ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(ہزارہ و ہزارگی مبداء و منشا) ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(ہزارہ و ہزارگی مبداء و منشا)

(چودھویں قسط)

تحریر: جاوید نادری

جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہزارہ قوم کی تاریخ جب بھی لکھی گئی، اسے مظلومیت اور لاچاری کے ایک محدود زاویے سے پیش کیا گیا۔ تاہم تاریخی حقائق کی گہری چھان بین ثابت کرتی ہے کہ یہ قوم کسی بیرونی لشکر کی محض اتفاقی باقیات نہیں، بلکہ اس خطے کی مٹی سے جڑی ایک قدیم، بہادر اور باشعور تہذیب ہے۔ اس تاریخ کا سفر منگول حملوں سے صدیوں پہلے شروع ہوتا ہے اور اس کی جڑیں قبل از اسلام کی عظیم تہذیبوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
ہزارہ جات میں “جات” صرف عربی کا جمع بنانے والا لاحقہ (جمع المؤنث سالم) نہیں ہے، بلکہ قدیم سنسکرت اور آریائی روایت میں یہ لفظ کسی مخصوص قوم کی سرزمین، ان کی بستیوں یا ان کے مجموعی مسکن کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
سنسکرت اور قدیم آریائی زبانوں میں «جات» یا «جاتہ» (Jāta) کا بنیادی مطلب “پیدا شدہ”، “اصل”، “جنس”، “قبیلہ” یا “گروہ/بستیاں” ہوتا ہے (جیسے سنسکرت میں دیو جات یا مانو جات)۔
ہزارگی، دراصل ہند-آریائی (Indo-Iranian) لسانی خاندان کی ایک الگ شاخ ہے۔ چونکہ سنسکرت اور قدیم اوستائی/فارسی ایک ہی آریائی اصل سے نکلے ہیں، اس لیے ہزارگی میں قدیم آریائی اور سنسکرت کے مفردات کا موجود ہونا بالکل قدرتی ہے۔ ہزارگی زبان میں بنیادی افعال، رشتے ناطے، جسمانی اعضاء اور قدرتی عناصر کے لیے جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں، ان کی جڑیں اوستا اور سنسکرت کے ساتھ گہرا صوتی اور معنوی ربط رکھتی ہیں۔ ہزارگی میں کئی ایسے قدیم آریائی صوتیے (sounds) اور الفاظ اب بھی زندہ ہیں جو معاصر جدید فارسی یا دیگر زبانوں میں متروک یا تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہزارہ قوم اور ان کے مسکن (ہزارہ جات) کی تاریخ محض تیرہویں صدی کے منگول حملوں سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ اس خطے میں ان کی بوم و بر (indigenous status) اور لسانی جڑیں قدیم آریائی و سنسکرت دور تک جاتی ہیں۔
نامور نارویجن ماہرِ لسانیات جارج مارگن سٹرنے (Georg Morgenstierne) نے ہند-ایرانی زبانوں بالخصوص افغانستان اور درہٴ ہندوکش کی زبانوں پر جامع تحقیق کی۔ مارگن سٹرنے نے یہ واضح کیا کہ ہزارگی کو محض جدید فارسی کا ایک مسخ شدہ دیہاتی لہجہ (dialect) سمجھنا غلط ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا قدیم اور منفرد آریائی لہجہ ہے جس نے فارسی کی دیگر شاخوں سے کٹ کر پہاڑی خطوں میں اپنی ساخت، گرامر، اور صوتیات کو صدیوں تک قدیم حالت میں محفوظ رکھا۔
