تاریخ کا مقصد آنکھوں میں آنسو لانا نہیں بلکہ ذہن میں سوال اور دل میں وقار پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ہزارہ قوم کی تاریخ زخموں سے بھری ضرور ہے، مگر یہ زخم کمزوری کی نہیں بلکہ مزاحمت اور بقا کی علامت ہیں۔ اس تاریخ کو سمجھنا قید میں رہنا نہیں بلکہ اپنی فکری طاقت کو پہچاننا ہے۔ ہزارہ قوم کی تاریخ جب بھی لکھی گئی، عموماً اسے مظلومیت، شکست اور لاچاری کے ایک محدود اور یک رخی زاویے سے پیش کیا گیا۔ یہ محض ایک فکری کوتاہی نہیں بلکہ ایک…