
مادرسری، پدرسری و طبقاتی نظام اور فطرت، جبریت، شخصیت
تحریر: علی رضا منگول
سائنس اور فن (آرٹ) کا جنم بیک وقت ہوا ہے، اس لیے کہ سائنس جاننا اور سمجھنا ہے جبکہ فن عمل کرنا ہے۔ چونکہ ہم سمجھنے کے دوران بھی عمل کررہے ہوتے ہیں، اس لیے دونوں کی پیدائش میں پہلے اور بعد کا سوال ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب ایک طالب علم سیکھ رہا ہوتا ہے تو وہ عمل کے ذریعے ہی سیکھتا ہے۔ خواہ وہ فن کا طالب علم ہو، وہ دراصل علم ہی حاصل کررہا ہوتا ہے مگر فن ہی اس کے علم حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
اب اگر سیکھنا سائنس یا علم ہے تو انسان نے سیکھنا یا جاننا کب شروع کیا؟ میرے خیال میں انسان کے وجود کے ساتھ ہی علم حاصل کرنے کا عمل شروع ہوگیا تھا۔ علمِ نفسیات (Psychology)کے مطابق ماں کے پیٹ میں افزائش کے دوران ہی بچے کی شخصیت (Personality)کی تشکیل ہورہی ہوتی ہے۔ یعنی حمل (Pregnancy)کے دوران ماں کے احساسات اور تجربات پیٹ میں موجود بچے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ماں کے تمام احساسات بچے کے لاشعور (Unconscious Mind)اور وجود کا حصہ بنتے ہیں، جو پیدائش کے بعد اس کی شخصیت میں شامل رہتے ہیں۔
اس طرح انسان ماں کے پیٹ میں ہی سیکھنا شروع کرتا ہے، یعنی سائنس حاصل کرتا ہے۔ انسانی معاشرے میں خواتین معاشرے کی خالق اور معمار ہوتی ہیں۔ ان معماروں کو سب سے زیادہ تجربات یعنی سائنس حاصل کرنے کے مواقع اور آزاد ماحول فراہم کرنا لازمی ہے۔ اگر ہماری گزشتہ نسلوں نے خواتین کے ساتھ حقیقی برابری قائم کی ہوتی تو آج ہمارے معاشرے کی حالت کہیں زیادہ بہتر ہوتی۔ اس عدمِ برابری کا سب سے بڑا ذمہ دار پدرسری اور طبقاتی نظام ہے، جس نے مردوں سے اُن کے اصل انسانی افعال چھین کر معاشرتی ترقی میں رکاوٹ پیدا کی۔
کہا جاتا ہے کہ ماں اور بچہ قدرتی طور پر خاندان کا حصہ ہوتے ہیں جبکہ باپ خاندان کا فطری حصہ نہیں ہوتا۔ باپ انسانی تہذیب میں آہستہ آہستہ خاندان کا حصہ بنا۔ قدیم انسانوں میں دادیوں کو بہت باعزت اور باکرامت مانا جاتا تھا، جو بڑے بڑے فیصلے مثلاً دفاع اور جنگوں کے فیصلے کرنے کی اہل تھیں۔ کیونکہ جنگیں عموماً تخریب کا باعث بنتی ہیں اور اگر یہ فیصلے مردوں کے ہاتھ میں دیے جائیں تو وہ نتائج کو مدِنظر رکھے بغیر طاقت کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں، جو بہرحال بربادی کا باعث بنتے ہیں۔ پدرسری نظام کے مسلط ہونے کے بعد مردوں نے تمام فیصلے طاقت کی بنیاد پر کرنا شروع کردیے۔
اگر انسان اپنے قدیم آبا و اجداد کے طور طریقوں سے واقف ہوتے تو وہ ہمیشہ خواتین کے ساتھ اُس توازن کو برقرار رکھتے جو انسانی پیشرفت اور ترقی کا ضامن ہے۔ فطرت میں توازن جبریت اور اصول کا درجہ رکھتا ہے، جسے فطرت کسی بھی عدمِ توازن کے بعد بہرصورت دوبارہ توازن کی جانب لاکر قائم کرتی ہے۔ کائنات میں تمام چیزیں ایک مخصوص وقت میں عدمِ توازن کا شکار ہوتی ہیں اور پھر فطرت دوبارہ توازن قائم کرتی ہے۔ یعنی توازن پیدا ہوتے ہی عدمِ توازن کی جانب سفر شروع ہوجاتا ہے۔ جیسے بچہ پیدا ہوتے ہی زندگی اور موت کی جانب اپنا سفر شروع کرلیتا ہے۔ کائنات کا یہ اصول اور جبریت ہر شے پر لاگو ہوتا ہے اور کوئی بھی چیز اس اصول سے مبرّا نہیں رہ سکتی۔
انسانوں نے آج جن تجربات کے نتائج حاصل کیے ہیں، ان میں سب سے زیادہ کارآمد نتیجہ اصولوں اور قوانین کا ادراک ہے۔ تمام اصول ناقابلِ تغیر ہیں اور کائنات کے ہر کونے میں ہر چیز پر بطور جبریت مسلط ہیں۔ اس لیے تمام چیزیں کائنات کے جبری اصولوں کے تابع ہیں، اور انہی اصولوں کی سمجھ انسانوں کو اختیار کی جانب لے جاتی ہے۔ گو کہ کائنات میں جبر کے علاوہ کسی قسم کا اختیار موجود نہیں، مگر انسان جبلی اور جبری اصولوں کو سمجھ کر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرکے ان سے استفادہ کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ آزادی اور اختیار کا ہونا مکمل طور پر مابعدالطبیعیاتی ہے۔
- مادرسری، پدرسری و طبقاتی نظام اور فطرت، جبریت، شخصیت ۔۔۔ علی رضا منگول - Aug 14, 2026
- جوانی مرگ ۔۔۔ علی رضا منگول - Apr 21, 2025
- بچوں کی تربیت، دنیا کا سب سے مشکل کام ۔۔۔ علی رضا منگول - Mar 11, 2025