ہزارہ قوم کے آلام و مصائب کو سمجھنا ۔۔۔ اسحاق محمدی

 

ہزارہ قوم کے آلام و مصائب کو سمجھنا
تحریر: اسحاق محمدی

20 مارچ 2018ء کو نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان کے رکن اور سابق بلوچستان صوبائی وزیر محترمہ فضیلہ عالیانی نے ایک پریس کانفرنس میں “ہزارہ قوم کے آلام و مصائب کو سمجھنا” کے عنوان سے 25 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی، جس میں پہلی بار بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آباد ہزارہ قوم کے دو عشروں پر محیط قتلِ عام اور گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ان کی اجتماعی جیل کی زندگی کے تباہ کن معاشی، معاشرتی، تعلیمی اور نفسیاتی منفی اثرات پر قدرے مفصل روشنی ڈالی گئی ہے اور ان کے ازالے کے لیے سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔ چند کمی کوتاہی اور خامیوں کے باوجود یہ ایک جامع اور جرات مندانہ رپورٹ ہے جس پر کمیشن کے اراکین تحسین کے لائق ہیں۔

اس رپورٹ کی تیاری کے ضمن میں انسانی حقوق کی داعی محترمہ فاطمہ عاطف کی مخلصانہ کوششیں بھی قابلِ تحسین ہیں، جنہوں نے نہ صرف ہزارہ آلام و مصائب پر کمیشن کو بنیادی معلومات فراہم کیں بلکہ پاکستان سے باہر ہزارہ مہاجرین تک ان کی رسائی کو بھی ممکن بنایا۔ درج ذیل میں کمیشن کے چیدہ چیدہ نکات اس طرح سے ہیں:

اہم نکات
– اکتوبر 1999ء سے دسمبر 2017ء کے دوران 2000 سے زائد ہزارہ افراد ٹارگٹ کلنگ، خودکش اور بم حملوں میں جاں بحق ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ پانچ سالوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں 509 ہزارہ قتل اور 627 زخمی ہوئے۔
– چالیس ہزار ہزارہ افراد ملک چھوڑ کر مہاجر بننے پر مجبور ہوئے۔
– پانچ سو ہزارہ افراد آسٹریلیا جاتے ہوئے بے رحم سمندری موجوں کی نذر ہوئے۔
– حکومت (وفاقی اور صوبائی) اب تک ایک بھی دہشت گرد کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لا سکی اور نہ ہی مقتولین کے ورثاء کو معاوضہ فراہم کر سکی، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مقتولین کے وارثین نانِ شبینہ کے محتاج بن گئے۔
– 2013ء سے لاکھوں کی آبادی دو محلوں (علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن) میں قید کر دی گئی ہے اور اب وہ اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، یعنی:
– وہ اپنے دونوں محلوں سے نکل کر نہ کاروبار کر سکتے ہیں، نہ نوکری پر جا سکتے ہیں، نہ ہی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
– شہر کے اندر اعلیٰ تعلیم کے حصول سے بھی محروم ہیں۔
– شہر کے اندر علاج و معالجہ تک رسائی ان کے لیے نہایت مشکل ہے۔
– اپنی قومی شناخت برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
– یہ ہزارہ شدید نفسیاتی مسائل سے اس قدر دوچار ہیں کہ ان کے لیے گویا “ہزارہ ہونا جرم” ہے۔
– پاکستانی میڈیا ان کی طرف سے غافل ہے۔

اس رپورٹ میں چند حکومتی اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے اور آخر میں کمیشن نے ہزارہ قوم کے ان مشکلات کے ازالے کے لیے اپنی سفارشات بھی دی ہیں۔ ظاہر ہے ان سفارشات پر عمل درآمد کی گنجائش صفر ہے، جو حکومتیں اپنے ہزارہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت سے غافل رہی ہیں، اب وہ ایسے سفارشات پر عمل درآمد کیسے کر سکتی ہیں۔ جو کچھ کرنا ہے ہزارہ قوم کو خود ہی کرنا ہے۔

منبع:
https://nchr.gov.pk/wp-content/uploads/2019/01/HAZARA-REPORT.pdf

اسحاق محمدی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment