ہزارہ گی زبان کی طاقت تحریر: اسحاق محمدی آسٹریلیا کی حالیہ مردم شماری اگست 2026ء میں آسٹریلین ہزارہ کے “ہزارہ اور ہزارہ گی” کے اندراج کے حوالے سے سوشل میڈیا میں جو مباحثہ قوم کے درمیان جاری ہے، اس سے مجھے یاد آیا کہ 2000ء کے ابتدائی سالوں کے دوران “ناصری” نامی ایک قوما نے انڈونیشیا کے ایک مہاجر کیمپ سے مجھ سے بھی رابطہ کیا تھا اور میں نے ہزارہ ڈاٹ نیٹ کے ایڈمن کے تعاون سے کافی عرصے تک اس کی تشہیری مہم میں حصہ بھی لیا تھا۔…
Blog
سوال؟ ۔۔۔ عارف چنگیزی
سوال؟ تحریر: عارف چنگیزی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ہم “سوال” نہیں کرتے۔ سوال کرنا تو گویا گناہِ کبیرہ ہے۔ چاہے سامنے خودساختہ عالمِ دین بیٹھا ہو یا سیاستدان، استاد ہو یا والدین، بیٹا ہو یا بیٹی، کاروباری شخص ہو یا سرکاری ملازم , سب کو ہم نے “معصوم فرشتہ” سمجھ رکھا ہے۔ سوال کرنا تو دور کی بات، سوال سوچنے کی بھی جرات نہیں کرتے۔اگر کوئی شخص کوئی بیان دے، تو ہم اس پر سوال نہیں کرتے۔ کیوں؟ کیونکہ سوال کرنے کا رواج ہی…
شیخ ناصر علی انصاری اورحاجی یعقوب علی انیس ۔۔۔ اسحاق محمدی
شیخ ناصر علی انصاری اورحاجی یعقوب علی انیس تحریر: اسحاق محمدی شیخ ناصر علی انصاری اگرچہ ماضی میں کوئٹہ میں آباد ہزارہ کے درمیان دینی علوم پر دسترس رکھنے والوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی، لیکن جو بھی تعداد تھی ان کی بڑی اکثریت ہزارہ گی موضوع سے ہمیشہ فاصلہ رکھنے کو ترجیح دیتی تھی۔ اس کے برعکس شیخ ناصر علی انصاری آخری سانس تک ہزارہ و ہزارہ گی کاز سے جڑے رہے۔ ان کے بڑے بیٹے حاجی محمد گلزاری کے مطابق ان کی پیدائش 1924ء میں ہوئی تھی۔ لطف…
گڈیاں بنا “کنی” کے (افسانہ ) ۔۔۔ جاوید نادری
گڈیاں بنا “کنی” کے (افسانہ) تحریر: جاوید نادری “کیا بات ہے طاہر بھائی!” دوست محمد نے اپنی موٹر سائیکل اسٹارٹ کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا، “میں نے ایک بات نوٹ کی ہے۔ جب بھی ہماری ملاقات ہوتی ہے، آپ کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی گڈی ضرور ہوتی ہے۔ لگتا ہے گڈیاں اڑانے کا بڑا شوق ہے آپ کو۔” طاہر نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی گڈی کی طرف دیکھا، پھر ہلکا سا مسکرایا۔ “نہیں یار، ایسی کوئی بات نہیں۔ بس اتفاق ہے۔ جب بھی تم ملتے ہو، میرے ہاتھ…
افسانوی کالم: مرتضیٰ ہجراں کی پیشکش ۔۔۔ عارف چنگیزی
افسانوی کالم: مرتضیٰ ہجراں کی پیشکش تحریر: عارف چنگیزی مہدی افضلی، جو کبھی انسانی حقوق کا علمبردار کہلاتا تھا، اب کالم نگار کے قلم میں ولن بن چکا ہے۔ ماضی میں ایسے لوگوں کو “کافر” کہا جاتا تھا، آج انہیں امریکی و اسرائیلی ایجنٹ کا لقب دیا جا رہا ہے۔ گویا زمانے کے ساتھ ساتھ صرف الزام کا لیبل بدلا ہے، باقی کھیل وہی پرانا ہے۔ اس افسانے کے مطابق افغانستان میں جمہوریت کے سقوط کے بعد مہدی افضلی آسٹریلیا پہنچا اور وہاں کے سیکیورٹی اداروں کو عزاداری اور مجالس…
آسٹریلیا کی مردم شماری میں ایک چھوٹا کردار ۔۔۔ اسحاق محمدی
