
اختلاف کی تہذیب
تحریر: ابنِ میر
عربی زبان میں یقین کا مفہوم محض کسی بات کو مان لینا نہیں، بلکہ اس مقام تک پہنچ جانا ہے جہاں شک کی گنجائش باقی نہ رہے۔ مگر انسانی زندگی میں یقین صرف ذہن کی کیفیت نہیں، کردار کی بھی آزمائش ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی چیز پر یقین رکھتا ہے؛ کوئی اپنے مذہب پر، کوئی اپنے نظریے پر، کوئی اپنی قوم پر، اور کوئی اپنے تجربے پر۔ مگر تاریخ ایک اہم حقیقت بتاتی ہے: انسان کی عظمت صرف اس کے یقین سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے کہ وہ اپنے یقین کے باوجود اختلاف کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔
یقین جب علم، حکمت اور عجز کے ساتھ مل جائے تو انسان کے اندر تحمل، وقار اور وسعتِ نظر پیدا کرتا ہے۔ مگر یہی یقین اگر انا، خوف یا لاعلمی کے ساتھ جڑ جائے تو آہستہ آہستہ اپنے اصل مقصد سے دور ہونے لگتا ہے۔ پھر انسان حق کی تلاش سے زیادہ اپنے مؤقف کے دفاع میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔ وہ دلیل کو سننے کے بجائے رد کرنے لگتا ہے، سوال کو سمجھنے کے بجائے اس سے خائف ہونے لگتا ہے، اور اختلاف کو فکری عمل کے بجائے ذاتی حملہ محسوس کرنے لگتا ہے۔
یہیں سے اختلاف، مکالمہ نہیں رہتا؛ معرکہ بن جاتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں انتہا پسندی کی نفسیات جنم لیتی ہے۔
انتہا پسندی صرف مذہب کا مسئلہ نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوم پرستی، نسل پرستی، کمیونزم، فاشزم، لبرل ازم، حتیٰ کہ کھیلوں کے میدانوں تک میں انسان ایسے رویوں کا مظاہرہ کرتا آیا ہے جہاں اختلاف کو دشمنی اور سوال کو بغاوت سمجھ لیا جاتا ہے۔ مسئلہ نظریے میں نہیں، بلکہ اس نفسیاتی کیفیت میں ہوتا ہے جہاں انسان اپنے نظریے اور اپنی ذات کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہیں رہنے دیتا۔ جب نظریہ انسان کی شناخت بن جائے تو اختلاف اسے دلیل نہیں، خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
آج کے معاشرے میں اس کیفیت کی ایک نمایاں جھلک مذہبی مباحث میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رویے کو مزید تیز کر دیا ہے۔ چند سطروں کی ایک پوسٹ، ایک مختصر ویڈیو، یا کسی مسئلے پر مختلف رائے بعض اوقات ایسے ردِعمل کو جنم دیتی ہے جیسے کسی نے پورے دین پر حملہ کر دیا ہو۔ حالانکہ ہر سوال انکار نہیں ہوتا، ہر اختلاف بغاوت نہیں ہوتا، اور ہر تنقید دشمنی نہیں ہوتی۔
نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان اپنی پوری شناخت کو کسی ایک نظریے میں سمو دیتا ہے تو وہ نظریہ اس کی ذات کا حصہ بن جاتا ہے۔ پھر اس نظریے پر تنقید اسے اپنی ذات پر حملہ محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اختلاف سنتے ہی دلیل دینے کے بجائے غصے، تمسخر یا تحقیر کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ بظاہر یہ رویہ مضبوط یقین کی علامت معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ اکثر اندرونی عدمِ تحفظ، فکری کمزوری یا اپنی شناخت کھو دینے کے خوف کا اظہار بھی ہو سکتا ہے۔
تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ علمی روایت کی اصل طاقت اتفاقِ رائے میں نہیں، بلکہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے میں تھی۔ صدیوں تک مختلف مکاتبِ فکر کے اہلِ علم ایک دوسرے سے سخت علمی اختلاف رکھتے رہے، مگر اختلاف نے انہیں مکالمہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا۔ ان کے نزدیک دلیل شخصیت سے بڑی تھی، اور سچائی کسی ایک انسان کی ملکیت نہیں تھی۔ اسی لیے سوال کو علم کا دروازہ سمجھا جاتا تھا، نہ کہ بغاوت کا اعلان۔
بدقسمتی سے ہم نے آہستہ آہستہ اختلاف کو مکالمے کے بجائے مقابلے میں بدل دیا ہے۔ اب مقصد حقیقت تک پہنچنا نہیں، بلکہ مخالف کو خاموش کرنا بن گیا ہے۔ دلیل کم اور آواز بلند زیادہ سنائی دیتی ہے۔ سننے کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے، جبکہ بولنے کا اعتماد بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مباحث اکثر علم پیدا نہیں کرتے، بلکہ مزید تقسیم پیدا کرتے ہیں۔
یہ رویہ صرف مذہبی مباحث تک محدود نہیں۔ سیاست میں بھی یہی کیفیت نظر آتی ہے، جہاں مخالف رائے رکھنے والا غدار کہلاتا ہے۔ قوم پرستی میں بھی یہی رویہ پیدا ہوتا ہے، جہاں سوال کرنے والا دشمن سمجھا جاتا ہے۔ نظریاتی گروہوں میں بھی یہی کیفیت جنم لیتی ہے، جہاں اختلاف کو خیانت تصور کیا جاتا ہے۔ مسئلہ صرف نظریے کا نہیں، بلکہ اس نفسیات کا ہے جو انسان کو اپنے یقین کا قیدی بنا دیتی ہے۔
حالانکہ مذہب کا بنیادی مقصد انسان کے اخلاق کو بلند کرنا ہے، نہ کہ اس کے غصے کو۔ قرآن بار بار تدبر، تفکر، حکمت اور بہترین انداز میں گفتگو کی دعوت دیتا ہے۔ اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا، سوال کو گستاخی سمجھ لینا اور مخالف کو ذلیل کرنا، یہ سب ایسے رویے ہیں جن کا تعلق زیادہ انسان کی نفسیات سے ہے، مذہب کی تعلیم سے نہیں۔
شاید اسی لیے ہمیں اپنے عقائد سے پہلے اپنے رویوں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک معاشرہ اس وقت مضبوط نہیں بنتا جب اس کے تمام افراد ایک جیسا سوچنے لگیں، بلکہ اس وقت مضبوط بنتا ہے جب مختلف سوچ رکھنے والے لوگ بھی ایک دوسرے سے عزت، دلیل اور اخلاق کے ساتھ گفتگو کر سکیں۔ برداشت کا مطلب اپنے یقین سے دستبردار ہونا نہیں، بلکہ اپنے یقین پر اس قدر مطمئن ہونا ہے کہ اختلاف آپ کو مشتعل نہ کر سکے۔
کیونکہ آخرکار، کسی بھی نظریے کی اصل طاقت اس کے ماننے والوں کی بلند آواز میں نہیں، بلکہ ان کے بلند اخلاق میں ہوتی ہے۔ یقین کی سب سے بڑی دلیل غصہ نہیں، کردار ہے۔ علم کی سب سے بڑی علامت معلومات نہیں، انکسار ہے۔ اور کسی بھی تہذیب کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ شاید اسی لیے اختلاف کو برداشت کرنا صرف ایک سماجی ضرورت نہیں، بلکہ ایک تہذیبی فضیلت بھی ہے۔
نوٹ – اس تحریر کی تدوین اور اسلوب کی بہتری میں مصنوعی ذہانت سے کچھ حد تک مدد لی گئی ہے۔
- ذرا خود پر بھی ہنسیں ۔۔۔ ابن امیر - Aug 14, 2026
- اختلاف کی تہذیب ۔۔۔ ابنِ میر - Jul 31, 2026