مزار شریف میں طالبان کے ہاتھوں ہزارہ جینوسائیڈ
تحریر: اسحاق محمدی
8 اگست 1998 کو صبح 9:30 بجے طالبان مسلح فورسز، شہر کے مضافات میں تعینات حزبِ اسلامی کے پشتون دستوں کی ملی بھگت سے ہزارہ حزبِ وحدت کی فورسز کو گھیرے میں لینے کے بعد تیزی سے شمالی شہر مزار شریف میں داخل ہوگئیں اور بلا تخصیص لوگوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔ لیکن بہت جلد وہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق کم از کم تین دنوں تک ہزارہ قوم کے زن و مرد، حتیٰ کہ معصوم بچوں کی نسل کشی یعنی جینوسائیڈ میں مصروف ہوگئیں، جن میں ایک تعداد کو بے دردی سے ذبح بھی کیا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل حزبِ اسلامی کے دستے خود گلبدین حکمت یار کی سربراہی میں اپنے قریبی اتحادی، حزبِ وحدت سے غداری کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں چہارآسیاب کابل میں اپنے مورچے طالبان کے حوالے کرچکے تھے، جس کے نتیجے میں حزبِ وحدت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا اور اس کے سربراہ استاد عبدالعلی بھی طالبان کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور افغانستان جسٹس پروجیکٹ رپورٹس کے مطابق اس دانستہ اور پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت طالبان نے کم از کم 2000 (دو ہزار) معصوم شہریوں کو قتل کردیا جن کی بھاری اکثریت ہزارہ پر مشتمل تھی۔ افغانستان جسٹس پروجیکٹ رپورٹ کے مطابق پندرہ سو تا تین ہزار حزبِ وحدت کے وہ فوجی اس کے علاوہ ہیں جو حزبِ اسلامی کی غداری کے باعث طالبان کے گھیرے میں آگئے تھے اور تقریباً سبھی قتل کردیئے گئے۔
اس دردناک جینوسائیڈ میں مقتولین کی کل تعداد کے بارے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ محض دو ہزار سویلین کے قتلِ عام کا ذکر کرتا ہے، جبکہ افغانستان جسٹس پروجیکٹ رپورٹ میں دو ہزار سویلین کے علاوہ پندرہ سو تا تین ہزار ہزارہ فوجیوں کے قتلِ عام کی بات بھی کی گئی ہے۔ ان رپورٹوں میں سینکڑوں ہزارہ قیدیوں کی ہرات اور قندھار منتقلی کا ذکر ملتا ہے لیکن ان کی سرنوشت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ طالبان نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا۔
ہیومن رائٹس واچ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہزارہ قیدیوں کے قتلِ عام اور سینکڑوں کی ہرات و قندھار منتقلی کے باوجود اکتوبر 1998 تک کم از کم 4500 ہزارہ شمالی افغانستان کے جیلوں میں قید تھے، لیکن ان کی سرنوشت کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں۔ اسی طرح ان رپورٹوں میں ہزارہ خواتین کی بے حرمتی کے تذکرے ملتے ہیں لیکن جبراً کنیز بنانے کی اطلاعات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، حالانکہ احمد رشید نے اپنی کتاب میں 400 ہزارہ خواتین کو جبراً کنیز بنانے کا ذکر کیا ہے۔
نومبر 1998 میں معروف برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے نمائندہ مائیکل شریڈن نے اپنے تحقیقی مقالے میں انٹرنیشنل آبزرور کے حوالے سے مزار شریف جینوسائیڈ میں مقتولین کی تعداد 8000 بتائی، جبکہ خود ہزارہ ذرائع یہ تعداد کم از کم 15000 بتاتے ہیں۔
بدقسمتی سے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے اس المناک انسانی جینوسائیڈ کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے باوجود اب تک کوئی پیشرفت نہ ہوسکی ہے، جو بجائے خود ایک المیہ اور غفلت ہے۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان کئی سال قبل گوانتانامو میں قید اپنے کئی مجرم قاتلوں کو ایک بھگوڑے امریکی فوجی کے بدلے رہا کرانے میں کامیاب ہوگئے، جن میں ملا نوراللہ نوری (طالبان گورنر بلخ) اور ملا محمد فضل (اس وقت کے طالبان آرمی چیف) بھی شامل تھے، جو مزار شریف کے ہزارہ جینوسائیڈ میں براہِ راست ملوث تھے۔
دیگر مجرمین میں اس وقت کے گورنر مزار شریف ملا منان نیازی، ملا ولی جان (گورنر جوزجان)، ملا عبدالستار، ملا امین اللہ امین، ملا جنت، قوماندان خالق اور قوماندان ستار لنگ شامل ہیں۔
ملا منان نیازی کے بارے میں تمام عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس نے مزار شریف کے کئی مساجد میں خطاب کرتے ہوئے برملا کہا تھا: “ہزارہ کافر ہیں، یا تو وہ ایمان لے آئیں یا ملک چھوڑ دیں، ورنہ قتل ہونے کے لیے تیار ہوجائیں۔”
اس المناک ہزارہ جینوسائیڈ کی برسی کی مناسبت سے ہر سال دنیا بھر میں آباد ہزارہ قوم اقوامِ متحدہ اور مقتدر ممالک سے بار بار اپیل کرتی آرہی ہے کہ وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسے معتبر انسانی حقوق کے اداروں کے مطالبے کے مطابق اس انسانی المیے کی مکمل تحقیقات کرائیں اور مجرموں کو عالمی عدالتِ انصاف کے ذریعے قرار واقعی سزا دلائیں۔
منابع
- Human Rights Watch Report
- Taliban — احمد رشید
- Kabul Press
- ہزارہ ہیروز ۔۔۔ اسحاق محمدی - Aug 27, 2026
- سردار خیرمحمد ہزارہ ۔۔۔اسحاق محمدی - Aug 20, 2026
- مزار شریف میں طالبان کے ہاتھوں ہزارہ جینوسائیڈ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Aug 14, 2026
