انکل رمیش ۔۔۔ طلاء چنگیزی

٭
جب پہلی بار میں اپنے کالج کے دوست راج کے ساتھ، انکل رمیش سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر گیا تو وہ مجھے بہت ہی روکھے اور سخت طبیعیت کے دکھائی دیئے۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ اس مکان کے دوسرے مکینوں یا کرایہ داروں کی بھی ان کے بارے میں کم وبیش یہی رائے تھی۔ لیکن مالک مکان ہونے کے ناطے کسی کو ان کے منہ پر یہ بات کہنے کی ہمت نہیں تھی۔ 
ان کی عمر یہی کوئی ساٹھ پینسٹھ کے پیٹے میں تھی۔ جسم قدرے فربہی کی طرف مائل تھا لیکن چہرے کی ساخت اور نقوش سے لگتا تھا کہ جوانی میں بہت وجہیہ رہے ہوں گے۔ گویا کھنڈر بتا رہے تھے کہ عمارت عظیم تھی۔ سب انہیں مسٹر رمیش کہہ کر بلاتے تھے لیکن راج کی دیکھا دیکھی میں بھی انہیں انکل رمیش کہہ کر پکارنے لگا تھا ۔ میری اور راج کی دوستی بھی بہت عجیب تھی میرا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ انڈیا سے بسلسلہ تعلیم تین سال قبل انگلینڈ آئے تھے لیکن اس کے باوجود پہلی ہی ملاقات میں ہماری دوستی کلک کر گئی اور جلد ہی ہم آپس میں بے تکلف دوست بن گئے۔
بہتر تعلیم اور اچھے مستقبل کے خواب لیے لندن آئے مجھے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ ایک اجنبی شہر میں مجھ جیسے ہر نو وارد  اور “ہوم سک”  طالبعلم کو ہمیشہ دو چیزوں کی یاد بہت ستاتی ہے، ایک گھر کے پکے کھانے اور دوسری رہائش کی۔ کھانے کا مسئلہ تو کسی نہ کسی طرح حل ہوجاتا ہے لیکن سستی رہائش کے حصول میں کئی طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور بد قسمتی سے مجھے بھی وہی کچھ کرنا پڑرہا تھا۔ جب راج کو میری اس مشکل کا پتہ چلا تو اس نے بتایا کہ اس کے ایک جاننے والے کوئی انکل رمیش ہیں جو کالج کے نزدیک ہی کئی مکانوں کے مالک ہیں اور خوش قسمتی سے ان کے ایک مکان میں کوئی کمرہ حال ہی میں خالی ہوا ہے۔  سو اسی سلسلے میں راج کے توسط اور سفارتی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے، انکل رمیش کے ایک مکان میں ایک چھوٹا سا کمرہ کرائے پر ملنے کی امید لیے میں اس کے ساتھ چلا آیا تھا۔ مکان دراصل تین کمروں پر مشتمل تھا لیکن ضروری “کانٹ چھانٹ و کھینچ تان” کے بعد اسے زبردستی چھ کمروں میں تبدیل کردیا گیا تھا تاکہ زیادہ کرایہ دار ٹھونس کر مال بنایا جاسکے۔ یہ مکان ایک مصروف سڑک پر واقع تھا جہاں ہر وقت خوب چہل پہل رہتی تھی۔ مکان کے ساتھ سڑک پر دو تین دکانیں بھی بنوائی گئی تھیں جن کا کرایہ ہر ماہ انہیں ملتا تھا۔
