زندگی کا قیدی ۔۔۔ جاوید نادری

زندگی کا قیدی 

تحریر: جاوید نادری

ہوٹل کے تھڑے پر کھڑا ایک اجنبی مگر مانوس سے شخص نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، “دیکھو بھائی، یہ کبھی میرا کلاس فیلو ہوا کرتا تھا۔ آج اس کی حالت دیکھو، نشے نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ اب دو وقت کی روٹی کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہا ہے۔”
میں نے نرمی سے جواب دیا، “میں آپ کو جانتا تو نہیں، لیکن ایک بات ضرور جانتا ہوں کہ تمام انسان ایک ہی سیدھی لکیر پر سفر نہیں کرتے۔ کچھ زندگیوں میں راستے کم ہوتے ہیں اور موڑ زیادہ۔ انہی موڑوں میں کہیں کوئی امتحان ہار جاتا ہے۔ اس شکست کی اصل وجہ یا تو وہ جانتا ہے یا اس کا پیدا کرنے والا۔ زندگی سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کرتی۔ کسی کے حصے میں بے شمار خوشیاں آتی ہیں اور کسی کے حصے میں صرف درد و الم۔”
یہ گفتگو ختم ہوئی تو میری نظر اس شخص پر پڑی جسے سب نشئی سمجھ رہے تھے۔ اس کے کندھے پر ایک چھوٹی سی پوٹلی تھی۔
میں نے پوچھا، “بھائی، اس پوٹلی میں کیا ہے؟”
وہ مسکرایا اور بولا، “اس میں آخرت کی کنجی ہے، اور میں اسے اگلی دنیا کی طرف لے جا رہا ہوں۔”
میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “اگر تم اگلی پچھلی سب دنیاوں سے واقف ہو تو پھر یہ زندگی کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟”
وہ بولا، “بابو، اگر یہی سوال میں تم سے پوچھوں کہ تم اپنی یہ معمول کی زندگی کیوں نہیں چھوڑتے؟ صبح اٹھنا، دفتر جانا، شام کو واپس آنا، بچوں کے ساتھ کھیلنا رات کو کسی ہوٹل یا تھڑے پر بیٹھ دوستوں سے کپ شپ کرنا اور پھر سو جانا۔ تم یہ سب کیوں کرتے ہو؟”
میں خاموش ہو گیا۔ اس کے سوال نے مجھے لاجواب کر دیا۔
میں نے کہا، “تم نے ایسی بات کہہ دی جس کی مجھے تم سے توقع نہیں تھی۔”
وہ بولا، “زندگی کو دیکھنے کے بے شمار زاویے ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ جو طریقہ تمہیں پسند نہ ہو وہ غلط بھی ہو۔ ممکن ہے تمہاری منظم زندگی صرف ایک عادت ہو، اور میری بے ترتیب زندگی حقیقت کے زیادہ قریب۔”
پھر اس نے اپنے کندھے کی پوٹلی کو تھپتھپایا اور کہا، “اگر میں ملنگ کے کپڑے پہن کر یہ پوٹلی اٹھائے پھر رہا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں زندگی کی گہرائیوں سے ناواقف ہوں۔ انسان کو صرف اس کے کردار یا ظاہری اعمال سے جانو گے تو بہت کچھ کھو دو گے۔ اگر اس کے دکھوں، اس کے زخموں اور اس راستے کو سمجھنے کی کوشش کرو گے جس نے اسے یہاں تک پہنچایا، تب شاید تم انسان کہلانے کے قابل ہو جاؤ۔”
میں نے قدرے سخت لہجے میں کہا، “تو کیا اب اپنی ناکامی کا سارا بوجھ معاشرے، دنیا یا خدا پر ڈال دو گے؟ مجھے تمہاری باتوں میں کوئی ٹھوس سچائی نظر نہیں آتی۔”
وہ زور سے ہنسا۔
“بابو، زندگی میں کوئی تیار شدہ سچائی نہیں ہوتی۔ سچائیاں ہم خود بُنتے ہیں، پھر انہیں ہی آخری حقیقت سمجھ کر جینے لگتے ہیں۔ میری سچائی میری زندگی ہے، تمہاری سچائی تمہاری۔ شاید خود زندگی کو بھی معلوم نہ ہو کہ اسے کس طرح گزارا جانا چاہیے۔”
میں بھی ہنس پڑا اور کہا، “اب ایک فقیر اور نشئی بھی فلسفہ سکھائے گا؟”
وہ مسکرایا اور بولا، “بابو، زندگی خود فلسفہ بھی ہے، سائنس بھی، آرٹ بھی اور راز بھی۔ تم اسے اپنے انداز سے جیتے ہو، ہم اپنے انداز سے۔ تم اپنی جگہ خوش ہو، میں اپنی جگہ خوش ہوں۔ اگر تم نے دس روپے نہیں دینے تھے تو نہ دیتے، مگر اتنی باتیں سنانے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ میں جانتا ہوں کہ مجھے اپنی زندگی کیسے گزارنی ہے۔”
یہ کہہ کر وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ گیا۔
میں دیر تک وہیں کھڑا اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔
میرے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا۔
آخر بہتر زندگی کون سی ہے؟
وہ جو ہر روز ایک ہی ترتیب میں گزرتی ہے؛ صبح، دفتر، گھر، بچوں کی ہنسی اور پھر نیند؟
یا وہ جس میں ہر دن ایک نئی کہانی، ایک نیا حادثہ، ایک نیا تجربہ اور ایک نئی آزمائش جنم لیتی ہے؟
میں کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔
شاید زندگی کی خوبی اسی میں ہے کہ وہ ہر انسان کے لیے الگ معنی رکھتی ہے، اور شاید کوئی بھی زندگی مکمل طور پر درست یا مکمل طور پر غلط نہیں ہوتی۔
جاتے جاتے اس نے جیب سے دس روپے کا پرانا نوٹ نکالا اور میری طرف بڑھا دیا۔
میں حیران رہ گیا۔
“یہ کیا ہے؟”
وہ بولا، “یہ رکھ لو۔”
میں نے کہا، “مجھے اس کی ضرورت نہیں۔”
وہ مسکرایا۔
“ضرورت تمہیں پیسوں کی نہیں، سوالوں کی ہے۔ اور آج میں تمہیں کچھ سوال دے رہا ہوں۔”
میں نے نوٹ لینے سے انکار کر دیا۔
وہ آہستہ آہستہ چل پڑا۔
میں کچھ دیر تک اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ پھر اپنی گاڑی میں بیٹھا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
اگلی صبح حسبِ معمول الارم بجا۔
میں اٹھا۔
ناشتہ کیا۔
دفتر گیا۔
فائلیں دیکھیں۔
شام کو واپس آیا۔
بچوں کے ساتھ کچھ دیر کھیلا۔
دوستوں سے ملنے گیا ۔
واپس آیا۔
کھانا کھایا۔
اور بستر پر لیٹ گیا۔
لیکن اس رات پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ شاید میں بھی کسی نشے میں ہوں۔
فرق صرف یہ تھا کہ میرے نشے معاشرے نے “زندگی، ذمہ داری اور کامیابی” کا نام دے رکھا تھا۔
مجھے اس ملنگ کی آواز دوبارہ سنائی دی۔
“بابو… انسان کو اپنے نشے کی بو نہیں آتی، دوسروں کے نشے کی آتی ہے۔”
میں چونک کر اٹھ بیٹھا۔
کمرے میں کوئی نہیں تھا۔
صرف دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔

میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
سڑک پر ایک ملنگ جا رہا تھا۔
اس کے کندھے پر وہی چھوٹی سی پوٹلی تھی۔
میں دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
پھر اچانک میرے دل میں ایک خیال ابھرا۔
شاید آزادی کا تعلق راستوں سے نہیں، فکر سے ہوتا ہے۔
اور شاید…
قیدی وہ نہیں ہوتا جس کے ہاتھ بندھے ہوں،
بلکہ وہ ہوتا ہے جس کی سوچ ایک ہی راستے کی زنجیروں میں قید ہو چکی ہو۔
مجھے اچانک یوں محسوس ہوا…
آزاد وہ تھا۔
اور قیدی…
میں۔

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

Leave a Comment