سردار خیرمحمد ہزارہ ۔۔۔اسحاق محمدی

سردار خیرمحمد ہزارہ

تحریر: اسحاق محمدی

میں نے پاکستانی ہزارہ کی کئی مشہور شخصیات کی بائیوگرافیز کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے جن میں علم و ادب، سیاست و سماجیات اور اسپورٹس کے شعبوں سے وابستہ خواتین و حضرات شامل ہیں۔ لیکن اب میں جس قومی شخصیت کے بارے میں لکھنے جا رہا ہوں، ان کا تعلق اسپورٹس اور اسپورٹس مینیجمینٹ سے تھا۔ شاندار اور طویل خدمات رکھنے کے باوجود ان کے بارے میں بہت کم تحریری مواد دستیاب ہے۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ ریٹائرڈ ڈی آئی جی بلوچستان پولیس مرحوم سردار خیرمحمد ہزارہ ہیں، جو ایک دور میں بیک وقت فٹبال، ہاکی اور گالف کے بہترین کھلاڑی رہے۔ بعد ازاں انہوں نے ان کھیلوں کے علاوہ باکسنگ، کراٹے، کرکٹ، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس وغیرہ کے بھی سرپرستِ اعلیٰ (پیٹرن اِن چیف) اور منتظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

ان کی پیدائش 8 اگست 1928ء کو کوئٹہ میں ہوئی۔ والدِ گرامی سردار شیرمحمد خان ہزارہ کا تعلق ہزارہ پائینر سے تھا۔ تعلیم کا آغاز اپنے وقت کے مشہور خالصہ (موجودہ اسپیشل ہائی اسکول) سے کیا۔ اس زمانے میں کوئٹہ شہر اور خصوصاً ہزارہ سماج میں کھیلوں کا جنون تھا۔ اسی ماحول سے متاثر ہوکر ننھے خیرمحمد ہزارہ نے ہاکی، فٹبال اور دوڑ کے مختلف ایونٹس میں حصہ لینا شروع کیا اور نوجوانی ہی میں اپنے اسکول کی ٹیم کے رکن بن گئے۔ آگے چل کر وہ اس وقت کی مشہور ٹیموں جیسے ہزارہ فٹبال و ہاکی کلب، ممڈن اسپورٹنگ کلب اور افغان کلب کوئٹہ کی طرف سے کھیلتے رہے۔ ان کلبز کی اہم فتوحات میں آل انڈیا جودھپور فٹبال کپ 1942ء، ویکم فٹبال کپ 1945ء، کولیگن ہاکی کپ 1946ء اور آزادی کے بعد متحدہ پاکستان کے درجنوں چیمپئن شپس شامل ہیں، جن میں انہوں نے نمایاں کردار ادا کی

سردار خیر محمد ہزارہ اور ماسٹر عثمان کی ایک یاد گار تصویر

ا۔ یاد رہے کہ ان کے بڑے بھائی کیپٹن گل محمد ہزارہ 1975–1976ء کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر بلوچستان سے ایوانِ بالا (سینیٹ) کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے۔

1953ء میں وہ بلوچستان پولیس میں اے ایس آئی کی حیثیت سے شامل ہوئے اور وقت کے ساتھ ترقی کرتے ہوئے ڈی آئی جی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ شاندار ریکارڈ کی بنا پر 1985ء میں انہیں ایس ایس پی کوئٹہ تعینات کیا گیا۔ اب تک وہ واحد ہزارہ پولیس افسر ہیں جنہوں نے اس اہم پوسٹ پر خدمات انجام دی ہیں۔ بدقسمتی سے جولائی 1985ء میں ایران نواز ملاؤں نے چھ جولائی کا خونین کھیل کھیلا، جس کے بعد یہ پوسٹ ہزارہ پولیس افسران پر بند کردی گئی، چاہے ان کا ریکارڈ کتنا ہی شاندار کیوں نہ ہو۔

سردار صاحب کی پولیس خدمات کے علاوہ بلوچستان سطح پر مختلف کھیلوں جیسے فٹبال، ہاکی، باکسنگ، کراٹے، بیڈمنٹن اور ٹیبل ٹینس میں بھی ان کی شاندار خدمات رہیں۔ وہ مونٹریال اولمپکس 1976ء میں پاکستان ہاکی مینیجمینٹ کمیٹی کا حصہ بھی رہے، جو صوبہ بلوچستان اور ہزارہ قوم کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ بلا شبہ ان کے دور میں صوبہ بلوچستان نے مذکورہ بالا کھیلوں میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں ترقی کی اور درجنوں ہیروز پیدا کیے، جن میں اولمپیئن باکسر سید ابرار حسین ہزارہ، ایشیائی گولڈ میڈلسٹ اصغر علی چنگیزی سمیت سینکڑوں بلوچ، پشتون، ہزارہ اور سیٹلرز کھلاڑی شامل ہیں۔

بلوچستان سطح پر انہوں نے ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کی بھرپور سرپرستی کی، درجنوں کھلاڑیوں کو بلا تفریق رنگ و نسل محکمہ پولیس میں روزگار دلایا اور دیگر اداروں کو بھی آگے آنے کی ترغیب دی۔ ان کا یہ بڑا کمال تھا کہ درجن بھر کھیلوں کی درجنوں فیڈریشنز کو اکٹھا لے کر چلتے تھے، جو “جوئے شیر” لانے سے کم نہیں۔

مرحوم خیرمحمد ہزارہ سے میری درجنوں ملاقاتیں ہوئیں، لیکن پولیس لائن میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ایک ملاقات اس لحاظ سے یادگار رہی کہ اس دوران انہوں نے اپنی نوجوانی اور جوانی کے سنہری دور کے سماجی حالات، کھیلوں میں عام و خاص کی دلچسپی، کھلاڑیوں کی سخت تربیت، ڈسپلن اور بھائی چارے پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بطورِ خاص ہزارہ کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کے بارے میں بتایا کہ:

“ہم گرمی ہو یا سردی، گھنٹوں انتہائی سخت پریکٹس کے دوران بیک وقت فٹبال، ہاکی کے علاوہ دوڑ کے ایونٹس میں بھی حصہ لیتے تھے۔ وہی لڑکے فٹبال کھیلتے تھے اور وہی ہاکی بھی کھیلتے تھے، الگ سے کوئی ٹیم نہیں تھی۔ دوڑ کے ایونٹس اس کے علاوہ تھے۔ اکثر برصغیر سطح کے بڑے کھیلوں میں ہزارہ کھلاڑی یکے بعد دیگرے فٹبال، ہاکی اور کسی دوڑ کے ایونٹ میں بغیر کسی مشکل کے حصہ لیتے تھے اور اکثر جیت بھی جاتے تھے۔”

یہ لیجنڈری اسپورٹس مین اور اسپورٹس پرور انسان 24 دسمبر 1998ء کو وفات پا گئے اور ہزارہ قبرستان میں مدفون ہوئے۔ اسپورٹس کے شعبے میں بلوچستان اب تک سردار خیرمحمد ہزارہ جیسا مخلص، پیشہ ور سرپرست اور بہترین منتظم پیدا نہیں کرسکا۔ روحش شاد۔

نوٹ: اس تحریر کے ضمن میں تمام بنیادی تفصیلات اور یادگار تصاویر مہیا کرنے پر ان کے بھانجے، مشہور بلوچستان پولیس آفیسر المعروف بہ سارجنٹ ادریس صاحب کا بے حد شکریہ۔

اسحاق محمدی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment