شاو شینی: ایک قدیم ہزارگی رسم ۔۔۔ اسحاق محمدی

شاو شینی: ایک قدیم ہزارگی رسم

تحریر: اسحاق محمدی

’شاو شینی‘ ایک قدیم ہزارہ گی رسم ہے، جس میں اولاد بطورِ خاص لڑکے کی پیدائش پر نومولود کے والد کے گھر رات بھر جشن منایا جاتا ہے۔ کوئٹہ کے ہزارہ گھرانوں میں نوے کی دہائی تک یہ رسم کافی حد تک مقبول تھی۔

مرحوم استاد جمعہ کے مطابق، ۵۰ اور ۶۰ کی دہائیوں کے دوران ہزارہ گھرانوں میں اس کی شروعات “دردِ زہ” (پیدائشی درد) سے ہی ہو جاتی تھی۔ دردِ زہ کے آغاز پر محلے کے شوخ لڑکوں سے کہا جاتا کہ وہ کوئی کتا پکڑ کر لائیں۔ بقول مرحوم، ہم فوراً میدانی سے کتا پکڑ کر لے آتے اور اسے اس گھر کے سامنے گلی میں رکھ کر اس وقت تک پیٹتے رہتے جب تک بچے کی پیدائش نہ ہو جاتی۔ دراصل اس قبیح رسم کے پیچھے وہ موہوم اور بداعتقاد سوچ کارفرما تھی کہ پیدائش کے وقت “آلخاتو” نامی کوئی بلا یا مخلوق آکر نومولود یا اس کی والدہ کا جگر چرا کر لے جاتی ہے، اور اس کا واحد علاج کتے کی آواز ہے جس سے ڈر کر آلخاتو اس گھر کا رخ نہیں کرتی۔

پیدائش کی دوسری یا تیسری رات ‘شاو شینی’ کا جشن برپا کیا جاتا تھا، جس میں والدین کے قریبی مرد دوست احباب اور محلے کے نوجوان بڑی تعداد میں شرکت کرتے اور پوری رات اجتماعی خوشی منایا کرتے تھے۔ شاو شینی کی رات گانے گائے جاتے، تاش، کیرم بورڈ اور “تائی کمبلی” جیسے کھیل کھیلے جاتے تھے۔ ‘تائی کمبلی’ میں ایک شخص پر کمبل ڈال دیا جاتا اور ایک پٹو کو فولڈ (تہہ) کر کے اسے مارا جاتا تھا؛ پھر اس سے مارنے والے کے بارے میں پوچھا جاتا، درست نشاندہی پر اسی مارنے والے کو کمبل کے نیچے جانا پڑتا تھا۔

اس دور میں ایک ہزارگی لوک گیت کافی مشہور تھا جو دو گروپس میں تقسیم ہو کر سب مل کر گاتے تھے۔ وہ گانا کچھ یوں تھا:

پہلا گروپ: کئی میکشی خر را؟

دوسرا گروپ: فردا میکشم خر را

پہلا گروپ: با ما چی و چی میدی؟ دوسرا گروپ: با تو دمی خر میدوم

پہلا گروپ: دمی خر از خری تو، جاروی مائیندری تو! (پھر یہی تکرار)

پہلا گروپ: کئی میکشی خر را؟

دوسرا گروپ: فردا میکشم خر را

پہلا گروپ: با ما چی و چی میدی؟ دوسرا گروپ: با تو پوست خر میدوم

پہلا گروپ: پوست خر از خری تو، جولگ مائیندر تو! (پھر تکرار)

پہلا گروپ: کئی میکشی خر را؟

دوسرا گروپ: فردا میکشم خر را

پہلا گروپ: با ما چی و چی میدی؟ دوسرا گروپ: با تو پای خر میدوم

پہلا گروپ: پای خر از خری تو، تییاغ بابندر تو!

پہلا گروپ: کئی میکشی خر را؟

اس لوک گیت کے درجنوں بند ہوا کرتے تھے۔ اس دوران چائے کے ساتھ بھنے ہوئے چنے، مونگ پھلی اور رات کے آخری پہر میسر پھلوں سے شرکاء کی خاطر تواضع کی جاتی تھی۔

یاد رہے کہ ۹۰ء کی دہائی میں مرحوم استاد جمعہ سے روزانہ ان کی دکان (واقع تنظیمِ نسلِ نو ہزارہ، مغل گلی) میں ملاقات ہوتی تھی، جہاں روزمرہ کے مسائل کے علاوہ مختلف موضوعات پر گھنٹوں “بنڈار” (گپ شپ کی محفل) جمتی تھی۔ ان نشستوں میں استاد جمعہ کے علاوہ میں (اسحاق محمدی)، زمان ٹھیکیدار، شادروان پروفیسر عالم مصباح، زمان دہقان زادہ اور مرحوم حسین بخش حسینو باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔ انہی نشستوں کے دوران انہوں نے یہ معلومات شیئر کی تھیں۔

۷۰، ۸۰ اور ۹۰ کی دہائیوں کے دوران “سگ آزاری” (کتوں کو ستانے) کی قبیح رسم ختم ہو چکی تھی، تاہم شاو شینی کی محافل میں تاش اور کیرم بورڈ کے ساتھ لڈو، اور بعد ازاں پہلے ٹیپ ریکارڈر اور آگے چل کر وی سی آر پر انڈین فلمیں دیکھنے کا رواج چل پڑا تھا۔ اس دور میں مقامي فنکار ہزارہ گی اور اردو میں اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے تھے۔ خود مجھے بھی ایک دو بار شاو شینی کی محافل میں دمبورہ سننے کا موقع ملا۔ اس وقت دمبورہ عام دستیاب نہیں ہوتا تھا؛ ایک محفل میں تو دمبورہ کا کاسہ ٹین کے گیلن(ڈبے) سے بنایا گیا تھا۔

نوے کی دہائی میں میرے بڑے بیٹے ارسلان دانش کے جشنِ شاو شینی میں استاد میر چمن سلطانی، استاد داؤد سرخوش اور سید زمان اپنے پیشہ ورانہ ہزارگی دمبوروں کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ اس رات بحیثیتِ مجموعی دمبورے پر ہر طرح کی عشقیہ، انقلابی اور فولک ہزارہ گی موسیقی سے محظوظ ہونے کا موقع ملا، اور وہ رات ہر لحاظ سے ایک یادگار رات بن گئی۔

۲۰۰۹ء کے بعد سے اس رسم کے بارے میں میری معلومات محدود ہیں، تاہم ممکن ہے کہ چھوٹے پیمانے پر یہ سلسلہ اب بھی کہیں نہ کہیں جاری ہو.

اسحاق محمدی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment