پاکستان میں ہزارہ قتل عام کی ڈاکومنٹیشن یا مستند سازی ۔۔۔ اسحاق محمدی

پاکستان میں ہزارہ قتل عام کی ڈاکومنٹیشن یا مستند سازی

تحریر: اسحاق محمدی

اکتوبر 2009ء کو جب میں امریکا آیا تب پاکستان میں ہزارہ قتل عام کی شدت میں بہت تیزی آگئی تھی۔ نوعیت کے اعتبار سے اب دہشت گرد ٹارگٹڈ کلنگ کے بجائے ہزارہ اجتماعی قتل عام کی پالیسی پر گامزن ہوگئے تھے۔ لیکن اس کی کوریج انٹرنیشنل تو کجا، پاکستان کے اندر نیشنل لیول پر درست طور پر نہیں ہو رہی تھی۔ اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے میں نے ایک طرف نیویارک (امریکہ) اور ٹورانٹو (کینیڈا) سے چھپنے والے اردو اخبار پاکستان پوسٹ میں ہفتہ وار کالم لکھنے کا سلسلہ شروع کردیا، جبکہ دوسری طرف لیاقت شریفی کے ساتھ مل کر دیگر نیوز چینلز کے لئے لکھنے والے صحافیوں سے رابطوں کا سلسلہ شروع کیا تاکہ وہ اس موضوع کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھ کر اس پر لکھنا شروع کریں۔

اس ضمن میں کئی دیگر صحافیوں کے ساتھ بی بی سی اردو کے لئے کام کرنے والے جناب حسن مجتبیٰ بھی شامل تھے، جنہوں نے اس موضوع کو پہلی بار بی بی سی اردو میں بہت اچھے طریقے سے کور کیا۔ اس کے بعد پاکستان، انڈیا اور کئی دیگر ممالک کے صحافیوں نے پاکستان میں ہزارہ قوم کے قتل عام کے موضوع کو کور کرنا شروع کیا، جس سے دیگر معروف انٹرنیشنل میڈیا بھی متوجہ ہوتے گئے۔ اسی دوران یورپ میں مقیم جناب ڈاکٹر سلیم جاوید بھی میدانِ عمل میں اترے اور پاکستانی میڈیا کے علاوہ انٹرنیشنل میڈیا جیسے الجزیرہ وغیرہ میں بھی لکھتے اور بولتے گئے۔ اسی طرح جناب حسن رضا چنگیزی کی جراتمندانہ قلمی کاوشیں بھی قابلِ تحسین ہیں، جو بعد میں کتابی شکل میں قصہ ہائے ناتمام (اردو) اور Ufinished Stories (انگریزی) کے نام سے چھپیں اور دونوں ورژن کو کافی پذیرائی ملی۔

خیر، اس دوران ہم ہزارہ ڈائیسپورا کے لئے ایک بڑی دقت یہ تھی کہ جب بھی ہم کسی میڈیا پرسن سے ملتے تو وہ ان سانحات کے لنکس یا قتل ہونے والے ہزارہ کی تعداد کے بارے میں سوال ضرور کرتے، اور ہمارے پاس خاموشی کے علاوہ کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔ کوئٹہ کے دوستوں یعنی ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی یا تنظیم نسلِ نو ہزارہ مغل سے اس بابت پوچھتے تو جواب نفی میں ہوتا، حالانکہ دونوں قومی اداروں کے لئے یہ مستند سازی کرنا بڑی بات نہیں تھی۔ بطور خاص تنظیم نسلِ نو ہزارہ مغل کے لئے، جو اس وقت آوازِ نسلِ نو کے نام سے ایک روزنامہ بھی نکالتی تھی۔ یقینی امر ہے کہ اس وقت کے تنظیم کے چیئرمین اور روزنامہ کے ایڈیٹر انچیف جی اے حیدری صاحب کے ہاں وژن یا کمیٹمنٹ، یا پھر دونوں کی کمی تھی، جو یہ کام نہ کرسکے حالانکہ وسائل کے حوالے سے موصوف کے پاس کوئی کمی نہیں تھی۔

بھلا ہو میچید ٹی وی کے بانی جناب الطاف حسین صفدری کا، جنہوں نے اس سمت قدم آگے بڑھایا اور اس ضمن میں شہداء، زخمیوں اور پسماندگان کے ڈیٹا اکٹھا کرنے لگے۔ لیکن آگے چل کر جب وہ امریکا شفٹ ہوگئے تو یہ سلسلہ رک گیا۔ بہرحال 2010ء کے دوران میں نے نیویارک میں رہتے ہوئے پاکستان میں ہزارہ قتل عام کی مستند سازی یعنی ڈاکیومنٹیشن کی ٹھانی۔

Hazara Genocide Map

اس ضمن میں بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کس طرح شروع کیا جائے اور اس کام کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ میری کئی ملاقاتیں امریکہ میں رجسٹرڈ ہزارہ تنظیم HOPE (Hazara Organization for Peace and Equality) کے دوستوں سے ہوئیں۔ وہ اس ضمن میں مدد کرنے پر تیار تھے، لیکن عملی طور پر ان کے پاس بھی کوئی آئیڈیا نہیں تھا۔ انہوں نے میریلینڈ میں مقیم ایک اور دوست سے رابطہ کرنے کو کہا جو آئی ٹی سے منسلک ہے (نام ظاہر نہ کرنا موصوف کی اپنی خواہش ہے)۔

چند دنوں بعد انہوں نے فون کرکے پوچھا: “کیا کسی ہفتے میریلینڈ آسکتے ہو؟” میں نے کہا: “بالکل، اسی ہفتے آجاؤں گا۔” میں جاب سے دو دن چھٹی لے کر ان کے ہاں پہنچ گیا۔ اب ہمارے پاس چار دن تھے یعنی جمعرات تا اتوار۔ وہ اس دوران زیادہ تر کمپیوٹر پر بیٹھے مختلف آپشنز پر کام کرتے رہے اور صرف ضرورت کے وقت مجھ سے بات چیت کرتے جاتے تھے۔ بالآخر کافی تجربات کے بعد وہ اس کا ابتدائی خاکہ تیار کرنے میں کامیاب ہوئے، جس میں صوبہ بلوچستان کے نقشے پر جس مقام پر کوئی دہشت گرد حملہ ہوا ہے، وہاں چھتری نما نشان لگا کر اس حملے کی لنک دینا۔

اس وقت یہ ایک اچھا اور معتبر آپشن تھا۔ اس کے بعد طے یہ ہوا کہ دہشت گردانہ حملوں کے لنکس میں ڈھونڈ کر انہیں ارسال کرتا جاؤں گا اور وہ اس کو اسی میپ پر اپ لوڈ کرتے جائیں گے۔ نیویارک واپسی کے بعد میں نے اپنی یہ حکمتِ عملی بنائی کہ پاکستان میں ہزارہ قوم کے خلاف کسی دہشت گردانہ حملے کے بعد میری پہلی ترجیح کوئی معتبر میڈیا جیسے بی بی سی، سی این این، الجزیرہ ہوتی، جس کے لنکس میں ایک فائل میں محفوظ کرتا۔ اگر ان بڑے میڈیا کے لنکس نہ ملتے تو دوسری ترجیح ڈان اور دی نیوز وغیرہ ہوتی۔ بعد ازاں میں ان کے لنکس کو اپنے اس دوست کو ارسال کرتا جاتا تھا، جیسے وہ Hazara Genocide Pakistan Map پر اپ لوڈ کرتے جاتے تھے۔

یوں پاکستان میں ہزارہ قتل عام کی مستند سازی جو 2010ء کے آغاز سے شروع کی تھی، وہ اب تک یعنی 2026ء تک جاری ہے۔ اس میپ میں تمام سانحات کے دستیاب لنکس کی تفصیل مندرج ہیں۔ اس طرح جو کام قوم کے بظاہر بڑے بڑے اداروں سے نہ ہوسکا، وہ ایک دو رکنی ٹیم کی محنت اور عزمِ راسخ سے ممکن ہوا۔ اگرچہ یہ مستند سازی عالمی معیار سے کمتر درجے کی ہے، لیکن اپنے وقت اور کسی قسم کی مداخلت کے بغیر تدوین کے لحاظ سے ایک قابلِ اعتبار سند کا درجہ رکھتی ہے، جس کا حوالہ یورپی اور یوکے پارلیمان، نیویارک ٹائمز جیسے بڑے اور معتبر ادارے دے چکے ہیں۔

اس ہزارہ جینوسائیڈ میپ میں ہر دہشت گرد حملے کے مقام کی نشاندہی کے ساتھ خبر کی تفصیلی لنک دی گئی ہے۔ چونکہ یہ ہر کسی کی دسترس میں ہے، اس لئے اسے ایک معتبر سند کا درجہ حاصل ہے۔ اب خیر سے بلاق (BOLAQ)کے دوست “ہزارہ نسل کشی” کی مستند سازی پورے عالمی معیار کے مطابق اور رضاکارانہ بنیاد پر انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح کئی قومی اسکالرز یونیورسٹی لیول پر ہزارہ نسل کشی کے مختلف واقعات اور پہلوؤں پر ماسٹر اور پی ایچ ڈی ریسرچ ورک بھی کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی مختلف انٹرنیشنل فورمز پر انیسویں صدی کے دوران امیرِ کابل عبدالرحمان کے دور میں “ہزارہ نسل کشی” کو تسلیم کرانے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں، جو کہ قابلِ تحسین و صد ستائش ہیں۔

اب شاید وہ دن زیادہ دور نہیں کہ تاریخ کے دیگر جینوسائیڈ واقعات کے ساتھ ہزارہ جینوسائیڈ کو بھی دنیا تسلیم کرے گی۔

لنک سائٹ:

Hazara Genocide Map

اسحاق محمدی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment