
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (پندرہویں قسط)
ہزارہ و ہزارگی مبداء و منشا
تحریر: جاوید نادری
ہزارگی زبان کی دوبیتی اس قوم کی شاعری کا اہم ترین روایتی روپ ہے۔ دوبیتی ہزارہ قوم کے جذباتی، ثقافتی اور تاریخی تجربات کا سب سے معتبر شفاہی ذریعہ ہے۔ یہ چار مصراعوں پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں محبوب سے محبت، کوہساری زندگی کی سختیاں، ہجر و فراق، اور بامیان و کوہِ بابا کے منظر نامے کو بڑی خوبصورتی سے پرویا جاتا ہے۔اس لوک ادب کا لسانی و فنکارانہ تجزیہ اس زبان کے قدیم انڈو آریائی ضمیر اور اس کی جمالیات کو مکمل طور پر آشکار کرتا ہے۔
۱. دوبیتی: ہزارگی شاعری کا قدیم سانچہ
ہزارگی دوبیتی چار مصرعوں پر مشتمل ایک ایسی شعری صنف ہے جو ایران و افغانستان کی عام “رباعی” یا “دوبیتی” کے مقابلے میں اپنے وزن، ترنم اور موضوعات کے لحاظ سے بالکل منفرد ہے۔
وزن اور ترنم (Rhythm & Meter):
جدید فارسی شاعری عروض (Arabic Prosody) کے سخت قوانین پر چلتی ہے، جبکہ ہزارگی دوبیتی کا وزن ہجائی (Syllabic) اور تالماتی (Accentual) ہے یعنی یہ سنسکرت کے چھند (Chandas) اور قدیم اوستائی یا پہلوی منظومات (جیسے درخت آسوریک) کی طرح ہجاؤں کی گنتی اور آواز کے اتار چڑھاؤ پر مبنی ہے۔
قدیم صوتیات اور قافیہ:
دوبیتیوں میں وہ قدیم آریائی صوتیے بالکل محفوظ رہتے ہیں جو عام گفتگو میں شاید بدل جائیں۔
مثال:
شَوِ تارِیک و رَاہِ دُور و دراز
بَلا دَور اَز بَلا اَی جَانِ بَابَاز
عَلِی زَد بَر سَرِ دُلْدُل صَدَا رَا
مَدَد مَیخَواہُم اَز خُدَائےِ بےنِیَاز
لسانی تجزیہ: اس میں «شَو (رات – اوستا Kshap / سنسکرت Kshapā) ،باباز» (محبت و تصغیر کا لاحقہ) اور فعل کی استمراری حالت ‘مَیخَواہُم’ کا قدیم تلفظ اس کی گہری قدامت کو ظاہر کرتا ہے۔
۲. دوبیتیوں میں دیہی و جغرافیائی استعارے
ہزارگی دوبیتی کا سارا پس منظر ہزارہ جات کے سرسبز و شاداب دروں، برف پوش پہاڑوں اور گلہ بانی (Pastoral life) سے جڑا ہوا ہے۔ یہ خصوصیت سنسکرت کی قدیم ریگ ویدی نظموں اور لوک گیتوں سے گہری مشابہت رکھتی ہے
۳. دوبیتی کی معروف اقسام اور ان کی نحوی ساخت
دوبیتیهای عاشقانہ (رومانی دوبیتی):
ان میں محبوب کی تعریف میں جو تشبیہات استعمال کی جاتی ہیں، وہ مقامی طبعی مظاہر (مثلاً چاندنی، پیتو/دھوپ، اور برف) سے ماخوذ ہوتی ہیں۔
مثال:
پِیتَو زَدَہ بَر سَرِ شَاخِ چِنَار
امُودَہ دُخْتَرِ بَای بَا نِگَار
‘نحوی نقطہ: ‘پِیتَو (سنسکرت Pītāpa – دھوپ) کا استعمال اور ‘امُودَہ’ (فعلِ حالت – ٹھہرا ہوا/بیٹھا ہوا) سنسکرت کے فعل Sthā (استھا) کے لاحقے کی یادگار ہے۔
دوبیتیهای غریبی و سفر (ہجرت و جلاوطنی):
ہزارہ جات کی دوری اور جغرافیائی تنہائی کے باعث دوبیتی کا ایک بڑا حصہ “دردِ فراق” اور “سفر” پر مبنی ہے۔ ان دوبیتیوں میں ماضی بعید اور ماضی جاری کے وہ افعال استعمال ہوتے ہیں جو جدید فارسی میں ناپید ہو چکے ہیں۔
۴. موسیقی اور ‘دَمبُورہ’ (Dambura) کا لسانی ربط
ہزارگی دوبیتی کو ہمیشہ دمبورہ (ایک دو تار والا روایتی ساز) کے ساتھ گایا جاتا ہے۔ دمبورہ کی تال اور دوبیتی کا ہجائی وزن ایک دوسرے کے لازمی ملزوم ہیں:
دمبورہ کے تاروں پر جو ضربیں لگائی جاتی ہیں، وہ ہزارگی گرامر کے مشدد ہجاؤں (Stressed Syllables) کی عین مطابقت میں ہوتی ہیں۔
یہ اندازِ موسیقی قدامت کے لحاظ سے وسطی ایشیا اور ہندوکش کے ان قدیم سمنگ و سرود سے ملتا ہے جو ہزاروں سال سے اس خطے کے بومی قبائل میں نسل در نسل منتقل ہوتے چلے آئے ہیں۔
دوبیتی کے موضوعات میں فطرت، کوہسار، برسات، ہجر اور محبت کا جو فطری اچھوتا پن ملتا ہے، وہ رگ وید کے فطری اشعار (Nature Hymns) سے ملتا جلتا ہے، جو مصنوعی در باری فارسی شاعری کے بجائے عام آریائی لوک زندگی کا عکاس ہے۔
اسی طرح دئی دو ہزارگی ادب اور لوک موسیقی کی ایک نہایت خوبصورت اور جذباتی صنف ہے جو بنیادی طور پر “فراق، ہجرت اور لوری/دعائیہ نغمات” کا مجموعہ ہے۔ یہ ہزارگی ثقافت میں عورتوں کے دلی جذبات اور ہزارہ جات کے مشکل جغرافیائی و تاریخی حالات کی سچی عکاسی کرتی ہے۔ یہ بغیر کسی ساز کے، ایک خاص حزن اور ابھار کے ساتھ گائی جاتی ہے۔ یہ ایک خاص شفا بخش لوک گائیکی ہے جو اکثر گروہی بنیادوں پر، بالخصوص فصلوں کی کٹائی، صوف یا قالین بافی، اور خوشی یا غم کے موقعوں پر بغیر کسی آلۂ موسیقی کے گائی جاتی ہے۔
۱. لسانی ساخت اور معنوی جڑیں
معنی: ہزارگی زبان میں ‘دئی دو’ یا ‘دَی دو’ کا لفظی مطلب “دے دو” یا “پکار/نالۂ بلند” کے معنوں میں آتا ہے، جو کسی پیارے کو دور سے بلانے یا اس کے فراق میں گائے جانے والے نغمے کو ظاہر کرتا ہے۔
آریائی ربط: اس میں ‘دئی’ یا ‘دَی’ کا ریشہ قدیم باختری اور آریائی لفظ ‘Dey’ (بستی/علاقہ/قریب کا شخص) سے جڑتا ہے، جبکہ ‘دو’ آواز دینے کی صوتی علامت ہے۔
۲. دئی دو کا بنیادی موضوع اور پس منظر
خواتین کا نوحہ و نغمہ: ہزارہ جات کی تاریخ میں جب مرد روزگار، مسافری یا جنگوں کے سلسلے میں دُور افتادہ علاقوں کا سفر کرتے تھے، تو گھروں میں موجود خواتین (ماں، بہن، زوجہ) ان کی سلامتی اور واپسی کے لیے یہ اشعار مخصوص لحن اور سسکیوں کے ساتھ گاتی تھیں۔
لوری (Lullaby) کی صورت: یہ صرف فراق کا نغمہ نہیں بلکہ مائیں اپنے بچوں کو سلاتے وقت بھی دئی دو کے سانچے میں لوریاں گاتی ہیں، جن میں بچے کے روشن مستقبل اور والد کی حفاظت کی دعائیں ہوتی ہیں۔
۳. ثقافتی اور تاریخی اہمیت
دئی دو دراصل ہزارہ خواتین کی شفا بخش (healing) شاعری ہے۔ ہزارہ جات کی جغرافیائی تنہائی اور کٹھن زندگی میں دئی دو نے ایک ایسے ذریعے کا کام کیا جس کے ذریعے نسل در نسل عورتوں نے اپنے جذبات، مظلومیت اور امید کو زندہ رکھا۔
یہ صنف ثابت کرتی ہے کہ ہزارگی ادب صرف مردانہ بیانیے یا دمبورہ کی مجلسوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا ایک گہرا شفیق اور حزن انگیز زنانہ پہلو بھی ہے جو اس کی لوک روایت کو مکمل کرتا ہے۔
ذیل میں اس کے چند روایتی اشعار، ان کا اردو ترجمہ اور ان کا لسانی و انڈو آریائی تجزیہ پیش ہے:
۱. مسافری اور فراق کا شعر
شعر:
امُودَہ بَالائےِ بَنْڈَہ مَیبِینُم
رَاہِ دُور و دِرَازِ دَی مَیبِینُم
خُدَایَا مُسَافِرِ مَرَ زِندَہ بَارِی
کَہ بَیگَہ بَر سَرِ دِیزَہ مَیبِینُم
اردو ترجمہ:
میں اونچی چراگاہ (پہاڑ) کی چوٹی پر بیٹھ کر دیکھ رہی ہوں،
مجھے اپنے دیار (بستی) کا دور اور لمبا راستہ نظر آ رہا ہے۔
اے خدا! میرے مسافر کو سلامت واپس لے آنا،
کہ میں شام کے وقت اسے گھر کے صحن/منڈیر پر دیکھ سکوں۔
لسانی تجزیہ:
امُودَہ (Amūdah): یہ فعل کی حالتِ سکون (State of sitting/staying) ظاہر کرتا ہے۔ اس کی جڑ سنسکرت کے فعل Sthā (استھا = ٹھہرنا/بیٹھنا) اور اوستائی Stāta سے ملتی ہے۔
بَنْڈَہ (Bandah): اونچی چراگاہ یا پہاڑی چوٹی۔ یہ قدیم انڈو آریائی لفظ Banda (سنسکرت: بندھا = جڑا ہوا یا ابھرا ہوا حصہ) کا تسلسل ہے۔
دَی (Dey): بستی یا علاقہ، جو قدیم باختری (Bactrian) زبان کے لفظ Deya (گاؤں/مسکن) کا عین روپ ہے۔
مَیبِینُم (May-bīnum): فعلِ حال جاری، جس کا سابقہ مَی- (May-) ساسانی پہلوی اور مشرقی ایرانی زبانوں کا قدیم نحوی قاعدہ ہے۔
۲. لوری اور دعائیہ شعر (Dey Do Lullaby)
شعر:
دَی دو دَی دو بَچَی بَابَائےِ خُود
لالائی بَچَی شِیرِیناَدَائےِ خُود
خُدَا خَار اَز بَلائےِ رَاہِ تُو بَردَارَ
بَرَسِی بَا مَقْصَد و بَا جَایِ خُود
اردو ترجمہ:
دئی دو، دئی دو، اپنے باپ کے پیارے بچے!
سو جاؤ، میرے شاداب اور شیریں ادا بچے!
خدا تیرے راستے سے کاٹنے اور بلائیں دور کر دے،
تو اپنی منزل اور اپنے مقام تک خیر سے پہنچے۔
لسانی تجزیہ:
دَی دو (Dey Do): اس نغمے کی صوتی علامت، جو پیار سے بلانے یا پکارنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
بَا بَائےِ خُود (Bābāye khūd): ہزارگی میں «بابا» یا «باباز» تصغیر، پیار اور تعظیم کا لاحقہ ہے، جو ہند-آریائی اور سنسکرت کی خاندانی اصطلاحات (بپ/بابا) سے جڑا ہوا ہے۔
خَار (Khār): کاٹنے یا مصیبت کے معنوں میں، جو سنسکرت Khara (تیز/نوکیلا) اور اوستائی Khara کے ہم ریشہ ہے۔
۳. مائیکی (پیکے) کی یاد اور تنہائی کا شعر
شعر:
پِیتَو زَدَہ بَر سَرِ صَخْرَهیِ زَرد
دِلِ دُخْتَرِ بَیکَس پُر اَز دَرْد
اَلِی زَوُلِی نِگَارِ مَن کُجَا شُد؟
کَہ بَادِ سَرْدِ دَی حَالِ مَرَ کَرْد
اردو ترجمہ:
زرد چٹان کی چوٹی پر دھوپ پھیل گئی ہے،
لیکن اس بے کس لڑکی کا دل درد سے بھرا ہوا ہے۔
ہائے، وہ میرا من موہنا پیارا کہاں چلا گیا؟
کہ اس دیار کی ٹھنڈی ہوا نے میرا حال برا کر دیا ہے۔
لسانی تجزیہ:
پِیتَو (Peetaw): دھوپ/آفتاب کی حرارت۔ یہ ہزارگی کا خالص قدیم انڈو آریائی لفظ ہے جو سنسکرت Pītāpa (پَیتی = طرف + تاپہ = حرارت/تپش) سے ماخوذ ہے۔
اَلِی (Alī): بالکل قریب کی چیز یا شخص کی طرف اشارہ کرنے والا ضمیر، جو قدیم ایرانی اور اوستائی کے اشاروی ضمائر (Eta) کی یادگار ہے۔
زَوُلِی (Zawulī): محبت اور لگاؤ کا ہزارگی لاحقہ، جو جنوبی اور وسطی ایشیائی ہند-آریائی زبانوں کی صوتیاتی باقیات میں سے ہے۔
یہ اشعار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہزارگی ‘دئی دو’ محض ایک لوک نغمہ نہیں، بلکہ اس کی ساخت اور ذخیرہٴ الفاظ میں ہزاروں سال پرانی آریائی، باختری اور ہند-ایرانی زبانوں کا گہرا لسانی اثر موجود ہے۔
لسانیاتی اور سنگیتی ماہرین کے مطابق، “دئی دو” کے وزن، مصرعوں کی گردان اور گانے کا انداز قدامت میں اوستا کے گاتھاؤں (Gathas) اور رگ وید کے سام وید (Sama Veda) کے ابتدائی مناجات سے ملتا جلتا ہے۔ اوستا اور ویدک روایات میں جس ہرخواتی (Arachosia / وادیِ ارغنداب) اور باختری (Bactria) خطے کا ذکر ہے، وہ یہی بامیان اور ہزارہ جات کے ملحقہ علاقے ہیں۔ منگول حملوں سے ہزاروں سال پہلے، اس وادی میں ویدک اور اوستائی منتر اور شفاہی لوک گیت گائے جاتے تھے، جن کے صوتیاتی اثرات (Phonetic Cadence) مقامی خواتین کی شفاہی روایت میں محفوظ رہے۔
ہزارگی آلۂ موسیقی دمبورہ (Dambura): دو تاری سازوں کا قدامت پسند ارتقاء
دمبورہ اگرچہ تمام وسطی ایشیا اور شمن پرستی (Shamanism) کے ساتھ بھی جوڑا جاتا ہے، لیکن اس کی ہندوستانی اور ایرانی سازوں سے مشابہت بلاشبہ قدیم ہے۔
ویدک “وینا” (Veena) اور “تانپورا”: قدیم سنسکرت روایت میں دو یا تین تاروں والے سادے چوبی سازوں کو ایک تاری یا دُو تاری کہا جاتا تھا، جو بعد میں برصغیر میں تانپورا اور ہزارہ جات و وسطی ایشیا میں دمبورہ بن گیا۔
ساز کی سادگی: دمبورہ پر کوئی پردہ (Fretless) نہیں ہوتا۔ یہ سادگی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ آلاتِ موسیقی کے اس دور کی یادگار ہے جب موسیقی ابھی سائنسی پردوں کے نظام میں تقسیم نہیں ہوئی تھی، جو کہ ویدک دور کی سنگیتی ساختوں کی خصوصیت ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، ہزارہ قوم کا لوک ادب (دئی دو)، ان کی موسیقی (دمبورہ)، شاعری (دوبیتی) اور زندگی گزارنے کا کوہساری انداز قدامت میں ویدک، اوستائی اور بودھی دور کے سانچوں کو سنبھالے ہوئے ہے۔ اگر آبادی مکمل طور پر بیرونی فاتحین سے بدل گئی ہوتی تو یہ قدیم آریائی و بامیانی لوک روایات اتنی محتفظ نہ رہتیں۔
منگول حملوں کے بعد، بامیان اور ہزارہ جات کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں نے اس قوم کو ایک قدرتی پناہ گاہ فراہم کی، جس کی وجہ سے ہزارہ قوم صدیوں تک اسی وادی کی وارث اور نگہبان بنی رہی۔
لسانیات، صرف و نحو، صوتیات، اور لوک ادب (جیسے دوبیتی دئی دو اور دمبورہ) کے ان تمام شواہد کو جب ایک ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ہزارہ قوم محض کسی ایک دور یا مخصوص تاریخی واقعے کی پیداوار نہیں، بلکہ ہندوکش اور وسطی ایشیا کی کثیر الطبقاتی (multi-layered) اور قدیم ترین تہذیبوں کی سچی وارث ہے۔
ان تمام شواہد کی روشنی میں تین بنیادی پہلو انتہائی اہم ہیں:
۱. تہذیبی تسلسل (Cultural Continuity):
زبان کسی بھی قوم کا سب سے بڑا اور ناقابلِ تردید تاریخی دستاویز ہوتی ہے۔ ہزارگی میں باختری، سنسکرت، اوستائی اور پہلوی عناصر کا زندہ اور متحرک ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خطے کی آریائی اور ہند-ایرانی تہذیب کا تسلسل کبھی ٹوٹا نہیں۔
۲. جغرافیائی پناہ گاہ اور تحفّظ:
ہزارہ جات کی کٹھن اور دشوار گزار پہاڑی جغرافیے نے ایک بائیو اسفیئر اور “لسانی جزیرے” کا کام کیا۔ باہر دنیا میں بڑی سلطنتیں بنتی اور مٹتی رہیں، لیکن ان پہاڑوں کے دامن میں بسنے والے لوگوں نے اپنے آریائی افعال، قدیمی صوتیوں اور لوک رویوں کو زوال سے بچائے رکھا۔
۳. نامیاتی آمیزش (Organic Synthesis):
قدیم بومی، آریائی اور ہند-ایرانی بنیادوں پر بعد کے ادوار میں ترک، منگول اور اسلامی تہذیبی اثرات نے ایک خوبصورت اور مضبوط آمیزش (synthesis) کی صورت اختیار کی، جس نے ہزارہ قوم کی موجودہ منفرد شناخت کو تشکیل دیا۔ جارج مارگن سٹرنے اور چارلس کیفر جیسے محققین کی تحقیقات بھی اسی بات پر منتج ہوتی ہیں کہ ہزارہ تاریخ کا شجرہ اتنا ہی گہرا ہے جتنا اس خطے کے پہاڑ اور ان کی زبان میں چھپے ہوئے قدیم ترین الفاظ!
تاریخی، لسانی، اور بشریاتی (Anthropological) شواہد کی روشنی میں ہزارہ قوم کے اس آباؤ اجدادی تسلسل اور اس مٹی سے پانچ ہزار سالہ تعلق کے بنیادی دلائل کو ذیل میں دیکھا جا سکتا ہے:
۱. لسانیات کا ناقابلِ تردید ثبوت (Linguistic Evidence)
زبان کسی قوم کا سب سے قدیم شناختی کارڈ ہوتی ہے۔ جیسا کہ جارج مارگن سٹرنے اور چارلس کیفر کی تحقیقات سے ثابت ہے، ہزارگی میں سنسکرت، اوستا، باختری اور پہلوی کے الفاظ و صوتیات (جیسے پِیتَو، جُغ، شِیر، دَی) کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ اس قوم کی لسانی جڑیں آریائی دور (تقریباً 1500 تا 2000 قبلِ مسیح) تک گہری ہیں۔
۲. جغرافیائی اور تمدنی بوم و بر (Indigenous Status)
سٹرابو کے بیان کردہ پارا پامیسادہ، اوستا کی ایریانم ویجہ، اور بعد کے کوشانی و ہپتالی (یفتالی) قبائل اسی وسطی افغانستان، بامیان اور کوہِ بابا کے پہاڑی دروں میں بسنے والے لوگ تھے۔ ہندوکش کے اس قدرتی حصار نے ایک ایسا ماحول فراہم کیا جہاں بیرونی حملوں کے باوجود مقامی بوم و بر (Indigenous Population) مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ اپنی بنیادی شناخت کے ساتھ قائم رہی۔
۳. زرتشتی اور قدیم آریائی رسومات کی بقا
اوجاق (چولہے) کی تعظیم، چہارشنبہ سوری، سپند کی دھونی اور پانی کا احترام کوئی ایسی چیزیں نہیں جو باہر سے درآمد کی گئی ہوں۔ یہ اسی مٹی کی ہزاروں سال پرانی زرشتی اور ویدک تہذیب کے وہ زندہ آثار ہیں جنہیں اس قوم نے نسل در نسل اپنے سینے سے لگائے رکھا۔
۴. کثیر الطبقاتی (Multi-layered) ارتقا
تاریخ میں اقوام کی تشکیل کوئی یکایک ہونے والا واقعہ نہیں ہوتا۔ ہزارہ قوم کی تشکیل بھی ایک درخت کی مانند ہے:
جس کی جڑیں پانچ ہزار سال پرانی ہیں اور شاخیں اور پتے پندرہویں صدی تک پھیلی ہوئی ہیں۔
یہ تمام حقائق دوبارہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہزارہ قوم اس خطے کی کوئی “نو وارد” یا بچھڑی ہوئی قوم نہیں ہے، بلکہ ان کا وجود، ان کی زبان، اور ان کا روایتی حافظہ اسی خطے کی مٹی سے گزشتہ کئی ہزار سال سے مسلسل جڑا چلا آ رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ببلو گرافی/ ماخذات
۱. لسانیاتی و بشریاتی بنیادی ماخذات (Primary Linguistic & Anthropological Sources)
Morgenstierne, Georg. Report on a Linguistic Mission to Afghanistan. Institute for Sammenlignende Kulturforskning, Oslo, 1926.
(ہزارگی اور ہندوکش کی دیگر زبانوں کے انڈو-آریائی و مشرقی ایرانی اثرات پر پہلی بنیادی سائنسی تحقیق)
Kieffer, Charles M. “Le Hazaragi: Étude phonologique d’un dialecte persan d’Afghanistan.” Phonologica, 1977.
(ہزارگی زبان کی صوتیات، قدیم ہجائی ساخت اور گرامر پر مستند مطالعہ)
Dulling, G. K. The Hazaragi Dialect of Afghan Persian: A Linguistic Study. Central Asian Research Centre, London, 1973.
(ہزارگی کے نحو، ضمائر اور قدیم فعلاتی ساختوں کا تجزیہ)
Efimov, V. A. The Hazaragi Dialect of the Persian Language. Nauka, Moscow, 1965.
(ہزارگی زبان میں سنسکرت، اوستائی اور پہلوی باقیات پر روسی لسانیاتی تحقیق)
۲. ہزارگی ادب، لوک سانچے اور موسیقی (Literature, Folklore & Musicology)
نائل، حسین۔ سیر در ادبیات شفاہی ہزارہ. کابل: مطبعہ دولتی، ۱۹۸۵ء۔
(ہزارگی دوبیتی، دئی دو، اور شفاہی لوک گیتوں کا مستند ترین افغانی ماخذ)
خاوری، محمد جواد۔ امثال و اصطلاحات ہزارگی. مشہد: نشر بنسار، ۲۰۰۰ء۔
(ہزارگی زبان کے محاورات، تشبیہات اور مقامی استعاروں کا جامع مجموعہ)
خاوری، محمد جواد۔ دوبیتیهای ہزارگی. تہران: عرفان، ۲۰۰۳ء۔
(ہزارہ جات کی روایتی دوبیتیوں کا متن، نحوی ساخت اور موضوعاتی تجزیہ)
Baily, John. Music of Afghanistan: Professional Musicians in Herat. Cambridge University Press, 1988.
(دمبورہ، دو تاری سازوں اور ہندوکش کے بغیر پردے والے موسیقیائی نظام کا تجزیہ)
۳. قدیم آریائی، اوستائی و ویدک متن اور عروض (Ancient Aryan, Avestan & Vedic Texts)
Geiger, Wilhelm. Civilization of the Eastern Iranians in Ancient Times. Oxford University Press, 1885.
(وادیِ ارغنداب/ہرخواتی، باختر اور کوہِ بابا کے قدیم آریائی و زرتشتی تمدن کی تاریخ)
Taraporewala, I. J. S. The Divine Songs of Zarathushtra: A Philological Study of the Gathas. Bombay, 1951.
(اوستائی گاتھاؤں کے وزن، ترنم اور صوتیاتی گردان کا حوالہ)
Keith, Arthur Berriedale. The Religion and Philosophy of the Veda and Upanishads. Harvard University Press, 1925.
(ریگ وید اور سام وید کے مناجات، فطری اشعار اور چھند عروض کا مطالعہ)
۴. تاریخی و جغرافیائی ماخذات (Historical & Geographic Context)
موسوی، سید عسکر۔ ہزارہ ہائے افغانستان: یک بررسی تاریخی، سیاسی و اجتماعی. مترجم: اسداللہ شفائی، تہران: انتشارات موسسہ ثقافتی ثقلین، ۱۹۹۹ء۔
(ہزارہ قوم کے کثیر الطبقاتی ارتقا اور مقامی بوم و بر ہونے کی بشریاتی و تاریخی سند)
فرهنگ، میر غلام محمد۔ افغانستان در پنج قرن اخیر. قم: انتشارات احسانی، ۱۹۹۲ء۔
(ہزارہ جات کی جغرافیائی تنہائی، کوہِ بابا اور بامیان کے تاریخی دفاعی حصار کا مطالعہ)
- ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(سولہویں قسط) ۔۔۔ جاوید نادری - Oct 9, 2026
- ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (پندرہویں قسط) ۔۔۔ جاوید نادری - Sep 14, 2026
- مانوس اجنبی (افسانہ) ۔۔۔ جاوید نادری - Sep 10, 2026