میں ایک نئی موت مرا … زہرا علی

 
نعرہ تکبیر……اللہ اکبر
نعرہ رسالت……یا رسول اللہ ﷺ
نعرہ حیدری……یا علیؑ۔
شہادت شہادت……سعادت سعادت۔
 
نعروں کی گونج سے جب میری آنکھ کھلی، تو میں نے محسوس کیا کہ میرا پورا جسم کسی کپڑے میں لپٹا ہوا تھا۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ میری ناک میں روئی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ٹھونسے گئے تھے۔ یہ کس نے کیا تھا؟ اس طرح تو میرا دم گھٹ جائے گا۔ ایک شدید ہڑبڑاہٹ میں، میں نے ہاتھ پیر کھولنے اور ناک میں ٹھونسی وہ روئی نکالنے کی بہت کوشش کی؛ مگر بے سود۔ میں آوازیں دیتا رہا، مدد کے لئے چیختا اور چلاتا رہا۔ لیکن ایسا لگا کہ میں کسی سنسان جگہ پر ہوں اور میری آوازیں سوائے میرے کسی اور کو سنائی نہیں دے رہیں۔ ہاتھ پیر اور چیخیں مار مار کر میں تھک چکا تھا، بے بسی سے اب میری آنکھیں ارد گرد کا جائزہ لینے لگیں۔ غور کرنے پر مجھے میرا جسم ایک لکڑی سے بنے تابوت میں قید نظر آیا، تابوت کو ایک سفید کپڑے سے ڈھانپا گیا تھا، جس پر سرخ رنگ کی روشنائی سے جلے حروف سے (لبیک یا حسینؑ) لکھا ہوا تھا۔ کیا میں مر چکا تھا؟ لیکن کب، کیسے، مجھے خود کچھ یاد کیوں نہیں آ رہا؟
 
تابوت سے باہر کا منظر کچھ یوں تھا: میرے جنازے کے ارد گرد میرے گھر والے غمگین بیٹھے ہوئے تھے، لیکن وہ رو نہیں رہے تھے۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کیونکہ مجھے یاد ہے، کوئی سال بھر پہلے میرے والد اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے تو مہینوں ان کی جدائی میں، میں روتا رہا اور اس حقیقت کو آج تک تسلیم نہیں کر پا رہا تھا کہ وہ ہمیشہ کے لئے جا چکے تھے۔ میں وہاں موجود تھا اور مجھے سب دیکھ بھی رہے تھے، لیکن میری تازہ تازہ موت پر میرے گھر والے کیوں نہیں رو رہے؟ میں نے اپنے تابوت کے علاوہ بھی قطار میں رکھے قریب دس اور تابوت دیکھے اور حد نگاہ تک لوگوں کا ایک سیلاب بھی۔ جس میں ہر عمر کے مرد، عورتیں، جوان، بچے اور بوڑھے سبھی شامل تھے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب یہاں کر کیا رہے تھے؟ یہ کس کی شہادت کے نعرے لگائے جا رہے تھے؟
 