پہلی ملاقات میں انکل رمیش نے کچھ روایتی سوالات پوچھے جن کا میں نے تسلی بخش جواب دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن جب باتوں ہی باتوں میں انہیں پتہ چلا کہ میرا تعلق حیدراباد پاکستان سے ہے تو کچھ چونک سے گئے اور چند لمحوں کے لیے انکی آنکھوں میں ایک عجیب چمک سی آگئی۔ (وہ تو بعد میں پتہ لگا کہ ان کے آبائی شہر کا نام بھی حیدراباد تھا لیکن وہ باڈر کے اس پار دکن انڈیا میں واقع تھا)۔
شاید “ہم شہری” ہونے کے ناطے یا پھر راج کی سفارش کام آگئی اور انہوں نے کمرہ دینے کی ہامی بھر لی۔ بعد میں انہوں نے اپنے مخصوص خالص کاروباری انداز میں کرایہ داری کے رہنما اصول طے کردیے۔ مثلآ کرایہ مہینے کی بجائے ہفتہ وار دینا ہوگا۔ کوئی بھی چیز استعمال کرنے کے بعد اسے دھو کر دوبارہ اس کی جگہ پر رکھنا ہوگا۔ رات دس بجے کے بعد کوئی شورشرابے اور میوزک کی اجازت نہیں ہوگی۔ سب سے آخری اور اہم اصول کہ کرایہ دار کو کسی بھی صورت حال میں کسی غیر متعلقہ شخص/اشخاص کو مکان میں لانے اور ساتھ ٹہرانے پر مکمل پابندی عائد ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ غیر مشروط آمادگی کے بعد مجھے نیچے والا کمرہ الاٹ ہوا۔ کچھ رقم ایڈوانس کے طور پر دینے کے بعد اٌسی شام کو میں اپنا سامان جو کہ جملہ ڈیڑھ سوٹ کیسوں پر مشتمل تھا، لے کر ہانپتا کانپتا پہنچا تو مجھے کمرے کی چابی بھی مل گئی۔ اوپر چار کمرے تھے اور نیچے دو، جن میں سے ایک میں مسٹر رمیش بقلم خود رہائش پذیر تھے۔ اوپر کے کمروں میں ایک لڑکی اور تین لڑکوں پر مشتمل چار افراد رہتے تھے۔ لڑکی اور لڑکے کا تعلق انڈیا سے تھا اور باقی دو سری لنکا اور بنگلہ دیش سے پڑھنے کے لیے آئے تھے۔ سری لنکن لڑکے کا نام احمد تھا، لہذا مسلمان ہونے کے ناطے مجھ سے بہت خوش اخلاقی اور ملنساری سے پیش آتا تھا۔ اسکے گول مٹول اور ہنس مکھ چہرے پر تراشیدہ داڑھی بہت ہی  بھلی لگتی تھی۔ بعد میں ایک دو بار مجھے پاس کی مسجد میں جمعے کی نماز کی دعوت بھی دے ڈالی۔ لیکن شاید اپنی ازلی سستی یا تھکن کے باعث میں ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ بنا لیتا تھا۔ 
راج کی ہی زبانی پتہ چلا کہ انکل کا تعلق، انہی کی طرح حیدرآباد دکن انڈیا سے تھا لیکن گزشتہ چالیس پینتالیس سال سے برطانیہ میں رہائش پذیر تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد چونکہ زیادہ تر وقت گھر پر اکیلے گذارتے تھے لہذا سوچا کہ کیوں نہ دوسرے مکان کی طرح باقی کمروں کو کرائے پر چڑھا کر گھر بیٹھے چار پیسے “مزید” کما لیے جائیں۔ یوں ان کی تنہائی بھی دور ہو جائے گی۔ بہت عرصہ پہلے کسی گوری سے شادی بھی کی تھی جس سے دو بچیاں تھیں۔ لیکن کئی سالوں پہلے وہ انہیں چھوڑ کر چلی گئی تھی ۔ انکل کے اخلاق اور پیسے کے معاملے میں سختی کو دیکھ کر یہ کچھ اچھنبے کی بات بھی نہیں لگتی تھی۔ ہم کبھی کبھار مذاق میں آپس میں ایک دوسرے سے کہتے تھے۔ 
“یار ۔ یہ انکل بہت ہی خوش قسمت بندہ ہے۔ باوجود اسکے کہ نہ کوئی آگے ہے نہ ہی پیچھے پھر بھی ہر وقت پیسے گنتا رہتا ہے”
شاید دوسرے یا تیسرے ہفتے کی بات ہوگی جب میں کالج سے دو بسیں تبدیل کرنے کے بعد تھکا ہارا، بھوک سے نڈھال، واپس پہنچا تو دیکھا کہ انکل خلاف توقع کچن میں کچھ پکانے میں مصروف تھے۔ شاید اپنی خوش اخلاقی ثابت کرنے یا پھر بھوک سے مغلوب ہو کر میں نے کچن میں جھانک کر کہا۔ 
“ہیلو انکل ۔ خوشبو سے لگتا ہے کہ آج کوئی خاص چیز پک رہی ہے “
میری طرف گھور کر دیکھنے کے بعد ذرا طنزیہ انداز میں کہنے لگے۔
“ہندو کے ہاتھ کی پکی ہوئی بریانی ہے کھا لوگے؟”
میں نے جواباً مسکرا کر کہا ۔
“سنا ہے کہ حیدرآبادی بریانی بہت لذیذ اور مزیدار ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ رِسک لیا جا سکتا ہے”
یہ سن کر وہ بے اختیار ہنسنے لگے اور کہا۔
“رِسک …. بہت خوب …… تو پھر کھاؤ اپنے رسک پر” 
یہ کہہ کر انہوں نے ایک پلیٹ میں میرے لئے کچھ بریانی ڈالی۔ ساتھ ہی تحکمانہ انداز میں کہنے لگے کہ کھانے کے بعد پلیٹ دھو کر واپس اسکی جگہ پر رکھ دینا۔ بریانی واقعی بہت ہی لذیذ تھی۔ جلدی جلدی کھانا ختم کرنے کے بعد ٹیک اوے کی جانب روانہ ہوا جہاں پر میں جزوقتی کام کرتا تھا۔ ٹیک اوے کا مالک اچھے دل کا تھا، رات کو کام ختم کرنے کے بعد کبھی کبھار جب کھانا بچ جاتا تو وہ اسے ملازمین کو گھر لے جانے کی اجازت دے دیتا تھا۔ 
واپسی پر جب میں آہستہ سے دروازہ کھول کر مکان کے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ انکل کے کمرے کا دروازہ نیم وا تھا۔ میں نے آہستہ سے دروازے پر دستک دی اور جواب کا انتظار کئے بنا اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ وہ ہر رات کی طرح صوفے پر نیم دراز ٹی وی پر نظریں جمائے کوئی انڈین فلم دیکھ رہے تھے، سامنے ٹیبل پر ریڈ وائین کی آدھی بوتل رکھی ہوئی تھی اور ہاتھوں میں بھرا ہوا گلاس جس سے ہر تھوڑی دیر کے بعد ایک چھوٹی سی سپ لے لیتے  تھے۔ میں نے تھکی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ ان کے سامنے ٹیک اوے سے لایا ہوا کھانا یہ کہہ کر رکھ دیا کہ یہ آپ کے لیے۔ گلاس سے ایک اور گھونٹ لیتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگے۔ 
“ارے اس کی کیا ضرورت تھی”
میرا دل رکھنے کو فورک سے ایک نوالہ اپنے منہ میں ڈال کر کہنے لگے۔
“مصالحہ دار پکوان کھانے کی عادت میں ایک بڑی خرابی ہے اور وہ یہ کہ اس کے بعد پلین یا کم مصالحے والا کھانا اپ سے کھایا نہیں جاتا”
ذرا سے توقف کے بعد مسکرا کر کہنے لگے
“کچھ پیوگے ویسے بھی تو تم رسک ٹیکر ہو؟”
میں نے گھبرا کر نفی میں سر ہلا تے ہوئے جلدی سے جواب دیا۔
“نہیں شکریہ انکل کل صبح میں نے کالج بھی جانا ہے” 
ایک ہلکا سا قہقہہ لگا کر کہنے لگے۔ 
“مجھے اسی جواب کی توقع تھی اگر تم ہاں بھی کرتے تو میں نے کونسا تمہیں پینے دینا تھا۔”
یہ سن کر میں اٹھ کر اپنے کمرے میں جاکر لیٹ گیا۔
پھر یوں ہوا کہ عمروں میں بڑی تفاوت کے باوجود، انکل رمیش سے میری دوستی پکی ہو گئی۔ وہ کبھی موڈ میں ہوتے تو مجھے مزاق میں “رسک ٹیکر” کہہ دیا کرتے تھے ۔ میرے منع کرنے کے باوجود ہر دوپہر انکل اکثر اوقات میرے لیے فرج میں کھانے کو کچھ بچا کر رکھ لیتے اور رات کام ختم کرنے کے بعد کبھی کبھار میں ان کے لئے ٹیک اوے سے کچھ لے آتا۔ یہ الگ بات کہ وہ کھانا مجھے ہی بعد میں کھانا پڑتا۔ ایک دن میں کھانا کھا رہا تھا کہ اچانک اوپر کے کمرے میں رہنے والا احمد میرے پاس آکر بیٹھ گیا اور بے تکلفی سے کہنے لگا۔
“کیا ہورہا ہے؟”
جواباً میں نے اس آپنے ساتھ کھانے کی دعوت دے دی جو اس نے بخوشی قبول کر لی۔ پہلا نوالہ منہ میں رکھتے ہی پوچھنے لگا۔
“بہت مزے کا ہے خود بنایا ہے؟”
“نہیں انکل رمیش کے ہاتھ کا پکا ہوا ہے”
یہ سنتے ہی احمد کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ آنکھوں کے دیدے پلٹ سے گئے اور بغیر کچھ کہے باتھ روم کی راہ لی۔ کھانا کھاتے ہوئے میں حیرت سے سوچ رہا تھا کہ اسے کیا ہوا۔ کافی دیر تک اندر سے اس کی کلیاں کرنے کی آوازیں آتی رہیں۔ نہ جانے کیوں اس واقعے کے بعد اس نے مجھ سے بول چال ہی بند کردی۔ 
اکثر رات دیر گئے آنے کے بعد آدھ کھلے دروازے سے جھانک کر دیکھتا تو انکل رمیش اسی طرح نیم تاریک کمرے میں صوفے پر نیم دراز وائین کا گلاس ہاتھ میں لیے ٹی وی پر کوئی پرانی انڈین فلم دیکھ رہے ہوتے۔ کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لڑاتا اور پھر اوپر اپنے کمرے میں جاکر کر سو جایا کرتا تھا۔ ایک دن میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
“آپ کے پاس بیر تو ہوگی؟”
 انہوں نے فوراً جواب دیا۔
“ہاں کیوں نہیں۔ لیکن ایک کین سے زیادہ پینے نہیں دونگا” 
 اورفورا کہیں سے بیر کا ٹن نکال کر میرے سامنے رکھ دیا اور اپنے مخصوص انداز میں کہنے لگے۔
“بڈوایزر ۔ اسے بیرز کا بادشاہ بھی کہتے ہیں”
