت اور واضح مقصد نہ دے سکے جس کی وجہ سے ان کے منظر سے ہٹنے کے ساتھ ہی سب کچھ اپنی پرانی ڈگرپرچلی گئی۔ معروف مورخ مرحوم بصیر دولت آبادی جو بابہ مزاری کے دیرینہ رفیق رہے ہیں، ان کے تمام کارناموں کا تفصیل سے احاطہ کرنے کے بعد اپنی کتاب “احیای ہویت” میں بطور خاص شہید بابہ مزاری کی سیاسی اور مذہبی خدمات  کا ذکر کر کے یوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں 

” شہید مزاری وہ پہلے رہنما ہیں جنہوں نے “ہزارہ قوم” کوسیاسی شناخت کے ساتھ مذہبی شناخت بھی دی” اسکے بعد موصوف تفصیل سے بابہ مزاری کے سیاسی کارناموں کو بیان کرنے کے بعد انکی مذہبی خدمات جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کو اس طرح بیان کرتے ہیں 

“بابہ مزاری کسی افغانستانی فرد بطور خاص کسی ہزارہ کو “مرجعیت” کا اعلیٰ مقام دینے میں پیش پیش تھے۔ پہلے وہ یہ بھاری ذمہ داری نجف اشرف میں مقیم آیت اللہ فیاض کو سونپنے کے متمنی تھے مگر بعض وجوحات کی بنا پر جب وہ راضی نہ ہوئے تو آیت اللہ محقق کابلی کو اس مقم پر لانے کے لئے ہر قسم کی معاونت فراہم کی۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر اس ضمن میں شہید مزاری کی کوششیں نہ ہوتیں تو کسی اور میں اتنی جرات نہ تھی”۔ اگے چل کر وہ مزید لکھتے ہیں

“بابہ مزاری وہ پہلے شخص  ہیں جنہوں نے تاریخ میں پہلی بارکسی افغانستانی اور وہ بھی کسی ہزارہ کو “مرجع” بنانے کی جسارت کی تھی۔ ان کا یہ جراتمندانہ قدم تمام غیر افغانستانیوں کو طویل عرصے تک ہضم نہیں ہورہا تھا حتیٰ کہ خود افغانستان کے غیر ہزارہ، حلقوں کے لیے بھی نا قابل یقین تھا۔ دولت آبادی بابہ مزاری کے قول سے لکھتے ہیں

“سید محمدعلی جاوید نے سیرت طالقانی سے کہا تھا کہ ہم ان (ہزارہ) کو چنگیز کی اولاد گردانتے ہیں اگر یہ مجتہید بھی بن جائیں تو ہم ہرگزان کی تقلید نہیں کریں گے” (3)۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ گرچہ شہیدبابہ مزاری کی سیاسی جدوجہد کئی عشروں پر محیط ہے جس میں ایرانی انقلاب کے کازسے متاثر ہونا اور اس کے لئے عملی کام کرنا، حزب نصرکی تشکیل اور پھر حزب وحدت کی تشکیل میں تصورِ “ولایت فقیہ” کوملحوظِ نظر رکھنا وغیرہ تاہم دوسالہ قیامِ کابل نے ان پر ان تمام کھوکھلے مقدس نُما نظریات اور نعروں کی حقیقت کو “اظہرمن الشمس” کردیا اور شہید بابہ مزاری بغیر کسی خوف کے ان کو ایک طرف رکھ کر ہزارہ قومی مفادات کے حصول میں لگ گئے، یہاں تک کہ اپنی جان کی بھی بازی لگا دی۔ خوش قسمتی سےاس ضمن میں ان کی درجنوں تقاریر،انٹرویوز،قریبی دوستوں کے سینکڑوں   ویڈیوزیا پھر مطبوعہ شکل میں دستیاب ہیں۔ دریں بابت میں صرف ایک واقعہِ کے ذکرپرہی اکتفا کرتا ہوں۔ رزاق مامون کے مطابق

” ستمبر 1994ء کو کابل میں ایک میٹنگ کے آغازپر جب ایک ایرانی خفیہ ایجنسی کے اہلکار مرتضوی نے خمینی صاحب کی تصویراورایک جھنڈا استاد مزاری کے سامنے  رکھتے ہوئے یہ کہ کر بات شروع کی کہ”  شعیوں کےاس امام بر حق” وہ اتنا کہہ پایا کہ اچانک استاد مزاری نے نہایت غصے کی حالت میں تصویراور جھنڈے کواٹھاکردورپھینکتے ہوئے کہا یہ تمام باتیں اپنےتک محدود رکھو،اس تمام بربادی کے پیچھے اوراس تمام ترسانحات کےدونوں طرف تم لوگ (ایران) ہی ہو” (4) ۔

مگربد قسمتی سے شہیدبابہ مزاری کے گرد ایرانیوں کا حلقہ اتنا بھرپورتھا کہ بلاخیروہ انہیں فریب دینے میں کامیاب ہوگیا۔ یاد رہے کہ ایرانی، طالبان کے ظہورکے بعد نہایت عجلت میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ذریعے اہم طالبان رہنما مولوی جلیل سے اپنے مفادات کےتحفظ کی خاطر مذاکرات کے کئی دورانجام دے چکے تھے اور بقول رزاق مامون “استاد مزاری کی طالبان کو حوالگی ایرانیوں کی طرف سے ان کی نیک نیتی کی ایک نشانی تھی”۔ یہ ایک اہم دستاویزہے جس کا پڑھنا ہرذی شعورفرد قوم کے لئے ضروری ہے لنک منسلک ہے۔ 

شہیدبابہ مزاری کی المنا ک شہادت کے بارے میں بہت کچھ لکھنے کے باوجود بہت سے پوشیدہ حقائق کوبرملا کرنا ابھی باقی ہے۔ خاص طورپر اس سوال کا جواب ضروری ہے کہ ” حزبِ وحدت کے وہ کون سے لوگ تھے جن کے ذریعے بلاخیر شہید بابہ مزاری کواتنا اطمینان دلایا گیا  تھا کہ وہ طالبان پر اعتماد کرتے ہوئے  اپنے انتہائی با اعتماد ساتھیوں اور کمانڈروں کے ہمراہ ان سے مذاکرات کرنے چلے گئے؟؟؟۔ کم ازکم بابہ مزاری کے ہاتھ کا لکھا ایک خط بنام ملا بورجان میری نظرسے گذرا ہے جس میں شہید بابہ نے طالبان فوجیوں کی طرف سے حزب وحدت کی فوجیوں کوغیر مسلح کرنے کی کوشش کو باہمی معاہدہِ کی خلاف ورزی سے تعبیرکرکے انہیں فی الفور روکنے کو کہا تھا۔ کہاجاتاہے کہ یہ خط حاجی عبدالحسین مقصودی کو دیا گیا تھا تاکہ وہ چہارآسیاب لے جاکر اسےملابورجان تک پہنچادے مگر موصوف نے مذکورہ خط  مُلا تک پہنچانے کے بجائے بابہ مزاری کے علم میں لائے بغیر پشاورکی راہ لی۔ جس کے بعد بابہ مزاری کو خود چہارآسیاب جانا پڑا۔ نیز حزب وحدت کی مرکزی کمیٹی کے ایک اہم رکن علی جان زاہدی نے طویل خاموشی کے بعد اپنی کتاب “پس از سکوت” میں یہ اہم انکشاف کیا ہے کہ غرب کابل میں محصور ہونے کے آخری دنوں کے دوران حزب وحدت پشاور آفس سے اکثر استادکریم خلیلی اور ڈاکٹر رسول طالب کال کرکے بابہ مزاری کو یہ یقین دہانی کراتے رہتے تھے کہ طالبان کوکابل میں صرف استاد ربانی کی حکومت کو ختم کرنےسے دلچسپی ہے، فی الحال آپ سے ان کو کوئی سروکار نہیں (پس از سکوت ص-29 (5) ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ دونوں حضرات، کن قوتوں کے ایماء پر یہ یقین دہانی کرارہے تھے، نیز یہ کہ کیا انہیں بھی ٹریپ کیا گیا تھا یا معاملہ کچھ اور تھا؟ علی جان زاہدی کے اس انکشاف کے بعد ان دونوں حضرات کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنی چاہیے کیونکہ ان کی خاموشی سے بہت سارے  شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔

 بہرحال ان تمام  اندرونی و بیرونی سازشوں (جن میں تمام علاقائی اور بین الاقوامی قوتیں شامل تھیں) کے نتیجے میں ہزارہ قوم اپنی جدید تاریخ کے ایک کرشماتی رہبر سے محروم ہوگئی جو ہزارہ قوم کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر آباد اقلیتوں سمیت سبھی قوموں اور قومیتوں کو یکساں انسانی حقوق دلانے کے خواہشمند تھے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے نمایندہ خاص برائے افغانستان محمود مستری کے مشیر چارلس سانتوز نے میونخ جرمنی میں بابا شہید مزاری کی برسی سے خطاب کرتے ہوئے بابہ مزاری کو دیگرتمام جہادی لیڈرز سے زیادہ مدبر، مدلیل، آگاہ اور معقول لیڈر قرار دیا جو افغانستان میں ایک دیرپا امن کے خواہاں اور سب کے انسانی حقوق کے داعی تھے (یہ ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے)۔   

       1.http://www.hazarapeople.com/urdu/?p=302

      2.http://www.hazara.net/downloads/docs/hazaras_in_iran.pdf

  1. Ahya-e-Hoviyat, Basri Daulatabadi,P.No 285-86, Qum Iran, 2006.
  2. https://www.facebook.com/hazara.net/photos/a.672647632750912/1688875251128140/?type=3&theater
  3. pas az sakooth az Ali Jan Zahidi
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *