کاش آج نہ آتے (افسانہ)۔۔۔ جاوید نادری

کاش آج نہ آتے (افسانہ)

تحریر: جاوید نادری

انسان اپنے ذہنی تذبذب سے کیوں نکل نہیں سکتا یہ وہ سوال تھا جو غلام محمد کو ہمیشہ پریشان کیے رکھتا تھا غلام محمد جو ایک متوسط طبقے کا معمولی سا محنت کش آدمی تھا اس کے پاس اپنی دیانت، اپنی محنت اور اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے سوا زیادہ کچھ نہیں تھا۔ وہ دل سے چاہتا تھا کہ اس کے گھر آنے والا کوئی بھی مہمان خالی ہاتھ یا خالی پیٹ واپس نہ جائے۔ وہ یقین رکھتا تھا کہ رزق بانٹنے سے کم نہیں ہوتا۔
مگر کبھی کبھار غلام محمد یہ بھی محسوس کرتا تھا کہ جیسے انسان کے اندر دو آدمی بستے ہیں۔ ایک وہ جو اپنے اصولوں، ایمان اور اقدار کی بات کرتا ہے، اور دوسرا وہ جو حالات کے دباؤ میں انہی اصولوں کے خلاف سوچنے لگتا ہے۔ اسے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوتی کہ وہ جانتا بھی ہے کون سا خیال درست ہے اور کون سا غلط، لیکن پھر بھی بعض لمحوں میں غلط خیال پہلے دل میں اتر آتا اور صحیح خیال اس سے لڑنے کے لیے بعد میں آن پہنچتا۔
ایک دن بڑی مزدوری ہاتھ لگنے کے بعد گھر لوٹتے ہوئے اس نے بیوی اور بچوں کے لیے پسندیدہ کھانا خریدا۔ راستے بھر وہ یہی سوچتا آیا کہ آج اس کے پانچوں بچے اور اس کی بیوی ایک ساتھ بیٹھ کر کھانے کا لطف اٹھائیں گے۔
ابھی وہ گھر میں داخل ہی ہوا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
“ارے بھائی غلام محمد!” نعمت نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا، “بڑے دنوں بعد ملاقات ہوئی۔ معاف کرنا، شاید غلط وقت پر آ گیا ہوں۔ نعمت علی نے جیسے غلام محمد کے چہرے پر لکھا پڑھ لیا تھا۔ بس یار ہم یہاں سے گزر رہے تھے کہ بچوں نے ضد پکڑ لی کہ چلو، چچا کے گھر چلتے ہیں، بھابھی اور بچوں سے ملے ہوئے بھی کافی عرصہ ہو گیا ہے۔”
غلام محمد کے چہرے پر ایک لمحے کو مسکراہٹ ٹھہر گئی، مگر دل میں جیسے ہلچل مچ گئی۔
کھانے کا وقت اور بن بلائے مہمان!

“استغفراللہ… میں یہ کیا سوچ رہا ہوں؟ مہمان تو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔”

اس نے اپنے نفس کو ملامت کیا، اسے سمجھانے کی کوشش کی، مگر دل کی دنیا دلیل سے زیادہ دیر تک قابو میں نہیں رہتی۔ چند لمحوں کے لیے خواہش اور ضمیر آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے، اور غلام محمد اس خاموش جنگ کا قیدی بن گیا۔
اس نے اپنے بیوی بچوں کے خوش ہوتے چہروں کا تصور کیا پھر مسکرا کر نعمت علی اور اس کے بچوں کو اندر آنے کا اشارہ کیا، مگر اس کی مسکراہٹ کے پیچھے ایک ہلچل جاگ اٹھی تھی۔
اس نے دروازے کے پاس ہی بیٹھک میں انھیں بٹھایا اور باہر نکلتے ہی بھرائی ہوئی آواز میں اپنی بیوی کو پکارا
“سنو… ذرا اِدھر آنا۔”
اس کی بیوی باہر آئی۔ شوہر کے چہرے پر نظر پڑتے ہی سب کچھ سمجھ گئی۔
“کیا ہوا؟”
غلام محمد نے آہستہ سے کہا،
“نعمت آیا ہے… بچوں سمیت۔”
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر دھیرے سے بولی،
“تو؟”
۔۔۔۔۔اب کیا کریں؟
کیا کل رات کا بچا ہوا سالن گرم کرکے رکھ دیں؟
یا آج جو بڑی مشکل سے بچوں کے لیے لایا ہے، وہی مہمانوں کے سامنے پیش کر دے؟
اس کی بیوی نے شوہر کی طرف دیکھا۔ وہ برسوں کی رفاقت میں اس کی ہر کیفیت پڑھنا سیکھ چکی تھی۔
ہلکا سا مسکرائی اور بولی،
“جیسے ہمیشہ آپ کا ساتھ دیا ہے، آج بھی دوں گی۔”
غلام محمد نے نظریں جھکا لیں۔
“میں جو کھانا باہر سے لایا ہوں… وہی دسترخوان پر رکھ دینا۔ بچوں کے سامنے بھی… مہمانوں کے سامنے بھی۔”
“اور ہم؟”
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ اوڑھ لی۔
“ہم یہی کہیں گے کہ ہم پہلے ہی کھانا کھا چکے ہیں۔”
بیوی نے شوہر کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں بھوک سے زیادہ اپنے اصولوں کو بچانے کی جدوجہد دکھائی دے رہی تھی۔
اس نے آہستہ سے کہا،
“اللہ بہتر کرے گا۔”
بس اتنا کہہ کر وہ اندر چلی گئی۔
ادھر بیٹھک کے ایک کونے میں نعمت علی بھی اپنی بیوی سے دھیمی آواز میں بات کر رہا تھا۔
“دیکھو… اگر کھانے پر اصرار کریں تو صاف کہہ دینا کہ ہم کہیں اور جا رہے ہیں۔”
اس کی بیوی نے بے اختیار پوچھ لیا،
اور بچے؟”
دو دن سے تمہیں مزدوری نہیں ملی گھر میں چولہا بھی نہیں جلا”
نعمت نے بچوں کی طرف دیکھا، پھر نظریں چرا لیں۔
“بچوں کو اگر بہت اصرار ہوا تو تھوڑا سا چکھنے دیں گے… مگر ہم دونوں نہیں کھائیں گے۔”
“مگر صبح سے تو…”
بیوی نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
نعمت نے مسکرا کر اس کی بات کاٹ دی۔
“غربت الگ چیز ہے… خودداری الگ۔ ہر محبت کا جواب دسترخوان پر نہیں دیا جاتا۔”
یہ کہہ کر اس نے بات ختم کر دی۔
دونوں طرف ایک ہی وقت دو فیصلے ہو چکے تھے۔
دونوں گھروں میں بھوک بھی تھی…
اور دونوں گھروں میں عزتِ نفس بھی۔
چند ہی لمحوں بعد دسترخوان بچھ گیا۔
کھانے کے محدود لوازمات بڑی سلیقے سے رکھے گئے تھے۔ اتنے محدود کہ ایک نظر دیکھنے والا بھی اندازہ لگا سکتا تھا کہ یہ کسی آسودہ حال گھر کا دسترخوان نہیں۔
نعمت علی نے دسترخوان پر نظر ڈالی، پھر غلام محمد کی طرف دیکھا اور مصنوعی خفگی سے بولا،
“یار، یہ سب کیا ہے؟ ہم تو صرف ملنے آئے تھے۔ تم نے تو خواہ مخواہ تکلف کر دیا۔”
غلام محمد ہنسنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا،
“کیسا تکلف؟ کھانا تو کھانے کے لیے ہوتا ہے۔”
نعمت نے بات بدلنے کے لیے فوراً کہا،
“اصل میں… ہماری ایک جگہ دعوت ہے۔ بچوں نے ضد کر دی کہ پہلے چچا کے گھر چلیں، پھر وہاں جائیں گے۔ ہم تو بس چند منٹ بیٹھ کر نکل جانے والے تھے۔”
غلام محمد نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
وہ سمجھ گیا کہ دوست کوئی بات چھپا رہا ہے، مگر یہ نہ سمجھ سکا کہ کیا۔
وہ مسکرایا اور بولا،
“نعمت! رزق کی بھی اپنی قسمت ہوتی ہے۔ اگر یہ کھانا تمہارے نصیب میں نہ ہوتا تو تم اس وقت یہاں نہ ہوتے۔”
نعمت نے کچھ کہنا چاہا، مگر غلام محمد نے بات آگے بڑھا دی۔
“اور سنو… میں اور تمہاری بھابھی تو پہلے ہی کھانا کھا چکے ہیں۔ ہوٹل سے کھانا لیتے ہوئے ایسی اشتہا لگی کہ گھر پہنچتے ہی ہم نے اپنی پلیٹیں لگا لیں۔ اب یہ سب بچوں کے لیے رہ گیا تھا، اور تم لوگ بھی آ گئے۔ اس لیے کسی قسم کا لحاظ مت کرنا۔”
نعمت نے ایک لمحہ اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔
وہ خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔
نعمت نے دھیرے سے کہا،
“اگر تمہاری یہی مرضی ہے… تو پھر انکار کرکے تمہارا دل نہیں دکھاؤں گا۔”
“بس یہی بات ہے۔” غلام محمد نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “چلو، بسم اللہ کرو۔”
نعمت، اس کی بیوی اور بچے دسترخوان کے گرد بیٹھ گئے۔
غلام محمد اور اس کی بیوی ذرا فاصلے پر بیٹھ کر انہیں دیکھنے لگے۔
بچوں کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔
کمرے میں کھانے کی خوشبو پھیل گئی۔
وہ خوشبو جو بھوکے آدمی کے لیے نعمت سے پہلے آزمائش بن جاتی ہے۔
غلام محمد نے بے اختیار تھوک نگلا۔
اس کی بیوی نے ایک لمحے کے لیے دسترخوان کی طرف دیکھا
پھر نظریں جھکا لیں۔
کمرے میں صرف بچوں کے کھانے کی آوازیں تھیں…
اور دو بھوکے انسانوں کی خاموشی۔
کچھ دیر بعد دسترخوان خالی ہو چکا تھا۔
نعمت نے اطمینان کا سانس لیا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا دی۔
“اللہ تمہارے رزق میں برکت دے، بھائی! آج جو عزت تم نے دی ہے، میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔”
غلام محمد نے ہنسنے کی کوشش کی۔
“ارے، اس میں عزت دینے والی کون سی بات ہے؟ اچھا سنو… اگر میٹھا کھانے کا دل ہو تو بتاؤ۔ دکان قریب ہی ہے، ابھی لے آتا ہوں۔”
یہ کہتے وقت اس کی جیب بالکل خالی تھی۔
نعمت یہ حقیقت جانتا تھا۔
اسی لیے اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کچھ کہنا چاہا ,
“غلام محمد بھائی… میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا تھا… دراصل…”
اتنے میں دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی۔
ٹھک… ٹھک… ٹھک…
غلام محمد چونک گیا اب کون آ ٹپکا!
اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے آواز لگائی،
“کون ہے؟”
باہر سے بلند آواز آئی،
ارے بھائی! میں ہوں… فدا! جلدی دروازہ کھولو ۔”

غلام محمد جلدی سے اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
کنڈی کھولتے ہی سامنے فدا کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں ایک بڑی سی دیگچی تھی، جسے سنبھالنا اس کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔
“ذرا پکڑو یار… ہاتھ جواب دے گئے ہیں!” اس نے ہانپتے ہوئے کہا۔
غلام محمد نے فوراً دیگچی تھام لی۔
“یہ کیا اٹھا لائے ہو؟”
فدا نے ماتھے کا پسینہ صاف کیا اور ہنستے ہوئے بولا،
“آج میرے سالے کے گھر نیاز تھی۔ اتنا سالن بچ گیا کہ انہوں نے زبردستی میرے حوالے کر دیا۔ میں نے سوچا، اس میں سے آدھا حصہ تمہیں دوں اور آدھا نعمت علی کو۔”
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر بولا،
“راستے میں پہلے نعمت کے گھر گیا تھا۔ سوچا پہلے اسے دے دوں، مگر وہ گھر پر نہیں ملا۔”
اس نے مسکراتے ہوئے دیگچی کی طرف اشارہ کیا۔
بیٹھک میں بیٹھے نعمت علی کو دونوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی
اس کے گالوں سے موتی کے دانے سرک رہے تھے۔

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

One Thought to “کاش آج نہ آتے (افسانہ)۔۔۔ جاوید نادری”

  1. Hashim Kimyagar

    بہت خوب

Leave a Comment