ان کی تحقیق کے مطابق ہندوکش اور ہزارہ جات کے دُور افتادہ اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں نے “لسانی جزیروں” (Linguistic Islands) کا کام کیا۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ ہزارگی نے قدامت پسندانہ (conservative) رویہ برقرار رکھا، جس کی وجہ سے اس میں ہند-آریائی اور قدیم ہند-ایرانی زبانوں کے وہ قواعد اور صوتیے بچ گئے جو جدید فارسی (تہرانی و کابلی) میں ختم ہو چکے تھے۔ مارگن سٹرنے نے ہزارگی پر ترک-منگول اثرات کا بھی سائنسی تجزیہ کیا۔ ان کے مطابق ہزارگی کا گرامر، بنیادی ساخت (Structure)، اور افعال کی گردان مکمل طور پر آریائی/ایرانی ہے۔ ترک اور منگولی زبانوں کے الفاظ (جیسے ایلگ، قاش، الوس وغیرہ) اس میں ایک ثانوی لیر (Vocabulary Layer) کے طور پر داخل ہوئے، بالکل اسی طرح جیسے اردو میں عربی و فارسی کے الفاظ شامل ہوئے لیکن اردو کا بنیادی ڈھانچہ ہند-آریائی ہی رہا۔
انہوں نے ہزارہ جات اور ہندوکش کے ارد گرد بولی جانے والی زبانوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ ان علاقوں کی زبانوں میں دندان (Dental) اور معکوس اللسان (Retroflex) آوازیں (جیسے ٹ، ڈ، ڑ) موجود ہیں، جو سنسکرت اور دردی “Dardic” زبانوں کی خصوصیت ہیں لیکن مغرب کی جدید فارسی میں غائب ہیں۔ مارگن سٹرنے کا بنیادی نتیجہ یہ تھا کہ ہزارگی زبان دراصل وسطی ایشیا اور ہند-آریائی تمدن کے اس قدیم لسانی سنگم کی زندہ مثال ہے جو اب بھی اپنے اندر ہزاروں سال پرانی ہند-آریائی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔
اسی طرح فرانسیسی ماہرِ لسانیات چارلس مارٹن کیفر نے ہزارگی کی صرف و نحو، صوتیات اور اس کے منفرد لسانی خدوخال کا سائنسی تجزیہ کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ یہ بولی وسطی افغانستان کے پہاڑی خطوں میں کس طرح اپنی انفرادیت اور قدیم لسانی تہوں کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ امریکی ماہرِ بشریات اور تاریخ دان رابرٹ کینفیلڈ سمیت متعدد مغربی و علاقائی محققین نے ہندوکش اور وسطی ایشیا کے خطوں کی نسلی، تاریخی اور ثقافتی تشکیل پر گہرا کام کیا ہے۔ ان اسکالرز کی تحقیقات اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ ہزارہ جات کا جغرافیائی خطہ قدیم زمانے سے مختلف تمدنات کا گہوارہ رہا ہے، جہاں قدیم آریائی تہذیبی و لسانی اثرات گہری جڑیں رکھتے ہیں۔
چارلس کیفر اور دیگر نے یہ نشان دہی کی ہے کہ ہزارگی صرف مغرب (ایران) کی جدید فارسی کا لہجہ نہیں ہے، بلکہ اس کا خمیر قدیم مشرقی ایرانی زبانوں (جیسے اوستائی، باختری/Bactrian، اور سوغدی) سے ملتا ہے
«ف» کا «پ» میں اور «ب» کا «و» میں تبادلہ دراصل قدیم آریائی اور مشرقی ایرانی زبانوں کی صوتی صفت تھی، جو ہزارگی میں برقرار ہے۔ مثلاً ہزارگی میں «گوسفند» کو «گوسپند»، «برف» کو «ورف» یا «واب» (باد/ہوا) بولا جاتا ہے۔ یہ تبدیلیاں جدید فارسی کے بعد کی نہیں، بلکہ اوستائی اور باختری دور کی قدامت کی نشانی ہیں۔
ہزارگی میں معکوس اللسان (Retroflex) «ٹ» (ṭ) اور «ڈ» (ḍ) کی آوازیں پائی جاتی ہیں (مثلاً: ٹوکری، ڈنڈہ، یا مخصوص ہزارگی افعال و اسماء)۔ یہ صوتیاتی خصوصیت (Retroflexion) مغربی فارسی میں مطلقاً موجود نہیں ہے، بلکہ یہ ہند-آریائی (Sanskrit) اور دردی زبانوں کی خاصیت ہے۔ لسانیات دان اسے قدیم ہند-آریائی اور ہند-ایرانی تمدن کے تاریخی اختلاط اور جغرافیائی اثر کا صریح ثبوت مانتے ہیں۔
