
ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (عظیم عالمی جنگیں اور ہزارہ جوان)
تیرہویں قسط
تحریر: جاوید نادری
بڑی سلطنتیں جب اپنے اقتدار کی جنگیں لڑتی ہیں تو وہ تاریخ کی کتابوں میں صرف اپنے جرنیلوں کے نام رقم کرتی ہیں، اور ان گمنام قوموں کا نام خاموش تاریکیوں کی نذر کر دیتے ہیں جن کی شجاعت نے ان کے سر کے تاج بچائے ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے دو بڑے عالمگیر معرکوں میں انگریزی اور روسی امپائرز نے ہزارہ قوم کی بکھری ہوئی جلاوطن نسل کو تاریخ کے نہایت دشوار عسکری مہمات میں استعمال کیا۔ غرجستان اور ہزارہ جات کے چٹانی وجود سے تراشیدہ ان جوانوں کی بے باک دلیری اور جفاکشی کو برما کے جہنم نما جنگلوں سے لے کر سٹالن گراڈ کی منجمد خندقوں تک اگلی صفوں میں بطورِ تدبیر و شمشیر رکھا گیا، لیکن جنگ ختم ہوتے ہی نوآبادیاتی بیوروکریسی اور اسٹالنی قلم نے ان کی قربانیوں کو جغرافیائی خانوں اور نامعلوم سپاہیوں کے حاشیوں میں دفن کر دیا۔ رسمی تاريخ دانوں کی اس مجرمانہ خاموشی کے برعکس، جب ہم زبانی یادداشتوں کی خاک کریدتے ہیں اور آرکائیوز کی تہہ میں دبی خفیہ فیلڈ رپورٹس کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں، تو انسانوں کی آزادی کے لیے بہایا گیا ہزارہ خون کا ایک ایسا دھارا سامنے آتا ہے جو عالمی تاریخ کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
برطانوی ہند کی عسکری تاریخ میں ’106th Hazara Pioneers‘ اور بعد میں ’10th Baluch Regiment‘ میں شامل ہزارہ کمپنیاں وہ عسکری دستے تھے جنہیں برطانیہ نے اپنی سب سے کٹھن جنگی مہمات میں آگے رکھا۔
پہلی جنگِ عظیم کے دوران، جب 1914ء میں برطانوی فرنٹ لائن ٹرینچز میں سپاہی شدید سردی اور نازی و جرمن شیلنگ سے نڈھال ہو رہے تھے، تو ‘انڈین ایکسپڈیشنری فورس’ کے ساتھ ہزارہ پائینیرز اور سیپرز کو فرانس بھیجا گیا۔ چونکہ یہ جوان غرجستان کی پہاڑیوں کی سخت کوشی اور چٹانیں کاٹنے کے ماہر تھے، اس لیے فرانس اور بلجیم کی دلدلی زمینوں میں خندقیں کھودنے اور بارودی سرنگیں بچھانے کی خطرناک ترین ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی۔
نوآبادیاتی عسکری ریکارڈ کا اقتباس:
“ہزارہ پائینیرز کے جوانوں کی سخت کوشی اور ہر قسم کے جغرافیائی حالات سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت نوآبادیاتی ہند کی فوج کا ایک انمول اثاثہ ہے۔ فرانس کی دلدلی اور جمی ہوئی خندقوں سے لے کر میسوپوٹیمیا کی جھلساتی ہوئی ریت تک—یہ سپاہی بغیر کسی شکایت کے عسکری انجنیئرنگ کے وہ کٹھن ترین کام انجام دیتے ہیں جن کے تصور سے دیگر رجمنٹس ہچکچاتی ہیں۔”
— میجر جنرل ایچ۔ سی۔ ویلی (Major-General H.C. Wylly), ‘The 106th Hazara Pioneers: Regimental History’ (1929), p. 42
اسی طرح انڈین آفس ریکارڈ میں ہزارہ قوم کے سپاہیوں کے بارے میں درج ہے:
“نوف چیپل (Neuve-Chapelle) کے معرکے میں پائینیر رجمنٹس کی خدمات انتہائی سنگین نوعیت کی تھیں۔ ہزارہ ڈرافٹ (Hazara Drafts) کے جوانوں کو جمی ہوئی دلدلی زمین میں زیرِ زمین خندقیں بنانے اور دشمن کی بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام سونپا گیا۔ شدید برف باری اور جمنے والی سردی میں بھی انہوں نے اپنے فرائض شناسی میں ذرا برابر فرق نہ آنے دیا۔ فرانس کی ان برفانی خندقوں میں ان کا استقلال پورے ہندوستانی لشکر کے لیے باعثِ فخر ہے۔”
— برٹش لائبریری، لنڈن (India Office Records), IOR/L/MIL/7/17232: Report on the Working of Pioneer Regiments on the Western Front (1915)
فرانس سے منتقلی کے بعد ہزارہ پائینیرز کو عراق کے محاذ پر روانہ کیا گیا، بصرہ اور بغداد کے محاذ پر ترک عثمانی فوج کے خلاف جنگ میں ہزارہ جوانوں نے گران مایہ خدمات انجام دیں گو کہ اس دوران انہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، اور ‘کُت العمارہ’ کے معرکے میں درجنوں ہزارہ جوان محاصرے اور بیماری کا شکار ہو کر جاں بحق بھی ہوئے۔
“کُت العمارہ کی پیش قدمی اور دجلہ کے کناروں پر خندقیں کھودنے کے دوران ‘106th Hazara Pioneers’ کے جوانوں نے جس دلیری اور صبر کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ عثمانی توپ خانے کی مسلسل فائرنگ اور ملیریا کی وبا کے باوجود، یہ جوان دن رات دلدلی زمینوں میں راستے بنانے اور مواصلاتی خندقیں (Communication Trenches) کھودنے میں مصروف رہے۔ فوج کا کوئی دوسرا دستہ اتنے کٹھن حالات میں اتنی تیز رفتاری سے کام انجام نہیں دے سکتا تھا۔”
— وار آفس ریکارڈز، لنڈن (National Archives, Kew), WO 95/5148: War Diary of the 106th Hazara Pioneers, Mesopotamia Expeditionary Force (1916)
دوسری جنگِ عظیم کا سب سے ہولناک باب جاپانی فوجوں کے خلاف جنوب مشرقی ایشیا کا محاذ تھا۔ جاپانیوں کے خلاف ‘چند وٹ’ اور ’14th Army’ کا حصہ بن کر ہزارہ جوانوں نے برما کے گھنے جنگلوں اور کیچڑ میں شدید ترین گوریلا جنگ لڑی۔ سنگاپور، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے معرکوں میں جب برطانوی فوج کو جاپانیوں نے پیش قدمی سے روکا، تو ہزارہ جوانوں کی ‘پائینیر’ صلاحیتوں، جیسے پل بنانے، جنگل کاٹنے اور بارود صاف کرنے، نے اتحادی فوجوں کی واپسی کا راستہ ممکن بنایا۔
انڈیا آفس ریکارڈز سے ایک گمنام ہزارہ سپاہی کے خط کا اقتباس:
“ہم یہاں پردیس کے تاریک جنگلوں اور دلدلوں میں جاپانیوں کے خلاف ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا حساب کابل یا غرجستان کے پہاڑوں میں کسی کو نہیں معلوم… انگریزوں کے لشکر میں ہماری شجاعت کی قدر کی جاتی ہے؛ ہمارے پاس اگرچہ اپنے گھر اور زمینیں نہیں رہیں، لیکن ہماری تلواریں اور بندوقیں اب بھی اتنی ہی تیز ہیں جتنی ہمارے آباؤ اجداد کی ہوا کرتی تھیں۔”
— انڈیا آفس ریکارڈز (IOR/L/MIL/7/12402), ‘Letters of Native Soldiers’ (1942)
“برما کے جنگلوں اور کیچڑ میں جاپانیوں کے خلاف گوریلا پیش قدمی کے دوران ‘Pioneer Support Units‘ میں شامل ہزارہ جوانوں کی صلاحیتیں فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔ جاپانی سنائپرز کی فائرنگ کے دوران ندی نالوں پر عارضی پل (Bailey Bridges) قائم کرنا اور رسد کے راستے صاف کرنا انتہائی جوکھم کا کام تھا، جسے ان جوانوں نے بے خوف ہو کر انجام دیا۔ جنگل کی کٹھن زندگی اور دلدلی ماحول ان کی فطری جفاکشی کو توڑنے میں ناکام رہا۔”
— وار آفس ریکارڈز، لنڈن (National Archives, Kew), WO 172/2410: 14th Army Pioneer and Engineer Support Units in Burma (1944)
سنگاپور کے زوال کے وقت ہزارہ سپاہیوں نے شدید مصائب برداشت کیے لیکن اپنے عسکری وقار پر حرف نہ آنے دیا۔
“سنگاپور کے زوال اور چانگی (Changi) جنگی قیدی کیمپ میں محصور ہونے کے بعد بھی، 10th Baluch Regiment کی ہزارہ کمپنیوں کے سپاہیوں نے غیر معمولی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ جاپانی انتظامیہ کے سخت ترین دباؤ اور خوراک کی شدید قلت کے باوجود ان جوانوں نے اپنے رجمنٹل وقار اور باہمی اتحاد کو برقرار رکھا۔ ان کی ثابت قدمی ہم سب کے لیے حوصلے کا باعث تھی۔”
— انٹرنیشنل ریڈ کراس / وار آفس ریکارڈز, WO 172/125 & ICRC Archives: Malaya Command and Changi POW Camp Registers (1942–1943)
برطانوی ملٹری ریکارڈ میں ان جوانوں کا اندراج انفرادی ناموں کے ساتھ ملنا اس لیے مشکل ہوتا ہے کیونکہ برطانوی ملٹری بیوروکریسی انہیں الگ “ہزارہ” کی جگہ اکثر “Indian Army – Pioneer Corps” یا “Royal Bombay Sappers and Miners” کے عمودی خانوں میں جمع کر دیتے تھے۔
دوسری طرف، زارِ روس کے زمانے یعنی 1890ء کی دہائی میں مرو، عشق آباد اور تجن میں آباد ہونے والے ‘خاوری’ اور ‘بربر’ خاندانوں کی دوسری اور تیسری نسل 1941ء میں ہٹلر کے حملے کے وقت سوویت یونین کی شہری بن چکی تھی۔ شاہی ملٹری آرکائیو (RGVIA) کی فائلوں میں “بربر دستوں” کی صورت میں ان کا تفصیلی اندراج ملتا ہے جو ریلوے لائنوں اور عسکری ڈیپوؤں کے تحفظ پر مامور تھے۔
سوویت انتظامیہ نے وسطی ایشیائی جمہوریاؤں سے جن شہریوں کو ریڈ آرمی میں جبراً یا رضاکارانہ طور پر بھرتی کیا، ان میں مرو اور عشق آباد کے ہزارہ (خاوری) جوان بڑی تعداد میں شامل تھے۔ نازی جرمنی کے خلاف سٹالن گراڈ کی دل دہلا دینے والی جنگ اور لینن گراڈ کے محاصرے میں وسطی ایشیائی بٹالینز نے بے پناہ قربانیاں دیں۔ ہزارہ جوان، جو جینیاتی اور تاریخی طور پر سخت ترین موسموں کے عادی تھے، نازیوں کے خلاف برفانی محاذوں پر اگلی صفوں میں لڑے۔
“مرو اور عشق آباد کے خطوں سے ریڈ آرمی میں شامل ہونے والے ‘خاوری/بربر’ سپاہی منفی 30 ڈگری کی شدید برف باری اور دشمن کی مسلسل شیلنگ کے باوجود خندقوں کی کھدائی اور فرنٹ لائن پر پہرہ دینے کی غیر معمولی استقامت رکھتے ہیں۔ ان کی سخت کوشی اور عسکری استقامت ہمارے ڈویژن کا ایک اہم عنصر ہے۔”
— سوویت رائفل ڈویژن پولیٹیکل کمیسار رپورٹ (1943), TsAMO (Central Archive of the Ministry of Defense), Fond 83rd Rifle Division
اسٹالنی بیوروکریسی کا تضاد یہ تھا کہ جہاں جنگی میدان کی خفیہ ملٹری رپورٹس میں ان کے ہزارہ اور خاوری خصائص کا اعتراف کیا گیا، وہی تمغے اور اعزازات دیتے وقت سرکاری اخبارات میں انہیں صرف “سوویت ترکمان” یا “سوویت تاجک” کہہ کر پیش کیا گیا۔ سوویت یونین کے ملٹری آرکائیوز (TsAMO) میں ان شہداء کا نام تو موجود ہے، لیکن پاسپورٹائزیشن کی پالیسی کے تحت ان کی قومیت کے خانے میں “Hazara” کے بجائے “Turkmen SSR”، “Uzbek SSR” یا “Tajik SSR” درج کر دیا گیا، جس سے ان کی نسلی شناخت سرکاری کاغذات میں چھپ گئی۔
اگر کوئی محقق ماسکو یا پودولسک کے آرکائیوز میں ان دستاویزات کا سراغ لگانا چاہے، تو یہ اندراجات Хавари (Khavari) یا Афганцы-Берберы (Afghan-Berbers) کی اصطلاحات کے تحت محفوظ ہیں۔ سوویت انتظامیہ کے سیاسی سانچوں نے ان جوانوں کے ناموں کے ساتھ ‘-وف’ لگا کر ان کی اصل قومیت کو مرکزی تاریخ میں دھندلا دیا، لیکن ماسکو کے ملٹری آرکائیوز کی تہہ میں موجود یہ بھرتی فائلیں اور فرنٹ لائن رپورٹس آج بھی اس بات کی شاہد ہیں کہ نازی ازم کے خلاف جنگ میں ہزارہ خون کا قطرہ قطرہ شامل تھا—جس میں TsAMO کی Fond 83rd Rifle Division اور Fond Turkmen SSR Draft Board (1941-1945) کی فائلیں سرفہرست ہیں۔
جدید تاریخ نویسی میں اب “Oral History” (زبانی تاریخ) کو آرکائیول دستاویز کے برابر درجہ دیا جاتا ہے۔ کوئٹہ، مرو اور دوشنبہ کے خاندانی بزرگوں کے پاس موجود یادداشتیں، نانی دادیوں کے سنائے ہوئے قصے اور خطوط محض کلامی باتیں نہیں ہیں، بلکہ وہ “کمیونٹی آرکائیو” ہیں۔ اگر ان نجی خاندانوں کے پاس محفوظ پرانے خطوط، تمغے، ملٹری ڈسچارج سرٹیفکیٹس، اور ان کے بزرگوں کی پرانی تصویروں کو جمع کر کے رقم کیا جائے، تو انگریزوں اور سوویت یونین کے چھپائے ہوئے اس عسکری باب کو دنیا کے سامنے لایا جا سکتا ہے۔
فرانس کے جنگی قبرستانوں کی خاموش شواہد سے لے کر برما اور سنگاپور کے دلدلی جنگلوں، اور ماسکو کے گرد سٹالن گراڈ کی جمی ہوئی خاک تک، انسانوں کی آزادی اور امپائرز کی بقا کی جنگ میں ہزارہ قوم کے بے نام و نشان جوانوں کا خون شامل ہے؛ جن کا کوئی مزار تو شاید نہ بن سکا، لیکن ان کی شجاعت اور استقامت تاریخ کی پوشیدہ روح میں آج بھی زندہ ہے۔
مآخذ و حوالہ جات (Bibliography & References)
1. بنیادی عسکری و نوآبادیاتی آرکائیوز (Primary Colonial & Military Archives)
National Archives, Kew (London, UK) — War Office Records:
WO 95/5148: War Diary of the 106th Hazara Pioneers, Mesopotamia Expeditionary Force (1915–1918).
WO 172/2410: 14th Army Pioneer and Engineer Support Units in Burma Campaign (1943–1945).
WO 172/125: Malaya Command Signals, Sappers and Changi POW Camp Registers (1941–1943).
WO 203/2301: Allied Land Forces South East Asia — Java and Sumatra Operations (1945–1946).
British Library (London, UK) — India Office Records (IOR):
IOR/L/MIL/7/17232: Reports on the Working of Pioneer Regiments on the Western Front in France and Flanders (1914–1916).
IOR/L/MIL/7/12402: Letters of Native Soldiers: Private Correspondence and Censorship Reports (1940–1945).
IOR/L/MIL/17/5/4251: Recruitment, Organization and Service History of Hazaras in the Indian Army (1904–1926).
International Committee of the Red Cross (ICRC) Archives, Geneva:
ICRC POW Archives: Prisoner of War Lists, Changi Camp, Malaya Command and Singapore Registers (1942–1945).
2. سوویت و روسی ملٹری آرکائیوز (Soviet & Russian Archives)
Central Archive of the Ministry of Defense of the Russian Federation (TsAMO), Podolsk:
Fond 83rd Rifle Division: Operational Reports, Political Commissar Evaluations and Ethnic Profiles on Central Asian Recruits (1942–1943), op. 1, d. 104.
`Fond Turkmen SSR Draft Board (1941–1945):* Mobilization Files and Ethnic Rosters (Хавари / Афганцы-Берберы) of Merv and Tejen Voenkomats, op. 3, d. 88.
Russian State Military Historical Archive (RGVIA), Moscow:
Fond 1396 (Staff of the Troops of the Transcaspian Region): Labor Battalions, Railway Construction, and Border Duties of Afghan Hazaras / Berbers (1890–1917), op. 2, d. 412.
3. ثانوی مآخذ، تاریخ نویسی اور میموری اسٹڈیز (Secondary Sources & Academic Studies)
Wylly, Major-General H. C. (1929). The 106th Hazara Pioneers: Regimental History 1904–1926. London: Hugh Rees Ltd.
Monsutti, Alessandro. (2005). War and Migration: Social Networks and Economic Strategies of the Hazaras of Afghanistan. New York & London: Routledge.
Poladi, Hassan. (1989). The Hazaras. Stockton, California: Mughal Publishing Company.
Vansina, Jan. (1985). Oral History as History. Madison: The University of Wisconsin Press. (زبانی تاریخ کی علمی اہمیت کا جائزہ)
Commonwealth War Graves Commission (CWGC). Debt of Honour Register: Basra War Cemetery (Iraq), Neuve-Chapelle Indian Memorial (France), and Rangoon Memorial (Myanmar).
کاتب، ملا فیض محمد ہزارہ۔ (1915ء)۔ سراج التواریخ (جلد سوم)۔ کابل: مطبع دارالسلطنت۔
- ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(ہزارہ و ہزارگی مبداء و منشا) ۔۔۔ جاوید نادری - Aug 16, 2026
- ایک دوست کی ناگہانی موت ۔۔۔ جاوید نادری - Aug 12, 2026
- زندگی کا قیدی ۔۔۔ جاوید نادری - Aug 2, 2026