غزل ۔۔۔ تحسین طالب

اس خارزار راہ میں جایا نہ جائے گا
 اس دل شکستہ سے تواب آیا نہ جائے گا
ملتے ہی راستے میں تم انجان بن گئی
اب اور ہم سے تم کو بلایا نہ جائے گا
کیا سانحہ گزر گیا اس دل کے شہر پر
اک غش میں گر گئے کہ بھلایا نہ جائے گا
دریا ہماری آنکھ کا یہ خشک ہوگیا
اب اشک ہم سے اور بہایا نہ جائے گا
تحسین درد شام نے بے حال کردیا
اب کے نظام اپنا بچایا نہ جائے گا
تحسین طالب

Latest posts by تحسین طالب (see all)

اس تحریر سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کریں