میری بہنوں، ماؤں، میرے غمگیں بھائیوں اور وہاں موجود ہر شخص کو بار بار یہی تاکید کی جا رہی تھی کہ ہم شہید ہیں، آنسو بہا کر ہماری قربانی کو ضائع نہ کریں۔ کیا میری موت شہادت سے ہوئی تھی؟ کیا میں کسی جنگ میں مارا گیا تھا؟ کیا میں کسی جہاد پر نکلا تھا، اگر ہاں تو کب؟ مجھے کیوں یاد نہیں آرہا؟ میں دماغ پر زور ڈالتے ہوئے یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اسی شش و پنج میں مبتلا جب میں آگے بڑھا تو میرے کانوں سے نوحوں کی آوازیں ٹکرانے لگیں اور اسی اثنا میری نظر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پر پڑی جو بہت جوش و خروش کے ساتھ ماتم کر رہے تھے۔ یہ منظر تو عموماً محرم الحرام کے دنوں میں دکھائی دیتا ہے، شاید محرم کا مہینہ ہی چل رہا تھا، بس مجھے پتا نہ چل سکا۔ نوحہ خوانی اور ماتم کا سلسلہ رکا تو میرے کانوں سے ایک جانی پہچانی آواز ٹکرائی۔ میں آگے بڑھا تو باقاعدہ ایک سٹیج پر نظر پڑی جس پر مائیک اور اسپیکرز بھی لگے ہوئے تھے۔ لیکن کیوں؟ چل کیا رہا ہے یہاں؟ میں نے سوچا کہ شاید کوئی سیاسی جلسہ ہو، یا شاید کوئی مذہبی اجتماع۔ لیکن تابوت میں پڑی میری لاش اور باقی تابوتوں کی قطار یہاں کیوں رکھی ہوئی ہے؟ مجھے ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، بلکہ مجھے باقاعدہ اب الجھن سی ہونے لگی تھی۔ سٹیج پر مائیک کے پیچھے چند حضرات باری باری تقریر کر رہے تھے۔ میں نے ان چہروں کو دیکھا تو کچھ جانے پہچانے لگے، لیکن ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا تھا کہ وہ کون لوگ تھے۔ میں نے ایک پل کے لئے آنکھیں بند کر کے انہیں یاد کرنے کی کوشش کی، مگر کچھ خاص یاد نہیں آ رہا تھا۔ اب کی بار ایک جانی پہچانی آواز نے مجھے چونکنے پر مجبور کر دیا اور میں نے شدت سے محسوس کیا کہ اس آواز کو میں پہلے بھی سن چکا ہوں۔ وہ کہہ رہا تھا کہ: ”فوراً اپنے بندے لے کر پہنچو، لواحقین بھی راضی ہیں، دھرنا دے گی ہماری پارٹی!“ ہاں، بالکل یہی وہ آواز تھی جو میرے کانوں نے کچھ دنوں پہلے سنا تھا۔
 
اب میں بند آنکھوں سے وہ منظر دیکھ رہا تھا جب کچھ نقاب پوش مجھ سمیت میرے کچھ اور ساتھیوں کو اغوا کرکے لے جا رہے تھے۔ مجھے دوسروں کی خبر تو نہیں تھی، البتہ میری آنکھوں پر پٹی اور میرے ہاتھ میرے پشت پر کس کر باندھے گئے تھے۔ خوف اور بدحواسی سے میرے اعصاب شل ہو چکے تھے۔ مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ میرے اور میرے ساتھیوں کے ساتھ کیا ہونے جا رہا تھا؟ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ ہمارا قصور کیا تھا؟ ہم تو مزدور ہیں، ہم سے کسی کی کیا دشمنی ہو سکتی ہے؟
 
عجیب وحشت ناک آوازیں میرے کانوں میں پڑ رہی تھیں جیسے کسی کو ذبح کیا جا رہا ہو، کچھ نعرے لگاتے ہوئے کسی نے میری گرد ن پر چھری پھیرنا شروع کر دی، میں شدت درد سے تڑپ تڑپ کر مرنے لگا، مجھے سب یاد آ رہا تھا۔ میں نے بے ساختہ اپنی گردن پر ہاتھ پھیرا تو محسوس کیا کہ جو کچھ اس سے پہلے دماغ کے پردے پر چل رہا تھا وہی سچ تھا، مجھے ذبح کیا گیا تھا اور کٹی گردن پر جما ہوا خون اس کی گواہی دے رہا تھا۔ لیکن میری جان نکلنے کے بعد بھی کچھ دھندلے مناظر مجھے نظر آ رہے تھے۔ ہماری قتل کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ ہماری لاشیں جب ہمارے لواحقین کے پاس پہنچیں تو ایک نئی کربلا سجی، اپنے سوگوار لواحقین کا درد مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ میں ان کے غم میں ……”ایک اور موت مرا۔“ لیکن پھر میری آنکھیں کھلیں اور میں نے دیکھا کہ ابھی تک تابوت میں پڑا ہوا ہوں۔
 
اب میں کھلی آنکھوں سے دیکھنے لگا اور سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔ میری نظر اس نہایت بوڑھے اور ضعیف آدمی پر پڑی۔ اس کی غمگین آنکھیں دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو رونے لگا۔ مجھ پر تو بظاہر سردی یا گرمی کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا، لیکن گرم کپڑوں کی ایک موٹی تہہ اس کے جسم پر ہونے کے باوجود اس کے ہاتھ پیر سردی کی شدت سے کانپ رہے تھے۔ وہ بار بار آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر شاید اللہ تعالی سے کچھ کہہ رہا تھا۔ حد نظر سوگوار چہروں سے میرا دل غم سے پھٹنے لگا۔ میں اپنی ماں کے پاس گیا۔ وہ میری تابوت سے سر ٹکا کر بیٹھی تھی۔ اس نے کئی بار میری گردن سے لپٹے کپڑے کو ہٹا کر میری بریدہ گردن پر بوسے دئیے اور شدت غم سے غش کھاتی رہی، مجھ سے ان کی یہ تکلیف نہیں دیکھی جا رہی تھی۔ مجھے یوں لگا کہ……”میں ایک نئی موت مرا ہوں۔“ میں نے ان سے کئی بار کہا کہ، امی آپ مجھے دفنا کیوں نہیں دیتیں؟ لیکن وہ میری بات نہیں سن پا رہی تھیں۔
 
مائیک پر ایک بار پھر آوازیں ابھریں۔ اب مجھے سمجھ آنے لگی تھی کہ یہاں ہماری لاشوں کو رکھ کر لوگ دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔ ہمارے قاتلوں کی گرفتاری تک ہمیں نہ دفنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔ میں خوش ہوا اور سوچا کہ، چلو ہم مارے گئے سو گئے، مگر ہمارا خون رائیگاں تو نہیں جائے گا۔ ہمارے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی جس شدت سے مانگ ہو رہی ہے، لگ تو ایسے رہا تھا کہ اب کی بار انصاف مل کر ہی رہے گا۔ حاکم وقت کو بذات خود آکر ہمارے لواحقین سے مل کر ان کو انصاف کا وعدہ بھی دینے کا مطالبہ ہو رہا تھا۔ حاکم وقت پتہ نہیں کب آئے، لیکن ہماری سر بریدہ لاشیں اپنے پہلوؤں میں رکھے ہمارے لواحقین کو جب بلیک میلر کہا گیا تو……”میں ایک اور موت مرا۔“
پھر یکایک ایک کھلبلی سی مچ گئی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، بس اتنا یاد ہے کہ کچھ لوگ آئے، پھر نجانے کیسے یکدم فیصلہ ہوا کہ مطالبات مان لیے گئے ہیں۔ مجھے سچ میں نہیں معلوم کہ کون کونسے مطالبات مان لیے گئے؟ کیا ہمارے قاتل پکڑے گئے؟ چھ سات دنوں سے کھلی سرد فضا میں پڑی ہماری لاشوں کے احترام کا خیال بھی آگیا اور فتویٰ بھی۔ ہمارے معاوضے طے ہوئے، کسی نے پچاس تو کسی نے پندرہ لاکھ میں ہماری قیمت بھی طے کر دی۔ میری مظلوم موت پر معاوضہ طے ہوا تو قسم خدا کی……”میں ایک اور موت مرا۔“
 
اگلے دن ہماری اجتماعی تدفین بھی ہو گئی۔ سب نے اپنے اپنے گھروں کی راہ لی۔ دفناتے وقت جب میری ماں مجھ سے لپٹ کر رو رہی تھی تو بس میں نے یہی دعا مانگا تھا۔ اللہ کرے تم آخری ماں رہو، جو اس غم سے گزر رہی ہے اور ساتھ میں یہ ہم سب کا آخری غم ہو۔ اگر خدا نخواستہ مجھے یہ علم ہوا کہ اپنی سیاست چمکانے کے چکر میں میرے مردہ جسم کو بھی نہ بخشا گیا، تو میں ……”ایک نئی موت مروں گا۔“ اور اگر میری لاش اتنے دن کھلی فضا میں رکھ کر بھی میرے پسماندگان کو انصاف نہ ملا……”تو میں ہر روز ایک نئی موت مروں گا۔“
زہرا علی

زہرا علی

زہرا علی ناروے کے شہر تروند ہایم میں مقیم ہیں۔ کتب بینی کے علاوہ افسانے اور کہانیاں لکھنے کا شوق رکھتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *