میری پہلی جاب اور جاب مارکیٹ! تحریر: اسحاق محمدی ستمبر 1982ء میں انٹر پاس کرنے کے بعد میں نے مزید پڑھنے سے پہلے جاب کرنے کا پروگرام بنایا تاکہ کچھ پیسے پس انداز کر سکوں۔ اس مقصد کے لیے ادھر اُدھر سے معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ سرکاری جاب کے لیے تاریخِ پاکستان، تاریخِ اسلام اور کرنٹ افیئرز کے علاوہ ٹائپنگ کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ مجھے معلوماتِ عامہ کے ضمن میں کوئی دقت نہیں تھی، کیونکہ یزدان خان ہائی سکول کی نمائندگی کرتے ہوئے میں نے آل…
Month: April 2026
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار! “سنگر نشینوں کی مزاحمت”۔۔۔ جاوید نادری
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار! “سنگر نشینوں کی مزاحمت” ساتویں قسط تحریر: جاوید نادری ہزارہ مزاحمت کی تاریخ میں “عام مجاہدین” اور “سنگر نشین” وہ گمنام سپاہی ہیں جنہوں نے کسی باقاعدہ عسکری تربیت یا بیرونی امداد کے اس وقت کی جدید ترین شاہی افواج کا راستہ روکا۔ فیض محمد کاتب اور برطانوی مبصرین جیسے میٹ لینڈ نے ان کی جرات اور تکنیکی مہارت کا واضح نقشہ کھینچا ہے، چونکہ ان کی سپلائی لائنیں کٹی ہوئی تھیں، اس لیے انہوں نے “خود کفالت” کا راستہ اپنایا۔ ان کی…
ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ ۔۔۔ اسحاق محمدی
ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ! تحریر:اسحاق محمدی 20 اپریل 2026ء کو افغانستان کے ہزارہ رہنما استاد محمد محقق نے اپنے ایک انٹرویو میں ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک مسلمہ بین الاقوامی سرحد قرار دیتے ہوئے کہا کہ: “ہم موجودہ سرحدات رکھنے والے ملک کو افغانستان سمجھتے ہیں، جس کی تائید اقوامِ متحدہ سمیت تمام علاقائی ممالک بھی کرتے ہیں۔” قبل ازیں ازبک رہنما رشید دوستم، نیشنل کانگریس کے تاجیک رہنما ڈاکٹر لطیف پدرام اور بہت سے دیگر غیر پشتون افغانستانی رہنما پاک-افغان سرحدی لائن “ڈیورنڈ لائن” کو…
شاہرگ کی زندگی اور 1971ء کی جنگ کی چند یادیں ۔۔۔ اسحاق محمدی
شاہرگ کی زندگی اور 1971ء کی جنگ کی چند یادیں بہت سے دوستوں کو شاید معلوم نہ ہو کہ میرے بچپن کے کچھ سال شاہرگ میں گزرے ہیں، جو کوئٹہ کے شمال مشرق میں 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ شاہرگ اپنے کوئلے کے ذخائر کی وجہ سے مشہور ہے۔ 1970ء کے دوران وہاں کل 6 ہزارہ گھرانے تھے جن میں سے 2 جوتے (چوٹ) کے کاروبار سے جبکہ باقی 4 کوئلے کے کاروبار سے منسلک تھے۔ میرا بڑا چچا، مرحوم منشی نادر علی، حافظیان کول کمپنی میں منشی…
میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان ۔۔۔ جاوید نادری
میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (چھٹی قسط) تاریخ صرف فتوحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ان اقدار، تصورات اور اجتماعی ارادوں کا ریکارڈ ہوتی ہے جن کے لیے انسان تمام تر نامساعد حالات میں بھی ڈٹ جاتا ہے۔ 1860 سے 1893 تک کا عہد ہمیں بتاتا ہے کہ جب زمین، خود مختاری اور وقار لازم و ملزوم ہو جائیں تو موت بھی ایک بیانیے کی صورت میں فتح بن کر ابھرتی ہے۔ میر صادق بیگ ارزگانی اور بنیاد علی خان کی…
طالب حسین طالب کی کتاب “ان کہی کی لہر” پر ایک تبصرہ ۔۔۔ جاوید نادری
ان کہی کا تخیلاتی جمال کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر موسیقی روح کی غذا ہے، تو شاعری روح کا کلام یا اس کی زبان ہے۔ موسیقی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں لفظ اپنی معنوی حدوں کو چھو کر خاموش ہو جاتے ہیں، جبکہ شاعری انہی خاموشیوں کو ایک شعوری صورت اور بیانیہ عطا کرتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ موسیقی احساس کی غیر متعین روانی ہے اور شاعری اسی احساس کا تعین شدہ ادراک۔ ایک دل پر وارد ہوتی ہے اور دوسری دل…
آغیلی سسٹم ۔۔۔ اسحاق محمدی
کوئٹہ میں آباد ہزارہ قوم کے اجتماعی سیٹ اپ میں دو سسٹم کافی عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ ایک طائفگی، جس کی بنیاد طائفوی تعلق پر قائم ہے، جبکہ دوسرا آغیلی، جس کی بنیاد ہمسایہ داری ہے۔ آغیلی سسٹم کے تحت ایک ہی محلے میں رہنے والے 20، 30 یا اس سے زائد آس پاس کے ہمسائے اکٹھے ہو کر ایک آغیل کی تشکیل کرتے ہیں، جس میں فوتگی کی صورت میں چندہ اکٹھا کرنا بھی شامل ہے۔ آغیلی ایک رضاکارانہ سسٹم ہے، جس میں آس پاس کے قریبی…