
ہزارہ ہیروز
تحریر: اسحاق محمدی
سردار محمد عیسیٰ خان
سردار محمد عیسیٰ خان، سردار یزدان بخش خان المعروف بہ سردار یزدان خان کے منجھلے بیٹے تھے۔ ان کی پیدائش 1911ء میں کوئٹہ میں ہوئی اور تعلیم بھی زیادہ تر وہیں حاصل کی۔ وہ اپنے وقت کے ایک متمول تاجر اور مقتدر سیاسی و قبائلی سردار شمار ہوتے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی سطح کے سرکردہ رہنما تھے۔ ہزارہ بزرگوں کے مطابق وہ روایتی سرداروں کی طرح دربار لگاتے اور فیصلے کرتے تھے۔ نہ صرف ہزارہ قوم بلکہ دیگر اقوام کے لوگ بھی اپنے جھگڑوں یا مسائل کے حل کے لیے ان سے رجوع کرتے تھے۔ اس لحاظ سے انہیں پاکستانی ہزارہ قوم کا آخری مقتدر سردار کہا جا سکتا ہے۔
جنرل محمد موسیٰ خان ہزارہ اپنی کتاب جوان ٹو جنرل میں لکھتے ہیں: “عیسیٰ (سردار محمد عیسیٰ خان) شایستہ اقدار کے مالک تھے اور انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ (ہزارہ) قبیلہ کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔”
سردار یزدان خان زندگی کے آخری برسوں میں فالج کے باعث زیادہ عرصہ اسپتال میں رہے، اس دوران سردار محمد عیسیٰ خان نے ہزارہ قوم کی قیادت سنبھالی۔ ان کی وفات 1963ء میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ بعد ازاں روایتی طور پر ان کے چھوٹے بھائی سردار محمد اسحاق خان نے سرداری کا منصب سنبھالا۔ اگرچہ وہ 1965ء میں کوئٹہ-چاغی سے ایم این اے منتخب ہوئے اور وفاقی وزیرِ ریلوے بھی بنے، لیکن عوامی مقبولیت کے لحاظ سے وہ سردار محمد عیسیٰ خان کے ہم پلہ نہ ہو سکے۔
حاجی ناصر علی خان المعروف بہ شیر کشمیر

صوبیدار ناصر علی خان، جو شیر کشمیر اور غازی کشمیر کے نام سے معروف تھے، کا تعلق ہزارہ پائینر سے تھا۔ 1933ء میں ہزارہ پائینر کی سیاسی بنیاد ختم ہونے کے بعد وہ تجارت کے ساتھ قومی معاملات، کھیلوں اور سیاست میں بھی سرگرم رہے۔ وہ پاکستان مسلم لیگ اور نیشنل گارڈ کے فعال رکن تھے اور ہزارہ فٹبال کلب کوئٹہ (رجسٹرڈ 1937ء) کے بانی اراکین میں شامل تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد جب کشمیر میں جنگِ آزادی شروع ہوئی تو حاجی ناصر علی خان کوئٹہ سے 1500 ہزارہ جنگجوؤں کو ساتھ لے کر کشمیر پہنچے اور آزاد کشمیر کی فتح میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی بے مثال شجاعت کے اعتراف میں حکومتِ کشمیر نے انہیں “شیر کشمیر” کا خطاب دیا (محمد گلزاری، ہزارہ شخصیات ص65)۔
ہزارہ بزرگوں کے مطابق وہ نہایت ہمدرد اور قوم دوست انسان تھے۔ اگر کوئی سائل مسئلہ لے کر آتا تو اسے حل کرنے کی بھرپور کوشش کرتے، اور اگر دفتر جانے کی ضرورت ہوتی تو فوراً ٹانگہ لے کر پہنچ جاتے، جسے وہ خود “ٹم ٹم” کہا کرتے تھے۔ ان کی وفات 13 ستمبر 1954ء کو ہوئی (کوثر علی کوثر، ص196)۔ معروف ہزارہ فٹبالر قیوم علی چنگیزی، جو “ایشیئن پیلے” کے نام سے مشہور ہیں، انہی شیر کشمیر کے صاحبزادے تھے۔
صوبیدار میجر دوست محمد کاکئی
صوبیدار دوست محمد کاکئی ان ابتدائی ہزارہ مہاجرین میں شامل تھے جو امیر عبدالرحمان کی فوج کشی سے قبل برصغیر آ گئے تھے۔ بلوچستان آرکائیوز کے مطابق ان کی برٹش آرمی میں شمولیت اور ترقی کے مراحل درج ذیل ہیں:
- شمولیت: 31 اگست 1882ء
- جمعدار: 22 اپریل 1891ء
- صوبیدار: 15 جنوری 1895ء
- صوبیدار میجر: 1 اکتوبر 1904ء
1904ء میں ہزارہ پائینر کی تشکیل کے وقت انہیں اس یونٹ کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ انہوں نے محنت اور جانفشانی سے اس نو تشکیل شدہ پائینر کو منظم کیا، جس کے نتیجے میں ہزارہ پائینر جلد ہی برصغیر کے 9 پائینرز میں صفِ اول میں شمار ہونے لگے۔
انہوں نے پہلی عالمی جنگ سمیت کئی محاذوں پر شجاعت کے جوہر دکھائے اور درج ذیل اعزازات حاصل کیے:
- آرڈر آف برٹش انڈیا (Order of Brithish India)
- برٹش ڈسٹینگویشڈ میڈل (British Distinguished Medal)
- اسٹار برٹش وار میڈل (Star British War Medal)
- برٹش وکٹری میڈل (British Victory Medal)
1893ء میں امیر کابل کے قبضے کے بعد ہزارہ مرد و زن کو غلام اور کنیز بنا کر فروخت کیا جانے لگا۔ ان میں سے کچھ برٹش بلوچستان بھی پہنچے۔ صوبیدار میجر دوست محمد کاکئی نے قانونی طریقے سے ان کی بازیابی اور بحالی کے لیے انتھک کوششیں کیں (محمد گلزاری، ہزارہ شخصیات ص47-48)۔ ان کے پسماندگان میں ایک بیٹا فقیر حسین عندلیب تھا جو کئی زبانوں پر عبور رکھتا تھا۔
ان کے پڑپوتے ذاکر حسین کے مطابق فارسی میں ان کی ایک خودنوشت کتاب کافی عرصہ تک کوئٹہ میں موجود رہی، لیکن افسوس کہ اب ناپید ہے۔
منابع
1۔ جوان ٹو جنرل، جنرل محمد موسیٰ خان ہزارہ
2۔ تاریخ و ثقافت ہزارہ، کوثر علی کوثر
3۔ ہزارہ شخصیات (انگریزی)، محمد گلزاری (غیر مطبوعہ)
- ہزارہ ہیروز ۔۔۔ اسحاق محمدی - Aug 27, 2026
- سردار خیرمحمد ہزارہ ۔۔۔اسحاق محمدی - Aug 20, 2026
- مزار شریف میں طالبان کے ہاتھوں ہزارہ جینوسائیڈ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Aug 14, 2026