Blog

شاہرگ کی زندگی اور 1971ء کی جنگ کی چند یادیں ۔۔۔ اسحاق محمدی

شاہرگ کی زندگی اور 1971ء کی جنگ کی چند یادیں بہت سے دوستوں کو شاید معلوم نہ ہو کہ میرے بچپن کے کچھ سال شاہرگ میں گزرے ہیں، جو کوئٹہ کے شمال مشرق میں 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ شاہرگ اپنے کوئلے کے ذخائر کی وجہ سے مشہور ہے۔ 1970ء کے دوران وہاں کل 6 ہزارہ گھرانے تھے جن میں سے 2 جوتے (چوٹ) کے کاروبار سے جبکہ باقی 4 کوئلے کے کاروبار سے منسلک تھے۔ میرا بڑا چچا، مرحوم منشی نادر علی، حافظیان کول کمپنی میں منشی…

میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان ۔۔۔ جاوید نادری

میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (چھٹی قسط) تاریخ صرف فتوحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ان اقدار، تصورات اور اجتماعی ارادوں کا ریکارڈ ہوتی ہے جن کے لیے انسان تمام تر نامساعد حالات میں بھی ڈٹ جاتا ہے۔ 1860 سے 1893 تک کا عہد ہمیں بتاتا ہے کہ جب زمین، خود مختاری اور وقار لازم و ملزوم ہو جائیں تو موت بھی ایک بیانیے کی صورت میں فتح بن کر ابھرتی ہے۔ میر صادق بیگ ارزگانی اور بنیاد علی خان کی…

طالب حسین طالب کی کتاب “ان کہی کی لہر” پر ایک تبصرہ ۔۔۔ جاوید نادری

ان کہی کا تخیلاتی جمال کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر موسیقی روح کی غذا ہے، تو شاعری روح کا کلام یا اس کی زبان ہے۔ موسیقی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں لفظ اپنی معنوی حدوں کو چھو کر خاموش ہو جاتے ہیں، جبکہ شاعری انہی خاموشیوں کو ایک شعوری صورت اور بیانیہ عطا کرتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ موسیقی احساس کی غیر متعین روانی ہے اور شاعری اسی احساس کا تعین شدہ ادراک۔ ایک دل پر وارد ہوتی ہے اور دوسری دل…

آغیلی سسٹم ۔۔۔ اسحاق محمدی

کوئٹہ میں آباد ہزارہ قوم کے اجتماعی سیٹ اپ میں دو سسٹم کافی عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ ایک طائفگی، جس کی بنیاد طائفوی تعلق پر قائم ہے، جبکہ دوسرا آغیلی، جس کی بنیاد ہمسایہ داری ہے۔ آغیلی سسٹم کے تحت ایک ہی محلے میں رہنے والے 20، 30 یا اس سے زائد آس پاس کے ہمسائے اکٹھے ہو کر ایک آغیل کی تشکیل کرتے ہیں، جس میں فوتگی کی صورت میں چندہ اکٹھا کرنا بھی شامل ہے۔ آغیلی ایک رضاکارانہ سسٹم ہے، جس میں آس پاس کے قریبی…

میر صادق بیگ ارزگانی و سردار بنیاد علی خان ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار پانچویں قسط انیسویں صدی کے وسطی عشرے ہزارہ جات کی تاریخ میں محض ایک غیر متحرک وقفہ نہیں تھے، بلکہ یہ ایک ایسے عہد کی تشکیل کا زمانہ تھا جسے عباس دلجو نے بجا طور پر “سیاسی بیداری” کا مرحلہ قرار دیا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب ہزارہ معاشرہ نہ صرف اپنے جغرافیائی وجود کے تحفظ کے لیے متحرک ہوا بلکہ اس نے ایک واضح سیاسی شعور کے ساتھ اپنی شناخت کو بھی ازسرِ نو مرتب کیا۔ اس عہد کی سب سے…

ہزارہ قومی جائیدادوں کی بندربانٹ ۔۔۔ اسحاق محمدی

اگرچہ ہزارہ قوم کی برصغیر میں آمد پندرھویں صدی کے اوائل کی ہے، لیکن جدید تاریخ میں ان کی آمد کا سلسلہ امیر جابر عبدالرحمان کے ہاتھوں 1893ء کے اواخر میں حتمی شکست کے بعد شروع ہوا۔ برٹش انڈیا میں جغرافیائی نزدیکی کی مناسبت سے ارزگان اور قرب و جوار کے ہزارہ، بالائی بلوچستان کے مختلف راستوں سے داخل ہو کر کوئٹہ، جبکہ غزنی و قرہ باغ کے ہزارہ نے پاڑہ چنار اور گلگت کو اپنا مسکن بنایا۔ بلوچستان میں انگریز انتظامیہ نے سنجاوی میں ہزارہ آبادکاری کا منصوبہ بنایا،…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار ( شیرین آغئی اور فرزندان) ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ محض پہاڑوں اور درّوں کا جغرافیہ نہیں، بلکہ یہ ان بلند قامت کرداروں کی داستان ہے جنہوں نے اپنے خون سے خودداری کی سرحدیں متعین کیں۔ اس تاریخ کا سب سے درخشندہ اور ولولہ انگیز باب بی بی شیریں (شیرین آغئی) اور ان کے خانوادے کی وہ مزاحمت ہے جو انہوں نے میر یزدان بخش کی شہادت کے بعد شروع کی۔ یہ تاریخی بیانیہ جہاں دستاویزی حقائق پر مبنی ہے، وہاں یہ ان ہزاروں لوک داستانوں میں بھی سانس لے رہا ہے جو آج بھی ہزارہ…

رسالہ، طلوعِ فکر ۔۔۔ اسحاق محمدی

نادر علی ہزارہ کے دور میں (شاید 1983-1984ء) ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن گرلز سیکشن کی تشکیل ہوئی اور کچھ عرصہ بعد اسی گرلز سیکشن کے زیرِ اہتمام “طلوعِ فکر” کے نام سے ایک ماہنامہ میگزین کا اجرا کیا گیا، جس کی چیف ایڈیٹر فاطمہ چنگیزی تھیں اور معاونین کے فرائض ایچ ایس ایف گرلز سیکشن کی صدر انجام دیا کرتی تھیں۔ مضامین میں زیادہ تر تنوع نہیں تھا۔ سماجی مسائل، اقوالِ زرین وغیرہ مین فوکس میں تھے۔ تمام تر مضامین اردو میں ہوتے تھے، کبھی کبھار شہید حسین علی یوسفی کے…

پاکستان پیپلز پارٹی، بدلتے نظریات ۔۔۔ ذاکر مختار

پاکستان پیپلز پارٹی کبھی ایک نظریہ تھی۔ یہ غریبوں، محنت کشوں اور محروم طبقات کی آواز سمجھی جاتی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے سوشلسٹ نعروں اور بینظیر بھٹو کی سیاست نے اس جماعت کو ایک نظریاتی وقار دیا تھا۔ مگر آج جب بلاول ہاؤس میں آصف علی زرداری شفیق مینگل کو گلے لگا کر پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہی پیپلز پارٹی باقی رہ گئی ہے یا صرف اس کا نام رہ گیا ہے؟ شفیق مینگل کا نام برسوں سے بلوچستان کی…

مینڈیلا ایفیکٹ، آزاد ارادہ اور میٹا اویئرنس(تیسری قسط) ۔۔۔ جاوید نادری

حصہ سوم جب یہ مان لیا جائے کہ انفرادیت ایک فطری عطیہ نہیں بلکہ ایک شعوری مشق ہے، کہ آزاد ارادہ ایک مابعد الطبیعی حقیقت کے بجائے ایک اخلاقی تعمیر ہے، اور کہ میٹا اویئرنس انسان کی بقا کی شرط بنتی جا رہی ہے، تو اب سوال یہ نہیں رہتا کہ “انسان کیا ہے”، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ انسان ہونے کا حق کس کے پاس ہے؟ یہ سوال بظاہر سخت لگتا ہے، مگر یہی وہ مقام ہے جہاں فلسفہ سیاست، قانون اور ٹیکنالوجی سے ٹکرا جاتا ہے۔ اگر…