ثواب ۔۔۔۔ اسد مہری

ثواب

 اسد مہری

صبح سے گلی میں اسپیکر پر نوحے کی آواز گونج رہی تھی. یہ آواز حاجی صاحب جو اتفاق سے صدر محلہ بھی ہیں، کے گھر سے آرہی تھی. وہ تین دِن پہلے کربلا کی زیارت سے تشریف لائے تھے، اور لوگ صُبح ہی سے حاجی اسد کے گھر آنےجانے میں مصروف تھے. وہاں تو جیسے لنگر لگا ہوا تھا، سارے متمول دوکاندار، حاجی صاحبان اور بزنس مین، اپنی گاڑیوں میں جوق در جوق آ رہے تھے اور جاتے ہوئے حاجی اسد (جوکہ اب حاجی کربلائ اسد ہو گئے تھے) کی طرف سے ایک بڑے سے شاپنگ بیگ میں نا جانے کیا کُچھ سوغاتی(تُحفہ) لیے نکل رہے تھے. سب انکی سخاوتمندی ، نیک دلی، اور خُدا ترسی کے گن گا رہے تھے۔ گلی میں ہر طرف ہجوم تھا. حاجی صاحب کے گھر کے قریب ایک ضعیف بابا جو موچی کا کام کرتے تھے اور لوگوں کے پُرانے جوتے اور دوسری چیزوں کی سلائی کرکے اپنا پیٹ پالتے تھے، گُزشتہ تین دِنوں سے نظر نہیں آ رہے تھے میں نے گلی کے نکڑ پر دوکاندار سے پوچھا کہ بابا موچی کہاں ہے، کئی دِنوں سے نظر نہیں آرہے، تو اُنھوں نے بتایا کہ حاجی صاحب نے اُنھیں اپنی پرانی جگہ پر بیٹھنے سے منع کیا تھا، کیونکہ بابا موچی کے چھوٹے اور پُرانے خیمے کی وجہ سے گلی اور اُن کا گھر بدصورت اور گندہ لگ رہا تھا ۔ مُجھے یہ بات کُچھ ناگوار سی لگی کیونکہ جب سے ہم جوان ہوئے ہیں بابا موچی ہمیشہ سے گلی میں یہ کام کرتے رہے ہیں اور کبھی بھی کسی کو اس بات سے کوئ شکایت نہیں ہوئی تھی اب اچانک سے اُن کے خیمے کی وجہ سے گلی بد صورت کیسے ہو گئی. بابا موچی جوکہ اب بہُت عُمر رسیدہ ہو گئے تھے اور دو سال پہلے اس کی بیوی بھی فوت ہو گئی تھی اب اپنے ایک معذور بیٹے کیساتھ کہیں کرائے کے ایک کمرے میں رہ رہے تھے اور یہی چھوٹا سا خیمہ اور کام ہی انکا واحد ذریعہ معاش تھا. نہ جانے حاجی کربلائی اسد کے اس “کار خیر” کیوجہ سے بابا موچی کس حالت میں ہوں گے!؟  میں اسی الجھن میں گھر کی طرف جا رہا تھا کہ دُکاندار نے آواز دے کر بتایا کہ کسی نے فون پر اطلاع دی ہے کہ بابا موچی کی لاش مسجد کے برامدے سے آج صُبح اس حالت میں ملی ہے کہ اُس کے سر کےنیچے وہی پرانا خیمہ پڑا تھا، جس کے نیچے بیٹھ کر وہ  کئی سالوں سے گرمی، سردی، برف ،بارش اور دھوپ میں رزقِ حلال کما رہا تھا. آج وہی خیمہ اُن کیلئے زندگی کے آخری لمحات میں ایک آرام دہ تکیہ بن گیا تھا۔