 جب بھی کبھی ہماری محفل جمتی تو میرے لئے بیر کا ایک کین نکال کر رکھتے لیکن پینے کی برملا دعوت کبھی نہیں دی۔ کبھی کبھار میرا موڈ ہوتا تو میں پی لیتا یا پھر ٹال دیتا تھا۔ ہماری گفتگو زیادہ تر بولی ووڈ کی نئی پرانی فلموں کی کہانیوں یا فلمی اداکاروں کے سکینڈلز کے بارے میں ہوتی تھیں۔ کئی دہائیوں پہلے جب انڈیا سے نئے نئے انگلستان آ ئے تھے ان دنوں کے قصے مزے مزے لے کر سناتے تھے۔ کبھی کبھار موضوع سخن انڈیا پاکستان کی سیاست کی جانب بھی مڑ جاتا۔ لیکن ان کی باتوں سے یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں تھا کہ وہ پرانی فلمون کے دل دادہ تھے۔ راج کپور، امیتابھ بچن ان کے پسندیدہ اداکار اور لتاجی و اڈت نارائن پسندیدہ گلوکاروں میں شامل تھے۔  اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم ہی گفتگو کرتے تھے۔
ایک رات دیر سے آنے کے بعد میں نے ان کے کمرے میں جھانک کر دیکھا تو وائین کی جگہ وہسکی نے لے لی تھی۔ انکل اسی طرح صوفے پر نیم دراز اپنی کوئی پسندیدہ پرانی انڈین فلم دیکھ رہے تھے۔  میں خاموشی سے ساتھ ہی صوفے پر جا کر بیٹھ گیا اور ان کے ساتھ وہی فلم دوبارہ دیکھنے لگا جو اس سے پہلے کئی بار دیکھ چکا تھا۔ وہی گھسی پٹی کہانی۔ کچھ توقف کے بعد جب خلاف توقع انہوں نے کوئی بات نہیں کی تو میں ہی بول پڑا
“انکل لگتا ہے کہ یہ فلم اپ کو بہت پسند ہے۔  اس ہفتے یہ تیسری بار ہے کہ آپ یہی فلم دیکھ رہے ہیں۔ “
انہوں نے کوئی جواب دینے کی بجائے وہسکی کی بوتل سے بچا کچھا اپنے گلاس میٍٍں اُنڈیل دیا اور آرام سے آنکھیں موندھے گلاس منہ سے لگا کر ایک چھوٹا سا گھونٹ لے لیا۔ 
میں سمجھا شاید ان کا باتیں کرنے کا موڈ نہیں اور اٹھنے ہی لگا تھا کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے بیٹھنے کو کہا۔
کچھ دیر کے بعد کھنکھار کر کہنے لگے۔
“جاننا نہیں چاہتے کہ مجھے یہ فلم کیوں پسند ہے؟”
“کیوں نہیں؟”
میں نے کافی ٹیبل پر پڑا بیر کا ٹن کھول کر اشتیاق سے کہا۔
کچھ دیر خلاؤں میں گھورنے کے بعد رک رک کر انہوں نے اپنی جو کہانی سنای وہ انہی کی زبانی کچھ یوں تھی۔
“یہ آج سے تقریباً 40 – 45 برس پہلے کی بات ہے۔ اس وقت میری عمر یہی شاید ۱۹ سال رہی ہوگی۔ ہم ویسے تو ناگپور سے تھے اور میری پیدائش بھی وہیں کی تھی لیکن بعد میں پتاجی کے کاروبار کے سلسلے میں ہم حیدرآباد دکن شفٹ ہوگئے تھے۔ رئیس تو نہیں کہہ سکتے لیکن ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق تھا۔ اکلوتا تھا لہذا میری ہر فرمائش اور ضد پوری ہوتی تھی۔ کچھ کچھ بگڑ بھی گیا تھا۔ کالج بھی جاتا لیکن پڑھنے کی بجائے  زیادہ تر وقت دوستوں کے ساتھ  آوارہ گردی میں گزرتا تھا۔ پتاجی نے میری ضد کے آگے ہتھار ڈال کر ایک عدد سکوٹر بھی خرید کر دیا تھا جس پر میں سارا دن اپنے دوستوں کے ساتھ سیر سپاٹے کرتا تھا۔
پھر ایک دن ایسا ہوا کہ جیسا ہوتا آیا ہے، میں اپنے کالج کی ایک حسین لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوگیا۔ اس کا نام امبر تھا، وہ جتنی سندر تھی اتنی ہی باوقار شخصیت کی بھی مالک تھی۔ ہم دونوں ایک ہی محلے میں رہتے تھے۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی والد فوت ہوچکے تھے، والدہ کسی سکول میں استانی تھی جبکہ وہ خود کسی کالج میں پڑھتی تھی اور اپنے گھر میں بچوں کو ٹویشن بھی پڑھاتی تھی۔ لیکن مسئلہ یہ نہیں تھا بلکہ مشکل یہ تھی کہ وہ مجھے گھاس بھی نہیں ڈالتی تھی۔ میں نے کئی مرتبہ اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن لاحاصل۔ وہ مجھے ہر بار یوں نظر انداز کر کے گزر جاتی تھی جیسے میرا کوئی وجود ہی نہ ہو ۔ جتنی شدت سے میں اس کا دل جیتنا چاہتا تھا جواب میں وہ اتنا ہی مجھ سے بے اعتنائی برتتی تھی۔ 
کافی سوچ بچار کے بعد، ایک دن شہر جاکر میں نے ایک گھڑیوں کی دکان سے ایک بہت ہی خوبصورت کلائی میں باندھنے والی گھڑی خریدی اور اگلے دن جب وہ بس سٹاپ پر اکیلی کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی میں نے جی کڑا کرکے اپنا سکوٹر اس کے پاس روک دیا۔ وہ حیرت اور خوف کے ملے جلے ردعمل سے مجھے دیکھنے لگی۔ اور پھر نہ جانے کہاں سے مجھ میں یہ طاقت آگئی کہ میں اس کے سامنے کھڑا ہوگیا اور اپنے دل کی پوری سچائی سے کہنے لگا۔ 
“میرا مقصد تمہیں ہرگز پریشان کرنا نہیں۔ بس یہ کہنا چاہتا تھا کہ تمھارے سوا میری زندگی بے معنی ہے۔ میری طرف سے یہ ایک حقیر سا تحفہ ہے۔ اگر تمہیں میرے باتوں کی سچائی پر یقین ہے تو رکھ لینا ورنہ کسی کوڑے دان میں پھینک دینا۔ میں تمہیں دوبارہ نظر بھی نہیں آؤنگا۔”
یہ کہہ کر میں نے جیب سے گھڑی نکال کر اسکے حیرت زدہ ہاتھ پر رکھ دی اور سکوٹر اسٹارٹ کر کے روانہ ہو گیا۔ 
محبت میں ایک لمحے کا انتظار کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ مجھے بالکل بھی کسی مثبت نتیجے کی امید نہیں تھی لیکن اگلے دن میری خوشی کی انتہا نہیں رہی جب میں نے اسے وہی گھڑی اپنی خوبصورت کلائی میں پہنے ہوئےدیکھا۔ مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں نے پوری دنیا فتح کر لی ہو۔ اس کے بعد ہم تقریباً روز ملنے لگے۔ کبھی موقع ملتا تو دونوں سکوٹر پر گھومنے نکلتے۔ میں نے اپنے والدین کو شادی کے لیے کسی حد تک راضی بھی کرلیا تھا کہ اچانک میری ملاقات ایک اور لڑکی سے ہوگئی۔ وہ نہ صرف خوبصورت اور فیشن ایبل تھی بلکہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ ان دنوں اپنی مردانہ وجاہت کے غرور میں میرے پیر زمین پر نہیں ٹکتے تھے۔  میں نے امبر سے ملنا جلنا کم کردیا اور آخر ایک دن میں نے اسے آشی سے آپنے تعلق اور محبت کی خبر سنا دی۔ وہ خاموشی سے ایک ٹک میری باتیں سنتی رہی اور آخر میں اپنی کلائی سے میری دی ہوئی گھڑی اتار کر میرے ہاتھ پر رکھ دی اور منہ پھیر کر روانہ ہو گئی لیکن جاتے جاتے میرے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ ضرور رسید کر گئی اور ۔۔۔۔۔  میں ہکا بکا دیکھتا رہ گیا۔
 مجھے تو آشی کی محبت کا بخار چڑھا ہوا تھا۔ لیکن جلد ہی میرے غرور کا بت اس سمے ٹوٹ گیا جب آشی نے میرے ساتھ وہی سلوک کیا جو میں اس سے پہلے امبر کے ساتھ کرچکا تھا۔ اپنی اوقات پر آنے کے بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا تھا۔ لیکن شاید اس وقت تک کافی دیر ہوچکی تھی۔ میں امبر کو دوبارہ منانے کے خاطر جب اس کے گھر گیا تو دیکھا کہ ان کے دروازے  پر تالا لگا ہوا تھا۔ ایک ہمساے نے بتایا کہ سب گھر والے کچھ دنوں پہلے ہی گھر چھوڑ کر جا چکے تھے۔ میں نے اسے ہر جگہ تلاش کیا لیکن وہ مجھے دوبارکبھی نظر نہیں آئی۔ پھر میں انڈیا چھوڑ کر یہاں چلا آیا، ساری عمر کام کیا، پیسے کمائے۔ یہاں کی زندگی بھی عجیب ہے جتنا کماؤ اتنا ہی خسارے کا احساس ہوتا ہے۔
تھوڑے سے توقف کے بعد دوبارہ کہنے لگے۔
 ایک خلش ہے جو مجھے کہیں بھی چین لینے نہیں دیتی۔  اس تھپڑ کی گونج اور حدت مجھے آج بھی اپنے گالوں پر اسی طرح سے محسوس ہوتی ہے۔ جیسے یہ آج کی بات ہو۔۔۔۔۔۔
خودکلامی کے انداز میں انکل رمیش کی بے ربط  آواز آہستہ آہستہ خاموش ہو گئی۔ اور وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر صوفے کے بازو پر سر رکھے ایک چھوٹے بچے کی طرح سو گئے۔ 
میں نے آہستہ سے انکے داہنے ہاتھ سے وہسکی کا خالی گلاس لے کر ٹیبل پر رکھ دیا اور اُٹھ کر اپنے کمرے کی طرف جانے ہی والا تھا کہ اچانک انکی آنکھ کھل گئی اور وہ سر اٹھا کر لڑکھڑا تی ہوئی آواز میں کہنے لگے۔ 
“جارہے ہو ۔ اوکے ۔ گڈ نائٹ”
 لیکن میں حیرت سے انکے سانولے چہرے کی طرف دیکھنے میں مصروف تھا۔ کچھ کہتے کہتے میری زبان رک سی گئی۔
 فقط گڈ نائٹ کہہ کر میں بھی اپنے کمرے کی طرف روانہ ہو گیا لیکن انکل رمیش کو انکے داہنے گال پر اس  نسوانی ہاتھ کے ابھرے ہوئے سرخ نشان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جو نیم تاریک کمرے کی مدھم روشنی میں بھی واضح طور پر نظر آرہا تھا ۔ 

طلاء چنگیزی

اظہار کے مدیر اعلیٰ طلاء چنگیزی انگلینڈ کے شہر آکسفورڈ میں رہتے ہیں۔ سننے اور پڑھنے سے شغف رکھتے ہیں اورکوئی اچھوتا خیال ذہن میں آئے تو نظم یانثر میں ڈھال لیتے ہیں۔
طلاء چنگیزی

طلاء چنگیزی

اظہار کے مدیر اعلیٰ طلاء چنگیزی انگلینڈ کے شہر آکسفورڈ میں رہتے ہیں۔ سننے اور پڑھنے سے شغف رکھتے ہیں اور کوئی اچھوتا خیال ذہن میں آئے تو نظم یانثر میں ڈھال لیتے ہیں۔