عشق پیچاں (افسانہ) ۔۔۔ جاوید نادری

عشق پیچاں   تحریر: جاوید نادری دونوں نے جیسے ہی ایک دوسرے کی طرف دیکھا، یوں محسوس ہوا جیسے صدیاں گزرنے کے بعد ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں۔ دونوں اچانک ایک دوسرے کی بانہوں میں سما گئے۔ ایک دوسرے کے ہونٹوں کو بوسہ دیا، پھر آہستہ آہستہ گالوں اور گردن پر بوسہ دیتے رہے۔ چند لمحوں تک وہ اسی طرح ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ دونوں کی عمریں اب چالیس کی حد پار کر چکی تھیں، مگر اس لمحے انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ دوبارہ اپنی جوانی…

ہزارہ ہیروز ۔۔۔ اسحاق محمدی

ہزارہ ہیروز تحریر: اسحاق محمدی سردار محمد عیسیٰ خان سردار محمد عیسیٰ خان، سردار یزدان بخش خان المعروف بہ سردار یزدان خان کے منجھلے بیٹے تھے۔ ان کی پیدائش 1911ء میں کوئٹہ میں ہوئی اور تعلیم بھی زیادہ تر وہیں حاصل کی۔ وہ اپنے وقت کے ایک متمول تاجر اور مقتدر سیاسی و قبائلی سردار شمار ہوتے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی سطح کے سرکردہ رہنما تھے۔ ہزارہ بزرگوں کے مطابق وہ روایتی سرداروں کی طرح دربار لگاتے اور فیصلے کرتے تھے۔ نہ صرف ہزارہ قوم بلکہ دیگر اقوام…

سردار خیرمحمد ہزارہ ۔۔۔اسحاق محمدی

سردار خیرمحمد ہزارہ تحریر: اسحاق محمدی میں نے پاکستانی ہزارہ کی کئی مشہور شخصیات کی بائیوگرافیز کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے جن میں علم و ادب، سیاست و سماجیات اور اسپورٹس کے شعبوں سے وابستہ خواتین و حضرات شامل ہیں۔ لیکن اب میں جس قومی شخصیت کے بارے میں لکھنے جا رہا ہوں، ان کا تعلق اسپورٹس اور اسپورٹس مینیجمینٹ سے تھا۔ شاندار اور طویل خدمات رکھنے کے باوجود ان کے بارے میں بہت کم تحریری مواد دستیاب ہے۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ ریٹائرڈ ڈی آئی جی…

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(ہزارہ و ہزارگی مبداء و منشا) ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(ہزارہ و ہزارگی مبداء و منشا) (چودھویں قسط) تحریر: جاوید نادری جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہزارہ قوم کی تاریخ جب بھی لکھی گئی، اسے مظلومیت اور لاچاری کے ایک محدود زاویے سے پیش کیا گیا۔ تاہم تاریخی حقائق کی گہری چھان بین ثابت کرتی ہے کہ یہ قوم کسی بیرونی لشکر کی محض اتفاقی باقیات نہیں، بلکہ اس خطے کی مٹی سے جڑی ایک قدیم، بہادر اور باشعور تہذیب ہے۔ اس تاریخ کا سفر منگول حملوں سے صدیوں پہلے…

مزار شریف میں طالبان کے ہاتھوں ہزارہ جینوسائیڈ ۔۔۔ اسحاق محمدی

مزار شریف میں طالبان کے ہاتھوں ہزارہ جینوسائیڈ  تحریر: اسحاق محمدی 8 اگست 1998 کو صبح 9:30 بجے طالبان مسلح فورسز، شہر کے مضافات میں تعینات حزبِ اسلامی کے پشتون دستوں کی ملی بھگت سے ہزارہ حزبِ وحدت کی فورسز کو گھیرے میں لینے کے بعد تیزی سے شمالی شہر مزار شریف میں داخل ہوگئیں اور بلا تخصیص لوگوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔ لیکن بہت جلد وہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق کم از کم تین دنوں تک ہزارہ قوم کے زن و مرد، حتیٰ کہ معصوم…