آسٹریلیا کی مردم شماری میں ایک چھوٹا کردار تحریر: اسحاق محمدی ایک مختصر تمہید کے طور پر مناسب ہوگا کہ پہلے مردم شماری کے حوالے سے اپنے بارے میں چند باتیں قارئین کے ساتھ شیئر کروں۔ غالباً 1978ء میں، جب میں نویں جماعت کا طالب علم تھا، مرحوم حوالدار غلام حسن کے ساتھ محلے کی سطح پر اجتماعی کاموں کا آغاز کر چکا تھا۔ اس زمانے میں دوست، رشتہ دار، جان پہچان والے اور محلے دار اپنی قومی شناختی، بچوں کے اندراج کے بی فارم، لوکل فارم اور مردم شماری…
سانحہ 6 جولائی 1985ء ۔۔۔ اسحاق محمدی
سانحہ 6 جولائی 1985ء تحقیق و تحریر: اسحاق محمدی گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی ہمارے ریجن کی تاریخ میں اس لحاظ سے کلیدی اہمیت کی حامل ہے کہ اس دہائی کے آخری چند سالوں کے دوران بڑے بڑے سیاسی تحولات رونما ہوئے۔ اپریل 1978ء میں روس نواز خلق ڈیموکریٹک پارٹی نے افغانستان میں سردار داؤد خان کا تختہ الٹ کر ملک کی باگ ڈور سنبھالی، جس کے جواب میں امریکہ کی سربراہی میں قائم مغربی ممالک کے اتحاد نے نئی حکومت کو ناکام بنانے کی جارحانہ پالیسی ترتیب دی۔ اسی…
مذہب کا کاروبار اور معاشرتی یرغمالیّت ۔۔۔ عارف چنگیزی
مذہب کا کاروبار اور معاشرتی یرغمالیّت تحریر: عارف چنگیزی ہمارے معاشرے میں بعض لوگوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے(جوکہ درست بھی ہے) کہ چونکہ وہ اپنی نالائقی کے باعث آٹھویں جماعت بھی پاس نہیں کر پاتے، اس لیے مجبوری کے تحت مدارس کا رخ کرتے ہیں، جہاں چند سال گزارنے کے بعد وہ اپنے نام کے ساتھ علامہ، مولانا یا ڈاکٹرکاسابقہ لگا کر بزعم خودعوام کی رہنمائی کا بیڑہ اٹھانے لگتے ہیں۔ علامہ بننے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ سادہ لوح لوگ نہ صرف ان کی…
نفرت انگیزی نہیں، جوابدهی کی ضرورت ۔۔۔ سید عنایت
نفرت انگیزی نہیں، جوابدهی کی ضرورت تحریر: سید عنایت آج ایک دوست نے سید احمد کاظمی کی ایک ویڈیو شیئر کی۔ اس ویڈیو میں وہ خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے ہزارہ کمیونٹی کے اُن آزاد خیال افراد کے خلاف سخت اور نامناسب زبان استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں جو عرصے سے ان اور دیگر ملاؤں کے نظریات اور طرزِ عمل پر تنقیدی سوالات اٹھاتے آرہے ہیں۔ گالم گلوچ اور اشتعال انگیز گفتگو کے ذریعے سادہ لوح لوگوں کو مخالفین کے خلاف اکسانا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ معاشرتی تقسیم کو…
بریگیڈیئر خادم حسین خان چنگیزی (1932ء–2004ء) حصہ دوئم ۔۔۔ اسحاق محمدی
بریگیڈیئر خادم حسین خان چنگیزی (1932ء–2004ء) حصہ دوئم تحریروتحقیق: اسحاق محمدی خمینی صاحب نے ابتدا میں “نہ شرقی، نہ غربی” کا نعرہ بلند کیا اور بعض پُرجوش انقلابیوں نے “مرکزِ نہضت ہائے اسلامی” (اسلامی تحریکوں کا مرکز) قائم کرکے نظامِ ولایتِ فقیہ کو برآمد کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بھی بنایا، لیکن بہت جلد انہیں زمینی حقائق کا ادراک ہو گیا۔ چنانچہ بظاہر “مرگ بر امریکا، مرگ بر شوروی” کے نعروں کے باوجود، انہوں نے اپنے مفادات کی خاطر اندرونی سطح پر سوویت یونین کے ساتھ مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔…