ہزارہ ہیروز (2)
تحریر:اسحاق محمدی
شازیہ بتول (آرٹسٹ)

شازیہ بتول ہزارہ قوم کی ایک معروف نقاش (پینٹر) اور ممتاز سماجی کارکن ہیں۔ ان کے والد محترم کا نام قنبرعلی ہے۔ وہ اپنے ایک انٹرویو میں ثاقب لقمان قریشی کو بتاتی ہیں کہ: “ان کا والد اور دونوں بھائی بزنس سے وابستہ ہیں۔ تین سال کی عمر میں زائد المیعاد (ایکسپائرڈ) انجکشن لگنے سے وہ دونوں پاؤں سے معذور ہو گئی تھیں۔ ابتدائی اور ہائی اسکول کی تعلیم انہوں نے گھر کے قریبی درسگاہ سے اور انٹرمیڈیٹ گرلز کالج کوئٹہ سے حاصل کیا۔ بعد ازاں بلوچستان یونیورسٹی سے فائن آرٹس میں بیچلر جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے اسی شعبہ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ 2012ء کے دوران معذور افراد کے لیے کام کرنے کا بیڑہ اٹھایا جو آج تک جاری ہے اور ساتھ پینٹنگز کو بھی مزید جِلا بخشتی رہی ہیں۔ ان کی سولو (تنہا) اور مشترکہ پینٹنگز کی نمائش بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں ہوچکی ہیں۔ اب تک وہ صوبائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر 27 ایوارڈز جیت چکی ہیں” (بحوالہ: جون 25، 2021ء، فیس بک پیج)۔
ان کے بعض اہم ایوارڈز درج ذیل ہیں:
-
- یو این ایوارڈ فار ویمن 2018ء
- تمغہ امتیاز پاکستان 2010ء
- نیشنل یوتھ ایوارڈ 2008ء
- صوبائی یوتھ ایوارڈ 2008ء
شازیہ بتول نے انیسویں صدی کے دوران امیر عبدالرحمان کے ہاتھوں ہزارہ نسل کشی کو بھی بطور خاص فوکس کیا ہے اور اس ضمن میں درجن سے زائد پینٹنگز بنائی ہیں جن میں ہزارہ قیدیوں کو زنجیروں میں جکڑے، سیاہ چالوں (کنویں نما تاریک کال کوٹھری) میں پڑے ہوئے یا پھر ان کے سروں کے کلہ منار کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا اصل مقصد جہاں تک ممکن ہو سکے پوری دنیا میں نمائش کرانا تھا جو بدقسمتی سے بدانتظامی کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا اور فی زمانہ تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کی الماریوں میں بند پڑی ہیں۔ شازیہ بتول بے حد نڈر اور ہر قسم کے مشکلات کا سامنا کرنے والی خاتون ہیں۔ بلاشبہ وہ اپنی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔
ثروت فاطمہ (بیڈمنٹن)

ثروت فاطمہ پاکستانی ہزارہ کی نئی نسل سے تعلق رکھتی ہیں۔ بیڈمنٹن کی ورلڈ کلاس کھلاڑی ہیں۔ چھوٹی عمر میں ہی ایک مقامی ہال میں اپنے والد کے زیر نگرانی کھیلنا شروع کیا۔ اس کھیل سے انہیں جنون کی حد تک لگاؤ ہے۔ بہت کم عمری میں پہلے کوئٹہ، پھر صوبہ، بعد ازاں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کامیابیوں کے زینے چڑھتی گئیں۔ انہوں نے
-
- 4 بار مسلسل جونیئر نیشنل چیمپیئن شپ جیتا
- 2 بار ساؤتھ ایشیئن سلور میڈلز حاصل کیے
- اور اسی سال یعنی 2026ء میں پہلے ملائشیئن چیمپیئن شپ میں گولڈ اور پھر ساؤتھ ایشیئن گیمز کے مختلف ایونٹس میں 3 گولڈ میڈلز جیتنے میں کامیاب ہوئیں جو بجائے خود پاکستان لیول پر ایک ریکارڈ ہے۔
اب ان کا ارادہ اولمپکس میں پاکستان کے لیے میڈل جیتنا اور پھر ورلڈ چیمپیئن شپ میں بلند مقام حاصل کرنا ہے۔ ان کی محنت، لگن اور بلند ارادوں کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ:
“خدا دے زورِ بازو اور زیادہ”۔
- جلیلہ حیدر ایڈوکیٹ ۔۔۔اسحاق محمدی - Oct 10, 2026
- شاو شینی: ایک قدیم ہزارگی رسم ۔۔۔ اسحاق محمدی - Oct 2, 2026
- ہزارہ قوم کے آلام و مصائب کو سمجھنا ۔۔۔ اسحاق محمدی - Sep 22, 2026
