زندگی کا قیدی تحریر: جاوید نادری ہوٹل کے تھڑے پر کھڑا ایک اجنبی مگر مانوس سے شخص نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، “دیکھو بھائی، یہ کبھی میرا کلاس فیلو ہوا کرتا تھا۔ آج اس کی حالت دیکھو، نشے نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ اب دو وقت کی روٹی کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہا ہے۔” میں نے نرمی سے جواب دیا، “میں آپ کو جانتا تو نہیں، لیکن ایک بات ضرور جانتا ہوں کہ تمام انسان ایک ہی سیدھی لکیر پر سفر نہیں…