بابائے فن و فلسفہ
تحریر: نسیم جاوید
کہا جاتا ہے کہ آج دنیا میں جتنے بھی علوم ہیں، چاہے وہ سائنس کے مختلف شعبے ہوں یا عرفانی علوم، ان سب کی جڑیں افلاطون سے جڑی ہیں۔ انگلستان کے برٹرینڈ رسل سمیت کئی فلاسفرز اور ایرانی مترجمین (جنہوں نے افلاطون کے مکالمات کو فارسی میں منتقل کیا ہے) کا بھی یہی ماننا ہے کہ سارے علوم افلاطون کی شاخیں اور پتے ہیں۔
افلاطون کے رسالے “مکالمہ” کی شکل میں لکھے گئے ہیں جنہیں مکالماتِ افلاطون بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے مکالمے فن و فلسفہ کے وہ شاہکار ہیں جنہیں افلاطون نے پہلی مرتبہ قرطاس پر ایک کامل تحریر کی شکل دے کر محفوظ کیا تھا، اور جنہیں ہم پہلی کتاب بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان مکالمات نے اپنے پڑھنے والوں کو علم کی جانب راغب کیا۔ ان کے مرکزی کردار “سقراط” کو آج بھی فکر و فلسفہ کے عظیم استاد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ افلاطون کی اکیڈمی کے ایک شاگرد ارسطو نے اس کو عروج تک پہنچایا۔ آج کا یورپ مکمل طور پر ارسطو کے تصورات کی پیروی کرتے ہوئے ترقی کے منازل طے کر چکا ہے۔ ابنِ رشد اور ابنِ سینا بھی ارسطو کے فلسفے سے ہی استفادہ کرتے ہوئے سائنس، طب اور فلکیات پر کتابیں لکھ چکے ہیں۔ افلاطون اور ارسطو کی کتابوں نے کئی صدیوں تک عالی دماغ فلاسفروں اور فنکاروں کو متاثر کیا۔ جدید فلاسفروں نے ڈائیلیکٹک کا نظریہ بھی مکالماتِ افلاطون سے متاثر ہو کر پیش کیا ہے۔
بعض مفکرین یہ بھی کہتے ہیں کہ سقراط کوئی حقیقی کردار نہیں تھا بلکہ اسے افلاطون نے تخلیق کیا تھا جس کے توسط سے اس نے اپنے فن و فلسفہ کو بیان کیا ہے۔ سقراط مختلف مجالس میں یا باغ اور دیگر مقامات پر لوگوں سے گفتگو کے دوران سوال پوچھتا ہے اور گفتگو کا آغاز ہوتا ہے: عشق کیا ہے؟ فضیلت کیا ہے؟ ریاست کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔اور انہی سوالوں کے جوابات تلاش کیے گئے ہیں جنہیں پڑھنے کے دوران قاری کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ علم کا میٹھا ذائقہ چکھ رہا ہو، جیسے وہ سوال پوچھنے اور جواب تلاش کرنے کا سلیقہ جان رہا ہو۔
افلاطون کے بعد کئی نامور دانشوروں نے اسی طرز پر مکالمات لکھنے کی کوششیں کیں مگر افلاطون کے پایے کا مکالمہ دوبارہ تخلیق نہ ہو سکا۔
آج دوستوں کے ساتھ افلاطون کے مختصر تعارف پر کچھ پیش کر رہا ہوں، شاید آپ کو پسند آئے۔ لیکن جو دوست فلسفہ کی تاریخ اور افلاطون کے افکار کا مطالعہ کر چکے ہیں ان کے لیے یہ نئی بات نہیں ہے۔ مگر بعض ایسے نوجوان جو فن و فلسفہ سے شغف رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ تعارف ایک نئی انفارمیشن ہو سکتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ فن اور فلسفہ کے متلاشی افراد کو افلاطون کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ گو کہ اب افلاطون ایک کلاسک درجہ اختیار کر چکا ہے اور آج کے دور کے انسان زیادہ پرانی چیزوں کو اہمیت نہیں دیتے اور انہیں کاٹ کباڑ میں پھینک کر نئی دریافتوں اور ایجادات سے مستفید ہو رہے ہیں، لیکن فن و فلسفہ کے دلدادہ نوجوانوں کو جو اس میدان میں کچھ کرنا چاہتے ہیں، انہیں ایک ایتھلیٹ کی طرح لمبی چھلانگ لگانے کے لیے پیچھے جانا پڑے گا، تب ہی وہ لمبی چھلانگ لگا سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی فنکار یا فلسفہ کا متلاشی انسان نئی اور گہری تخلیقات پیش کرنا چاہے تو افلاطون کا مطالعہ اس کے لیے معاون اور مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی علمِ عرفان کو گہرائی سے جاننا چاہتا ہے تو وہ بھی اس سے مستفید ہو سکتا ہے۔
افلاطون کا پورا فلسفہ بنیادی طور پر دو دنیاؤں کے نظریے پر قائم ہے: ایک وہ دنیا جو ہمیں نظر آتی ہے یعنی “مادی دنیا”، اور دوسری وہ دنیا جسے ہم صرف عقل سے سمجھ سکتے ہیں، جسے افلاطون حقیقی دنیا کہتے ہیں۔ اگر ہم افلاطون کے فلسفے کو مختصر ترین نکات میں سمیٹیں تو اس کی بنیادیں چار بڑے ستونوں پر کھڑی نظر آتی ہیں:
- اعیان یا مثالوں کا نظریہ (Theory of Forms / Ideas): یہ افلاطون کے فلسفے کی سب سے اہم بنیاد ہے۔ اس نظریے کے مطابق یہ مادی دنیا جس میں ہم رہتے ہیں، اصل حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ صرف ایک عارضی “سایہ” یا “نقل” ہے۔ اصل اور ابدی حقیقت “عالمِ مثال” (World of Forms) ہے، جہاں ہر چیز کا ایک کامل، غیر متبدل اور روحانی متبادل (Idea) پہلے سے موجود رہا ہے۔ مثال کے طور پر دنیا میں جتنی بھی خوبصورت چیزیں ہیں، وہ ختم ہو جائیں گی، لیکن “خوبصورتی کا اصل تصور” (Form of Beauty) عالمِ مثال میں ہمیشہ قائم رہے گا۔
- غار کی تمثیل (Allegory of the Cave): اپنے نظریۂ اعیان کو سمجھانے کے لیے افلاطون نے ایک مشہور کہانی بیان کی ہے کہ کچھ لوگ بچپن سے ایک اندھیری غار میں زنجیروں سے بندھے ہیں اور ان کا رخ دیوار کی طرف ہے۔ ان کے پیچھے آگ جل رہی ہے اور جب باہر سے لوگ گزرتے ہیں تو دیوار پر ان کے سائے بنتے ہیں۔ غار کے قیدی ان سائے کو ہی “اصل حقیقت” سمجھتے ہیں۔ افلاطون کہتا ہے کہ عام انسان ان قیدیوں کی طرح ہیں جو مادی دنیا کے سائے کو سچ مانتے ہیں، جبکہ فلسفی وہ شخص ہے جو زنجیریں توڑ کر غار سے باہر نکلتا ہے اور سورج کی روشنی (اصل حقیقت) کو دیکھ لیتا ہے۔
- نظریۂ علم بطورِ یادآوری (Theory of Recollection): افلاطون کا ماننا ہے کہ انسانی روح اس دنیا میں آنے سے پہلے عالمِ مثال میں رہ چکی ہے اور وہاں وہ تمام سچی حقیقتوں کا مشاہدہ کر چکی ہے۔ جب روح انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے تو وہ سب کچھ بھول جاتی ہے۔ اس دنیا میں جب ہم علم حاصل کرتے ہیں تو ہم کچھ نیا نہیں سیکھتے، بلکہ عقل کے ذریعے اپنی روح کو وہ پرانی باتیں دوبارہ یاد کرواتے ہیں جنہیں وہ عالمِ ارواح میں پہلے سے جانتی تھی۔
- مثالی ریاست اور فلسفی بادشاہ (The Ideal State & Philosopher King): افلاطون اپنی مشہور کتاب “جمہوریت” (The Republic) میں ایک مثالی معاشرے کا خاکہ پیش کرتا ہے جو انصاف پر مبنی ہو۔ انہوں نے انسانی روح کے تین طبقے بیان کیے ہیں: پہلا عقل (Reason)، دوسرا جذبہ (Courage)، اور تیسرا بھوک/خواہش (Appetite)۔ اسی طرح ریاست کے بھی تین طبقے ہونے چاہئیں: حکمران. (عقل)، محافظ یا فوجی (جذبہ) اور کسان/مزدور (خواہش)۔
افلاطون کا مشہور قول ہے کہ “جب تک فلسفی بادشاہ نہیں بنیں گے، یا دنیا کے بادشاہوں میں فلسفے کی روح پیدا نہیں ہوگی، تب تک دنیا سے برائی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔” کہنے کا مقصد یہ ہے کہ افلاطون کا فلسفہ اس یقین پر قائم ہے کہ حواسِ خمسہ (دیکھنا، سننا وغیرہ) انسان کو دھوکا دیتے ہیں، اور سچی حقیقت تک صرف اور صرف “عقل اور منطق” کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور کی سماجی، سیاسی اور سائنسی ترقی کی جڑیں افلاطون اور ارسطو کے تصورات سے پیوستہ ہیں، ان کے نظریات کو آج بھی وہی اہمیت حاصل ہے جو کل حاصل تھی بلکہ انہی نظریات کی بنیاد پر جدید نظریات وجود میں آئے ہیں۔
- شرط کا مرغا (افسانہ)۔۔۔ نسیم جاوید - Aug 12, 2026
- بابائے فن و فلسفہ ۔۔۔ نسیم جاوید - Aug 5, 2026
- بے صدا سسکیاں۔۔۔ نسیم جاوید - Jul 17, 2026

سلام۔ امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ اس مضمون میں ایک جگہ فاؤنٹ چھوٹا ہو گیا ہے۔ ممکن ہے کہ تصحیح کی جائے
شکریہ