مادرسری، پدرسری و طبقاتی نظام اور فطرت، جبریت، شخصیت ۔۔۔ علی رضا منگول

مادرسری، پدرسری و طبقاتی نظام اور فطرت، جبریت، شخصیت تحریر: علی رضا منگول سائنس اور فن (آرٹ) کا جنم بیک وقت ہوا ہے، اس لیے کہ سائنس جاننا اور سمجھنا ہے جبکہ فن عمل کرنا ہے۔ چونکہ ہم سمجھنے کے دوران بھی عمل کررہے ہوتے ہیں، اس لیے دونوں کی پیدائش میں پہلے اور بعد کا سوال ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب ایک طالب علم سیکھ رہا ہوتا ہے تو وہ عمل کے ذریعے ہی سیکھتا ہے۔ خواہ وہ فن کا طالب علم ہو، وہ دراصل علم ہی حاصل…

ذرا خود پر بھی ہنسیں ۔۔۔ ابن امیر

ذرا خود پر بھی ہنسیں تحریر: ابن امیر ہماری زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے بغیر گزارا مشکل ہے: کھانا، پانی، بجلی، موبائل اور مشورہ۔ آخری چیز ہمارے ہاں اتنی وافر ہے کہ اگر کبھی ملک میں باقی سب چیزیں ختم بھی ہو جائیں تو مشورے کا ذخیرہ پھر بھی ختم نہیں ہوگا۔ آپ نے کسی سے کچھ پوچھا نہ ہو، وہ پھر بھی آپ کو مشورہ دے گا۔ اور اگر آپ نے خاص طور پر منع کر دیا ہو کہ “بھائی مجھے مشورہ نہیں چاہیے”، تو سمجھ…

شرط کا مرغا (افسانہ)۔۔۔ نسیم جاوید

شرط کا مرغا تحریر: نسیم جاوید کوئٹہ کی سرد، سرمئی صبح ابھی پوری طرح بیدار بھی نہیں ہوئی تھی کہ رحمت خان کے خستہ حال کوٹھے کے صحن میں مرغوں کی اذانیں گونجنے لگیں۔ اس کے والد فضل دین نےقندھار سے آ کر شہر کے مضافات میں یہی کچا مکان بنایا تھا۔ رحمت خان کے دن کا آغاز ہمیشہ مرغوں کی اذان سے ہوتا تھا۔ صحن میں ایک عجیب سی بو پھیلی رہتی تھی ۔ مرغوں کی بیٹ، گیلے دانے کی بساند، کونے میں پڑے ہوئے پنجرے اور چند ایک…

ایک دوست کی ناگہانی موت ۔۔۔ جاوید نادری

ایک دوست کی ناگہانی موت  تحریر:جاوید نادری پتہ نہیں کیوں، مگر آج قاسم غیر معمولی جلدی میں تھا۔ میں نے کئی بار پوچھا، “خیریت ہے؟ کہاں جانا ہے؟” وہ ہر بار بات ٹال دیتا۔ آخر صرف اتنا بولا، “بس کام سمیٹو اور چلو۔ راستے میں تمہیں گھر کے قریب اتار دوں گا۔” جب میں نے دیکھا کہ وہ کچھ بتانے پر آمادہ نہیں تو خاموشی سے اپنا کام سمیٹا اور اس کی گاڑی میں جا بیٹھا۔ پورے راستے وہ خاموش رہا۔ نظریں سڑک پر جمائے ڈرائیو کرتا رہا۔ کبھی کوئی…

پروفیسر ڈاکٹر محمد ہادی گیاوری (پی ایچ ڈی) ۔۔۔ اسحاق محمدی

پروفیسر ڈاکٹر محمد ہادی گیاوری (پی ایچ ڈی) تحریر: اسحاق محمدی پروفیسر ڈاکٹر محمد ہادی گیاوری اپنے وقت کے معروف ہزارہ دینی عالم شیخ برات علی کے بڑے صاحبزادے تھے، جو پیشے کے لحاظ سے ایک کامیاب بزنس مین تھے۔ پروفیسر صاحب کے برادر نسبتی انجینئر محمد ابراہیم کے مطابق ان کی پیدائش غالباً 1948ء میں ہوئی تھی۔ انہوں نے میٹرک اسلامیہ ہائی اسکول سے اچھے نمبروں کے ساتھ پاس کیا اور سائنس کالج کوئٹہ میں داخلہ لیا۔ ایف ایس سی پری انجینئرنگ بھی فرسٹ ڈویژن میں پاس کرنے کے…