جامعاتی تحقیقات میں ہزارگی افعال کی گردان پر یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اس میں بعض افعال اور ضمائر قدیم پارتھی (Parthian) ۔دور سے زیادہ قریب ہیں
ہزارگی “ضمائر” میں جمع کے لیے «مو» (ہم) اور «شُما» يا «شُمو» کا استعمال، اور اشارے کے لیے «لی» یا «الی» کا طریقہ قدیم ایرانی زبانوں کے اشاروی صیغوں (Demonstrative pronouns) کا تسلسل ہے۔ ہزارگی میں فعل کی استمراری حالت بنانے کے لیے «مَی-» یا «مَ-» کا سابقہ (prefix) لگایا جاتا ہے (مثلاً مَی-روم – میں جا رہا ہوں)، جو قدیم وسطی فارسی اور دردی “Dardic” زبانوں کے افعال کی ساخت سے گہرا ربط رکھتا ہے۔
قدیم بلخ (Bactria) کی زبان آریائی خاندان کی مشرقی شاخ تھی جو ہندوکش میں بولی جاتی تھی۔ معاصر لسانیاتی مقالوں کے مطابق ہزارگی میں کئی ایسے الفاظ موجود ہیں جو باختری کتبوں (Bactrian Inscriptions) میں ملتے ہیں لیکن جدید فارسی سے غائب ہیں۔
«دَی» (Dey): ہزارگی میں گاؤں یا محلے کے لیے استعمال ہوتا ہے (جیسے دَی زنگی، دَی کنڈی)، جو باختری زبان کے لفظ «Lao» / «Dey» (بستی/علاقہ) کی توسیعی صورت ہے۔
«شِیر» (Shēr): دودھ کے لیے/ē/ مجہول کے ساتھ بولنا، جو باختری کتبوں میں اسی صوتیات کے ساتھ تحریر ملتا ہے۔
«آغیل» (Aghil) یا «ایل»: باختری اور قدیم سغدی زبانوں میں بستی یا اجتماعی مسکن کے لیے استعمال ہونے والا لفظ۔
مستمر کی ساخت: ہزارگی میں فعل کے ساتھ «مَی-» یا «مَ-» لگایا جاتا ہے (مثلاً مَی-روم – میں جا رہا ہوں، مَی-فتوم – میں گر رہا ہوں)۔ یہ ساخت قدیم ساسانی پہلوی اور مشرقی ایرانی زبانوں کے اساسی قاعدے کی باقیات ہے۔
فعل «بُودَن» کی خصوصی صورتیں: ہزارگی میں حالت بتانے کے لیے «ایسْتَہ» (Ishtah) یا «امِیدَہ» کا استعمال ہوتا ہے (مثلاً خو شُدَہ اِیسْتَہ – سو رہا ہے)، جو دردی اور سنسکرت کے فعلِ استمرار (استھا / Skt: Sthā – ٹھہرنا/رہنا) کی شبیہ ہے۔
جدید فارسی میں اشارے کے لیے بنیادی طور پر دو الفاظ ہیں (این اور آن)، جبکہ ہزارگی نے قدیم ہند-ایرانی زبانوں کی طرح فاصلے کی تین یا چار سطحیں محفوظ رکھی ہیں:
«لی» / «الی» (Lī / Alī): بالکل قریب کی چیز کے لیے۔
«اَی» (Ay): درمیانی فاصلے کے لیے۔
«او» (Ow) یا «اُونہ»: دور کی چیز کے لیے۔
یہ نظام سنسکرت اور اوستائی کے اشاروی ضمائر (Eta, Amo, Asau) کے صوتیاتی ڈھانچے سے مشابہت رکھتا ہے۔
مفعولی علامت «را» کی جگہ «زَ» یا «ہ» کا استعمال
جدید فارسی میں مفعولِ صریح (Direct Object) کے لیے “را” لگایا جاتا ہے (جیسے کتاب را آوردم)۔ ہزارگی میں:
“را” کی جگہ «-رَہ»، «-زَ» یا صوتی تنوین «-ہ» کا استعمال ہوتا ہے (مثلاً کتابِہ راوُر دوم یا علی-زَ بگو)۔
یہ صوتیاتی تبدیلی باختری (Bactrian) اور وسطی ایشیائی کتبوں کے مفعولی لاحقوں (Suffixes) سے مطابقت رکھتی ہے۔
ہزارگی میں بعض اوقات صفت (Adjective) کو موصوف سے پہلے لایا جاتا ہے، جو کہ فارسی کا قاعدہ نہیں بلکہ سنسکرت، پشتو اور دیگر قدیم مشرقی آریائی زبانوں کا خاصہ ہے:
مثال: جدید فارسی میں کہتے ہیں آدمِ خوب، جبکہ ہزارگی کی بعض مقامی ساختوں اور ضرب المثلوں میں صفت پہلے آتی ہے (جیسے کَہْنَہ آغیل – پرانا گاؤں)۔
لاحقہٴ تصغیر و محبت «گی» (Ge/Goi)
ہزارگی میں اسماء کے ساتھ محبت، قربت یا تصغیر ظاہر کرنے کے لیے «-گی» یا «-چَ» لگایا جاتا ہے (مثلاً باچَگی – پیارا بچہ)۔ یہ طریقہ ہند-آریائی زبانوں (سنسکرت کا / کی) کے لاحقوں کی یادگار ہے۔
قواعد و صرف و نحو کے یہ تمام پہلو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہزارگی صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس کا نحوی ڈھانچہ (Grammatical Backbone) قدیم ہند-ایرانی اور باختری تمدن کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔
ہزارگی زبان کے گرامر، لہجوں اور محاورات میں علاقائی تنوع (Dialectal Variation) اور محاوراتی ساختیں اس کی قدیم آریائی جڑوں کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔
۱. مکانی اور قبائلی لہجوں کا نحوی و صوتی فرق
ہزارہ جات کے مختلف علاقوں میں بولے جانے والے لہجے (مثلاً دَی‌زنگی، جاغوری، دَی‌کنڈی، اور غزنی) اپنے صوتیاتی اور نحوی نظام میں چند واضح تفاوت رکھتے ہیں:
دَی‌زنگی لہجہ (Dayzangi Dialect):
اسے ہزارگی کا سب سے قدامت پسند (conservative) اور کلاسیکی لہجہ مانا جاتا ہے۔
افعال کی ساخت: اس میں /ē/ اور /ō/ مجہول آوازیں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ مثلاً فعل «رفتن» (جانا) کے لیے مَی‌روم (May-rom) بالکل واضح آریائی صوتیے کے ساتھ بولا جاتا ہے۔
ضمائر: اس لہجے میں قدیم اشاروی ضمائر جیسے الی (Lī – یہ بالکل قریب) اور اُونہ (Unah – وہ دور) کا استعمال بہت عام ہے۔
جاغوری اور مالستان لہجہ (Jaghori & Malistan Dialects):
یہ لہجے ہند-آریائی (Sanskrit/Dardic) صوتیات کے زیادہ قریب دکھائی دیتے ہیں۔
معکوس اللسان آوازیں (Retroflexion): جاغوری لہجے میں «ٹ»، «ڈ»، اور «ڑ» کا استعمال دیگر لہجوں کی نسبت زیادہ نمایاں اور تیز ہے (مثلاً ٹُوکری، ڈَول، گَڑ-بَڑ)۔
استمراری لاحقہ: اس میں فعل جاری بنانے کے لیے «چی» یا «تَہ» کا لاحقہ استعمال ہوتا ہے (جیسے رَفْتَہ-تَہ – جا رہا ہے)، جو کہ دردی زبانوں کی فعل ساخت سے ملتا جلتا ہے۔
۲. ضرب المثلوں (Proverbs) میں قدیم آریائی نحوی ساخت
ہزارگی کی ضرب المثلیں (مَثَل‌ها) قدیم آریائی ترکیبوں اور فلسفیانہ فکر کا عکس پیش کرتی ہیں:
صفت کی تقدم (Pre-position of Adjective):
مثال: «کَہْنَہ آغیل نَقْشَه‌ی نَوْ مَی‌خوہَہ» (پرانا گاؤں نیا نقشہ مانگتا ہے)۔
نحوی خصوصیت: یہاں «کَہْنَہ» (صفت) موصوف (آغیل) سے پہلے آیا ہے، جو قدیم سنسکرت اور باختری کا قاعدہ ہے، جبکہ جدید فارسی میں «آغیلِ کَہْنَہ» کہا جاتا ہے۔
قدیم فعلِ شرط و جزا:
مثال: «آوو کہ از سر تیر شُد، چے یک بَوج چے صَد بَوج» (پانی جب سر سے گزر گیا تو ایک بالشت کیا اور سو بالشت کیا)۔
نحوی خصوصیت: اس میں «آوو» (پانی – اوستا Apo / سنسکرت Āp) اور «بَوج» (وجب/بالشت – باختری ریشہ) جیسے الفاظ اور شرطیہ فعل کی قدیم ساخت برقرار ہے۔
۳. اسمائے افعال اور صوتی نقل (Onomatopoeia)
ہزارگی میں قدرتی آوازوں اور حرکات کو فعل بنانے کا ایک خاص قدیم آریائی طریقہ موجود ہے، جسے “صوتی افعال” کہا جاتا ہے
«شِینْگ-شِینْگ کَدَن» (جھنکار یا بار بار آواز کرنا)
«قَپ-قَپ کَدَن» (تیزی سے کاٹنا یا پکڑنا)
«دَق-دَق کَدَن» (دستک دینا یا تیز دھڑکن)
یہ طریقہ کار سنسکرت کے دھاتو (Dhatu) نظام اور ہند-آریائی زبانوں کی بنیادی صفت سے بالکل مماثلت رکھتا ہے، جہاں آوازوں کے ساتھ فعل معاون (کَدَن / کرنا) ملا کر نیا فعل گھڑا جاتا ہے۔
(جاری ہے)

ببلو گرافی/ ماخذات

۱. بنیادی ماہرینِ لسانیات اور بشریات کی تحاریر (Primary & Linguistic Sources)
Morgenstierne, Georg. Report on a Linguistic Mission to Afghanistan. Institute for Sammenlignende Kulturforskning, Oslo: Aschehoug, 1926.
Morgenstierne, Georg. Irano-Dardica. Wiesbaden: Dr. Ludwig Reichert Verlag, 1975. (ہندوکش اور دردی و ایرانی زبانوں کے صوتیاتی و نحوی موازنے پر بنیادی مأخذ)
Kieffer, Charles M. “Le Hāzaragī: Phonologie et Morphologie.” Studia Iranica, Vol. 6, 1977, pp. 69–81. (ہزارگی زبان کی صوتیات، گردان اور گرامر کا سائنسی تجزیہ)
Canfield, Robert L. Faction and Conversion in a Plural Society: Religious Alignments in the Hindu Kush. Ann Arbor: University of Michigan Press, 1978. (وسطی افغانستان کے قبائلی و جغرافیائی ڈھانچے پر محققانہ کام)
Canfield, Robert L. “Hazāra: Ethnicity and Linguistic Identity.” Encyclopædia Iranica, Vol. XII, Fasc. 1, 2003, pp. 67–71.
۲. باختری اور مشرقی ایرانی زبانوں کے مآخذ (Bactrian & Eastern Iranian Studies)
Sims-Williams, Nicholas. Bactrian Documents from Northern Afghanistan (I & II). Oxford: Oxford University Press, 2000/2007. (قدیم باختری کتبوں، الفاظ اور نحوی ساخت پر جامع ترین تحقیق)
Gharib, Badr al-Zaman. Sogdian Dictionary (Sogdian-Persian-English). Tehran: Farhangan Publications, 1995. (سوغدی و مشرقی ایرانی لغت)
۳. سنسکرت اور ہند-آریائی لسانیات (Sanskrit & Indo-Aryan Linguistics)
Monier-Williams, Monier. A Sanskrit-English Dictionary: Etymologically and Philologically Arranged. Oxford: Clarendon Press, 1899. (لفظ «Jāta / جات» اور دیگر سنسکرت مادوں کی لغوی اصل کے لیے)
Burrow, Thomas. The Sanskrit Language. London: Faber and Faber, 1955. (سنسکرت اور قدیم ہند-ایرانی زبانوں کے مشترکہ قواعد)
۴. تاریخ، ثقافت اور جغرافیا (Historical & Regional Context)
Bacon, Elizabeth E. Obok: A Study of Social Structure in Eurasia. New York: Wenner-Gren Foundation, 1958. (ہزارہ جات کی تاریخی تشکیل پر مطالعہ)
پولادی، حسن۔ ہزارہ ہا (تاریخ، ثقافت، جامعہ و سیاست)۔ مترجم: علی عالمی کرمانی، تہران: انتشارات عرفان، ۱۳۸۷ (شامسی)۔
یزدانی، حسین علی (حاج کاظم)۔ پژوہشی در تاریخ ہزارہ ہا۔ قم: انتشارات مہتاب، ۱۳۷۲ (شامسی)۔

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

Leave a Comment